| عنوان: | ملفوظاتِ تاج الشریعہ علیہ الرحمہ (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی عبد الرحیم نشتر فاروقی |
| پیش کش: | بنت اسلم برکاتی |
صوفیائے کرام اور مشائخ عظام کے ارشادات و فرمودات کو ”ملفوظات“ کے نام سے جانا جاتا ہے، ہر دور میں صالحین اور اولیائے کاملین کے ارشادات و فرمودات قلم بند کرنے یا انہیں محفوظ کرنے کی روایت رہی ہے تاکہ آنے والی نسلیں ان سے رشد و ہدایت کی روشنی حاصل کر سکیں۔ صوفیائے کرام کے ارشادات و فرمودات اگرچہ سادہ ہوتے ہیں مگر وہ ایسے مؤثر اور معنی خیز ہوتے ہیں کہ ان کا ایک ایک جملہ دل کی گہرائیوں میں اترتا چلا جاتا ہے۔ ان کا ایک ہی جملہ کسی بھی قوم کی تقدیر بدل ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے، کسی شاعر نے ان کی اسی صفت کو بیان کرتے ہوئے کہا ہے:
گُفْتَۂ اُوْ گُفْتَۂ اَلله بُوْد
گَرْچِه اَزْ حُلْقُوْمِ عَبْدِ الله بُوْد
حضور تاج الشریعہ نے سوال و جواب کا یہ سلسلہ جنوری 2005ء میں شروع کیا جو مسلسل 2016ء تک جاری رہا، یعنی پورے 12 سالوں تک یہ زریں سلسلہ جاری و ساری رہا۔ اس دوران آپ نے کم و بیش 7000 ہزار سوالوں کے جوابات ارشاد فرمائے، جو یقیناً ہماری آنے والی نسلوں کے لیے ایک عظیم سرمایہ ہیں۔ ملفوظاتِ تاج الشریعہ صرف مئی 2010ء سے اکتوبر 2010ء تک کے سوالات و جوابات پر مشتمل ہے، یعنی حضور تاج الشریعہ کی زبانِ حق ترجمان سے نکلے ہوئے گیارہ سالوں کے جواہر پارے ریکارڈنگ کی شکل میں ابھی باقی اور محفوظ ہیں۔ ان شاء اللہ الرحمٰن! وہ بھی کتابی صورت میں قارئین کرام کے مطالعہ کی میز پر ہوں گے۔ راقم الحروف اربابِ علم و دانش سے التماس کرتا ہے کہ ”ملفوظاتِ تاج الشریعہ“ میں اگر کوئی شرعی خامی یا غلطی نظر آئے، تو اسے ناقل و مرتب کی غلطی تصور کرتے ہوئے ادارے کو مطلع فرمائیں تاکہ اس کی اصلاح کی جا سکے۔ راقم اس کی چونتیسویں قسط قارئین کی نذر کر رہا ہے۔
عرض 1: پچھلے سیشن میں اس سوال کہ جماعتِ وتر چل رہی تھی اگر کوئی شخص ایک رکعت کے بعد پہنچا تو اس نماز کو کیسے مکمل کرے؟ حضرت نے جواب عطا فرما دیا کہ فرض میں مسبوق کی طرح اس کو بھی پورا کر لے لیکن سائل نے پھر عرض کیا کہ یہ قنوت کے بارے میں ہے کیا کرے جو شاید صحیح سنا نہیں گیا۔ جس پر حضرت نے فرمایا: یہ دونوں رکعت میں پڑھے اس کی دوبارہ وضاحت فرما دیں کہ جب مقتدی تیسری رکعت امام کے ساتھ پڑھ چکا اور اس میں دعائے قنوت بھی پڑھ دی تو اب جب اکیلا اپنی پہلی رکعت پڑھے گا تو قنوت دوبارہ کیوں پڑھے گا؟
ارشاد: اس صورت میں قنوت پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے غالباً میں نے سوال صحیح طور پر نہیں سنا اور مجھے یہ یاد آتا ہے کہ جب میں جواب دے چکا تو مجھے بتایا گیا کہ قنوت کے سلسلے میں یہ سوال کیا گیا ہے۔ قنوت کے سلسلے میں یہی ہے کہ جب وہ امام کے ساتھ دعائے قنوت پڑھا چکا ہے اب اپنی چھوٹی ہوئی رکعت کو حسبِ دستورِ سابق جس طرح سے مسبوق اپنی چھوٹی ہوئی رکعت کو ادا کرتا ہے وہ اس طور پر ادا کرے گا قنوت نہیں پڑھے گا۔
عرض 2: پچھلے سیشن کے سوال کہ مدارس کے جو لوگ آتے ہیں وہ زکوٰۃ ہی کے چندے سے اپنے سفر کا خرچ نکال لیتے ہیں۔ حضرت نے تفصیلاً جواب کے آخر میں فرمایا جس قدر اس کو ضرورت سفر میں خرچ کرنے کی اتنی رقم اور رقم عرفاً مالک کی اجازت سے زرِ زکوٰۃ میں سے منہا ہوگی۔ اب عرض یہ ہے کہ سفر کرنے والا وکیل تو ایک ہے اور زکوٰۃ کئی لوگوں نے دی تو یہ خرچہ کس طرح تقسیم ہوگا تاکہ ہر ایک کو معلوم ہو سکے کہ اس کی کتنی زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی؟
