Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

فتنہ ارتداد اور اُمت کی بیٹیاں

عنوان: فتنہ ارتداد اور اُمت کی بیٹیاں
تحریر: جبین
پیش کش: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

ایمان کا لغوی معنی: امن دینا، تصدیق کرنا، یقین کرنا

اصطلاحی تعریف: ایمان اسے کہتے ہیں کہ سچے دل سے ان سب باتوں کی تصدیق کرے جو ضروریاتِ دین میں سے ہیں۔ اور کسی ایک ضرورتِ دینی کے انکار کو کفر کہتے ہیں۔ [ماخوذ از کتب اعلیٰ حضرت]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا الإِيمَانُ؟ قَالَ: أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكِتَابِهِ، وَلِقَائِهِ، وَرُسُلِهِ، وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ الآخِرِ۔ [صحيح مسلم: 97]

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن لوگوں کے سامنے (تشریف فرما) تھے، ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! ایمان کیا ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”تم اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتاب، (قیامت کے روز) اس سے ملاقات (اس کے سامنے حاضری) اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور آخری (بار زندہ ہو کر) اٹھنے پر (بھی) ایمان لے آؤ۔“

ایمان اسلام کی بنیاد اور اساس ہے، ایمان وہ عظیم نعمت ہے جس کے آگے دنیا کی کسی نعمت کا تصور نہیں کیا جا سکتا، ایک مومن کے لیے سب سے بڑی دولت اس کا ایمان ہے، ایمان کتنی بڑی دولت ہے اس کو سمجھنے کے لیے کوئی لمبی چوڑی تحریر کی ضرورت نہیں، بس اتنا ہی کافی ہے اللہ تعالیٰ نے اس دولتِ ایمان کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے ایک دو نہیں، سو دو سو نہیں، بلکہ کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کو مبعوث فرمایا، انبیائے کرام کی اتنی بڑی تعداد دنیا میں تشریف لائی لوگوں کو دولتِ ایمان کی دعوت دینے کے لیے اور دولتِ ایمان عطا کرنے کے لیے، اس سے دولتِ ایمان کا اندازہ خوب لگایا جا سکتا ہے۔

ایمان لانے کے بعد اگر کوئی ایمان سے پھر جائے تو یہ ارتداد ہے، ایسا بندہ مرتد ہے۔ کائنات کا سب سے بڑا جرم اور سب سے سنگین جرم مرتد ہونا اور ارتداد کا شکار ہونا ہے۔ یہ اتنا سنگین جرم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مقدس میں ارشاد فرمایا:

وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَیَمُتْ وَ هُوہ كَافِرٌ فَاُولٰٓىٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ [البقرة: 217]

ترجمہ کنز الایمان: اور تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھرے پھر کافر ہو کر مرے تو ان لوگوں کا کیا اکارت گیا دنیا میں اور آخرت میں اور وہ دوزخ والے ہیں انہیں اس میں ہمیشہ رہنا۔

فتنہ ارتداد کتنا سنگین فتنہ ہے اس کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے میرے آقا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا:

عَنْ مُعَاذٍ قَالَ: أَوْصَانِي رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم بِعَشْرِ كَلِمَاتٍ قَالَ لَا تُشْرِكْ بِاللهِ شَيْئًا وَإِنْ قُتِلْتَ وَحُرِّقْتَ

ترجمہ: ”اگر تمہیں قتل بھی کر دیا جائے، اگر تمہیں آگ میں جلا بھی دیا جائے تب بھی اسلام سے مت پھرنا۔“

حضرت ابو موسیٰ اشعری حضرت معاذ بن جبل کے پاس آئے اور آ کر بتایا کہ ایک آدمی مسلمان تھا پھر یہودی بن گیا تو حضرت معاذ بن جبل نے فرمایا: ”میں اس وقت تک نہیں بیٹھوں گا جب تک اسے قتل نہ کر دیا جائے، جب تک وہ زمین پر موجود ہے میں بیٹھنا گوارا نہیں کروں گا۔“ اتنا سخت جرم ہے یہ ارتداد کا فتنہ۔ میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر اس کی سنگینی کو بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا:

حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم، قَالَ: بَادِرُوا بِالأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا، وَيُمْسِي كَافِرًا، أَوْ يُمْسِي مُؤْمِنًا، وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا [صحيح مسلم: 313]

ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان فتنوں سے پہلے پہلے جو تاریک رات کے حصوں کی طرح (چھا جانے والے) ہوں گے، (نیک) اعمال کرنے میں جلدی کرو۔ (ان فتنوں میں) صبح کو آدمی مومن ہو گا اور شام کو کافر یا شام کو مومن ہو گا تو صبح کو کافر، اپنا دین (ایمان) دنیوی سامان کے عوض بیچتا ہو گا۔“

