| عنوان: | مخدومہ عالمہ فاضلہ عائشہ خاتون علیہا الرحمہ معلمات و طالبات کے درمیان |
|---|---|
| تحریر: | شاگردہ شہزادی صدر الشریعہ رضیہ شاہین (پرنسپل) |
| پیش کش: | نازیہ احمدی ضیائی |
کلیۃ البنات الامجدیہ
استاذیِ مکرمہ مخدومہ عالمہ فاضلہ عائشہ خاتون علیہا الرحمہ شہزادیِ حضور صدر الشریعہ، آپ خواتین کے درمیان انفرادی حیثیت رکھتی تھیں، با رعب، با صلاحیت، با ہمت، پرعزم، مدبرہ، مفکرہ، ناصحہ، اور خواتین کے معاملات و مسائل سے دلچسپی اور شناسائی رکھتی تھیں۔ کسی بھی معاملے کا سامنا کرنے کے لیے ہمیشہ تیار اور کمر بستہ رہتی تھیں اور کبھی حالات سے گھبراتی نہ تھیں۔ اگر میں یہ کہوں تو بے جا نہ ہوگا کہ ایک لائق و فائق معلمہ کو جن اوصاف سے متصف ہونا چاہیے وہ تمام اوصاف و کمالات بدرجہِ اتم آپ میں موجود تھے۔ غالباً علم و آگہی، جوش و جذبہ اور حوصلہ آپ کے والدِ بزرگوار حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ اور والدہِ ماجدہ سے آپ کو وراثت میں ملا تھا۔
مجھے یاد ہے ایک بار شہرِ بنارس میں حاجی عبد السلام کے وہاں خواتین کے جلسے میں آپ کے ہمراہ میرا بھی جانا ہوا تھا، وہاں پر ایک امریکی نامہ نگار خاتون نے آپ سے انٹرویو میں الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ کے تعلق سے سوالات پوچھے۔ امریکی نامہ نگار کی زبان انگریزی تھی، اس لیے یہ انٹرویو بنارس کی ایک ترجمان خاتون کے ذریعے ہوا تھا، آپ نے بنا کسی جھجھک کے اس کے تمام سوالوں کے مدلل جواب دیے، اور اسے اپنے جواب سے مطمئن کر دیا، جو اپنے آپ میں بڑی بات تھی۔
آپ نے قوم کی عورتوں کو اللہ کے اس قول:
إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ
ترجمہ: ”اللہ اس وقت تک قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کوئی قوم اپنی حالت کو بدلنے کی کوشش نہ کرے۔“ کے مطابق جہالت کے اندھیروں سے نکال کر انہیں علم و آگہی کے نور سے آراستہ کر کے انہیں آفتاب و ماہتاب بنا کر چمکنا سکھا دیا۔
آہ پھوپھی جان! اب ہمارے درمیان نہیں رہیں، جو ہمارے دلوں کی دھڑکن تھیں، جن سے ہماری ڈھارس بنی رہتی تھی، جو ہمارا مضبوط سہارا تھیں، جو کلیۃ البنات الامجدیہ کی زینت تھیں۔ اللہ ان کے مرقد پر اپنی رحمت کی بارش برسائے اور ان کے درجات بلند فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین
کلیہ میں درس و تدریس کا آغاز:
خود مدرسہ شمس خاتون علیہا الرحمہ
یہ مدرسہ ہے کوئی میکدہ نہیں ساقی
یہاں کی خاک سے انساں بنائے جاتے ہیں
میں کلیہ کی پہلی کھیپ میں فارغ ہونے والی پھوپھی جان علیہا الرحمہ کی شاگردہ ہوں، جس نے ابتدائی فوقانیہ تا عالمیت پھوپھی جان علیہا الرحمہ سے شرفِ تلمذ حاصل کیا ہے۔ چند سالوں مدرسہ شمس العلوم کے نسواں میں پھوپھی جان کے درس میں رہی، بعدہ آپ کے برادرِ عزیز محدثِ کبیر صاحب قبلہ علامہ ضیاء المصطفیٰ مدظلہ العالی شہزادہِ حضور صدر الشریعہ کے قائم کردہ کلیۃ البنات الامجدیہ میں آپ خدمتِ دین کا کام انجام دینے لگیں، ساتھ ہی میرا بھی داخلہ 1989ء میں کلیہ میں ہو گیا، اس وقت ابھی کلیہ کی کوئی پختہ عمارت نہ تھی، بلکہ قادری منزل کے پاس ایک قدیم ٹوٹی پھوٹی عمارت تھی، جس کی چھت بارش میں ٹپکتی تھی، اسی میں تعلیم ہوتی تھی، لیکن ایک عزم اور حوصلہ تھا، جس کی وجہ سے قدم آگے بڑھے جا رہے تھے۔
عزائم جن کے پختہ ہوں یقیں جن کا خدا پر ہو
تلاطم خیز طوفاں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے
دیکھتے ہی دیکھتے بچیوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا، میری کلاس میں چھ طالبات ہو گئیں، جس میں میرے علاوہ پانچ کے نام یہ ہیں:
- روبیہ امجدی
- شکوہ خاتون
- امِ سلمیٰ قادری
- عبیدہ خاتون
- ناہید فاطمہ
کافی عرصہ تک پھوپھی جان اکیلے ہی ہمیں پڑھاتی رہیں، ابھی باضابطہ کتابوں کا نصاب نہیں تھا، پوری پوری کتابیں ختم ہو جاتی تھیں، عالمیت تک اکثر کتابیں آپ ہی نے پڑھائیں، پھر آپ کی کوششوں سے دیگر درجات میں بچیوں کی تعداد بڑھی تو آپ نے جامعہ امجدیہ کے کچھ اساتذہ کی مدد سے تعلیم کے سلسلے کو جاری رکھا، ان اساتذہِ کرام کے نام یہ ہیں:
- مفتی آلِ مصطفیٰ صاحب علیہ الرحمہ
- حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب قبلہ
- حضرت مولانا و حافظ محمد صدیق صاحب قبلہ
- حضرت مولانا جمال مصطفیٰ قادری صاحب قبلہ
- آپ کے برادرِ عزیز حضرت مولانا فداء المصطفیٰ صاحب قبلہ قادری
یکے بعد دیگرے سب نے تدریس کا کام انجام دیا اور محترمہ معینہ جمال قادری صاحبہ شاہزادیِ شہزادیِ صدر الشریعہ نے ہمیں ہائی اسکول تک انگلش کی تعلیم دی، دورانِ تدریس پھوپھی جان علیہا الرحمہ کے دیگر عزیز و اقارب نے بھی بڑی حوصلہ افزائی فرمائی۔
اور وقتاً فوقتاً ہمارا تعلیمی جائزہ لیتے رہے اور پڑھایا بھی، اس میں سب سے زیادہ پیش پیش استاذِ گرامی حضرت مولانا فداء المصطفیٰ صاحب قبلہ قادری تھے۔ اور حضرت مولانا قاری رضاء المصطفیٰ علیہ الرحمہ کراچی تھے۔ جب کبھی آپ پاکستان سے تشریف لاتے ضرور بالضرور مدرسہ میں تشریف لاتے، جائزہ بھی لیتے اور پڑھاتے بھی تھے، پھوپھی جان بہت خوش ہوا کرتی تھیں۔ اس دوران حضور محدثِ کبیر صاحب قبلہ دام ظلہ علینا جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں صدر المدرسین کے عہدہ پر فائز تھے، آپ ادارہ کے قیام و بقا کے لیے بھرپور جدوجہد کر رہے تھے۔
اور ناظمِ اعلیٰ حضرت مولانا علاء المصطفیٰ قادری صاحب قبلہ کی انتھک کوششوں سے اور مذکورہ تمام شخصیات کے تعاون اور خاص کر پھوپھی جان علیہا الرحمہ کی توجہ اور جانفشانیوں سے بناتِ حوا کی تعلیم کا سلسلہ آگے بڑھتا رہا۔
بالآخر 1991ء میں دادی جان علیہا الرحمہ کے برسوں کا خواب شرمندہِ تعبیر ہوا۔ ماہِ نومبر میں ایک شب گھوسی میں خواتین کا پہلا جلسہ و اجتماع منعقد ہوا، جس میں مبارک شخصیات کی جھرمٹ میں پھوپھی جان علیہا الرحمہ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے ہماری ردا پوشی فرمائی اور وہیں سے ہمیں قوم کے سامنے بولنے کا سلیقہ آیا اور سب کی محنتوں اور ارمانوں کا شجر بارآور ہوا۔ الغرض! ہندوستان میں قوم کی بچیوں کی دینی تعلیم و تربیت کا شاید یہ پہلا ادارہ ہے، جہاں بچیوں کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کو بھی فروغ دیا گیا اور دیگر علوم و فنون مثلاً سلائی، کڑھائی، پینٹنگ اور امورِ خانہ داری وغیرہ لڑکیوں کی زندگی میں کام آنے والے ہنر سے بھی بچیوں کو آراستہ کیا گیا۔ یہی نہیں بلکہ لڑکیوں کو عربی و فارسی بورڈ کے امتحانات دلوا کر ہمیں مردوں کے دوش بدوش کھڑا کر دیا یہ اس دور کی بات ہے، جب گھوسی میں بورڈ کے امتحانات کو عورتیں جانتی تک نہ تھیں اور نہ گھوسی میں اس کا سینٹر تھا، ہمیں اعظم گڑھ، مئو وغیرہ لے جا کر امتحان دلوایا، اہلِ گھوسی کے لیے یہ ایک انوکھی بات تھی، کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا آپ نے وہ کر دکھایا۔ صحیح معنوں میں آپ نے شہزادیِ صدر الشریعہ ہونے کا حق ادا کر دیا، یہ ہمارے اوپر حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کا فیضان اور آپ کے خاندان کا احسان ہے، ورنہ ہم کچھ نہ تھے، ذرہِ ناچیز کو ایسا سنوار کے ہیرا بنا دیا۔
