| عنوان: | امام اہلِ سنت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ (قسط: سوم) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی اسد الرحمن چشتی |
| پیش کش: | عالیہ فاطمہ انیسی |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
لقب اعلیٰ حضرت کی تحقیق
اعلیٰ حضرت جو حقیقتاً ان کا نام نہیں بلکہ لقب ہے، لیکن آپ کا عَلَم بن کر رہ گیا ہے اور ان کے نامِ نامی اسمِ گرامی کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ اور آج جب بھی لفظ ”اعلیٰ حضرت“ سماعت کے جہان میں داخل ہوتا ہے تو ذہن بریلی کے فاضل امام احمد رضا کی طرف مبذول ہو جاتا ہے۔
لفظ ”اعلیٰ حضرت“ امام احمد رضا کا ایک ایسا نام اور آپ کی ایسی پہچان بن گیا ہے جو امر ہے، زندہ ہے، اور رہتی دنیا تک چودہویں صدی ہجری کے اس مجدد، عاشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور عبدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو زمانہ ”اعلیٰ حضرت“ کہہ کر یاد کرتا رہے گا۔
امام احمد رضا کا لقب مجدد
مجدد ویسے تو کوئی لقب نہیں بلکہ ایک منصب ہے اور صدی کے علماء اور مشائخ اس کو مجدد تسلیم کرتے ہیں جو کارنامۂ تجدید انجام دیتا ہے۔ امام احمد رضا نے تو کارنامۂ تجدید کی شاہراہ پر چودہ سال کی عمر میں 1286ھ میں ہی قدم رکھ دیا تھا اور 1301ھ لگتے ہی اپنی منزل پا لی تھی، البتہ اس کے اٹھارہ سال بعد 1318ھ میں ان کی مجددیت کا اعلان سب سے پہلے حضرت مولانا عبد المقتدر صاحب علیہ الرحمہ نے کیا۔
پٹنہ کے اجلاس (1318ھ / 1900ء) میں مشاہیر علماء و فضلاء کی موجودگی میں حضرت مولانا عبد المقتدر بدایونی علیہ الرحمہ نے امام احمد رضا کو مجدد فرمایا اور سب نے اس لقبِ طیب کو بخوشی قبول کیا۔
علمائے حرمین کی طرف سے مجدد کا لقب
جب امام احمد رضا 1324ھ بمطابق 1905ء میں دوسرے حج اور زیارت کے لیے تشریف لے گئے تو حرمین شریفین کے متعدد علماء کرام و مشائخ عظام نے انہیں مجدد کہا۔ چند اسماء حسبِ ذیل ہیں: سید اسماعیل بن خلیل، سید حسین بن علامہ عبد القادر طرابلسی مدرس مسجدِ نبوی، حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، شیخ موسیٰ علی شامی، سید احمد علی مہاجر مدنی رحمہم اللہ وغیرہ۔
شیخ حسین کی طرف سے لقب ضیاء الدین
لقب ضیاء الدین احمد: امام احمد رضا جب پہلی مرتبہ 1295ھ میں والدین کے ہمراہ حج و زیارت کے لیے گئے تو حرمین شریفین کے متعدد علماء اور مشائخ نے آپ کو مختلف قسم کی اسناد عطا فرمائیں۔
ایک دن آپ نے نمازِ مغرب مقامِ ابراہیم میں ادا کی۔ بعدِ نماز امامِ شافعیہ حضرت حسین بن صالح جمال اللیل نے بلا تعارفِ سابق آپ کا ہاتھ پکڑا اور اپنے دولت خانہ پر لے گئے اور دیر تک آپ کی پیشانی کو پکڑ کر فرمایا: إِنِّيْ لَأَجِدُ نُوْرَ اللهِ فِيْ هٰذَا الْجَبِيْنِ (بے شک میں اللہ کا نور اس پیشانی میں پاتا ہوں)۔
