| عنوان: | حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی |
|---|---|
| تحریر: | محمد سلمان العطاری |
| پیش کش: | جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندوں کو مختلف آزمائشوں میں مبتلا فرمایا تاکہ اُن کے اخلاص، صبر اور وفاداری کو دنیا پر ظاہر فرمائے۔ ان مقدس ہستیوں میں سب سے نمایاں نام حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا ہے جنہیں ”خلیل اللہ“ یعنی اللہ پاک کا دوست کہا جاتا ہے۔ آپ علیہ السلام کی پوری زندگی قربانی، صبر، استقامت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہر شے لٹا دینے کا عملی نمونہ ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی صرف ایک جانور ذبح کرنے کا واقعہ نہیں بلکہ یہ اللہ سبحانہ وتعالی کی رضا کے لیے اپنی سب سے محبوب چیز کو قربان کرنے کا درس ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قیامت تک آنے والے مسلمان عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کرکے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کو زندہ کرتے ہیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تعارف
حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ پاک کے جلیل القدر نبی ہیں۔ آپ علیہ السلام نے ایسے دور میں آنکھ کھولی جب لوگ بت پرستی میں مبتلا تھے۔ آپ نے بچپن ہی سے توحید کا پرچار (تبلیغ) فرمایا اور ہر قسم کے باطل عقائد کی مخالفت کی۔
قرآنِ مجید میں خداوند متعال ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّ اِبۡرٰهِیۡمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِیۡفًا وَ لَم یَکُ مِنَ المُشرِکِینَ [النحل: 120]
ترجمہ کنزالایمان: بیشک ابراہیم ایک امام تھا اللہ کا فرمانبردار اور سب سے جدا اور مشرک نہ تھا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ پاک کی رضا کے لیے وطن چھوڑا، آگ میں ڈالے گئے، اپنی اولاد کو ویرانے میں چھوڑا اور آخرکار اپنے لختِ جگر نورِ نظر کو قربان کرنے کے لیے بھی تیار ہوگئے۔
حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی آزمائشیں
خداوند متعال اپنے مقرب بندوں کو آزماتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی آزمائشوں سے بھری ہوئی تھی۔
بت شکنی کی آزمائش
جب پوری قوم بتوں کی پوجا کرتی تھی تو آپ علیہ السلام نے ان باطل معبودوں کو توڑ دیا۔ اس پر بادشاہ نمرود نے آپ علیہ السلام کو آگ میں ڈال دیا مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
قُلنَا یٰنَارُ كُوۡنِیۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤی اِبۡرٰهِیۡمَ [الأنبياء: 69]
ترجمہ کنزالایمان: ہم نے فرمایا اے آگ ہو جا ٹھنڈی اور سلامتی ابراہیم پر。
اسی آیت کریمہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں تحریر ہے؛ جب حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو آگ میں ڈالا گیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجا۔ چنانچہ آگ کی گرمی زائل ہو گئی اور روشنی باقی رہی اور اس نے ان رسیوں کے سوا اور کچھ نہ جلایا جن سے آپ علیہ الصلوۃ والسلام کو باندھا گیا تھا۔[جلالين، الأنبياء، تحت الآية: 69، ص: 274،]
ابراہیم خلیل اللہ آگ میں جن کو ڈالا گیا
ان کا حامی نور ہوا نار کا بقعہ باغ بنا
لا إله إلا الله آمنا برسول الله
وطن چھوڑنے کی قربانی
حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اللہ سبحانہ وتعالی کے حکم پر اپنا وطن چھوڑ دیا۔ انسان کے لیے اپنا گھر، اپنی زمین اور اپنا ماحول چھوڑنا آسان نہیں، مگر اللہ پاک کے محبوب بندے ہر حکم پر سرِ تسلیم خم کرتے ہیں۔
حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو مکہ میں چھوڑنا
حضرت اسماعیل علیہ السلام ابھی شیرخوار تھے کہ اللہ پاک کے حکم سے حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام انہیں اور ان کی والدہ حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کو بے آب و گیاہ وادی مکہ میں چھوڑ آئے۔
حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کیا یہ اللہ پاک کا حکم ہے؟
آپ علیہ السلام نے فرمایا: ہاں
تو حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: پھر اللہ پاک ہمیں ضائع نہیں فرمائے گا۔
یہ یقین و توکل کی عظیم مثال ہے۔
خوابِ قربانی
جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کچھ بڑے ہوئے تو خداوند متعال نے حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو خواب دکھایا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کررہے ہیں۔ انبیائے کرام علیہم السلام کا خواب بھی وحی ہوتا ہے۔
