Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حضرت مولانا ارشاد حسین رامپوری - حیات و خدمات (قسط: اول)

حضرت مولانا ارشاد حسین رامپوری - حیات و خدمات (قسط: اول)
عنوان: حضرت مولانا ارشاد حسین رامپوری - حیات و خدمات (قسط: اول)
تحریر: محمد غلام مرتضیٰ قادری رضوی
پیش کش: ام حبیبہ واسطی
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

حق کی حمایت اور باطل کی تردید علمائے اہل سنت کا طرۂ امتیاز رہا ہے۔ ہر دور اور ہر عصر میں ایسے علماء نے جنم لیا ہے جو بلا خوف لومۃ لائم دین اسلام کی سربلندی اور شریعت اسلامیہ کے تحفظ و بقا کی خاطر ہمہ تن مصروف عمل اور دفاع اہل سنت کے لئے مستعد و تیار رہے۔ ان کی حیات کا مقصود اصلی یہی تھا کہ ملت بیضا کا تقدس پامال نہ ہونے پائے خواہ اس کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے۔ اسی لئے ان نفوس قدسیہ نے کبھی بھی نہ تو اپنی عزت نفس کی پرواہ کی، نہ طمع دنیا کی حرص، نہ اپنوں کا خیال، نہ غیروں کی فکر؛ حق گوئی ان کا شیوہ تھا اور بے باکی ان کی طبیعت۔ زمانے کے عیش و عشرت سے منہ پھیر کر، خلوص و للہیت کے ساتھ اپنے رب کی رضا کے حصول کے لئے ریاضت و مجاہدہ اور عوام الناس کے ایمان و عقیدے کی صیانت میں مصروف رہنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں، یہ امور وہی انجام دے سکتا ہے جس پر خاص فضل الہی ہو۔ ماضی قریب میں بھی ایسی کئی نابغہ روزگار شخصیات گزری ہیں جنہوں نے اپنی حیات میں ایسے کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں جو آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں، ان کی ذات، ایثار اور حمایت حق کے جذبے سے سرشار تھی، ان کی صحبتِ بافیض، روحانی امراض کے بیماروں کے لئے نسخۂ شفا تھی۔

انہی عظیم شخصیات میں رامپور، یوپی کے عظیم عالم دین، قطب الارشاد حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد ارشاد حسین مجددی رامپوری ہیں جو بیک وقت ایک جید عالم، بے نظیر مناظر، بہترین مدرس، اور ایک عظیم صوفی تھے۔ تیرہویں اور چودہویں صدی کے عرصے میں بزم شریعت و معرفت، مجلس وعظ و خطابت، حلقہ درس و تدریس اور میدان تبلیغ و اشاعت میں جس شخصیت کی ذات گرامی فیض بار نظر آتی ہے وہ حضرت علامہ مفتی شاہ ارشاد حسین مجددی نقشبندی عليه الرحمة کی ذات گرامی ہے۔

آپ کا شمار اپنے وقت کے کبار علماء میں ہوتا تھا، ایک زمانہ آپ کے علم و فضل اور تقوی و پرہیز گاری کا معترف تھا۔ یہی وجہ ہے کہ خود مجدد اعظم سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عليه الرحمة نے اپنی تحریروں میں اکثر مقامات پر مولانا مفتی ارشاد حسین رامپوری عليه الرحمة کا تذکرہ نہایت ادب و احترام سے کیا ہے۔ چنانچہ اپنی مشہور زمانہ تصنیف ”کفل الفقیہ الفاہم“ میں آپ کا ذکر ان القاب و آداب سے کیا ہے:

وَأَمْضَى عَلَيْهِ نَاسٌ مِنْ كِبَارِ عُلَمَاءِ الْهِنْدِ كَالْفَاضِلِ الْكَامِلِ مُحَمَّدِ إِرْشَادِ حُسَيْنٍ الرَّامْفُورِيِّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى وَغَيْرِهِ[فتاویٰ رضویہ، ج: 7]

سرکار اعلیٰ حضرت کے علاوہ علامہ وصی احمد محدث سورتی، علامہ عبد السمیع بے دل رامپوری، صدر الافاضل حضرت علامہ نعیم الدین مراد آبادی و دیگر کئی عظیم دینی و روحانی شخصیات آپ کی عظمت و رفعت کی معترف تھیں۔ ذیل میں حضرت علامہ و مولانا ارشاد حسین مجددی رامپوری عليه الرحمة والرضوان کی حیات و خدمات کے چند گوشے قارئین کی نذر ہیں:

ولادت

تاج النقباء حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد ارشاد حسین رامپوری مجددی عليه الرحمة کی ولادت با سعادت 14 صفر المظفر 1248ھ محلہ پیلا تالاب، شہر رامپور، یوپی انڈیا میں ہوئی۔ آپ کا نام محمد ارشاد حسین رکھا گیا اور علمائے اہل سنت و جماعت نے آپ کو تاج المحدثین، سند المحدثین، سراج الفقہاء، شیخ العلماء الراسخین اور قطب الارشاد جیسے القاب سے نوازا۔