پھر صحاحِ ستہ اور سلسلۂ قادریہ کی اجازت اپنے دستِ مبارک سے لکھ کر عنایت فرمائی اور فرمایا کہ تمہارا نام ضیاء الدین احمد ہے۔ (الإجازات المتينة، از امام احمد رضا)
علمائے حرمین شریفین کے عطا کردہ القاب
امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کی تصانیف المعتمد المنتقد، کفل الفقیہ الفاہم، فتاویٰ الحرمین، حسام الحرمین اور الدولۃ المکیہ پر حرمین شریفین کے علماء کرام نے تقاریظ تحریر فرمائی ہیں۔ خصوصیت کے ساتھ حسام الحرمین اور الدولۃ المکیہ میں ان صاحبانِ علم و فضل نے مجددِ اسلام امام احمد رضا کو بڑے پاکیزہ، باوقار اور خوبصورت القاب و آداب سے نوازا ہے۔ یہاں ہم انہی القاب کو پیش کریں گے، جو لقب کی حیثیت کے حامل ہیں اور چند الفاظ تک محدود ہیں:
- شیخ ابو الخیر احمد میرداد (مسجد الحرام، مکہ مکرمہ): باریکیوں کا خزانہ، معرفت کا آفتاب، علمی مشکلات ظاہری و باطنی کھولنے والا۔
- علامہ شیخ صالح کمال (مکہ مکرمہ): عالمِ علام، فضائل کا دریا، مولانا محقق، زمانے کی برکت، عمائدِ علماء کی آنکھوں کی ٹھنڈک۔
- علامہ محمد عبد الحق مہاجر الہ آبادی (مکہ مکرمہ): علامۂ عالمِ جمیل، دریائے زخار، سردارِ فضل، کثیر الاحسان، دریائے بلند ہمت، ذہین و دانشمند، بحرِ ناپیدا کنار، صاحبِ ذکاء، کثیر الفہم۔
- سید اسماعیل خلیل (محافظ کتب حرم، مکہ مکرمہ): منقبتوں اور فخروں والا، یکتائے زمانہ، اپنے وقت کا یگانہ۔
- علامہ پیر مرزوقی ابو حسین (مکہ شریف): نور کے اونچے ستون والا، معرفت کا دریا، سیراب ذہن والا، طاقتور زبان والا، دریائے منطق۔
- علامہ محمد علی مالکی بن شیخ حسین مالکی (مکہ شریف): دائرۂ علوم کا مرکز، مسلمانوں کا یاور، راہ پایوں کا نگہبان، سعد الدین، مولی المعارف والہدیٰ، عضدِ ہدایت۔
- علامہ شیخ السعد بن وہلان مکی: نادرِ روزگار، خلاصۂ لیل و نہار۔
- مولانا شیخ عبد الرحمن وہلان مکی: علامۂ زماں، یکتائے روزگار۔
- علامہ احمد حنفی مکی: فخرِ اکابر، پرہیزگار فاضل۔
- علامہ محمد صالح بن محمد افضل مکی: عالمِ فاضل، ماہرِ کامل، باریک فہموں والا۔
- علامہ محمد احمد حامد مکی: معتمد پیشوا، فاضلِ متبحر۔
- علامہ محمد سعید شیخ الدلائل (مدینہ منورہ): کثیر العلم، دریائے عظیم الفہم۔
- علامہ محمد بن احمد عمری: مرشدِ محقق، کثیر الفہم، اللہ کی عطاؤں والا، دین کا نشان و ستون، عرفان و معرفت والا۔
- علامہ عباس رضوان (مدینہ منورہ): علامہ امام، تیز ذہن، بالا ہمت، یکتائے دہر۔
- علامہ سید الشریف احمد برزنجی (مدینہ شریف): صاحبِ تحقیق و تنقیح و تدقیق و تزئین، عالمِ اہلِ سنت و جماعت۔
- علامہ شیخ سعید محمد بن واصح حسینی (مدینہ شریف): فخرِ ہندوستان۔