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد ارتداد کا فتنہ اٹھا تھا۔ یہ فتنہ ارتداد مختلف دور کے اندر الگ الگ علاقوں کے اندر اٹھا ہے اور اٹھتا رہا ہے، اور یہ دور بھی فتنے کا دور ہے، بس اس کا نظریہ بدل گیا ہے، طریقہ بدل گیا ہے، پورے عالم میں خیر و شر کی کشمکش چل رہی ہے، کہیں لوگ اسلام کی خوبیوں کو جان کر اس کی طرف مائل ہو رہے ہیں، تو کہیں مغربی تہذیب و تمدن کے فروغ سے نوجوان دین اسلام سے بیزاری کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ جیسے جیسے ذرائع ابلاغ بڑھتے جا رہے ہیں اتنے ہی فتنے بڑھتے جا رہے ہیں، ان فتنوں میں ایک فتنہ فتنہ ارتداد بھی ہے۔ اس فتنے کے زہریلے اثرات مسلم معاشرہ میں تیزی سے پھیل رہے ہیں، شب و روز مسلم خواتین کو مرتد بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، نوجوان بچیاں اسلامی تہذیب اور اسلامی تعلیمات کو چھوڑ کر کفر و الحاد کے راستے پر چل پڑی ہیں، غیر مسلم آسانی سے ان بچیوں کو اپنی طرف کھینچنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ انتہائی افسوس کی بات ہے، دل خون کے آنسو روتا ہے۔

اس وقت سارے عالم میں دین اسلام کو مٹانے اور اسلام سے بدظن کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، دشمنانِ اسلام متحد ہو کر پوری طرح زور آزما رہے ہیں کہ اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹایا جائے، یا کم از کم مسلمانوں کی مسلمانیت باقی نہ رکھی جائے، اور ایک سازش کے تحت دشمنانِ اسلام مسلم لڑکیوں کو ٹارگٹ بنائے ہوئے ہیں۔

آئے دن ہمیں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے یہ روح فرسا خبریں موصول ہو رہی ہیں، کہ مسلم دوشیزائیں اسلامی تعلیمات اور اسلامی تہذیب کو چھوڑ کر کفر و الحاد کی راہ پر چل پڑی ہیں، دخترانِ اسلام غیر مسلم لڑکوں سے مشرکانہ رسم و رواج کے ساتھ شادی کر رہی ہیں، اور ہندو مذہب اپنا رہی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق اب تک تقریباً دس لاکھ لڑکیاں مرتد ہو چکی ہیں، جو کہ انتہائی تشویش ناک ہے۔ آخر اتنی برق رفتاری کے ساتھ مسلم لڑکیاں کیوں مرتد ہو رہی ہیں؟ کیوں اپنے مہذب مذہب کو چھوڑ کر غیروں میں شامل ہو رہی ہیں؟ کیوں اپنی عفت و عصمت کے قیمتی جوہر سرعام نیلام کر رہی ہیں؟ جب ہم ارتداد کے اسباب پر غور و فکر کرتے ہیں تو کچھ وجوہات ہمارے سامنے آتی ہیں۔

  1. اولاد کی تربیت و اصلاح میں والدین کی کوتاہی: بچوں کی تعلیم و تربیت میں والدین کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے، بلا شبہ والدین کی گود بچوں کی وہ پہلی درس گاہ ہوتی ہے؛ جہاں سے شعور و آگہی اور تہذیب و اخلاق کی کرن پھوٹتی ہے، اور اس کی روشنی میں بچہ راہِ حیات طے کرتے ہوئے منزلِ مقصود تک پہنچتا ہے، مگر صد حیف کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں والدین کی مصروفیت اور غفلت کے باعث بچے اسلامی اور معاشرتی تربیت سے محروم نظر آتے ہیں۔ اسلامی نہج پر ان کی فکری تربیت کرنا مشکل امر ہوتا جا رہا ہے، لہٰذا آج اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ ایک ماں اپنے بچوں کی تربیت و پرورش کرنے میں بزرگ خواتینِ اسلام کے احوال و وقار کو اپنائے، ان کی زندگیوں کا مطالعہ کرے، اپنے بچوں اور بچیوں کی زندگی بہتر بنانے میں مثالی کردار ادا کرے۔
  2. دینی تعلیم کا فقدان: آج ارتداد کی سب سے بڑی وجہ دینی تعلیم کا فقدان ہے، عام طور پر بچے اور بچیاں جب چار پانچ سال کی عمر کو پہنچ جاتے ہیں تو ہم انہیں انگریزی اور عصری علوم سے مزین کرنے کے لیے مشنری اسکولوں میں داخل کروا دیتے ہیں، جہاں عمدہ تعلیم کے نام پر عیسائیت اور ہندویت کو فروغ دے رہے ہیں، اسلامی تہذیب، اسلامی اخلاق اور اسلامی شخص کو فروغ دینے کا تو ہلکا تصور بھی ان کے ذہن و دماغ میں نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے مشرکانہ عقائد کے افکار کی قباحت مسلم بچیوں کے دل سے نکل رہی ہے، بعض دفعہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ پڑھائی جانے والی کتابیں اسلام کے خلاف ہیں اور باطل افکار پر مشتمل ہیں، تو ایسی صورت میں مسلم لڑکیاں کیسے دینی تعلیم سے آراستہ و پیراستہ ہوں گی؟ کیسے سیرتِ فاطمہ رضي الله عنها کو پڑھ پائیں گی؟ کیسے صلاۃ و صوم کی پابند ہوں گی؟ ظاہر سی بات ہے جب مسلم لڑکیوں کے اندر دینی تعلیم کا فقدان اور عصری تعلیم کی رغبت ہو گی تو وہ فتنہ ارتداد کا شکار تو ہوں گی ہی۔
  3. مخلوط نظامِ تعلیم: اسکولوں اور کالجوں میں رائج مخلوط نظامِ تعلیم ایک ایسا سمِ قاتل ہے، جس نے ملتِ اسلامیہ کے نوجوان نسل کے اندر غیرتِ ایمانی، حیا اور شرافت کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے۔ مخلوط تعلیم کی وجہ سے مسلم لڑکیاں غیر مسلموں کی محبت میں آسانی سے پھنس کر ان کے شیطانی حملے کا شکار بن جاتی ہیں، اور وقتی دوستی اور معمولی منفعت کے چکر میں آسانی سے مرتد ہو جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے اسلامی تعلیمات میں مخلوط تعلیم کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، دینِ اسلام تعلیمِ نسواں کا مخالف نہیں ہے؛ بلکہ مذہبِ اسلام عورت کو اجنبی مردوں کے ساتھ اختلاط سے منع کرتا ہے، اور پردے کے اہتمام کے ساتھ تعلیم کی اجازت دیتا ہے، صرف حصولِ تعلیم کے ان طریقوں کو منع کرتا ہے جس کے ذریعے سے نسوانیت کا تقدس یا اس کی عزت کی عصمت کے داغ دار ہونے کا خدشہ ہو؛ کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ لڑکیاں گھر سے تعلیم کی غرض سے کہہ کر نکلتی ہیں لیکن وہ پڑھنے جانے کے بجائے بوائے فرینڈ کے ساتھ ہوٹل و پارکوں اور نائٹ کلبوں میں چلی جاتی ہیں، اور رنگ ریلیاں مناتی ہیں، تو ایسی تعلیم کا کیا فائدہ! جو مسلم شہزادیوں کو بدکرداری، نمائشی اور عریانیت کے سمندر میں ڈبو کر انہیں نورِ ایمان سے محروم کر دے، اور ایمان جیسی عظیم دولت سے تہی کر کے کافروں کی گود میں ڈال دے۔
  4. ملازمت: آج دوا خانہ، بازار، کال سینٹر، مال اور کالجز وغیرہ میں اسلامی خواتین بغیر شرم و حیا اور بے پردگی کے مردوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ملازمت کی خدمات انجام دے رہی ہیں، مخلوط ملازمت کے دوران ان کا غیروں کے ساتھ اختلاط، میل جول اور گھنٹوں تک ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا رہتا ہے، اجنبی مردوں کے ساتھ تنہائی کی نوبت آتی ہے، ایسے وقت میں بیمار ذہن و اخلاق کے لوگ موقع کا فائدہ اٹھا کر انہیں اپنا شکار بنا لیتے ہیں، اور ہماری بہنیں بغیر غور و فکر اور تردد کے ان کے ساتھ شادی کر کے اپنی خاندانی وجاہت و شرافت کو بھرے بازار نیلام کر دیتی ہیں۔
  5. سوشل میڈیا کا غلط استعمال: آج موبائل ہماری زندگی کا ایک حصہ بن چکا ہے، ہر شخص کے پاس قیمتی اسمارٹ فون موجود ہے، آج سوشل میڈیا نے صارفین کو اپنا ایسا دیوانہ بنا لیا ہے، کہ اب اس سے ان کا نجات پانا بے حد مشکل ہو گیا ہے، کیا نوجوان کیا ضعیف؟ کیا مرد کیا عورت؟ کیا لڑکا کیا لڑکی؟ ہر شخص سوشل میڈیا کا زلفِ اسیر ہو چکا ہے، ہماری اسلامی بہنیں بھی کثرت کے ساتھ سوشل میڈیا استعمال کر رہی ہیں، اور اپنی ویڈیو بنا کر شیئر کر رہی ہیں، بس لائک اور کمنٹ کی خاطر، ذرا سوچیے! جس باپ کی پوری زندگی بیٹی کو کپڑا پہنانے اور سنوارنے میں گزر جاتی ہے، آج وہی بیٹی سوشل میڈیا پر اپنے جسم کی نمائش کر کے چند رقم اور لائک حاصل کر رہی ہے، اور اپنی عفت و پاک دامنی کو چاک کر رہی ہیں۔