نسب

مولانا ارشاد حسین عليه الرحمة نسلاً فاروقی ہیں، آپ گیارہویں صدی ہجری کے مجدد اعظم سید شاہ شیخ احمد سرہندی رحمة الله عليه کی اولاد سے ہیں جنہوں نے اپنی علمی جلالت، روحانی ہیبت اور دینی غیرت سے فتنۂ اکبری کو جلا کر خاکستر کر دیا تھا اور امت مسلمہ کے ایمان و عقیدے کو ہلاک و برباد ہونے سے بچایا تھا۔ آپ کا سلسلۂ نسب یوں ہے:

مولانا ارشاد حسین بن مولانا حکیم احمد حسین بن غلام محی الدین بن فیض احمد بن شاہ کمال الدین بن شیخ درویش احمد بن شیخ زین العابدین عرف میاں فقیر اللہ بن حضرت خواجہ محمد یحییٰ بن حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی رحمهم الله تعالى عنهم أجمعين۔

تعلیم

مولانا محمد ارشاد حسین مجددی نے فارسی کی کتابیں اپنے والد مولوی حکیم احمد حسین مجددی، اپنے بھائی مولوی امداد حسین مجددی، شیخ احمد علی اور شیخ واجد علی سے پڑھیں۔ یہ حضرات علم فارسی میں بہت ملکہ رکھتے تھے۔ اس کے بعد نحو و صرف وغیرہ علوم عربیہ کی تعلیم مولوی حافظ غلام نبی، مولوی جلال الدین اور مولوی نصیر الدین خان سے حاصل کی، اس کے بعد علمائے لکھنؤ سے علوم نقلیہ کی تکمیل کی۔ پھر وہاں سے علامہ زماں مولانا محمد نواب افغانی نقشبندی کی خدمت میں علوم عقلیہ کے استفادہ کے لئے رامپور تشریف لائے اور باقی ماندہ کتب معقول و غیرہ کا درس علامہ زماں ملا محمد نواب افغانی نقشبندی مجددی سے لیا۔ [مولانا ارشاد حسین مجددی رامپوری، ص: 12]

بیعت و خلافت

تعلیم سے فراغت حاصل کرنے کے بعد اپنے استاذ گرامی ملا محمد نواب افغانی کی رہنمائی سے عارف کامل حضرت علامہ مولانا مفتی شاہ احمد سعید مجددی کے دست حق پرست پر بیعت کی اور شیخ کامل کی خدمت میں رہ کر تصوف، حقائق و اسرار اور حدیث و تفسیر کی کتابیں پڑھیں اور تھوڑے سے عرصے میں محبوبیت و مرادیت کا بلند مقام پا کر اجازت و خلافت سے سرفراز ہوئے۔

حالات کی ستم ظریفی اور ملک پر انگریزی اقتدار کے غلبہ و تسلط کے سبب غدر کے زمانے میں حضرت شاہ احمد سعید صاحب ہجرت فرما کر مکہ معظمہ روانہ ہوئے۔ آپ بھی ان کے ساتھ پانی پت تک تشریف لے گئے۔ پانی پت سے شیخ کامل نے آپ کو رامپور رخصت کیا۔ [معارف عنایتیہ، ص: 116]

رامپور تشریف آوری

رامپور آپ کی تشریف آوری سے قبل ہی عارف باللہ حضرت حاجی محمدی رحمة الله عليه نے حضرت مولانا حافظ عنایت اللہ خاں مجددی رامپوری سے ان کے اصرار بیعت پر ایک روز ارشاد فرمایا: ”تم ابھی پڑھو، ایک قطب وقت کا ظہور ہونے والا ہے اس سے تم کو نصیب کامل ملے گا۔“ چنانچہ شیخ طریقت مرشد برحق شاہ احمد سعید مجددی نے سید عالم کے فرمان عالی کے مطابق مولانا ارشاد حسین مجددی کو رامپور جانے کا حکم دیا۔

آپ حضرت حاجی محمدی قدس سره کی پیشن گوئی کے مطابق منصب قطبیت سے سرفراز ہو کر رامپور تشریف لائے اور عارف باللہ مولانا عبد الکریم عرف ملا فقیر اخوند قادری چشتی کی خانقاہ کے حجرے میں قیام فرمایا۔ [معارف عنایتیہ، ص: 18]

مولانا ارشاد حسین مجددی نے اس حجرے میں قیام کے دوران نو ماہ میں قرآن کریم حفظ کیا اور سنت نبوی پر عمل کرتے ہوئے گھیر کٹے باز خاں میں ایک بیوہ عورت سے نکاح کیا۔ [ایضاً]

