Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

تذکرہ خلفا و وابستگان رضا (قسط: دوم)

تذکرہ خلفا و وابستگان رضا (قسط: دوم)
عنوان: تذکرہ خلفا و وابستگان رضا (قسط: دوم)
تحریر: فیضان المصطفیٰ قادری
پیش کش: حافظ فرمان المصطفیٰ نظامی حسینی حنفی

مبلغ اعظم حضرت علامہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ:

(اعلیٰ حضرت کے) خلفا کی کیا شان تھی، حضرت عبد العلیم صدیقی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی کرامت بتاتا ہوں، اس زمانے میں مکہ شریف سے اس طرح مدینے شریف جانا نہیں ہوتا تھا (جیسے اب جب چاہے چل دیے)، باری سے، جب نمبر آتا تھا تو جانا ہوتا تھا، قافلے جاتے یا کچھ بسیں ہوتی تھیں، کون سی بسیں؟ وہ جو اچھے میاں کی بس پیلی بھیت جاتی تھی، ڈبا، کہ جس میں بیٹھیں تو سر چھت سے لگے، (اس زمانے میں مدینے پاک کے لیے) روڈ نہیں تھا۔ تو (ہمیں یعنی حضرت شوکت میاں مرحوم کو) مدینے (روانگی) کے لیے ایک ماہ لگ گیا تھا، مگر حضور مفتی اعظم ہند نے رباط جونا گڑھ کے مہتمم جو سید صاحب تھے ان کو خط لکھ دیا تھا، سید صاحب نے تین کمرہ دے دیا تھا، کوئی تکلیف تو تھی نہیں، جب مدینے شریف پہنچا اور سامان رکھ دیا، اور نکلا تو دیکھا بقیع کی طرف سے حضرت مولانا عبدالعلیم صدیقی صاحب آ رہے ہیں، وہ (اُن کے) نکلنے کا وقت نہیں تھا، وہ تو نمازیں ان (نجدی امام) کے پیچھے نہیں پڑھتے تھے، وہ عصر کے وقت سلام پیش کرنے کے لیے حاضری دیتے تھے۔ فرمایا: آپ کہاں؟ میں نے کہا: حضرت (علامہ ضیاء الدین مدنی) کے مکان، فرمایا چلیے چلیے میں آپ کو حضرت کے مکان لے چلتا ہوں۔ وہ مجھ کو حضرت کے مکان پر لے گئے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے اعلیٰ حضرت نے (انہیں میرے لیے) بھیجا ہو۔

(حضرت عبدالعلیم صدیقی صاحب) روزانہ عصر کے بعد تشریف لاتے، (ایک بار) فرماتے ہیں کہ یوں تو حضرت مفتی اعظم میرے ہم عمر ہیں، لیکن شہزادے ہیں، پیرزادے ہیں، میری شہزادی سے میرا سلام کہہ دیجیے۔ ایک دن آئے اور فرمایا میں آپ کو (مدینے میں) سروس دلا دیتا ہوں، میں نے کہا: کہاں؟ فرمایا (یہاں) میرا ایک مرید لکھنؤ کا تھا اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی، وہ جگہ خالی ہے، میں گورنر سے کہتا ہوں۔ اس زمانے میں گورنمنٹ کے اعزاز سے اُن کا (صدیقی صاحب کا) ہوتا تھا، چار ہزار ریال اس وقت تنخواہ تھی ۴۹ء میں۔ فرمانے لگے۔ قبا شریف میں مکان بنوا رہا ہوں، آپ یہاں (میرے مکان پر) رہیے، اور کہیں بھی میں رہوں گا آپ کا خرچ بھیجوں گا، (اعلیٰ حضرت کے) ایسے چاہنے والے تھے۔ ایک دن فرمانے لگے: وہ امیر مینائی کا شعر سنا آپ نے؟

مدینے جاؤں پھر آؤں مدینے پھر جاؤں
تمام عمر اسی میں تمام ہو جائے

فرمانے لگے: فقیر کا مشرب اس کے خلاف ہے، مدینے آ کر پھر جانا کیسا؟ (بلکہ یوں)

مدینے آؤں نہ جاؤں یہیں پہ رہ جاؤں
درِ حبیب پہ قصہ تمام ہو جائے

وہی ہوا، ورلڈ ٹور پر تھے، مدینے ٹرانزٹ میں تھے، اترے، کچھ طبیعت خراب ہوئی اور وہیں پر وصال ہو گیا۔

محدثِ اعظم پاکستان حضرت علامہ سردار احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ:

(دارالعلوم مظہر اسلام کے قیام کی وجہ):

