| عنوان: | سفر ہمارا بھی سرکار ہو مدینے کا |
|---|---|
| تحریر: | انس احمد خان العطاری |
پہنچ جاؤں میں طیبہ کو زیارت ان کی حاصل ہو
الہی میری قسمت میں کوئی ایسا سفر آئے
یقیناً مدینۂ منورہ ایک ایسا شہر ہے جہاں کی حاضری کی آرزو ہر عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں مچل رہی ہے، مدینہ منورہ کی معطر ہواؤں، خوشگوار فضاؤں میں حاضر ہوکر نور کے شامیانہ تلے کھڑے ہو کر حسین گنبد خضریٰ کے نورانی جلوؤں کے زیر سایہ گنبد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دلکش و پرکیف مناظر دیکھنے کو ہر غلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ تڑپ رہی ہے، برستی بارش کی خوش نصیب چمکتی بوندوں کا جگمگاتے گنبد خضریٰ سے ٹکراتے ہوئے دلنشیں منظر کو دیکھ کر رشک کرنے کی ہر دیوانۂ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دلی تمنا ہے اور ہو بھی کیوں نہ کہ مسلمانوں کا دین و دنیا، اور عشاق کے دلوں کی دھڑکن، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو مدینے میں آرام فرما ہیں کہ جن کی تربت کی زیارت عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خوش بختیوں کی معراج ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مشکبار ہے:
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَجَّ فَزَارَ قَبْرِي بَعْدَ وَفَاتِي كَانَ كَمَنْ زَارَنِي فِي حَيَاتِي. [انوار الحدیث]
ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے کہا کہ رسولِ کریم علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ جس نے حج کیا اور میری وفات کے بعد میری قبر کی زیارت کی تو ایسا ہے جیسے میری حیات (دنیوی) میں زیارت سے مشرف ہوا۔
خوبیِ بخت سے ہوجائے زیارت جو نصیب
نام لکھ جائے مرا آپ کے زواروں میں
اور زیارت روضۂ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم، زائر کے لیے باعث نجات بھی ہے۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان شفاعت نشان ہے:
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ زَارَ قَبْرِي وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَتِي. [انوار الحدیث]
ترجمہ: حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے کہا کہ رسولِ کریم علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ جس شخص نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو گئی۔
جلیل القدر محدث امام تقی الدین سبکی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث پاک کے تحت کئی سارے فوائد کا ذکر کیا ہے ان میں سے چند درج ذیل ہیں:
- زائرینِ روضۂ انور کو ایسی شفاعت کے ساتھ خاص کیا جائے گا جو دوسروں کو نہ عمومی طور پر نصیب ہوگی نہ ہی خصوصی طور پر۔
- زیارتِ قبرِ انور کرنے والے شفاعتِ مصطفیٰ کے حقدار قرار پانے والوں میں لازمی طور پر شامل ہوں گے۔
- زائر کا خاتمہ ایمان پر ہوگا۔
مزید امام تقی الدین سبکی علیہ رحمۃ اللہ القوی ”شَفَاعَتِي“ یعنی ”میری شفاعت“ کے تحت فرماتے ہیں: شفاعت کی نسبت اپنی جانب فرمانے میں یہ شرف ہے کہ فرشتے، انبیاء اور مؤمنین بھی شفاعت کریں گے مگر روضۂ انور کی زیارت کرنے والے کی شفاعت میں خود کروں گا۔ شافع (شفاعت کرنے والے) کی عظمت کی وجہ سے اس کی شفاعت بھی ویسی ہی عظیم ہوتی ہے جیسے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیائے کرام علیہم السلام سے افضل ہیں اسی طرح آپ کی شفاعت بھی دوسروں سے افضل ہے۔ [شفاء السقام، ص: 103، ملخصاً]
زائرِ قبرِ منور کی شفاعت ہوگی
ہے یہی آپ کا فرمان رسول عربی
اور امام العشاق اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
مَنْ زَارَ تُرْبَتِي وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَتِي
اُن پر درود جن سے نوید اِن بِشَر کی ہے
اسی طرح ایک اور حدیث پاک پیش ہے:
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ جَاءَنِي زَائِرًا لَا تَعْمَلُهُ حَاجَةٌ إِلَّا زِيَارَتِي كَانَ حَقًّا عَلَيَّ أَنْ أَكُونَ لَهُ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ. [انوار الحدیث]
ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے کہا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ جو میری زیارت کے لیے آیا، سوائے میری زیارت کے اور کسی حاجت کے لیے نہ آیا تو مجھ پر حق ہے کہ قیامت کے دن اس کا شفیع بنوں۔
پھر کیوں نہ ہر عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس پاک در کی حاضری کو تڑپے لیکن شاعر نے کہا ہے نہ کہ:
کہاں کا منصب کہاں کی دولت قسم خدا کی یہ ہے حقیقت
جنہیں بلایا ہے مصطفی نے وہی مدینے کو جا رہے ہیں
یقیناً ہر عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حاضری مدینہ کی یاد ستاتی، دل و دماغ کو بے چین کرتی، اور روح کو شوق زیارت روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں تڑپاتی ہے۔ لیکن حاضری کا شرف انہی کو نصیب ہوتا ہے جن کو اذن مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم مل جائے، جس کو سرکار بلائیں۔
میں مدینے آؤں یہ میری اوقات نہیں
حضور آپ بلا لیں تو بڑی بات نہیں
مدینہ منورہ میں موجود گنبد خضریٰ کی زیارت کی سعادت عشاق کی آنکھوں کو ٹھنڈک بخشتی، ذہن و دماغ کو چین و سکون فراہم کرتی، قلب و روح کو منور کرتی، اور تازگی بخشتی ہے۔ اور عشاق کو ناجانے کتنے فضائل، اور فوائد و برکات کا حامل بناتی ہے کس کا ذکر کریں کس کا نہ کریں؟ بس یہ سمجھ لیں کہ کائناتِ عالم میں اس کی نظیر کہیں نہیں، مدینہ تو بس مدینہ ہے۔
اسی لئے اپنی بات کو بذریعہ شعر ختم کرتا ہوں کہ:
کیا بتاؤں کہ کیا مدینہ ہے
بس میرا مدعا مدینہ ہے
اللہ پاک ہمیں بار بار اس پاک در کی با ادب حاضری نصیب فرمائے۔ آمين ثُمَّ آمين يَا رَبَّ العَالَمِين بِجَاهِ خَاتَمِ النَّبِيِّين صلی اللہ علیہ وسلم۔