اخلاق و عادات

مولانا ارشاد حسین رامپوری عليه الرحمة اخلاق و عادات کے اعتبار سے بلند مقام رکھتے تھے۔ بڑے ہی خوش اخلاقی، خوش لباسی، و خوش اوقاتی سے زندگی بسر کرتے، ہر شخص کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتے، لوگوں سے کیا ہوا عہد پورا کرتے، محتاجوں کو بخشش و کرم سے نوازتے اور امیروں سے بے نیاز رہتے تھے۔ سنی خوش عقیدہ مسلمانوں پر شفقت و عنایت فرماتے اور باطل پرستوں سے شدید نفرت کرتے تھے۔ شہر اور اہل شہر پر خاص اثر تھا۔ صبر و توکل، زہد و قناعت اور تسلیم و رضا کے ساتھ ریاضت و مجاہدہ میں مشغول رہتے تھے۔ ہفتہ میں فاقے کی نوبت بھی آجاتی، امراض و عوارض اس پر مستزاد، مگر صبر و تحمل کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیتے اور نہ کبھی کسی پر مصائب و آلام کے آثار ظاہر ہونے دیے۔

حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ ورد زبان رہتا اور وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللهِ رِزْقُهَا دل نشیں تھا۔ اور کسی سے کوئی غرض نہ تھی۔ کہتے ہیں ایک دفعہ دوران فاقہ کشی نواب کلب علی خان نقشبندی مجددی والی رامپور نے اپنی بیماری کے ایام میں محمد عثمان خان کارگزار ریاست کے توسط سے کچھ روپے آپ کے پاس بھیجے۔ آپ نے رد کر دیئے اور فرمایا کہ ”صدقہ مسکینوں کا حق ہے ہم ان کی صحت کے لئے دعا کرتے ہیں۔“

یہ جواب سن کر نواب کلب علی خاں نے آپ کی خدمت میں ایک عریضہ لکھا جس میں تحریر تھا کہ: ”بے شک میں فسق و فجور میں مبتلا ہوں لیکن اہل اللہ کی عقیدتِ اخلاص سے محروم نہیں ہوں۔“

أُحِبُّ الصَّالِحِيْنَ وَلَسْتُ مِنْهُمْ
لَعَلَّ اللهَ يَرْزُقُنِيْ صَلَاحًا

مولانا ارشاد حسین رامپوری عليه الرحمة نے ان کے حق میں دعا فرمائی۔ رب تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمائی کہ وہ خلاف شرع کاموں سے بیزار ہو گئے اور صالحین میں شمار ہوئے۔ [معارف عنایتیہ]

آپ کے پاس اکثر لوگ امانتیں رکھ دیتے تھے، آپ ان سے شرط فرما لیتے تھے کہ اگر مجھے ضرورت ہوگی یا کسی اور کو تو بشرط ادا صرف کر دونگا یا دے دونگا، کوئی عذر نہ کرنا۔ ان امانتوں کی رقموں سے سیکڑوں لوگوں کو مدد پہنچتی تھی اور سود کی آفت سے بچا لیتے تھے۔ بعض امانتیں ضائع بھی ہوئیں وہ بخوشی خاطر اپنے پاس سے پوری کر دیں۔ یہ تھی آپ کی فیض رسانی و دستگیری۔ [تذکرہ کاملان رامپور، ص: 132]

آپ کی خدمات دینیہ

تاج الفقہاء حضرت مولانا ارشاد حسین رامپوری عليه الرحمة نے پوری زندگی خدمت دین کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم مختلف زاویے سے آپ کی حیات کا جائزہ لیتے ہیں تو ہر جہت سے آپ مذہب و ملت کی خدمات انجام دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

مدرسہ ارشاد العلوم

اس مدرسہ کو بیت الارشاد اور دار الارشاد بھی کہا جاتا تھا۔ یہ مدرسہ محلہ کھاری کنواں (چاہ شور) پر حضرت مولانا مفتی محمد ارشاد حسین مجددی نے اپنے مکان میں 1284ھ / 1867ء میں قائم کیا تھا۔ اس وقت مدرسہ میں مولانا محمد ارشاد حسین مجددی عليه الرحمة خود درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے تھے۔ اور دور دراز مقام سے آئے ہوئے سیکڑوں طلبہ اس مدرسہ سے فیضیاب ہو کر جاتے تھے۔ [دبدبہ سکندری رامپور، مورخہ: 12 اگست 1940ء، ص: 3]

1306ھ / 1889ء میں مولانا محمد ارشاد حسین مجددی نے اس مدرسہ کو باضابطہ قائم فرمایا اور 10 مارچ 1890ء کو حضرت مولانا میاں سید خواجہ احمد قادری رامپوری کو اس مدرسہ کا مہتمم بنایا۔

جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ [ماہنامہ جامعۃ الرضا، ماہ صفر 1443ھ]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!