| عنوان: | مضمون: کتاب ”فوزِ مبین“ پر ایک صدی اور شرعی تقاضے |
|---|---|
| تحریر: | مفتی خالد ایوب مصباحی شیرانی |
| پیش کش: | شاہین صبا نوری بنت محمد ظہیر رضوی |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ اپنے زمانے کی اس ضرورت کا نام تھا، جس نے وقت کی ہر پکار پر لبیک کہا، چیلنج کو مردانہ وار قبول کیا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ آپ نے جس ہمتِ مردانہ کے ساتھ چیلنج قبول کیا، اسی قوت کے ساتھ اسے انجام تک پہنچایا۔
سن 1338ھ میں مجددِ وقت نے سائنس کے ایک غیر اسلامی نظریہ کی تردید میں وہ تاریخی کتاب لکھی جس کی نظیر نہیں ملتی۔ فوزِ مبین در ردِ حرکتِ زمین (1338ھ) اپنے آپ میں قدیم فلسفہ، گردشِ زمین اور اس تعلق سے اسلامی نقطہِ نظر واضح کرنے والی وہ لاجواب تحریر ہے، جس کی پوری صدی میں کوئی مثال نہیں دی جا سکتی۔
اس تحریر کی علمی حیثیت، دلائل کی قوت، قوتِ استدلال اور تاریخی اہمیت پر ایک مستقل بحث ہونی چاہیے۔ یہ حضرت امام کے ماننے والوں پر ایک بہت بڑا قرض ہے، لیکن نہایت افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ ایک صدی سے زائد کی مدت گزر جانے کے باوجود ہم اس کتاب کو عالمی کتابوں کی فہرست میں تو کیا شامل کرواتے، اب تک اس کو مقبولِ عام و خاص کتاب بھی نہ بنا سکے، بلکہ جس اسلامی مقصد کے لیے یہ کتاب لکھی گئی، اس تعلق سے اب تک سائنس کا نظریہ بھی تبدیل نہیں کروا سکے۔
اس مسئلے کے متعلق سائنسی نظریہ کی تبدیلی کچھ اس قدر مشکل نہیں، جتنی دیگر نظریات کی تبدیلی مشکل ہے، کیوں کہ اس کتاب کے بنا بھی ازیں قبل گردشِ زمین کا سائنسی نظریہ تقریباً چار بار بدل چکا ہے، اور اسی وجہ سے موجودہ نظریہ کی تبدیلی کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔
اس عظیم تحریر کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ حضرت امام نے 105 دلائل کی قوت سے اسلامی فکر کو ناقابلِ تردید حد تک مستحکم کیا ہے۔ اس علمی کمال میں بھی شانِ عبقریت یہ ہے کہ ان 105 دلائل میں سے صرف 15 دلائل وہ ہیں، جو اسلاف و اخلاف سے منقول ہیں اور ان کو بھی آپ علیہ الرحمہ نے من و عن نہیں لیا، بلکہ ان کی تصحیح کی، باقی 90 دلائل وہ ہیں جو تنہا حضرت والا کے ذہنِ ثاقب، فکرِ رسا، قوتِ استنباط اور علمی تجربہ کا نتیجہ ہیں۔ رسالے کی تبویب و تقسیم اور تفصیل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”یہ رسالہ مسمیٰ بنامِ تاریخ: فوزِ مبین در ردِ حرکتِ زمین (1338ھ) ایک مقدمہ اور چار فصل اور ایک خاتمہ پر مشتمل۔
مقدمہ: میں مقرراتِ ہیئتِ جدیدہ کا بیان، جن سے اس رسالہ میں کام لیا جائے گا۔
فصلِ اول: میں ناقربیت پر بحث اور اس سے ابطالِ حرکتِ زمین پر 12 دلیلیں۔
فصلِ دوم: میں جاذبیت پر کلام اور اس سے بطلانِ حرکتِ زمین پر 50 دلیلیں۔
فصلِ سوم: میں خود حرکتِ زمین کے ابطال پر اور 43 دلیلیں۔ یہ بحمدہٖ تعالیٰ بطلانِ حرکتِ زمین پر 105 دلیلیں ہوئیں، جن میں 15 اگلی کتابوں کی ہیں، جن کی ہم نے اصلاح و تصحیح کی اور پورے 90 دلائل نہایت روشن و کامل، بفضلہِ تعالیٰ خاص ہمارے ایجاد ہیں۔
فصلِ چہارم: میں ان شبہات کا رد جو بوجہاتِ جدیدہ، اثباتِ حرکتِ زمین میں پیش کرتی ہے۔
خاتمہ: میں کتبِ الٰہیہ سے گردشِ آفتاب و سکونِ زمین کا ثبوت۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ مَالِكِ الْمُلْكِ وَالْمَلَكُوْتِ.“
[رسالہ: فوز مبین در ردِ حرکتِ زمین، بشمولہ: فتاویٰ رضویہ مترجم، جلد 27]
اس تبویب سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مصنف نے بحث کے کسی گوشے کو تشنہ کام نہیں چھوڑا اور کتاب دیکھنے والے بتائیں گے کہ جیسے کتاب اپنے مباحث سے متعلق ہمہ جہت ہے، اسی طرح تحریر میں تحقیق کا پورا پورا حق ادا کیا گیا ہے۔
خیال رہے یہ رسالہ محض اس لیے اہمیت کا حامل نہیں کہ اس نے سائنس سے لوہا مول لیا ہے، بلکہ اس سے بھی پہلے اس لیے ضروری ہے کہ اس میں اسلامی نظریہ کی تائید و تقویت اور غیر اسلامی نظریہ کی شدید تردید ہے۔
تمہید میں کتاب کے اس پہلو اور فی نفسہِ اہمیت کے متعلق لکھتے ہیں:
”الحمد للہ وہ نور کہ طورِ سینا سے آیا اور جبلِ ساعیر سے چمکا اور فارانِ مکہِ معظمہ کے پہاڑوں سے فائض الانوار و عالم آشکار ہوا۔ شمس و قمر کا چلنا اور زمین کا سکون روشن طور پر لایا، آج جس کا خلاف سکھایا جاتا ہے اور مسلمان ناواقف نادان لڑکوں کے ذہن میں جگہ پاتا اور ان کے ایمان و اسلام پر حرف لاتا ہے۔ وَالْعِيَاذُ بِاللهِ تَعَالٰى.