ارشاد: اس کا اندازہ تو لگانا مشکل ہے اور یہ زرِ زکوٰۃ میں سے اگر سب کے اوپر سب کی زکوٰۃ میں اسے ڈالا جائے تب یہ سوال اٹھتا ہے۔ بہرحال اس کا اندازہ سردست لگانا بہت مشکل ہے۔ ان شاء اللہ اس سوال پر مزید غور کر کے جواب دیا جائے گا۔ اگر اس سیشن میں ہو گیا تو اس سیشن میں ورنہ اگلے سیشن میں۔ (اب جو مجھ سے پچھلے سیشن کے بارے میں مسئلہ پوچھا گیا تھا اور میں نے یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ وہ زرِ زکوٰۃ، زکوٰۃ میں سے وہ اخراجاتِ سفر نکالے جائیں گے۔ ان میں دو ہی صورتیں ہیں ایک پوری رقم میں سے ان کو محسوب کر دیا جائے یا کسی ایک مزکی کی رقم میں سے وہ رقم لے لی جائے اور اس مزکی کو بتا دیا جائے۔)
عرض 3: اعلیٰ حضرت رضی اللہ تبارک و تعالیٰ عنہ کے بارے میں یہ روایت بتائی جاتی ہے کہ جب ان کا انتقال ہوا تو بیت المقدس میں ایک شامی بزرگ نے خواب میں دیکھا کہ سرکار کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ جلوہ فرما ہیں اور کسی کا انتظار فرما رہے ہیں۔ عرض کرنے پر ارشاد فرمایا کہ بریلی کے عالم احمد رضا خان کا انتظار ہے۔ پھر وہ عالم ہند تشریف لائے۔ کیا یہ روایت درست ہے اور ان شامی بزرگ کا کیا نام تھا؟
ارشاد: نام تو مجھے یاد نہیں ہے۔ ویسے یہ روایت میں نے بارہا سنی ہے اور سردست مجھے حضرت مولانا قاضی عبد الرحیم بستوی صدر مفتی مرکزی دار الافتاء رحمۃ اللہ علیہ کا نام یاد آتا ہے کہ وہ یہ فرمایا کرتے تھے کہ وہ بزرگ ہندوستان آئے اور کچھ لوگوں نے ان کی خدمت کرنا چاہی۔ انہوں نے نذرانہ لینے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ میں مستغنی ہوں۔ مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ اب یہ بات کہ وہ بزرگ بیت المقدس کے تھے یا کہاں کے تھے اس وقت مجھے یاد نہیں ہے اور غالباً یہ وہی واقعہ ہے جو میں نے حضرت مولانا قاضی عبد الرحیم صاحب بستوی علیہ الرحمہ سے سنا۔
عرض 4: کیا عورت کو مسجد جانے کی اجازت ہے اور کیا اسے مغربی ممالک میں رواج دینا چاہیے؟ اہلِ سنت و جماعت کے یہاں کیا حکم ہے؟ (انگریزی سوال)
ارشاد: نہیں! عورتوں کو اس کی اجازت نہیں اور کسی بھی ملک میں اس کو رواج دینے کی اجازت نہیں۔ انہیں مسجد میں نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں اور انہیں چاہیے کہ اپنے گھروں میں نماز ادا کریں اور اس پر مذاہبِ اربعہ کے تمام علماء کا اتفاق یعنی حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی ائمہ کا اس پر متفقہ فیصلہ ہے کہ عورتیں مساجد میں نماز ادا کرنے نہ جائیں۔
عرض 5: بہارِ شریعت حصہ پنجم عالمگیری کے حوالے سے ”روزے کا بیان“ میں ”روزہ توڑنے والی چیزوں“ کا بیان میں مسئلہ لکھا ہے کہ حقنہ یا نتھنوں سے دوا چڑھائی یا کان میں تیل ڈالا یا تیل چلا گیا ”روزہ“ جاتا رہا اور پانی کان میں چلا گیا یا ڈالا تو نہیں۔ جبکہ ایک مفتی صاحب نے بیان میں کہا کہ کان سے حلق کا رابطہ نہیں ہے اور کان میں ڈالی ہوئی دوا یا پانی حلق میں نہیں پہنچتا اس لیے کان میں دوا ڈالنے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا رہنمائی فرمائیں۔
ارشاد: بہارِ شریعت کی عبارت درست ایسا ہی ہدایہ میں ہے:
وَلَوْ أَقْطَرَ فِيْ أُذُنَيْهِ الْمَاءَ أَوْ دَخَلَهُمَا لَا يَفْسُدُ صَوْمُهٗ لِانْعِدَامِ الْمَعْنٰى وَالصُّوْرَةِ بِخِلَافِ مَا إِذَا دَخَلَهُ الدُّهْنُ.
[ہدایہ، ج: 1، ص: 23]
عرض 6: میں ہر سال انشورنس پالیسی بھرتا ہوں۔ کیا اس پر زکوٰۃ ہے؟ اگر ہے تو کس طرح سے نکالی جائے؟
ارشاد: اس کا مسئلہ، یہ سوال بار بار پوچھا جا چکا ہے اور پچھلے کسی سیشن میں ایسے بہت سارے سوالات ایک ہی پیرائے میں پوچھے گئے تھے۔ میں نے یہ جواب دیا تھا کہ ان رقموں کا حق وہی جو بینک وغیرہ میں ڈپازٹ کی جاتی ہیں۔ جب تک وہ رقم بینک وغیرہ میں رہیں ان پر زکوٰۃ سال بہ سال ہوگی۔ لیکن اس کی ادائیگی اس وقت ہوگی، ادا کرنا اس وقت لازم ہوگا جب خمسِ نصاب، نصاب کا پانچواں حصہ یا نصاب بھر مل جائے۔
