Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

کچھ یادیں، کچھ باتیں

کچھ یادیں، کچھ باتیں
عنوان: مضمون: کچھ یادیں، کچھ باتیں
تحریر: علامہ محمد حسن علی رضوی میلمی علیہ الرحمہ
پیش کش: آفرین فاطمہ رضویہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

آتی ہے یاد ان کی رضا کے رضا کاروں میں

سراپا مسلک اعلیٰ حضرت، آئینۂ جمال صدر الشریعہ، شیخ طریقت حضرت علامہ الحاج الشاہ الحافظ القاری محمد مصلح الدین صدیقی قادری رضوی رحمة الله عليه کی عظیم المرتبت رفیع الدرجات ذات گرامی نقش اکابر کی حیثیت رکھتی ہے، وہ مسلک سیدنا اعلیٰ حضرت عليه الرحمة کے عظیم مبلغ و ناشر تھے، ان کی ذات گرامی میں بیک وقت شیخ الشیوخ العالم حضور سیدنا سرکار مفتی اعظم، حضور صدر الصدور صدر الشریعہ بدر الطریقہ صدر المدرسین علی الاطلاق مفید الطالبین علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رضوی، حضور حافظ ملت محدث مبارکپوری، نائب اعلیٰ حضرت محدث اعظم پاکستان قدست اسرارهم کی روحانیت اور علمی جاہ و جلال کا جلوہ نظر آتا ہے۔

یہ غالباً 1957ء یا 1958ء کی بات ہے کہ لاہور میں ہونے والی ملک گیر کل پاکستان سنی کانفرنس کا پوسٹر اور دعوت نامہ موصول ہوا، جس میں پورے ملک کے علمائے و مشائخ اہل سنت کراچی سے پشاور اور پھر ڈھاکہ تک کے ضلع وار اسماء مبارک لکھے ہوئے تھے، اس میں کراچی کے علماء میں سر فہرست پیر طریقت حضرت علامہ قاری محمد مصلح الدین صدیقی قادری رضوی قدس سره کا نام نامی لکھا ہوا تھا، یہ حضرت ممدوح کی ذات گرامی سے پہلا تعارف تھا اور پھر تو یادگار رضا پاکستان جامعہ رضویہ منظر اسلام لائل پور (اب فیصل آباد) کے سالانہ دستار فضیلت کے جلسوں میں ان سے اور حضرت علامہ عبد المصطفیٰ ازہری رضوی، علامہ مفتی محمد ظفر علی نعمانی امجدی رضوی، علامہ قاری محبوب رضا خاں صاحب بریلوی قدست اسرارهم سے بار بار شرف ملاقات کی سعادت حاصل ہوتی رہتی تھی۔ اب بزرگوں کا قیام اور ان کے ساتھ اس فقیر راقم الحروف کا قیام بھی عموماً حضرت علامہ ابو الشاہ مولانا محمّد عبد القادر احمد آبادی یا حضرت علامہ ابو العالی محمد معین الدین شافعی رضوی بھیمٹری تھانوی (یہ تھانہ متصل بمبئی ہے) ناظم جامعہ رضویہ کی رہائش گاہ پر ہوتا تھا اور علمی مذاکرہ، تحقیقی تذکرہ ہوتا تھا۔ حضرت علامہ مولانا عبد المصطفیٰ صاحب ازہری عليه الرحمة کی طبیعت میں خوش طبعی اور مزاح کا عنصر تھا، باغ و بہار شخصیت کے مالک تھے، ان سب میں متحمل و منکسر المزاج و خاموش طبع اور سادہ طبیعت کے حامل حضرت علامہ قاری محمد مصلح الدین صدیقی صاحب عليه الرحمة تھے، دانائی، فراست و بصیرت ان کے چہرۂ مبارک سے عیاں تھی، وہ زیادہ وقت سیدی سندی حضور محدث اعظم پاکستان حضرت قبلہ شیخ المحدثین علامہ ابو الفضل محمد سردار احمد صاحب قدس سره کی خدمت میں گزارتے تھے اور ان کو بمنزلۂ اپنے استاذ و شیخ کے سمجھتے تھے، اور یہ اس لیے بھی کہ حضرت اقدس قاری صاحب نے سیدنا حضور مفتی اعظم شہزادۂ اعلیٰ حضرت اور حضور صدر الصدور صدر الشریعہ اور سیدنا شیخ الامام حجۃ الاسلام مولانا الشاہ محمد حامد رضا خاں صاحب بریلوی کی عنایات اور خاص شفقتیں بچشم خود دیکھی تھیں۔