فلسفہِ قدیمہ بھی اس کا قائل نہ تھا، اس نے اجمالاً اس پر ناکافی بحث کی جو اس کے اپنے اصول پر مبنی اور اصولِ مخالفین سے اجنبی تھی۔ فقیر بارگاہِ عالم پناہِ مصطفوی عبد المصطفیٰ احمد رضا محمدی سنی حنفی قادری برکاتی بریلوی غفر اللہ لہٗ و حقق املہٗ کے دل میں ملک الہام نے ڈالا کہ اس بارے میں باذنہٖ تعالیٰ ایک شافی و کافی رسالہ لکھے، اور اس میں ہیئتِ جدیدہ ہی کے اصول پر بنائے کار رکھ کے اسی کے اقراروں سے اس کا زعمِ زائل اور حرکتِ زمین و سکونِ شمس بدلہتہ باطل ہو، وَبِاللهِ التَّوْفِيْقِ.“ [ایضاً]
چوں کہ رسالے کی زبان فلسفیانہ، اندازِ تردیدی اور لہجہ عالمانہ ہے، اس لیے بارہا عامیوں، بلکہ عام خواص کے لیے بھی اس سے استفادہ ممکن نہیں ہوتا۔ یہ استفادہ اس وقت مزید مشکل ہو جاتا ہے جب اس کتاب میں استعمال شدہ اصطلاحات کو موجودہ سائنس کی متبادل اصطلاحات نہیں مل پاتیں۔
جب کہ اس کتاب کی فہم میں رکاوٹ کے طور پر ایک بنیادی مسئلہ یہ بھی رہا ہے کہ ایک طرف اس کی قدیم فلسفیانہ اصطلاحات کے سمجھنے والے بھی خال خال رہ گئے ہیں اور جو دو چند بچے بھی ہیں، وہ موجودہ سائنس کی متبادل اصطلاحات سے واقف نہیں ہوتے، یعنی اس کتاب سے استفادہ کرتے ہوئے موجودہ سائنس کے نظریہ گردشِ زمین کو رد کرنے کے لیے ایک مستقل ٹیم ورک کی ضرورت ہے، جس میں قدیم فلسفے کے ماہرین بھی ہوں، جدید سائنس کے جاننے والے بھی۔
ہمارا یہ عہد اس طرح کے دقیق علمی مسائل کو حل کرنے کا آخری دور کہا جا سکتا ہے، کیوں کہ ہنوز راست صاحبِ کتاب اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں محدثِ بریلوی سے ان کے خلیفہ و تلمیذ ملک العلما علامہ ظفر الدین بہاری اور پھر ان کے تلامذہ اور تلامذہ کے تلامذہ کے خوانِ علم سے خوشہ چینی کرنے والے فیض یافتگان کا سلسلہِ تلمذ موجود ہے، یا کم سے کم ان مسائل سے علمی شغف رکھنے والے افراد ابھی اپنی عمر کے آخری مراحل میں ہیں، ورنہ آئندہ نسلوں میں ان صلاحیتوں کے حامل افراد کے وجود کی زیادہ امید نہیں کی جا سکتی۔
حضرت مولانا مفتی مطیع الرحمن رضوی پورنوی، حضرت علامہ محمد احمد مصباحی، حضرت علامہ قاضی فضل احمد اور حضرت مولانا محمد حنیف خاں بریلوی ادام اللہ تعالیٰ فیوضہم جیسے حضراتِ والا صفات ہمارے دہر میں ان چند چیدہ نفوسِ قدسیہ میں ہیں جن سے اس رسالے کی گرہ کشائی، اس پر مستقل کام کرنے کرانے اور نتیجتاً اس سائنسی نظریہ کی تبدیلی کی امیدیں کی جا سکتی ہیں۔
کاش! ایسا ممکن ہو، ورنہ اگر یہ موہوم شمعِ امید بھی گل ہو گئی تو شاید یہ ایک علمی خزانہ مبارک دفینہ بن کر رہ جائے گا اور بس۔
[ماہنامہ پیغامِ شریعت دہلی | ص: 40 | ستمبر، اکتوبر 2019ء]