- علامہ شیخ احمد الجزائری (مدینہ منورہ): علامۂ زماں، یکتائے روزگار، سرچشمۂ معرفت۔
- علامہ شیخ حسین بن علامہ سید عبد القادر طرابلسی (مدینہ منورہ): حامیِ ملتِ محمدیہ طاہرہ، مجددِ مائۃِ حاضرہ، میرے استاذ اور پیشوا۔
- علامہ محمد کریم اللہ مہاجر مدنی: امامِ بزرگ، محققِ نکتہ رس، اس زمانے کے مجدد۔
- علامہ شیخ موسیٰ علی شامی ازہری احمدی دردیری مدنی: امام الائمہ، ملتِ اسلامیہ کے مجدد، نورِ یقین۔
لقب محدث بریلوی
حضرت مسعودِ ملت ڈاکٹر مسعود احمد صاحب نے محدث بریلوی کے نام سے امام احمد رضا کی حیات و شخصیت پر کتاب لکھی۔ اس کے بعد چند پاکستانی اہلِ قلم نے بھی انہیں ”محدث بریلوی“ لکھنا شروع کر دیا۔
لقب فقیہ العصر، سرتاج الفقہاء
ڈاکٹر مسعود احمد صاحب نے فقیہ العصر کے نام سے امام احمد رضا کی فقاہت پر رسالہ لکھا۔ ڈاکٹر مسعود احمد صاحب کا سرتاج الفقہاء کے نام سے امام احمد رضا کی فقاہت پر ایک دوسرا رسالہ ہے۔ ”سرتاج الفقہاء“ امام احمد رضا کی شخصیت کے شایانِ شان ہے۔
لقب چشم و چراغ خاندانِ برکاتیہ
مارہرہ مطہرہ، خانوادۂ برکاتیہ کے ایک عظیم و جلیل شہزادے حضرت سید آلِ رسول حسنین قادری صاحب نے امام احمد رضا کو ”چشم و چراغِ خاندانِ برکاتیہ“ لکھا。
لقب مجدد اعظم
خانوادۂ اشرفیہ کچھوچھہ مقدسہ کے چشم و چراغ محدثِ اعظم ہند حضرت علامہ مولانا سید محمد میاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے امام احمد رضا علیہ الرحمہ کو ”مجددِ اعظم“ کہا۔ (المیزان، نمبر ص: 241)
لقب شاہِ ملکِ سخن
امام احمد رضا کا ایک لقب ”ملکِ سخن کا شاہ“ ہے۔
ملکِ سخن کی شاہی تم کو رضاؔ مسلّم
جس سمت آ گئے ہو سکے بٹھا دیے ہیں
لقب واصفِ شاہِ ہدیٰ
پروفیسر ڈاکٹر طلحہ رضوی برق نے امام احمد رضا کو ”واصفِ شاہِ ہدیٰ“ کہا۔ (المیزان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نمبر، ص: 240)
حضور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نے خود اپنے آپ کو ”واصفِ شاہِ ہدیٰ“ کہا ہے۔ شعر ملاحظہ کیجیے:
یہی کہتی ہے بلبلِ باغِ جناں کہ رضاؔ کی طرح کوئی سحر بیاں نہیں
ہند میں واصفِ شاہِ ہدیٰ مجھے شوخیِ طبعِ رضاؔ کی قسم
لقب امامِ نعت گویاں
مولانا اختر الحامدی صاحب مرحوم (کراچی) نے امام احمد رضا کو ”امامِ نعت گویاں“ لکھا ہے۔
لقب قبلۂ اہلِ دل
ڈاکٹر نسیم قریشی مرحوم (شعبۂ اردو، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ) نے امام احمد رضا علیہ الرحمہ کو ”قبلۂ اہلِ دل“ لکھا۔ (المیزان، امام احمد رضا نمبر، ص: 549)
لقب شیخ الاسلام و المسلمین
امام احمد رضا کے صاحبزادے حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان صاحب نور اللہ مرقدہ نے ”شیخ الاسلام و المسلمین“ سے امام احمد رضا کے وصال (1340ھ) کا تاریخی مادہ استخراج کیا تھا۔ اب یہ امام احمد رضا کے لیے ایک لقب بن گیا ہے اور انہیں ”شیخ الاسلام و المسلمین“ بھی لکھا جاتا ہے۔