یہ فقیر قادری گدائے رضوی چونکہ اپنی حیات کے ابتدائی دور ہی سے بفضلہ تعالیٰ مسلک اعلیٰ حضرت کا ادنیٰ چوکیدار، ادنیٰ پہرے دار ہے اور بفضلہ تعالیٰ حضور مفتی اعظم و حضور محدث اعظم پاکستان کی دعاؤں کی برکت سے کم و بیش 58 سال سے مذہب اہلسنت و مسلک اعلیٰ حضرت کے تحفظ و دفاع میں لکھ رہا ہے اور پاک و ہند کے بکثرت سنی رسائل و جرائد میں یہ مضامین و مقالات چھپ رہے ہیں۔ فقیر کی یہ ادا حضرت قبلہ قاری صاحب رحمة الله عليه کو بہت پسند تھی، یہ فقیر بلا مبالغہ ان کے قدموں کی دھول بھی نہیں، لیکن وہ فقیر کی اپنے معاصرین کی سی قدر فرماتے اور عزت افزائی فرماتے تھے۔ فقیر 1965ء میں کراچی حاضر ہوا تھا، جب حضرت قاری صاحب عليه الرحمة مسجد اخوند کھاردار میں خطیب تھے تو مسجد مذکورہ کے بالائی عقبی حصہ میں آپ کی نشست گاہ تھی، حضرت علامہ مفتی ظفر صاحب نعمانی عليه الرحمة اور فقیر یہیں حاضر ہوا کرتے تھے، وہ کمال شفقت و عنایت سے الحاج سیٹھ عبد المجید مکی قادری رضوی مرحوم ابن الحاج سیٹھ عبد العزیز قادری رضوی سلمہ عليه الرحمة کے ہمراہ ملاقاتِ فقیر کے لیے ملنے تشریف لائے، یہ کرم بالائے کرم تھا۔ انہی ایام میں ایک بار مکتبہ رضویہ آرام باغ میں حضرت قبلہ قادری صاحب سے ملاقات ہوئی، مجھ کو غیر متوقع طور پر دیکھ کر باغ باغ ہو گئے، اپنے پہلو میں جگہ دی۔

فقیر کے پاس براؤں شریف ضلع سدھارتھ نگر مشرقی یوپی انڈیا کے دارالعلوم فیض الرسول سے آیا ہوا ماہنامہ رسالہ فیض الرسول اور اس میں فقیر کا مضمون دیکھ کر بہت مسرور ہوئے اور فرمایا یہ رسالہ میرے نام جاری کرا دیں، اس کا چندہ سالانہ کیسے بھیجا جائے گا؟ منی آرڈر تو وہاں جاتا نہیں، فقیر نے عرض کیا میں بھیج دوں گا، بدلے میں کتابیں ارسال کرا دوں گا۔ ان دنوں حضرت علامہ مفتی ظفر علی صاحب عليه الرحمة کے بہنوئی جناب ظہیر الحسن صاحب مکتبہ رضویہ آرام باغ کے منصرم تھے، قاری صاحب عليه الرحمة نے فرمایا: میں یہاں سے کتابیں لے کر پیش کرتا ہوں، یہ کتابیں آپ براؤں شریف سدھارتھ نگر بھجوا دیں اور بہت شفقت و محبت سے فرمایا: یہ جمعہ آپ میری مسجد اخوند کھاردار میں پڑھائیں۔ اور فرمایا مولانا غلام علی صاحب اوکاڑوی میری اس مسجد میں تشریف لاتے تو فرماتے مجھے یہاں مسلک اعلیٰ حضرت رضي الله تعالى عنه کے نمایاں آثار نظر آتے ہیں، کئی جگہ نماز میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی بدعت شروع ہوگئی ہے، مولانا غلام علی صاحب فقیر کی مسجد میں نماز باجماعت کو ترجیح دیتے ہیں۔

