| عنوان: | موضوع: ”منگیتر“ ایک غلط فہمی کا نام! |
|---|---|
| تحریر: | عالمہ مدحت فاطمہ ضیائی گھوسی |
| پیش کش: | لباب اکیڈمی |
کتنا عجیب رشتہ بنا لیا ہے ہم نے! آج کے زمانے میں منگنی ہوتے ہی منگیتر کو شوہر کا درجہ دے دیا جاتا ہے۔ بہنوں کے لیے وہ جیجا بن جاتا ہے، گھر والوں کے لیے داماد، اور بعض گھروں میں تو بھابھی، سالی اور نہ جانے کن کن رشتوں کے نام گردش کرنے لگتے ہیں؛ یوں لگتا ہے جیسے نکاح سے پہلے ہی سب کچھ حلال ہو گیا ہو۔
حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے منگنی صرف بات پکی ہونے کا نام ہے، نہ اس سے لڑکا حلال ہوتا ہے، نہ لڑکی۔ وہ دونوں اب بھی ایک دوسرے کے لیے اجنبی (غیر محرم) ہی ہوتے ہیں۔
زمانے کا مشاہدہ کریں تو آج منگیتر سے بات کرنا، ملنا، گھومنا پھرنا کتنا عام ہو چکا ہے۔ کچھ لوگ والدین کے کہنے پر یہ سب کرتے ہیں، کچھ والدین جانتے ہوئے بھی مسکرا کر نظر انداز کر دیتے ہیں، اور کچھ چھپ چھپا کر وہ سب کچھ کر گزرتے ہیں جس کی شریعت میں اجازت ہی نہیں۔
یہ کیسا المیہ ہے؟ کہ جب کسی غیر کو بلاوجہ ”بھابھی“ یا ”جیجا“ کہتے دیکھیں تو ہمیں غصہ آتا ہے، مگر منگنی کے نام پر وہی حرام تعلقات ہمیں بالکل معمولی لگنے لگتے ہیں۔ گویا معاشرہ حرام کو حلال ثابت کرنے پر تلا بیٹھا ہے۔ (الا ماشاء اللہ)
اور پھر انجام؟ ہم سب کے سامنے ہے۔ کتنے ہی رشتے اچانک ٹوٹ جاتے ہیں، وجہ صرف اتنی ہوتی ہے کہ منگیتر کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہو گیا۔ اگر آپ کو اب تک یہ حلال لگ رہا ہے تو یہیں ذرا رک کر سوچیے! کیوں ٹوٹ جاتا ہے یہ رشتہ اتنی آسانی سے؟ شریعت میں نکاح، طلاق اور خلع کی طرح اس کے متعلق احکام کیوں نہیں آئے کہ فلاں الفاظ کہیں تب ہی یہ رشتہ ٹوٹے گا؟؟ بلکہ دونوں گروہ میں سے کوئی آتا ہے اور ”ہمیں رشتہ نہیں کرنا“ کہہ کر چلا جاتا ہے اور فوراً رشتہ ختم بھی ہو جاتا ہے، سوچیں ایسا کیوں؟ کیوں کہ یہاں صرف بات پکی ہوتی ہے، رشتہ نہیں اور زبان کا تو ویسے بھی ہمارے معاشرے میں کوئی اعتبار نہیں۔ اسی لیے یاد رکھیں کہ رشتہ کچا ہی رہتا ہے وہ نکاح سے پکا ہوتا ہے اور تبھی حلال ہوتا ہے۔
اختلافات نکاح کے بعد بھی ہوتے ہیں، مگر نکاح ایک مضبوط بندھن ہے، اس میں معاملہ طلاق تک پہنچانا آسان نہیں ہوتا جبکہ منگنی کا رشتہ ایک جھٹکے میں توڑ دیا جاتا ہے، نہ شرعاً کوئی گرفت، نہ دینی جواب دہی۔ کیوں کہ شریعت اس تعلق کو حلال رشتہ مانتی ہی نہیں، نہ بلا ضرورت بات چیت کی اجازت دیتی ہے، نہ گھلنے ملنے کی۔ لہٰذا جب ہم شریعت سے ہٹتے ہیں، تو نتائج بھی ایسے ہی ہوتے ہیں۔
اسی موضوع پر میں نے ”قاری لقمان شاہد“ کی ایک تحریر پڑھی تھی ”منگیتر سے بات چیت“ کے عنوان سے؛ جس میں انہوں نے بہت واضح بات لکھی: ”جس عورت سے نکاح کرنا ہو، اسے ایک نظر دیکھ لینا تو جائز ہے؛ لیکن اس کے ساتھ گھل مل جانا، فون پر گپیں لگاتے رہنا، چیٹنگ کرتے رہنا کسی طرح درست نہیں۔ اگر منگیتر سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں تو گھر والوں کو بتا کر فوراً نکاح کر لیں، رخصتی بھلے بعد میں ہو جائے۔
نکاح کے لیے پوری بارات لے کر جانا ضروری نہیں ہوتا، لڑکی اپنے گھر میں رہتے ہوئے بھی اگر لڑکے کو نکاح کرنے کی اجازت دے دے، تو لڑکا مہر ادا کر کے، دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح کر سکتا ہے۔ نکاح کے بہت آسان طریقے بھی ہیں، جو آپ کسی قریبی عالم سے معلوم کر سکتے ہیں۔“ [تحریرات لقمان]
واقعی نکاح بہت آسان ہے، مگر مسئلہ نکاح کی مشکل نہیں، نیتوں کی کمزوری ہے۔ لوگوں کو حرام میں ایسی لذت محسوس ہونے لگی ہے کہ وہ حلال کر کے اس ذمہ داری میں بندھنا ہی نہیں چاہتے۔ جب تک باتیں، ملاقاتیں اور آزادی بے لگام رہتی ہے، سب اچھا لگتا ہے؛ لیکن جیسے ہی نکاح کی بات آتی ہے، قدم رک جاتے ہیں۔ گویا حلال میں قید محسوس ہوتی ہے اور حرام میں سہولت۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ نکاح تحفظ ہے، عزت ہے اور برکت کا ذریعہ، جبکہ حرام وقتی لذت کے سوا کچھ نہیں، جو آخرکار دلوں کو بے سکون اور رشتوں کو کمزور کر ہی دیتا ہے۔ اللہ کریم ہمارے معاشرے کو پاکیزگی و طہارت نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
