Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

جدوجہد اور تقدیر

جد و جہد اور تقدیر
عنوان: جد و جہد اور تقدیر
تحریر: ام کلثوم امجدی
پیش کش: لباب اکیڈمی

محنت و قسمت یہ دونوں ہماری زندگی کا اہم حصہ ہیں۔ بلاشبہ قسمت وہ شئی ہے جسے رب العالمین نے اپنے علم سے لکھ دیا ہے اور جو لکھ دیا گیا ہے وہ ہو کر ہی رہے گا۔ ہمیں اپنی قسمت پر یقینِ کامل رکھنا ضروری ہے۔ لیکن فقط قسمت کے بھروسے کامیابی حاصل ہو جانے کی طمع رکھنا یہ محض حماقت ہے۔ اگر آپ کو کامیابی مقصود ہے تو اپنے آپ کو جدوجہد کی راہ پر قربان ہونے کے لیے تیار رکھنا ضروری ہے۔ بغیر محنت و مشقت کے آپ اپنی منزل کو نہیں پا سکتے اگر منزل کو پانا ہے تو اس راہ میں جتنی بھی مشقتیں درپیش ہوں، جو بھی مشکلیں آئیں ان سب سے ڈٹ کر سامنا کرنا ہی ہوگا، انھیں حل کرنے کی مسلسل کوشش کرنی ہوگی۔ کیوں کہ:

مسلسل کاوشوں سے ہی بنا کرتی ہیں تقدیریں
جو تھک کر بیٹھ جاتے ہیں انھیں منزل نہیں ملتی

حقیقت تو یہ ہے کہ قسمت صرف آپ کو مواقع فراہم کرتی ہے۔ اب ان مواقع کو کامیاب بنانا اور ان میں محنت و مشقت سے کامیابی کی راہ کو عبور کرنا آپ کا کام ہے۔

حدیثِ پاک کا مفہوم ہے کہ محنت کرنے والا اللہ جل و علا کا دوست ہوتا ہے۔ اگر انسان کی محنت ربِ کائنات کے قرب و دوستی کا وسیلہ و ذریعہ ہے تو پھر آپ کا سستی و کاہلی کے دامن میں بوسیدہ رہنا نہایت ہی حماقت کی بات ہے۔ اگر آپ اپنے ربِ کریم کا قرب پانا چاہتے ہیں تو اپنی زندگی کے ہر ہر لمحے کو کارآمد بنانے کی کوشش میں لگ جائیں۔ ایک لمحے کو بھی ضائع نہ کریں۔

اللہ کریم نے بلاشبہ ہم انسان کو اشرف المخلوقات بنایا۔ عقل و شعور جیسی عظیم نعمت سے نوازا، تو پھر ہمیں اپنی عقل کا استعمال کرنا چاہیے۔ اور سستی و کاہلی سے ہمیشہ بچتے رہنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایک محنتی شخص کبھی بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھتا وہ مسلسل کوشش میں لگا رہتا ہے اور ایک سست و کاہل انسان اپنی قسمت کے بھروسے بیٹھا رہتا ہے۔ مثال کے طور پر آپ دیکھیں کہ ایک شخص اپنی زمین میں ایک بیج بو دیتا ہے اور اس کے پیچھے مزید کوئی محنت نہیں کرتا اسے فقط قسمت کے بھروسے پر چھوڑ دیتا ہے اس کے برعکس دوسرا شخص اپنی زمین میں ایک بیج بوتا ہے پھر اس میں پانی ڈالتا ہے، اس کی سینچائی کرتا ہے، مسلسل اس کے پیچھے محنت و مشقت کرتا رہتا ہے اور ساتھ ہی اپنی قسمت پر بھروسہ بھی رکھتا ہے۔ تو آپ کو خود اس بات کا اندازہ ہو جائے گا کہ کس کا پودا کھلا کھلا اور ہرا بھرا ہوتا ہے اور کس کا بے جان۔ اور بہت ممکن ہے کہ جس نے اپنے بوئے ہوئے بیج کا خیال نہیں رکھا اس میں پودا ہی نہ نکلا ہو اور وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے اپنی قسمت کا انتظار کر رہا ہے۔ اور جس شخص نے اپنی مسلسل کاوشوں سے اس کا خیال رکھا، اسی کا پودا کامیابی کی طرف لہراتا ہوا نظر آئے گا۔ اور اسے ہی اپنی محنتوں کا ثمرہ ملے گا۔ نتیجے کے طور پر ہمیں اس بات کا علم ہوگیا کہ فقط ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ کر قسمت کا انتظار کرنا درست نہیں۔

اگر آپ کو عزت و احترام سے جینا ہے تو اپنے دستیاب قدرتی وسائل کو استعمال کرنے کی کوشش کریں۔ اور اپنی زندگی کو کامیاب بنانے کی کوشش میں لگ جائیں۔ اس لیے کہ کامیابی کی پہلی شرط محنت اور جدوجہد ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!