| عنوان: | تذکرہ خلفا و وابستگان رضا (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | فیضان المصطفیٰ قادری |
| پیش کش: | حافظ فرمان المصطفیٰ نظامی حسینی حنفی |
مفسرِ اعظم ہند حضرت جیلانی میاں علیہ الرحمہ:
مفسرِ اعظم حضرت جیلانی میاں کی جتنی اولاد ہیں سب اعلیٰ حضرت سے نجیب الطرفین ہیں۔ ایک صاحبزادے (حجۃ الاسلام) کے بڑے بیٹے (جیلانی میاں)، ایک صاحبزادے (مفتی اعظم ہند) کی بڑی بیٹی۔ (یوں ہوا کہ) اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ اپنی صاحبزادی کا نکاح پڑھا رہے تھے تو دونوں پوتا پوتی پھوپھی کی شادی میں اچھا لباس پہنے ہوئے تھے، پوتے کی عمر ساڑھے چھ سال اور پوتی کی عمر پانچ سال، تو اعلیٰ حضرت نے دونوں کو بلایا، ایک کو ایک زانو پر بٹھایا دوسرے کو دوسرے زانو پر، اور فرمایا: حامد میاں کو بلاؤ، مصطفےٰ میاں کو بلاؤ، (دونوں حضرات آئے تو ان سے فرمایا) تمہارے اس بچے کا عقد اس بچی سے کرتا ہوں، تمہاری اس بچی کا عقد اس بچے سے کرتا ہوں، دونوں نے اجازت دے دی، اعلیٰ حضرت نے نکاح پڑھا دیا۔ نکاح کے بعد گھر میں کچھ باتیں ہوئیں تو فرمایا: اگر اس زمین سے آسمان تک کوئی اڑے تو اس بچی کے لیے جیلانی سے بہتر کوئی نہیں۔
اعلیٰ حضرت ان کو (جیلانی میاں کو) بہت چاہتے تھے، یہ خاندان میں واحد تھے جن کو اعلیٰ حضرت نے خود بیعت لیا، اور سب کو تو نوری میاں سے بیعت کرایا، دونوں شہزادگان نوری میاں سے، دونوں بھائی نوری میاں سے، اپنی صاحبزادیاں نوری میاں سے، مگر ان کی خود بیعت لی، اور جب بیعت لی اسی وقت ان کو خلافت دیا۔ (جیلانی میاں کی) چودہ سال کی عمر تھی جب اعلیٰ حضرت کا وصال ہوا، ان کو وصال بہت اچھی طرح یاد تھا۔
جب میری (شوکت میاں کی) شادی ہوئی (مفسرِ اعظم کی صاحبزادی سے اس وقت) مفتی اختر رضا پانچ سال کے تھے، قمر رضا ایک سال کے تھے، منان رضا خاں شادی کے دو سال کے بعد پیدا ہوئے، رحمانی میاں چودہ پندرہ سال کے تھے، کیونکہ ہماری بیوی سب سے بڑی تھیں، سب مجھ کو بھائی جان کہتے تھے، (جب کوئی کام ہوتا) رحمانی میاں کہتے تھے: بھائی جان! ابا آپ کی بات نہیں ٹالیں گے، آپ کہہ دیجیے۔ وجہ یہ کہ یہ لوگ ساتھ نہیں رہتے تھے، سر جھکا کر نکل جاتے، بس میں ساتھ رہتا تھا اور مفتی اختر رضا رہتے تھے۔
منظرِ اسلام جو قائم ہے یہ انھیں جیلانی میاں کی وجہ سے ہے، کیونکہ یہ تو مولانا تقدس علی خاں صاحب جو ان کے بہنوئی تھے (چلاتے تھے)، وہ پاکستان آ گئے اور جو بینک بیلنس اور قبض الوصول تھا وہ سب حضرت (مفتی اعظم ہند) کو دے آئے، ایک فیاض حسین پوسٹ ماسٹر تھے جو نائب مہتمم تھے وہ حضرت سے لے گئے اور خود چلانے لگے، حضرت جیلانی میاں صاحب کیونکہ گاؤں میں رہتے تھے جو حضرت حجۃ الاسلام کے زمانے سے جاگیر تھی، پھر انھوں نے (آ کر) دار العلوم منظرِ اسلام کو اپنے تحت لیا۔ اور اس طرح انھوں نے دار العلوم چلایا کہ (ضرورت پڑی تو اس کے لیے) اپنی اہلیہ کا زیور بیچ دیا۔