ایسی صورت میں فتنہ ارتداد کے سدِ باب کے لیے ہمیں غور و فکر کرنی چاہیے، کہ آخر اس دجالی فتنے کو کیسے روکا جائے؟ کیسے اس فتنے کی بیخ کنی کی جائے؟ کیسے اس فتنے سے مسلم بچیوں کی حفاظت کی جائے؟ جب ہم ان چیزوں پر غور و فکر کرتے ہیں تو چند باتیں سطحِ ذہن پر آتی ہیں؛ جن سے لڑکیوں کو مرتد ہونے سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

  • والدین کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کی بہترین انداز اور اسلامی ماحول میں اصلاح و تربیت کریں، انہیں عمدہ طور پر تعلیم و نصیحت کریں، ہر قدم پر ان کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیں، ان کی ذہنی و نفسیاتی تربیت پر کامل توجہ دیں، اسلامی تعلیمات سے روشناس کرائیں، سیرتِ رسول، اسوۂ صحابہ، صالحین و صالحات کے سچے واقعات سنائیں، پڑھائیں اور احکامِ شریعت پر مکمل کاربند کریں، نیز اسلامی تعلیمات و تربیت سے مزین کرنے کے لیے علمائے کرام سے قرآنِ عظیم اور دینی کتابوں کے درس کا بھی اہتمام کریں۔
  • مخلوط نظامِ تعلیم سے بچیوں کو حتی الامکان بچایا جائے، اسکولوں اور کالجوں میں جانے والی بچیوں کے ہر اٹھنے والے قدم اور عادات و اخلاق پر گہری نظر رکھیں، اور انہیں سیرتِ مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیرتِ فاطمہ رضي الله عنها سے روشناس کرایا جائے، حضرت ام سلیم رضي الله عنها کے واقعات بتائے جائیں۔

ام سلیم جب مدینے کے اندر بیوہ ہوئیں تو ابو طلحہ نے انہیں شادی کی دعوت دی، ام سلیم نے فرمایا: ”تم کافر ہو میں تمہارے ساتھ شادی نہیں کر سکتی۔“ تو حضرت ابو طلحہ نے ایمان قبول کیا، ام سلیم نے حضرت انس سے کہا: ”میرا نکاح طلحہ کے ساتھ پڑھا دیجئے، میں اپنا مہر معاف کرتی ہوں اور میں اسلام کو اپنا مہر مانتی ہوں۔“ سلام اس مقدس خاتون پر جنہوں نے اپنے ایمان کا سودا نہیں کیا، بلکہ اوروں کو ایمان میں داخل کیا۔ حضرت آسیہ کے واقعات سنائیں، انہوں نے ظلم و ستم کی سختی برداشت کر لی لیکن اپنے ایمان کا سودا نہیں کیا۔

مزید برآں یہ کہ انہیں فتنہ ارتداد کے سخت عذاب سے باخبر کیا جائے۔ اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے: مرتدین ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اور ان کا ٹھکانہ بہت برا ہے۔ دنیا کی ہی آگ ہے کہ بندہ اس کا تصور نہیں کر سکتا، تو آخرت کی آگ کتنی سخت ہو گی! اللہ نے اس آگ سے بچنے کے لیے ہمیں بھی حکم دیا اور اپنے ماتحتوں کو بھی۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا [التحريم: 6]

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ۔

اپنا بھی بچنا اور اپنے ماتحتوں کو بچانا ہماری ذمہ داری ہے، اور ہمارے اوپر لازم کیا گیا ہے کہ اپنے ماتحتوں کو بھی جہنم کی آگ سے بچاؤ۔ اور آج ذمہ داری ہے امت کے اوپر، جب امت کی بیٹیاں ارتداد کا شکار ہو رہی ہیں، محبت اور شادی کے نام پر کفر کی طرف بڑھ رہی ہوں تو ایسے موقع پر ہر ذمہ دار اپنی ذمہ داری کو نبھائے۔ میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

أَلَا كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ [سنن أبي داود: 2928]

ترجمہ: تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے، اور ہر شخص سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں بروزِ قیامت پوچھا جائے گا۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!