Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

علامہ مشتاق احمد نظامی! ایک بھولی بسری شخصیت

علامہ مشتاق احمد نظامی! ایک بھولی بسری شخصیت
عنوان: علامہ مشتاق احمد نظامی! ایک بھولی بسری شخصیت
تحریر: عبد الرحمن ضیائی
پیش کش: محمد صابر عطاری

ابھی حال ہی میں حضرت پاسبانِ ملت کا عرس گزرا ہے مگر اس سلسلے میں چاروں طرف سناٹا دیکھنے کو ملا، یہ پاسبانِ ملت، امیرِ کشورِ خطابت، قاطعِ نجدیت و وہابیت، دعائے مفتیِ اعظم، محبوبِ مجاہدِ ملت، حضرت العلامہ الشاہ مشتاق احمد نظامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بانی دار العلوم غریب نواز الہ آباد اور ہزاروں سنی تنظیموں کے بانی کا عرسِ سراپا قدس تھا۔

نظامی صاحب قبلہ کیا تھے، اکابرین کہتے ہیں وصال کے بعد اس طرح کا خطیب پھر ہماری جماعت کو ملا ہی نہیں جس کے نام پر وہابیت میں زلزلہ آ جاتا تھا، جن کے حوالے سے حضور مجاہدِ ملت کے کئی والہانہ پیغام موجود ہیں، جن سے پاسبانِ ملت کی ہمہ گیر شخصیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، مگر افسوس کہ ایسے مردِ قلندر کی خدمات کو ہم نے سرے سے ہی مسترد کر دیا جس نے زندگی کا ہر لمحہ فروغِ دین و سنیت و مسلکِ اعلیٰ حضرت کی ترویج و اشاعت میں صرف کیا، جہاں گئے علما کی ٹیم پیدا کی، تنظیموں کی تشکیل فرمائی تاکہ زیادہ سے زیادہ خدمتِ دین انجام دی جا سکے۔

آپ نے ناموافق زمین کو ہموار کیا اور وہاں اہلِ سنت کے پرچم کو نصب کیا، متحرک علما کو کام کرنے کا ذہن دیا، ہم نے کئی بزرگ علما کی زبانی سنا کہ نظامی صاحب چھوٹوں پر بڑی شفقت فرماتے، ان کو حوصلہ بخشتے، کام کرنے کا ذہن دیتے، مگر افسوس آج کے دور میں چھوٹوں کو صرف دست بوسی اور قصیدہ خوانی کے لیے رکھا جاتا ہے مگر ہزاروں زبانیں بولتی ہیں کہ پاسبانِ ملت نے انہیں تنظیموں سے جوڑا، آپ نے کئی مساجد و مدارس کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا۔

آہ! وہی قوم اپنے محسن کو بھول گئی، خود نئی نسل کے علما کو آپ کا نام تک نہیں معلوم، ابھی تنظیمی خدمات تو اپنی جگہ آج اہلِ الہ آباد کو کیا کہا جائے، پاسبانِ ملت نے وہاں عظیم علمی قلعہ تیار کیا، جہاں کے فارغین ملک و بیرون خوب خدمات انجام دے رہے ہیں مگر کہیں سے عرسِ مبارک کے موقع پر نہ تو آپ کے حالات پر کوئی مکمل تحریر سامنے آئی، نہ ہی کسی ادارے سے نکلنے والے رسالے نے آپ کی خدمات پر کوئی مضمون شائع کیا، کہنے کو تو اکثر افراد کہتے ہیں کہ مجھے نظامی صاحب بہت مانتے تھے، یہاں امامت پر لگایا وہاں سجے ہوئے دسترخوان پر کھلایا۔

مگر وہ افراد آج کہاں ہیں جو حیاتِ ظاہری میں فیضِ مالی لے رہے تھے، بعدِ وصال فیضانِ روحانی لینے کے لیے کہیں ان کا تذکرہ بھی نہیں کرتے، یاد رہے آج آپ نے اہلِ سنت کے اس مردِ قلندر کو بھلا دیا جس میں اہم کردار ہمارے قبیلے کا بھی رہا ہے، یقین جانیے کل آپ بھی تاریخ کے صفحات میں گم ہو کر رہ جائیں گے، اپنے بزرگوں کی یاد میں آپ کی بھی یاد باقی ہے۔ اگر تحریر کا کوئی لفظ کسی کو اینٹ کی طرح لگ جائے اور زخم کر جائے تو پیشگی معافی کا خواستگار ہوں، میں شکر گزار ہوں حضرت علامہ ہاشم رضا حشمتی صاحب قبلہ استاد دار العلوم غریب نواز الہ آباد کا جو مسلسل سوشل میڈیا پر تن تنہا عرس کی جانکاری اور مبارکبادی پیش کرتے رہے، کاش ہر سنی خانقاہ جن کے مراتب و درجات کا ذکر نظامی صاحب نہایت خلوص و صداقت کے ساتھ کرتے تھے، وہ بھی اپنے یہاں بلندیِ درجات کی دعا کرتے تو خوب ہوتا، پر افسوس نظامی صاحب نے جن کو شہر در شہر علاقہ در علاقہ ساتھ میں لے جا کر علامہ، پیرِ طریقت، مفتیِ ملت کا اعلان فرماتے رہے، وہ علامہ اور مفتیِ ملت بھی ہو گئے، پیرِ طریقت بن کر حلقہِ مریداں بھی بنا لیے مگر اپنے محسن حضرت علامہ مشتاق احمد نظامی نور اللہ تربتہ کو بھول گئے۔

مرکزی درسگاہ دار العلوم حاجی علی خانقاہ قادریہ محمد رفیع نگر گوونڈی ممبئی 43 میں عرسِ حضور پاسبانِ ملت علیہ الرحمہ کے حوالے سے ایک ”تقریبِ روحانی“ کا انعقاد ”حضرت شیرِ ملت دار الاقامہ“ میں کیا گیا، جس میں آپ کی دینی و ملی خدماتِ جلیلہ کو یاد کیا گیا، ساتھ ہی آپ کی شخصیت پر روشنی ڈالی گئی اور آپ کے لیے قرآن خوانی اور فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا گیا، بعدہٗ صلوٰۃ و سلام اور آپ کے لیے بلندیِ درجات کی دعا پر محفل کا اختتام ہوا، جس میں دار العلوم کے طلبہ اور اساتذہ نے شرکت کی۔

ابرِ رحمت تیری مرقد پر گہر باری کرے
حشر تک شانِ کریمی شبنم افشانی کرے

[ماہنامہ سنی دنیا، بریلی شریف، فروری 2022ء، ص: 43]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!