Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

خواہشات کو بھی ادب کا لباس پہنائیں!

خواہشات کو بھی ادب کا لباس پہنائیں!
عنوان: خواہشات کو بھی ادب کا لباس پہنائیں!
تحریر: عالمہ مدحت فاطمہ ضیائی گھوسی
پیش کش: لباب اکیڈمی

خواہشیں رکھنا اور خواب دیکھنا فطرتِ انسانی ہے؛ اس میں کوئی قباحت نہیں۔ مگر ہر خواب قابلِ تعبیر نہیں ہوتا، اور ہر خواہش قابلِ پیروی نہیں۔ خواب وہی خوبصورت ہیں جو شرعی حدود میں آنکھوں میں اتریں، تاکہ ان کی تکمیل باعثِ سکون بنے، نہ کہ سببِ ندامت

یہ حقیقت ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اللہ رب العزت اپنے بندوں کے لیے کبھی برائی کا فیصلہ نہیں فرماتا؛ وہ جو بھی عطا کرتا ہے، حکمت کے ساتھ کرتا ہے، اور جو روک لیتا ہے، رحمت و فضل کے ساتھ۔ مگر ہم اکثر مقدر سے آگے دیکھتے ہوئے، اس کی رضا سے آگے بڑھ جاتے ہیں--- اور پھر انہی خواہشات کے پیچھے چل پڑتے ہیں جنہیں نہ خود رب پسند فرماتا ہے، نہ ہمارے لیے خیر کا باعث ہوتی ہیں۔

پھر جب وہ خواہش پوری نہیں ہوتی تو دل شکستہ ہو جاتا ہے، سکون رخصت ہونے لگتا ہے، اور نوبت یہاں تک آ جاتی ہے کہ بندہ نادانستہ طور پر رحمتِ الٰہی سے بدگمان ہونے لگتا ہے۔ حالانکہ اصل دانائی تو یہ ہے کہ انسان یہ سمجھے: جس خواہش سے اللہ نے روک دیا، شاید اسی میں نجات تھی۔ بعض اوقات نہ ملنا، مل جانے سے کہیں زیادہ بھلائی اور باعثِ حفاظت بن جاتا ہے۔

اسی لیے خواہش کو دبانا نہیں، بلکہ اسے تہذیب دینا سیکھیں؛ خواب دیکھنے سے منع نہیں، مگر خواب کو شریعت کے دائرے میں رکھنا لازم ہے۔ رہی بات مقدر سے آگے کی آرزوؤں کی--- تو بیشک اللہ قادر ہے کہ مقدر سے بڑھ کر بھی عطا فرما دے، مگر وہی جو بندے کے حق میں بہتر ہو، وہی جس کا انجام بہتر ہو، وہی جو اس کے نصیب کو سنوار دے

اسی تناظر میں یہ بات بھی سمجھ لینا ضروری ہے کہ ہر خواہش کا معیار صرف دل کی چاہ نہیں، بلکہ رب کی پسند ہونی چاہیے۔ کچھ آرزوئیں ایسی ہوتی ہیں جو انسان کے دل میں اس لیے ڈالی جاتی ہیں کہ وہ دل کو بلند کریں، نیت کو پاک کریں اور بندے کو اپنی حد پہچاننے کا سلیقہ سکھائیں۔ یہ خواہشیں نہ نفس کی ضد ہوتی ہیں اور نہ دنیا کی کشش--- بلکہ بندے کے دل میں رکھی ہوئی ایک خاموش دعا ہوتی ہیں۔

مثلاً دیکھ لیں۔۔۔ ہم گنہگاروں کو خانۂ کعبہ اور درِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری کی سعادت کہاں نصیب۔۔۔؟ مگر کیا دل میں اس کی آرزو نہیں؟ اور کیا یقین نہیں کہ یہ آرزو پوری ہوگی؟ ضرور ہوگی؛ بلکہ یہی تو وہ خواہش ہے جو بظاہر مقدر اور اپنی حیثیت سے آگے ہے، مگر حقیقت میں رب کی رضا کے عین مطابق ہے۔ اس کو ہماری یہ آرزو محبوب ہے، اور جو خواہش رب کو محبوب ہو، وہ کبھی لاحاصل نہیں رہتی۔۔۔

لہٰذا فقط اتنا ہی۔۔۔

کہ خواب بھی وہی دیکھیں جن میں خدا کی رضا شامل ہو؛ تاکہ رب کریم ان خوابوں کی تکمیل کا بہترین انتظام بھی فرمائے

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!