جب آپ علیل ہو گئے، فالج ہوا تو لکھ کر بات کرتے تھے، مفتی افضل حسین صاحب سے کہا کہ کل (اساتذہ کی) تنخواہیں ادا کر دی جائیں گی۔ ان کی کرامت۔ صبح فجر پڑھ کر ناشتہ کر کے رکشہ منگاتے، سوداگری محلے جاتے، دن بھر رہتے، طلبہ کا، مطبخ کا سب (انتظام) کرتے تھے اور عشا پڑھ کر آتے تھے، صبح کو رکشہ میں گئے، دس بجے ڈاکیہ آتا تھا، (ڈاکیہ آیا) وہ مزار شریف میں تھے، فاتحہ پڑھ کے درگاہ سے نکل رہے تھے، میں نے کہا: ابا، ڈاکیہ منی آرڈر لے کر آیا ہے، بولے: وصول کر لو، وصول کر لیا، بولے: مفتی افضل حسین صاحب کو بلاؤ، وہ آئے تو کہا: دیکھیے یہ روپیہ ہے۔ یہ اتنا ہی روپیہ تھا جتنا مدرسین کی تنخواہیں ہوتی ہیں۔ فرمایا: میں سمجھ رہا تھا کہ آپ کو کل یقین نہیں آ رہا تھا، میں نے اعلیٰ حضرت کے مزار پر حاضری دی، اور عرض کی: حضرت! یہ جیلانی کا مدرسہ نہیں ہے، یہ آپ کا مدرسہ ہے، مدرسین بہت پریشان ہیں، دیکھیے میں نکلا تھا مزار سے کہ یہ روپیہ آ گیا۔ فرماتے تھے: تم لوگ اعلیٰ حضرت کی اولاد ہو کر پریشان ہوتے ہو، میں تو اپنے دادا سے عرض کرتا ہوں فوری کام ہو جاتا ہے۔
ان میں ایسی انفرادیت تھی کہ (کسی سے ڈرتے نہ تھے) میں وہاں تھا، انھوں نے کانگریس کے خلاف اشتہار نکال دیا، نہرو کا زمانہ تھا، پنت (سیاسی لیڈر) اس وقت امیدوار تھا، نہرو نے کہا جلدی جاؤ انھوں نے اشتہار نکال دیا ہے، تم تو ہار جاؤ گے۔ پنت آیا، تو لوگ آئے کہ پنت آپ سے ملنا چاہتا ہے، فرمایا: اسے یہاں درگاہ پر نہ لاؤ، میں چلتا ہوں، جب ملاقات ہوئی تو اس نے کہا: آپ نے ہمارے خلاف اشتہار نکالا ہے، فرمایا: تمہارے خلاف کیا؟ کانگریس کے خلاف نکالا ہے، جتنے بلوے ہوئے سب کانگریس نے کرائے ہیں۔ مسجد شہید گنج کا معاملہ کانگریس نے کرایا، پنت نے کہا کہ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں جو آپ کہیں گے وہ مانا جائے گا۔ انھوں نے کہا: تمہاری بات کا یقین نہیں ہے۔ نہرو اگر یہ بات مجھ سے کرے تو میں غور کروں گا، اور جو میں کہوں وہ کہے کہ پورا کروں گا تب میں غور کروں گا۔ ڈپٹی آغا مرزا (یعنی جو درمیان میں تھے) ان کا منہ اتنا سا رہ گیا، کہنے لگے: پتہ نہیں یہ بند نہ کرا دے۔ یہ بات آپ نے سن لی، فرمایا: اس کا باپ کچھ نہیں کرا سکتا، بند کرا دے گا؟ کیسے بند کرائے گا؟ کچھ نہیں ہوا اور وہ وہاں سے ہار گیا۔
حضرت جیلانی میاں سن ۵۴ میں پاکستان آئے تھے، اعلیٰ حضرت کے عرس میں مفتی ظفر علی نے بلوایا تھا، اس زمانے میں کسی نے درخواست دے دی بریلی کے ایس پی کے یہاں، کہ یہ پاکستان جاتے ہیں، وہاں سے پیسے لاتے ہیں۔ جب میں وصال کے بعد بریلی گیا تو وہاں انٹری کرانے گیا، تو انسپکٹر نے مجھ سے کہا کہ آپ کے تو وہ پتا (خسر) تھے جو انتقال کر گئے اب میں آپ کو ایک بات بتاتا ہوں، وہ سی آئی ڈی کے ذریعہ جو درخواست ڈالی گئی تھی، اس نے اپنے آفیسران سے کہا کہ خبردار ان کے پاس انکوائری کرنے نہیں جانا۔ اور جب ان کے انتقال کی خبر ہوئی تو وہ فائل جلایا، ان کا انتقال ۱۹۶۴ء میں ہوا۔
قطبِ مدینہ حضرت مولانا ضیاء الدین مدنی رحمۃ اللہ علیہ:
حضرت علامہ ضیاء الدین مدنی رحمۃ اللہ علیہ سیالکوٹ کے رہنے والے تھے، ان کے والد قادیانی تھے، اور ان کا استاد قادیانی تھا، وہ پڑھانے میں کوئی نہ کوئی بات قادیانیت کی کرتا جسے آپ قبول نہیں کرتے تھے، اس کا رد کرتے تھے، اور وہ والد سے شکایت کرتا کہ ہماری بات نہیں سنتے۔ والد نے کہا: ضیاء الدین! اگر تم کو اس گھر میں رہنا ہے تو اس سے پڑھنا ہوگا، ورنہ اس گھر سے نکل جاؤ۔ یہ گھر سے نکل گئے، لاہور آئے، وہاں مولانا غلام قادر بھیروی سنی عالم تھے، ان سے پڑھنے لگ گئے۔ جب پڑھ لیا اور حدیث پاک پڑھنے کا وقت آیا تو انھوں نے کہا کہ محدث سورتی رحمۃ اللہ علیہ سے بڑھ کر ہندوستان میں کوئی محدث نہیں ہے، اگر پڑھنا ہے تو پیلی بھیت شریف جاؤ، تو آپ پیلی بھیت آ گئے، اور وہاں پڑھنے لگے، محدث سورتی رحمۃ اللہ علیہ ہر جمعرات کو بریلی شریف آتے اور جمعہ اعلیٰ حضرت کے پیچھے پڑھتے تھے، تو کوئی نہ کوئی طالب علم بھی ساتھ آتا تھا، تو فرمایا: ضیاء الدین! تم چلو گے بریلی شریف؟ بولے: چلوں گا، تو اعلیٰ حضرت کی زیارت کی ۔ اعلیٰ حضرت سے مرید ہوئے، پھر ان کی دستار بندی میں اعلیٰ حضرت پیلی بھیت تشریف لائے۔
یہاں سے فارغ ہوئے تو بغداد شریف چلے گئے، اور وہاں حالتِ جذب میں ہو گئے، بارہ سال حالتِ جذب میں صحرا گردی کرتے رہے، تو حضرت امام کردی رحمۃ اللہ کے سلسلے کے ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی، انھوں نے نظر ڈالی تو یہ ہوش میں آئے، انھوں نے کہا: تمہاری کیا آرزو ہے؟ کیا چاہتے ہو؟ بولے: مدینے شریف چلا جاؤں، فرمایا: بھیج دیتے ہیں، لیکن دو باتیں تمہیں ہماری ماننا پڑیں گی، ایک تو مسجدِ نبوی میں پہلی صف میں نہ بیٹھنا، دوسرے کتنے ہی فاقے ہوں وہاں کسی کے سامنے دستِ سوال دراز نہ کرنا۔ شریف پاشا کا زمانہ تھا، ایک تو اگلی صف میں بزرگ ہوتے تھے اور بادشاہ کی طرف سے اگلی صف والوں کو دگنی اشرفیاں دی جاتی تھیں۔ حضرت علامہ ضیاء الدین مدنی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ جو تھوڑا بہت پاس تھا جب ختم ہو گیا اور مجھے فاقے ہونے لگے اور فاقے ایسے ہوئے کہ لیٹنے سے بیٹھنا مشکل، بیٹھنے سے اٹھنا مشکل، میں نے وعدہ کر لیا تھا کہ کسی سے نہیں مانگوں گا۔ نازک حالت ہو گئی تو دروازے پر دستک ہوئی، میں گیا تو ایک بزرگ شخصیت سفید ریش سفید عمامہ باندھے ہوئے ایک برتن میں آٹا لیے، فرمایا: ضیاء الدین! اس میں جو کچھ ہے وہ تمہارے لیے ہے، اسے رکھو۔ حضرت فرماتے ہیں کہ یہ حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ تھے کہ مدینے پاک کے لوگ ان کے ذمہ سپرد ہیں۔ حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ سے آپ کو اتنی عقیدت تھی کہ آخر میں ویل چیئر سے احد شریف جاتے تھے، فرمایا: ذرا تقویت ہوئی، اس برتن کو نکالا اس میں آٹا تھا اور نیچے دیکھا اس میں اشرفیاں تھیں۔ یہ واقعہ یوں سنایا کہ حضرت کے یہاں کھانا ناشتہ یوں ہوتا جیسے کسی نواب کے یہاں ہوتا، رات میں جاگتے تھے فجر کے بعد سوتے تھے، گیارہ بجے ناشتہ ہوتا تھا، میں وہی ہوتا، بڑا تھا ل ہوتا، اس میں انڈے ہاف فرائی الگ، زیتون الگ، بالائی کا ٹین الگ، خاص حلوا الگ، کھجوریں الگ، میں نے پوچھا کہ حضرت اتنا کھانا اور بظاہر آمدنی کا کوئی سلسلہ نہیں، اس پر یہ واقعہ بیان فرمایا، آخر میں فرمایا: شوکت بھائی! سب کچھ چھوڑا، ماں باپ کو چھوڑا، وطن کو چھوڑا، گھر کو چھوڑا، اس در پر آن پڑا، اب یہاں بھی نہ ملے گا تو کہاں ملے گا؟ بڑے بڑے میمن کراچی سے آتے تھے اور حضرت کی نذر کرتے تھے تو کسی کے دل میں یہ خیال آیا کہ ہم نے زیادہ نذرانہ دیا، ادھر فرماتے تھے:
کون دیتا ہے دینے کو منہ چاہیے
دینے والا ہے سچا ہمارا نبی۔
جب ایک ماہ کے بعد میں چلنے لگا تو فرمایا: کیوں جا رہے ہیں؟ تو حضرت نے صدری سے نوٹ نکالے اور مجھے دیا، یہ آپ رکھیے، ایک بار رخصت ہوتے ہوئے حضرت کے پاس آیا، زانو پر سر رکھ کر رویا، فرمایا: آپ پریشان نہ ہوں، آپ کی ہمیشہ حاضری ہوتی رہے گی، اس کی برکت ہے کہ حاضری ہوتی رہتی ہے۔ فرمایا: فقیر کے گھر پر کوئی تکلیف ہو تو مجھے معاف کر دیجیے گا۔ فرماتے کہ میرے پیر کے گھر کا کوئی آئے اور ضیاء الدین کے گھر پر اسے آرام ملے اس سے زیادہ مجھے خوشی نہیں ہوگی۔ ایک بار پوری فیملی کے ساتھ مدینے شریف حاضری ہوئی، حضرت کے گھر پہنچے، سامان رکھا پھر حاضری کے لیے روانہ ہوا، واپس آیا تو دیکھا کہ سامان نہیں تھا، فرمایا: سامان اوپر کمرے میں منتقل کر دیا گیا ہے وہاں آپ آرام کریں گے، یہ ان کا کمرہ تھا جس میں مسہری وغیرہ تھی مگر وہ ہمیں دے دی، میں نے کہا میں کہیں اور کمرہ دیکھ لیتا ہوں، فرمایا: یہ نہیں ہوگا، جب تک میں زندہ ہوں ہمارے پیر کے گھر کا کوئی فرد کہیں اور ٹھہرے؟۔ یہ گھر بھی چھوٹا تھا، اس سے پہلے والا بڑا تھا مگر اسے بابِ مجیدی سے قریب ہونے کی وجہ سے لے لیا تھا۔
جب میں مدینہ شریف جاتا تھا تو رات کو ان کے کمرے میں رہتا تھا، ایک دن میں نے کہا کہ آپ نے اعلیٰ حضرت کو دیکھا ہے، کچھ واقعات سنائیے، فرمانے لگے: شوکت بھائی، میرے پیر کے ایسے معاملات ہیں کہ دن گزر جائے رات گزر جائے مہینے گزر جائیں سال گزر جائے، ختم نہیں ہوں گے۔ مگر ایک بات فقیر عرض کرتا ہے کہ میرے پیر کا کرم ہے کہ ستر سال ہو گئے مجھے اس آستانے پر، اور نجدی حکومت میرے سامنے آئی، اور نجدیوں نے بڑا ظلم کیا، مگر میرے پیر و مرشد کا کرم کہ مجھ سے کسی نے کچھ نہیں کہا، اور میری محفل جاری رہی۔ میں شوکت میاں نے خود دیکھا، دروازہ کھول دیا جاتا، اعلیٰ حضرت کی نعتیں اور سلام ہو رہا ہے، نجدی سی آئی ڈی گزر جاتے مگر اندر آنے کی ان کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔ فرمایا: دنیا کے علماء و مشائخ جو حاضری دیتے ہیں فقیر سے ملاقات کرتے ہیں مگر آج تک اپنے پیر اعلیٰ حضرت جیسا کسی کو نہیں پایا۔
ایک بار فرمایا کہ اعلیٰ حضرت کے وصال سے چھ مہینے پہلے میں نے مدینے پاک میں ایک خواب دیکھا، میں نے تعبیر لی کہ میرے پیر و مرشد کا وصال ہونے والا ہے، تو میں نے اپنی اہلیہ سے کہا جو مدنی تھیں، یہ ۱۹۲۰ء کے آخر کی بات ہے، میں نے کہا: میرا سامان تیار کرو میں بریلی شریف جا رہا ہوں، اس زمانے میں عجیب جہاز ہوا کرتا تھا وہ پریشان ہوئیں کہ یہ تو اپنے پیر کے عاشق ہیں، کہیں وہیں بریلی شریف نہ رہ جائیں، تو انھوں نے مدینے کے علماء کو کہا کہ حج کرنے تو جاتے نہیں ہیں، کہ موت کہیں مدینے سے باہر نہ آ جائے ہندوستان کیسے جا رہے ہیں؟، تو سب لوگوں نے ان سے کہا، فرمایا: یہ عقیدہ ہے ضیاء الدین کا کہ اس سفر میں انتقال ہو گیا تو مدینہ شریف آ جاؤں گا یعنی فرشتے بقیع شریف لا کر دفن کر دیں گے۔ بریلی شریف حاضری ہوئی تو اعلیٰ حضرت نے ایک گھنٹہ میرے لیے خاص رکھا، کہ میں اور اعلیٰ حضرت ہوتے اور تیسرا کوئی نہیں، ایک مہینے بریلی شریف میں رہا۔ جب اعلیٰ حضرت کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو بھوالی پہاڑ جانے لگے، فرمایا: ضیاء الدین! اب میں جا رہا ہوں اور تم بھی حج کرو، اور مدینے پاک جاؤ۔ چنانچہ مدینے پاک کے سفر میں اعلیٰ حضرت کے وصال کا تار آیا۔
حضرت علامہ ضیاء الدین مدنی علیہ الرحمہ کا انتقال مدینے شریف میں ہی ۱۹۸۲ء میں ہوا، حضرت کا جنازہ جب ریاض الجنہ میں رکھا گیا تو مسجد نبوی شریف کا امام کھڑا ہوا نمازِ جنازہ پڑھانے کے لیے، تو ابوالقاسم جو حضرت کی خدمت میں رہتے تھے انھوں نے امام کو ہٹایا، ان کے خلیفہ شیخ علی مراد کھڑے تھے، ان کو کہا: آپ چلیے، انھوں نے نماز پڑھائی۔ اور پھر جنازہ جب وہاں سے بقیع شریف گیا تو اعلیٰ حضرت کی نعت ”کعبے کے بدرالدجیٰ تم پہ کروڑوں درود“ پڑھتے ہوئے لوگ گئے، اور پرانی بقیع شریف جو بند کر دی گئی تھی، گورنر نے خاص ہدایت دی، اسے کھولا گیا اور وہاں دفن ہوئے۔ مولانا عبد العلیم صدیقی رحمۃ اللہ علیہ کا وصال ۱۹۵۲ء میں ہوا اور ان کا وصال ۱۹۸۲ء میں تیس سال بعد ہوا، مگر ان کے برابر دفن ہوئے۔ اُن کا مزار بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پائنتی ہے اور ان کا بھی پائنتی۔[ماہنامہ پیغام شریعت دہلی، ص: 14, ستمبر 2017]
