| عنوان: | فضائل قربانی احادیث کریمہ کی روشنی میں |
|---|---|
| تحریر: | محمد شفیع احمد عطاری رضوی |
| پیش کش: | مرکزی جامعۃ المدینہ نیپال گنج |
قربانی اللہ پاک کی ایک عظیم عبادت ہے جسے ماہ ذی الحجہ کی دسویں، گیارہویں، اور بارہویں تاریخ کو انجام دیا جاتا ہے۔ قربانی کا اصل مقصد تحصیل لحم اور معاشرے میں داد و تحسین حاصل کرنا نہیں بلکہ اس کا حقیقی مقصد یہی ہے کہ ہم سب اللہ تعالیٰ کا حقیقی بندہ بننے میں کامیاب ہو جائیں۔ نیز ہم سب متقی و پرہیزگار کی صف میں کھڑے ہو جائیں۔ ویسے تو قربانی کرنے کے بے شمار فضائل و برکات متعدد احادیث میں بیان کیے گئے ہیں۔ ان سب کا ذکر یہاں طوالت کا باعث ہوگا۔ اسی لیے راقم الحروف اس مضمون میں چار یار کی سنت سے فقط چار احادیث کریمہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔
- ہر بال کے بدلے میں نیکی: حضرت سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ؟ قَالَ: سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ، قَالُوا: فَمَا لَنَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: بِكُلِّ شَعَرَةٍ حَسَنَةٌ، قَالُوا: فَالصُّوفُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: بِكُلِّ شَعَرَةٍ مِنَ الصُّوفِ حَسَنَةٌ. ترجمہ: صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم! یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا: تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم! ان میں ہمارے لئے کیا ثواب ہے؟ فرمایا: ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے۔ عرض کیا: اور اُون میں؟ فرمایا: اس کے ہر بال کے بدلے بھی ایک نیکی ہے۔ [سنن ابن ماجہ]
- جہنم سے حجاب: حضرت سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَنْ ضَحَّى طَيِّبَةً بِهَا نَفْسُهُ مُحْتَسِبًا لِأَضْحِيَّتِهِ؛ كَانَتْ لَهُ حِجَابًا مِنَ النَّارِ. ترجمہ: جو ثواب کی امید پر خوشدلی سے قربانی کرے تو وہ قربانی اس کے لئے جہنم سے حجاب ہوگی۔ [المعجم الکبیر للطبرانی]
- خوش دلی سے قربانی کرو!: ام المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ، وَإِنَّهَا لَتَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُونِهَا وَأَشْعَارِهَا وَأَظْلَافِهَا، وَأَنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ اللَّهِ بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ مِنَ الْأَرْضِ، فَطِيبُوا بِهَا نَفْسًا. ترجمہ: قربانی کے دن آدمی کا کوئی عمل اللہ عزوجل کے نزدیک خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں ہے اور وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں پہنچ جاتا ہے لہذا خوشدلی سے قربانی کیا کرو۔ [ترمذی]
- سب سے زیادہ محبوب: حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے، حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَا أُنْفِقَتِ الْوَرِقُ فِي شَيْءٍ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ نَحِيرَةٍ تُنْحَرُ فِي يَوْمِ عِيدٍ. ترجمہ: عید کے دن قربانی میں خرچ کرنا اللہ عزوجل کو سب سے زیادہ محبوب ہے۔ [المعجم الکبیر للطبرانی]
ذی وقار قارئین!
اوپر بیان کی گئی احادیث سے ہم سب کو یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ قربانی کے جانور کے ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ہے۔ اور جو قربانی کرے گا تو وہ جانور اس کے لیے کل قیامت کے دن جہنم کی آگ سے آڑ اور حجاب بن جائے گا۔ نیز یہ کہ قربانی خوش دلی سے کریں نہ کہ تنگ دلی سے۔ اس پہ مستزاد یہ کہ ایام قربانی میں قربانی سے زیادہ پسندیدہ عمل اور کوئی عمل نہیں۔ تو ہم سب کو بھی چاہیے کہ خوش دلی سے قربانی کریں، قیامت کے دن کے لیے اس قربانی کو اپنے لیے حجاب کا ذریعہ بنائیں۔ اللہ پاک ہماری قربانی کو قبول فرمائے۔ آمين۔