لقب فاضل بریلوی
امام احمد رضا کے لیے ابتداء سے ہی ”فاضل بریلوی“ کہا اور لکھا جا رہا ہے۔ آج جب بھی فاضل بریلوی کہا اور لکھا جاتا ہے تو ذہن امام احمد رضا ہی کی طرف جاتا ہے۔
امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کے مختلف القاب
اعلیٰ حضرت، حجۃ اللہ فی الارض، علم و فضل کے دائرہ کا مرکز، صاحبِ تحقیق و تدقیق و تنقیح، فخر السلف، بقیۃ الخلف، اکابر اور عمائدِ علماء کی آنکھوں کی ٹھنڈک، زمانے کی برکت، آفتابِ معرفت، محمودِ سیرت، اسلام کی سعادت، دریائے بلند ہمت، اپنے زمانے اور اگلے وقتوں کا زر، نور کے اونچے ستون والا، صاف ستھرا نہایت کرم والا، اللہ کی عطا کردہ اور سیراب ذہن والا، بلند معنوں باریک فہموں والا، فخروں اور منقبتوں والا، مشکلاتِ علم کا کشادہ کرنے والا، علموں کی مشکلات ظاہر و باطن کو کھولنے والا، طاقتور قلم اور زبان والا، دین کا نشان و ستون، جامعِ علوم و فنون، عالمِ جمیل و جلیل، فاضلِ نبیل، عالم باعمل، صاحبِ عدل، مینارِ فضل، علامہ فاضل و کامل، پرہیزگار فاضل، محیطِ کامل، امامِ کامل، ولیِ کامل، قبلۂ اہلِ دل، قطبِ ارشاد، فاضلوں کا مایۂ افتخار، علمائے مشاہیر کا سردار، ذہین اور دانشمند، عالمِ یگانہ، استاذِ ماہر، فخرِ اکابر، شیوہ بیان شاعر، یکتائے روزگار، نادرِ روزگار، خلاصۂ لیل و نہار، دریائے زخار، چراغِ خاندانِ برکاتیہ، امام الائمہ، نورِ یقین، شیخ الاسلام والمسلمین، استاذِ معظم، مجددِ اعظم، شاہِ ملکِ سخن، امامِ اہلِ سنت، عظیم العلم، مؤیدِ ملتِ طاہرہ، مجددِ مائۃِ حاضرہ، محدث بریلوی، امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ۔
خلاصہ
عرب و عجم کے علماء، قلم کاروں اور دانشوروں نے امام احمد رضا کے فضائل و مناقب حسین انداز میں بیان کیے ہیں اور بڑے ہی باوقار اور خوبصورت القاب و آداب سے یاد کیا ہے۔ سب کا احاطہ کرنا مشکل ہے۔ آپ کے ماننے اور چاہنے والے انہیں برابر بہتر سے بہتر القاب و آداب سے یاد کرتے چلے جا رہے ہیں۔ شعراء ان کے اوصاف کے بلیغ اظہار میں تراکیب سازی بھی کر رہے ہیں۔
امام احمد رضا کی شادی و اولاد
تعلیم مکمل ہو جانے کے بعد اعلیٰ حضرت کی شادی 1291ھ میں فضل حسین صاحب کی بڑی صاحبزادی ارشاد بیگم صاحبہ سے ہوئی۔ شیخ صاحب موصوف شیخ عثمانی تھے اور ان کے والد ماجد کا نام شیخ احمد حسین تھا۔
حضرت مولانا حسنین رضا خان ابن مولانا حسن رضا خان (برادرِ اوسطِ اعلیٰ حضرت) اپنی کتاب سیرت اعلیٰ حضرت مع کرامات میں تصنیف فرماتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت مولانا احمد رضا خاں صاحب کی سات اولادیں ہوئیں۔