قرآنِ پاک میں ہے:
فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعۡیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیۡۤ اَرٰی فِی الۡمَنَامِ اَنِّیۡۤ اَذۡبَحُكَ فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰی [الصافات: 102]
ترجمہ کنزالایمان: پھر جب وہ اس کے ساتھ کام کے قابل ہوگیا کہا اے میرے بیٹے میں نے خواب دیکھا کہ میں تجھے ذبح کرتا ہوں اب تو دیکھ تیری کیا رائے ہے۔ [الصافات: 102]
حضرت اسماعیل علیہ السلام کا بے مثال جواب
حضرت اسماعیل علیہ السلام نے فوراً جواب دیا:
قَالَ یٰٓاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُۖ سَتَجِدُنِیۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیۡنَ [الصافات: 102]
ترجمہ کنزالایمان: کہا اے میرے باپ کیجئے جس بات کا آپ کو حکم ہوتا ہے خدا نے چاہا تو قریب ہے کہ آپ مجھے صابر پائیں گے۔ [الصافات: 102]
یہ جواب رہتی دنیا تک اطاعت و فرمانبرداری کی مثال بن گیا۔
یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی
قربانی کا عظیم منظر
حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو لے کر میدانِ منیٰ پہنچے۔ شیطان نے بہکانے کی کوشش کی مگر دونوں اللہ پاک کے وفادار بندے ثابت ہوئے۔
روایات میں آتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کی پیشانی زمین پر رکھی تاکہ محبت آڑے نہ آئے اور پھر چھری چلائی، مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو محفوظ فرما لیا اور ان کی جگہ ایک دنبہ بھیج دیا۔
قرآنِ مجید میں ہے:
وَفَدَیۡنٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِیۡمٍ [الصافات: 107]
ترجمہ کنزالایمان: اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے صدقہ میں دے کر اسے بچالیا۔ [الصافات: 107]
علامہ بیضاوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں اس ذبیحہ کی شان بہت بلند ہونے کی وجہ سے اسے بڑا فرمایا گیا کیونکہ یہ اس نبی علیہ السلام کا فدیہ بنا جن کی نسل سے سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔[البيضاوي، الصافات، تحت الآية: 107، ج: 5، ص: 22،]
اس واقعہ سے حاصل ہونے والے اسباق
- اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا: حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے یہ نہیں سوچا کہ بڑھاپے کی اولاد ہے یا میرا سہارا ہے، بلکہ فوراً اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کیا۔
- اولاد کی بہترین تربیت: حضرت اسماعیل علیہ السلام کی فرمانبرداری اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کی تربیت بہترین انداز میں فرمائی تھی۔
- صبر اور رضا: مشکلات میں صبر کرنا اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنا مؤمن کی شان ہے۔
- قربانی صرف جانور کی نہیں: اصل قربانی اپنی خواہشات، گناہوں اور نفس کی قربانی ہے۔
قربانی فقط ذبحِ حیواں کا نام نہیں
اپنی ہر اک خواہشِ عصیاں کو مٹانا ہے
عیدالاضحی اور سنتِ ابراہیمی
عید الاضحی دراصل حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی یادگار ہے۔ مسلمان ہر سال جانور قربان کرکے یہ اعلان کرتے ہیں کہ: اے اللہ! اگر تو چاہے تو ہم اپنی جان، مال اور اولاد سب کچھ تیرے راستے میں قربان کرنے کو تیار ہیں۔
موجودہ دور میں سنتِ ابراہیمی کی ضرورت
آج انسان مال، دولت، شہرت اور دنیاوی خواہشات میں گم ہوچکا ہے۔ حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی قربانی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔
اگر مسلمان سچے دل سے سنتِ ابراہیمی کو اپنالیں تو معاشرہ محبت، اخلاص اور قربانی کے جذبے سے بھر جائے۔
ابراہیم کی سنت کو پھر عام کریں ہم
اخلاص و وفا اپنا سرانجام کریں ہم
خاتمہ
حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی قربانی رہتی دنیا تک ایمان والوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالی کی محبت سب سے بڑی محبت ہے۔ جب بندہ اللہ پاک کے حکم پر اپنی محبوب ترین چیز قربان کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت کی کامیابیاں عطا فرماتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی حقیقی معنوں میں سنتِ ابراہیمی پر عمل کرنے، اخلاص کے ساتھ قربانی کرنے اور اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
قرباں گئی ہر شے تری رضا کی خاطر
یہی درسِ ابراہیمی ہے دنیا کی خاطر