آپ کی والدہِ ماجدہ موسوم ہاجرہ بی بی یعنی دادی جان علیہا الرحمہ کی یہ دلی تمنا تھی کہ قوم کی بچیوں کے لیے دینی تعلیم کا کوئی بندوبست ہو، آپ کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد آپ کے خاندان نے، آپ کی اس دلی تمنا کو پورا کیا اور اس کارِ خیر کو انجام دیا۔
1966ء میں بحمد اللہ پھوپھی جان کو سرکاری ملازمت ملی اور 2007ء میں ملازمت سے سبکدوش ہوئیں، اس کے بعد پرائیویٹ طور پر آپ پوری محنت و لگن سے پڑھاتی رہیں اور بالآخر قدرتی طور پر کمزوری اور ضعیفی نے مدرسہ آنے سے مجبور کیا، پھر بھی آپ ہمت نہیں ہاریں اور گھر پر ہی بچیوں کو بلا کر مشکوٰۃ شریف اور ترمذی شریف وغیرہ بڑی بڑی کتابیں پڑھاتی رہیں، چونکہ مدرسہ سے متصل آپ کا گھر بھی تھا اور مدرسہ کے کسی بھی پروگرام میں آپ تشریف لاتیں اور اپنے مفید مشوروں اور نصیحتوں سے نوازتیں۔
اس دوران آپ نے عالمات کے کئی قافلے تیار کر دیے، جس کی وجہ سے لگاتار تعلیم کا سلسلہ آگے بڑھتا رہا اور ان شاء اللہ تاقیامت یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
2006ء سے مفتیہ کا دو سالہ کورس شروع ہوا اور بحمد اللہ مفتیہ کا قافلہ بھی تیار ہونے لگا، ناچیز نے 1991ء میں فراغت کے بعد دو سال ممبئی مہاراشٹر میں تدریس و تبلیغِ دین کی خدمات انجام دیں، چونکہ کلیۃ البنات کے بعد اوروں کے اندر بھی حوصلے جاگ رہے تھے اور جگہ جگہ لوگ لڑکیوں کے ادارے قائم کر رہے تھے، یہاں کی فارغات نے تبلیغ و تدریس کا کام بخوبی انجام دیا۔
بالآخر 1993ء میں ناچیز کو حضور محدثِ کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ صاحب قبلہ سربراہِ اعلیٰ نے اپنے ادارے میں خدمت کے لیے چن لیا اور تب سے لگاتار ناچیز اپنے مادرِ علمی میں دینی خدمات پیش کر رہی ہے، اور 2003ء میں پھوپھی جان کے مدرسہ چھوڑنے کے بعد سے پرنسپل کی کٹھن ذمہ داری بھی ناچیز کے نازک کندھوں پر آ گئی، بڑی کٹھنائیوں اور مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے پھوپھی جان کے مشوروں، معلومات کے تعاون اور مسلسل جدوجہد، اساتذہ کی دعاؤں سے میں نے اسے سنبھالا اور حضور محدثِ کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری مدظلہ العالی کی نگرانی اور سرپرستی میں ادارہ مسلسل شاہراہِ ترقی پر گامزن ہے۔
الحمد للہ! آج پورے ہندوستان میں اس ادارہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
اس وقت کلیہ میں تقریباً 40 باصلاحیت معلمات کا اسٹاف ہے، جس میں اکثر پھوپھی جان علیہا الرحمہ کی شاگردائیں ہیں۔
حضور محدثِ کبیر صاحب قبلہ جامعہ اشرفیہ مبارک پور سے سرکاری ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد سے اب تک کلیہ میں لگاتار ہزار مصروفیات کے باوجود بخاری شریف کے درس سے طالبات کو فیضیاب فرما رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کلیۃ البنات ایک ایسی آماجگاہ ہے جہاں ملک و بیرونِ ملک سے تشنگانِ علم کشاں کشاں چلی آتی ہیں۔
یہ مہرِ تاباں سے کوئی کہہ دے اپنی کرنوں کو گن کے رکھ لے
ہم اپنے صحرا کے ذرے ذرے کو خود چمکنا سکھا رہے ہیں
یا خدا ہو یہ ادارہ علم و فن کا لالہ زار
عزم کا کوہِ ہمالہ اہلِ سنت کا وقار