دو شہزادے: حضرت مولانا شاہ حامد رضا خاں صاحب ملقب بلقب ”حجۃ الاسلام“، اور حضرت مولانا الشاہ مفتی مصطفیٰ رضا خاں صاحب ملقب بلقب ”مفتیِ اعظم“ ہوئے۔
پانچ صاحبزادیاں: پہلی اور بڑی صاحبزادی مصطفائی بیگم، ان کی شادی اعلیٰ حضرت کے بھانجے جناب حاجی شاہد علی خان سے ہوئی۔ ان کی صرف ایک لڑکی ہوئی عزوبی بیگم، جو مولوی سردار علی خاں سے منسوب ہوئیں۔ یہ صاحبزادی اعلیٰ حضرت کی حیات میں ہی فوت ہو گئیں۔
دوسری صاحبزادی کنیزِ حسن، جن کو منجھلی بیگم کہتے ہیں، ان کی شادی جناب حمید اللہ خاں صاحب ولد حاجی احمد اللہ خاں صاحب رئیسِ شہرِ کہنہ سے ہوئی۔ ان کی دو اولادیں ہوئیں: عقیق اللہ خاں اور ایک صاحبزادی رفعت جہاں بیگم。
تیسری صاحبزادی کنیزِ حسین، جن کو سنجھلی بیگم کہتے ہیں۔ جناب حکیم حسین رضا خان صاحب ابن مولانا حسن رضا خاں صاحب سے منسوب ہوئیں۔ امام اہلِ سنت کے وصال سے اکیس دن بعد ان کا انتقال ہوا۔ ان کے تین لڑکے ہوئے:
- مرتضیٰ رضا خاں
- مولوی ادریس رضا خاں
- جرجیس خاں
چوتھی صاحبزادی کنیزِ حسنین عرف چھوٹی بیگم، ان کی شادی مولوی حسنین رضا خاں صاحب ابن استاذِ زمن مولانا حسن رضا خاں سے ہوئی۔ ان کی صرف ایک لڑکی ہوئی شمیم بانو، جو جرجیس میاں کو منسوب ہوئیں۔
پانچویں صاحبزادی مرتضائی بیگم عرف چھوٹی بانو، مجید اللہ خاں پسرِ خرد جناب حاجی احمد اللہ خاں صاحب رئیسِ شہرِ کہنہ سے منسوب ہوئیں۔ ان کے تین لڑکے رئیس میاں، سعید میاں، فرید میاں اور دو لڑکیاں مجتبائی بیگم اور مقتدائی بیگم ہیں۔
حضرت حجۃ الاسلام کی شادی پھوپھی زاد بہن کنیزِ عائشہ ہمشیرہ جناب حاجی شاہد علی خاں صاحب سے ہوئی۔ ان کی چھ اولادیں ہوئیں۔ دو صاحبزادے: حضرت علامہ مولانا ابراہیم رضا خاں صاحب عرف جیلانی میاں ملقب بلقب مفسرِ اعظم ہند، اور حضرت علامہ مولانا حماد رضا خاں عرف نعمانی میاں۔ اور چار لڑکیاں: امِ کلثوم زوجہ حکیم حسین رضا خاں، کنیزِ صغریٰ بیگم زوجہ تقدس علی خاں، رابعہ بیگم عرف نوری زوجہ مشہود علی خاں، اور سلمیٰ بیگم زوجہ مشاہد علی خاں۔
حضرت علامہ مفتیِ اعظم مولانا مصطفیٰ رضا خان صاحب کی شادی چھوٹے چچا مولانا محمد رضا خاں صاحب کی اکلوتی صاحبزادی سے ہوئی۔ اسی لیے مولانا محمد رضا خاں صاحب عرف ننھے میاں نے ان کو اپنی اولاد کی طرح رکھا، اور شادی کے بعد ان کا رہنا سہنا سب چچا جان کے مکان پر رہا۔ ان کی سات صاحبزادیاں ہوئیں، اور ایک لڑکا جو کمسنی ہی میں داغِ مفارقت دے کر راہیِ ملکِ بقا ہوا۔
وصال مبارک
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا وصالِ مبارک بروز جمعۃ المبارک 25 صفر المظفر 1340ھ بمطابق 28 اکتوبر 1921ء کو دن دو بج کر 38 منٹ پر عین اذانِ جمعہ کے وقت ہوا۔ آپ کا مزارِ پر انوار بریلی شریف (انڈیا) میں مرجعِ خلائق ہے۔ (جہانِ رضا، اکتوبر، نومبر 2018ء، ص: 40)
