| عنوان: | خود اعتمادی عروجِ انسانی کا زینہ |
|---|---|
| تحریر: | ام عروج فاطمہ بنت اکرام رضوی |
| پیش کش: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
انسان کی فطرت میں بلندی کی جستجو پیوست ہے۔ وہ ہمیشہ کامیابی، ترقی اور کمال کی طرف بڑھنا چاہتا ہے۔ مگر اس سفرِ حیات میں ایک ایسی قوت ہے جو اس کے قدموں کو استحکام دیتی ہے، اس کے حوصلوں کو جِلا بخشتی ہے اور اسے ناکامی کے اندھیروں سے نکال کر کامیابی کی روشنی تک پہنچاتی ہے۔ یہ قوت ”خود اعتمادی“ ہے۔
”خود اعتمادی“ دراصل انسان کا اپنی صلاحیتوں، اپنے ارادوں اور اپنے رب پر یقین کا نام ہے۔ یہ وہ باطنی طاقت ہے جو مشکل حالات میں بھی انسان کو ثابت قدم رکھتی ہے۔ قرآنِ مجید میں صبر، استقامت اور توکل کی بارہا تلقین کی گئی ہے، جو درحقیقت خود اعتمادی کی بنیادیں ہیں۔ جب انسان یہ یقین کر لیتا ہے کہ اس کا رب اس کے ساتھ ہے، تو پھر وہ کسی بھی مشکل کو عبور کرنے کی ہمت پا لیتا ہے۔
احادیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی مضبوط مومن کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ یہ مضبوطی صرف جسمانی نہیں بلکہ فکری اور قلبی قوت کا بھی اظہار ہے۔ ایک بااعتماد مومن نہ صرف خود پر یقین رکھتا ہے بلکہ اپنے رب پر کامل بھروسہ بھی کرتا ہے، اور یہی یقین اسے کامیابی کی راہوں پر گامزن رکھتا ہے۔
تاریخِ اسلام کے اوراق صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی خود اعتمادی سے جگمگا رہے ہیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی جرأت، حق گوئی، بے باکی، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی حکمت، تدبیر، کامل یقین اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بصیرت، علم، حلم اس حقیقت کی واضح مثالیں ہیں کہ جب ایمان کے ساتھ خود اعتمادی شامل ہو جائے تو انسان ناممکن کو بھی ممکن بنا لیتا ہے۔
ماہرینِ نفسیات بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ خود اعتمادی شخصیت کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ یہ نہ صرف کامیابی کا ذریعہ بنتی ہے بلکہ ذہنی سکون، مثبت سوچ اور بہتر معاشرتی روابط کا سبب بھی بنتی ہے۔
تاہم، یہ امر ملحوظِ خاطر رہنا چاہیے کہ ”خود اعتمادی“ اور غرور ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ خود اعتمادی انسان کو حقیقت پسند اور عاجز بناتی ہے، جبکہ غرور اسے حقیقت سے دور کر دیتا ہے۔ ایک بااعتماد شخص اپنی کمزوریوں کو پہچانتا ہے، جبکہ مغرور شخص ان سے انکار کرتا ہے۔
موجودہ دور میں احساسِ کمتری اور دوسروں سے موازنہ ایک عام مسئلہ بن چکا ہے، خصوصاً سوشل میڈیا کے اثرات نے اس رجحان کو بڑھا دیا ہے۔ لوگ اپنی حقیقت کو دوسروں کی ظاہری کامیابیوں سے تولتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اس کا حل یہی ہے کہ انسان اپنی ذات کو پہچانے، اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھے اور اللہ تعالیٰ پر توکل کرے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ خود اعتمادی عروجِ انسانی کی بنیاد ہے۔ ایمان، عمل اور خود اعتمادی کا امتزاج ہی حقیقی کامیابی کا ضامن ہے۔ اگر انسان امید، یقین اور مسلسل جدوجہد کو اپنا شعار بنا لے تو کامیابی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔
