Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حسنِ اخلاق

حسنِ اخلاق
عنوان: حسنِ اخلاق
تحریر: بنت محمد صدیق
پیش کش: لباب اکیڈمی

حسنِ اخلاق کا مطلب ہے اچھا برتاؤ، نرم گفتار، خوش مزاجی اور دوسروں کے ساتھ محبت، احترام اور ہمدردی سے پیش آنا۔ یہ انسان کے کردار کی خوبصورتی کو ظاہر کرتا ہے۔

دینِ اسلام میں حسنِ اخلاق کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے، کیونکہ یہی صفات انسان کو اللہ تعالیٰ اور لوگوں دونوں کے نزدیک محبوب بناتی ہیں۔

حسنِ اخلاق کی فضیلت

  1. امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک بندہ حسنِ اخلاق کے ذریعے دن میں روزہ رکھنے اور رات میں قیام کرنے والوں کے درجے کو پا لیتا ہے اور کبھی بندے کو معتبر و سرکش لکھ دیا جاتا ہے، حالانکہ وہ اپنے گھر والوں کے علاوہ کسی کا بھی مالک نہیں ہوتا۔ [حسنِ اخلاق، ص: 16] اس حدیثِ مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اچھے اخلاق کا درجہ عبادت کی بڑی بڑی صورتوں، جیسے روزہ اور قیام اللیل، کے برابر تک پہنچا دیتا ہے۔ یعنی جو شخص خوش اخلاق اور دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے والا ہو، وہ بغیر زیادہ نفلی عبادات کے بھی اعلیٰ درجات حاصل کر سکتا ہے، اور اگلے حصے میں فرمایا گیا کہ بعض اوقات انسان بظاہر معمولی حیثیت رکھتا ہے مگر اپنے برے اخلاق، سختی اور بد زبانی کی وجہ سے اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ بن جاتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل عزت و مقام مال و دولت یا ظاہری حیثیت نہیں بلکہ اخلاق و کردار میں ہیں۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ اپنی عبادات کے ساتھ ساتھ اپنے اخلاق کو بھی سنواریں۔
  2. حضرت سیدنا ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میزانِ عمل میں حسنِ اخلاق سے زیادہ وزنی کوئی چیز نہیں ہے۔ [حسنِ اخلاق، ص: 16] اس سے ہمیں معلوم ہو رہا ہے کہ قیامت کے دن جب انسان کے اعمال کو تولا جائے گا، تو اس کے تمام نیک اعمال میں سب سے زیادہ وزنی اور قیمتی چیز حسنِ اخلاق ہی ہے۔
  3. اور ایک مقام پر حضرت سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انسان کو سب سے اچھی چیز کون سی عطا فرمائی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انسان کو حسنِ اخلاق سے زیادہ اچھی کوئی چیز عطا نہیں کی گئی۔ [حسنِ اخلاق، ص: 18]

ان تمام احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اچھے اخلاق ایمان کی خوبصورتی ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ نرمی، صبر، برداشت اور محبت کا مظاہرہ فرمایا، حتیٰ کہ دشمنوں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کیا۔

حسنِ اخلاق کامیابی کی حقیقی کنجی ہے۔ یہ نہ صرف انسان کو دنیا میں عزت و وقار عطا کرتا ہے بلکہ آخرت میں بھی سرخروئی کا ذریعہ بنتا ہے۔ موجودہ پُر فتن دور میں جہاں بد اخلاقی، خود غرضی اور بدتمیزی عام ہوتی جا رہی ہے، وہاں حسنِ اخلاق کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے کردار کو سنواریں، اپنے اندر نرمی، محبت اور برداشت پیدا کریں۔ دوسروں کے ساتھ اچھے انداز میں پیش آئیں اور اپنے عمل سے ایک بہترین انسان بننے کی کوشش کریں۔

اگر ہم خود کو اخلاقِ حسنہ سے آراستہ کریں گے تو نہ صرف ہمارا معاشرہ بہتر ہوگا بلکہ ہمیں دیکھ کر دوسرے لوگ بھی نیکی اور اچھے اخلاق کی طرف راغب ہوں گے۔ یوں ہم نہ صرف ایک اچھا انسان بن سکیں گے بلکہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک سنت پر عمل کرتے ہوئے دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکیں گے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!