لاؤڈ اسپیکر کی بات چلی تو فقیر کے پاس سیدنا حضور مفتی اعظم مولانا الشاہ مصطفیٰ رضا خان نوری برکاتی قدس سره کا فتویٰ تازہ تازہ آیا تھا، جیب میں موجود تھا، فقیر نے قاری صاحب عليه الرحمة کی خدمت میں پیش کر دیا، یہ دیکھ کر قاری صاحب قبلہ بہت مسرور ہوئے، بڑی فرحت و مسرت کا اظہار فرمایا، بہت اچھا ہوا، آپ نے یہ فتویٰ سرکار مفتی اعظم قبلہ سے منگوا لیا۔ اس فتویٰ میں خالص بات یہ ہے کہ بعض نو مولود جدید محققین محض مغالطہ دینے کے لیے کبھی خلاف واقعہ طور پر سرکار اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی قدس سره اور بے محل الکشف الشافیا کا نام لیتے ہیں، کبھی سیدنا حضور مفتی اعظم کا نام نامی غلط استعمال کرتے ہیں، اس تازہ ترین فتویٰ میں ان تمام مفروضات کی دھجیاں اڑا دی گئی ہیں۔ حصول برکت کے لیے اور صورت حال کی وضاحت کے لیے قارئین کرام سیدنا حضور مفتی اعظم قدس سره کے فتویٰ مبارکہ کے فیصلہ کن الفاظ ملاحظہ فرمائیں:

”جانشین شہزادۂ اعلیٰ حضرت رضي الله تعالى عنه ارقام فرماتے ہیں: محض لاؤڈ اسپیکر پر انتقالات کرنے والے کی نماز فاسد ہے، یہ فتویٰ پاکستان و بھارت کے سنی اخبارات و رسائل میں چھپ بھی چکا ہے، چھپے ہوئے فتویٰ کے خلاف محض اپنی بات بالا رکھنے کے لیے یہ کہنا کہ (حضرت مفتی اعظم) کا فتویٰ لاؤڈ اسپیکر پر نماز صحیح ہونے کا ہے، وہ بدترین جرم ہے کہ ناقابل درگزر ہے، اس سے بڑھ کر بے باک وہ لوگ ہیں جو امام اہلسنت اعلیٰ حضرت قدس سره کے سر سراسر جواز تھوپتے ہیں، اعلیٰ حضرت قدس سره کے عہد مبارک میں لاؤڈ اسپیکر کا نام بھی کوئی ہندوستان میں نہ جانتا تھا، اعلیٰ حضرت قدس سره کی کسی کتاب میں لاؤڈ اسپیکر کا کوئی تذکرہ نہیں ہے اور نہ ہی اعلیٰ حضرت قدس سره کی کسی کتاب سے اس کے جواز کا کوئی پہلو نکلتا ہے، اگر نکلتا ہے تو عدم جواز کا نکلتا ہے مخلصاً۔“