منظرِ اسلام میں طلبہ کے دو گروپ تھے، ایک بہار اور ایک بنگال، یہی دو جگہ کے طلبہ کثرت سے تھے، یوپی سے کم تھے، ہوا یہ کہ مولانا سردار احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے الف با سے عربی پڑھی اور وہیں مدرس ہو گئے، اور ایسا فیض ہوا ان پر کہ طلبہ ان سے بہت قریب ہو گئے، تو آپس میں چل گئی کہ یہ ایک طالب علم الف با سے پڑھا اور ان کو اتنا.......، حضرت حجۃ الاسلام حیات تھے، تو مولانا سردار احمد صاحب تو بڑے چاہنے والے تھے، انھوں نے سوچا کہ حضرت کے دل میں میری طرف سے کہیں کوئی بات نہ آئے، تو میں بریلی شریف سے رخصت ہو لوں۔ یہ حضرت مفتی اعظم نے مجھ سے بتایا، پھر حضرت نے فرمایا: جب جانے لگے تو اسی دروازے میں مجھ سے ملے اور آبدیدہ تھے، تو میں نے کہا: آپ نہیں جائیں گے، کل سے مسجد بی بی جی میں آپ رہیں گے اور میں انتظام کرتا ہوں، یہ بات ہے سن بیالیس کی، تو حضرت نے اس زمانے میں اپنے پاس سے دس ہزار روپے دے کر شروع کیا، حضرت شیخ الحدیث ہی دہلی جا کر کتابیں لائے تھے۔ اب وہ اور ان کے طلبہ یہ مولانا تحسین رضا خاں، ابراہیم خوشتر یہ سب ان کے طلبہ تھے، بی بی جی کی مسجد آ گئے، یوں دو مدرسے ہوئے، پھر یہ بات چلی کہ ایک ہو جائیں، حضرت حجۃ الاسلام کا وصال ہو گیا، کچھ لوگ بیچ میں رہتے ہیں انھوں نے نہیں چاہا کہ ایک ہوں۔

بی بی جی کی مسجد کے قریب مسلمانوں کے دو تین گھر تھے، باقی سب ہندوؤں کا گڑھ تھا، جب ملک تقسیم ہو رہا تھا اور بلوے ہو رہے تھے اسی دوران خبر اڑ گئی کہ محدثِ اعظم شہید کر دیے گئے، تو صدر الشریعہ کو گھوسی میں خبر ہوئی تو انھوں نے فاتحہ وغیرہ بھی پڑھی، پھر جب خبر ہوئی تو صدر الشریعہ کو بہت خوشی ہوئی۔ تو حضرت محدث صاحب رمضان شریف میں گھر گرداس پور آئے ہوئے تھے، اسی دوران پاکستان بن گیا، تو اس وقت حالات بہت خراب ہو گئے، کیونکہ یہ شیخ گھرانے کے تھے، وہاں ہندوؤں نے کہا کہ اب آپ کا یہاں رہنا صحیح نہیں، گرداس پور سے پاکستان قریب تھا، تو سنا کہ فوجی ٹرک آ رہے تھے، اس میں بیٹھ کر پاکستان آ گئے، ’بھکی‘ ایک جگہ ہے، وہاں مولانا جلال الدین صاحب نابینا، جنہوں نے بریلی شریف میں پڑھا تھا محدث صاحب کے شاگرد تھے، انھوں نے پہلے اپنے یہاں رکھا، پھر اس کے بعد جھنگ بھی گئے۔ دوسرا حج حضرت مفتی اعظم نے ۴۸ء میں کیا، تو ان کو خط لکھا کہ حضرت جھنگ والے کہہ رہے ہیں کہ دارالعلوم یہاں بناؤں یا فیصل آباد؟ دو تین جگہ کے بارے میں لکھا، تو حضرت جب حج کو گئے تو ڈاک ساتھ تھی، جب مدینے پہنچے، وہاں کچھ مہلت ہوئی تو حضرت نے خط لکھا کہ آپ لائل پور (فیصل آباد) میں قائم کیجیے۔ جب یہ خط محدث صاحب کو پہنچا تو بہت خوش ہوئے اور فرمایا: یہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے دربار سے بھی اجازت ہے، اور حضور مفتی اعظم نے بھی ارشاد فرمایا اس لیے فقیر فیصل آباد ہی شروع کرے گا۔ فیصل آباد تو غیر مقلدوں کا گڑھ تھا، وہاں جھنگ بازار رش ایریا، وہاں ایک پیڑ کے نیچے ٹاٹ باندھ دیا اور بیٹھ کر پڑھانے لگے۔ اب دیوبندیوں میں بڑی کھلبلی مچی، انھوں نے کلکٹر کو خبر کی کہ دیکھیے گورنمنٹ کی زمین پر قبضہ کر لیا، کلکٹر انگریز تھا، معائنے کے لیے آیا، محدث اعظم پاکستان اپنا پڑھاتے رہے، کلکٹر آئے کوئی آئے انھوں نے پروا نہیں کی، تو بہت متاثر ہوا اور پھر اس نے اپنے سیکریٹری سے کہا: ان سے کہو کہ یہ پڑھائیں، یہاں پر اپنا کام جاری رکھیں، یہاں پر مدرسہ بنائیں، گورنمنٹ کو کوئی اعتراض نہیں۔ بڑی سنگلاخ زمین میں شروع کیا، (اور عالی شان ادارہ بنایا) صرف بارہ سال ملا، ۱۹۶۲ء میں تو انتقال ہو گیا۔ (اعلیٰ حضرت کے) ایسے چاہنے والے تھے، شروع کا جو دروازہ تھا اسے باب رضا (نام دیا) آگے چلے تو جامعہ رضویہ مظہر اسلام، پھر سنی رضوی جامع مسجد بہت بڑی جامع مسجد بنائی، کہتے تھے کہ سب کچھ ہے، اب دل چاہتا ہے کہ اس محلے کا نام سوداگران رکھ دیا جائے۔

(ان کے خلاف) لوگوں نے مختلف نوع کے مقدمات کیے، یہ کہہ کر کہ اختلافات پھیلا رہے ہیں بائیس مقدمے چلے، مگر کورٹ نہیں جانا پڑا۔ ہر جمعرات کو داتا دربار جاتے اور دیر تک دعائیں کرتے، وکیلوں کو بتا بتا کر انھیں عالم بنا دیا۔[ماہنامہ پیغام شریعت دہلی، ص: 17، ستمبر 2017]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!