حضرت علامہ قاری مصلح الدین عليه الرحمة نے یہ طویل ترین جامع فتویٰ ملاحظہ کرکے فرمایا کہ حضرت ہم صدر الشریعہ بدر الطریقہ کی خدمت اقدس میں رہتے ہیں، ہم نے حافظ ملت (علامہ حافظ عبد العزیز صاحب) کو دیکھا ہے، حضور محدث اعظم پاکستان مولانا محمّد سردار احمد قدس سرهما کی خدمت میں رہتے ہیں، نو مولود جدید محققین کی خود ساختہ تحقیق پر کیسے عمل کیا جا سکتا ہے؟ مجھ فقیر سے ارشاد فرمایا: آپ اس مسئلے پر مفصل کتاب لکھیں، آپ کا قلم مسلک اعلیٰ حضرت کے تحفظ و دفاع میں خوب چلتا ہے، آپ نے برہان ملت مفتی اعظم جبل پور، حضرت محدث صاحب کچھوچھوی، استاذ محترم شیر بیشۂ اہلسنت مولانا حشمت علی خاں صاحب، مولانا محمد خلیل الکاظمی امروہوی، حضرت علامہ ابو البرکات سید احمد صاحب قادری وغیرہم سے بھی فتویٰ منگوائے ہیں؟ عرض کیا ان سب اکابر اور ان جیسے دوسرے مقتدر اکابر کے بھی فتویٰ حاصل کیے ہوئے موجود ہیں اور صرف ان مذکورہ بالا اکابر کرام سے ہی نہیں بلکہ سیدنا اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت رضي الله تعالى عنه کے گیارہ اکابر خلفاء و تلامذہ سے بھی عدم جواز فتاویٰ منگوائے ہوئے ہیں، فرمایا یہ علمی و تحقیقی اثاثہ ہیں چھپوا دیں، فقیر نے عرض کیا؛ جب وسائل ہوں گے چھپ جائیں گے، فرمایا مکتبہ رضویہ آرام باغ سے آپ چھپوا دیں، فرمایا: آپ مفتی ظفر علی صاحب سے ملیں وہ چھپوا سکتے ہیں، بہر کیف خامہ کس قصد سے سر اٹھایا تھا اور کہاں جا پہنچا، آمدم بر سر مطلب!

حضرت علامہ قاری صاحب عليه الرحمة کی ولادت شریف بتاریخ 11 ربیع الاول شریف 1336ھ 1917ء بروز دوشنبہ مبارکہ قندھار شریف ضلع ناندیڑ حیدرآباد دکن میں ہوئی۔ حضرت اقدس قاری صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے اس علاقے میں اذان کے بعد تثویب الصلوة والسلام عليك يا سيدي يا رسول الله کے بعد الصلاۃ والسلام علیک یا اعلیٰ حضرت یا امام اہلسنت یا مجدد دین ملت بھی پڑھا جاتا تھا۔ والد ماجد کا نام نامی حضرت مولانا غلام جیلانی رحمة الله عليه تھا، آپ کے اساتذہ میں والد ماجد عليه الرحمة کے علاوہ حافظ ملت علامہ حافظ مولانا عبد العزیز صاحب شیخ الحدیث و بانی جامعہ اشرفیہ جو حضور محدث اعظم پاکستان حضرت قبلہ شیخ الحدیث علامہ محمد سردار احمد قدس سره کے استاذ بھائی ہم سبق و ہمدرس تھے اور دونوں حضرات حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ مفتی امجد علی اعظمی صاحب مصنف بہار شریعت قدس سره کے ارشد و اکابر تلامذہ میں سے تھے اور حضور صدر الشریعہ نے اجمیر سے واپسی پر دہلی شریف میں ایک ساتھ دونوں حضرات کو اجازت و خلافت عطا فرمائی تھی، دوسرے اساتذہ میں حضرت علامہ مولانا محمد سلیمان صاحب بھاگل پوری اور حضرت علامہ ثناء اللہ صاحب جو حضرت محدث اعظم پاکستان کے شاگرد رشید تھے، کا نام گرامی قابل ذکر ہے اور حضور شہزادۂ اعلیٰ حضرت حجۃ الاسلام مولانا الشاہ محمد حامد رضا خاں قادری بریلوی اور حضرت سیدی صدر الشریعہ قدست اسرارهم سے بھی تبرکاً پڑھا، یہ وہ نعمت ہے جو کون پاتا ہے اور کس کو ملتی ہے۔

سنہ 1943ء میں جب حافظ ملت علامہ حافظ عبد العزیز قدس سره بعض ناگزیر حالات کے باعث جامعہ عربیہ ناگپور مہاراشٹر تشریف لے گئے تو حضرت علامہ قاری صاحب عليه الرحمة بھی ناگپور ان کے ہمراہ چلے گئے اور وہیں ناگپور میں حضرت محدث اعظم ہند کچھوچھوی اشرفی قدس سره کی موجودگی میں آپ کی دستار بندی ہوئی اور فارغ التحصیل ہوئے اور وہیں آپ ایک جامع مسجد میں امام و خطیب مقرر ہوئے، اس جامع مسجد کو آپ کے بعد آج تک ایسا امام و خطیب نہیں ملا۔ تقسیم ہند و پاکستان کے بعد آپ 1949ء میں سقوط حیدر آباد دکن کے بعد ہجرت فرما کر آپ کراچی پاکستان تشریف لائے، ابتداء میں کچھ عرصہ دارالعلوم امجدیہ جو اب مکتبہ رضویہ ہے میں قیام فرمایا، 1950ء میں بطور امام و خطیب جامع مسجد اخوند کھاردار میں تشریف لائے اور 19 سال امامت و خطابت کے فرائض نہایت حسن و خوبی سے انجام دیے۔ اسی دوران امام اہلسنت محدث اعظم پاکستان علامہ ابو الفضل محمد سردار احمد قدس سره کے حکم پر بطور امام و خطیب جامع مسجد واہ کینٹ راولپنڈی تشریف لے گئے اور بہت کامیاب ہوئے اور لوگوں کے دلوں میں گھر کر گئے۔ علامہ قاری مفتی محبوب رضا خاں بریلوی عليه الرحمة کے بعد آپ 1996ء میں جامع مسجد میمن گھوڑی گارڈن جوڑیا بازار جو اب آپ کے نام گرامی کی برکت سے مصلح الدین گارڈن کے نام سے پکارا اور لکھا جاتا ہے، میمن مسجد میں امام و خطیب مقرر ہوئے۔ اکابر کا احترام ایسا کہ جب تک امام اہلسنت حضور محدث اعظم پاکستان مولانا محمّد سردار صاحب بقید حیات رہے، آپ نے کسی کو مرید نہیں کیا اور فرماتے کہ انتظار کرو، حضرت محدث اعظم پاکستان تشریف لانے والے ہیں، ان کے مرید ہو جانا وہ ہمارے اکابر ہیں۔ آپ دارالعلوم امجدیہ میں مدرس بھی رہے اور بہت کامیاب مدرس ثابت ہوئے، آپ کی سب سے قابل فخر تربیت یافتہ ارشد و اکبر تلامذہ میں مجاہد مسلک اعلیٰ حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری رضوی رحمة الله عليه کا نام سر فہرست ہے، جو آپ کے جانشین و معتمد تھے جن کا وجود گرامی سنیوں، رضویوں کے لیے نعمت تھا۔

خلیفۂ اعلیٰ حضرت سیدی قطب مدینہ مولانا ضیاء الدین احمد قادری رضوی فرمایا کرتے تھے، قاری صاحب بکھرے ہوئے ذہنوں کو خوب قابو کرنا جانتے ہیں۔ حضرت قاری صاحب اپنی زندگی میں بارہ مرتبہ حاضری حرمین شریفین کی زیارت سے مشرف ہوئے اور ہر بار حاضری حرمین سے قبل حضور گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا داتا صاحب عليه الرحمة کے مزار پر انوار پر ضرور حاضری دیتے اور فرماتے میرا ویزہ حرمین یہیں سے لگتا ہے، لاہور سے سیدھا حضور سیدی محدث اعظم پاکستان عليه الرحمة کی خدمت میں حاضر ہوتے، فقیر احمد حسن علی رضوی کی ملاقات کے لیے بھی تشریف لاتے۔ حضور سیدنا غوث اعظم قدس سره کے مزار پر انوار کی زیارت کے لیے بغداد معلیٰ بھی حاضر ہوئے۔

اجازت و خلافت

حضرت قاری صاحب عليه الرحمة کو حضور صدر الشریعہ علامہ مفتی امجد علی اعظمی رضوی، سیدنا حضور مفتی اعظم ہند علامہ مفتی شاہ مصطفیٰ رضا خاں قادری نوری، قطب مدینہ حضرت علامہ ضیاء الدین مدنی قادری نوری قدست اسرارهم سے اجازت و خلافت حاصل تھی۔ آپ کا 7 جمادی الاولیٰ 1403ھ / 23 مارچ 1983ء کو وصال شریف ہوا، تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا خاں قادری ازہری بریلوی نے نماز جنازہ پڑھائی۔ [ماہنامہ سنی دنیا، ستمبر 2017]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!