| عنوان: | رضویات اور مسلکِ اعلیٰ حضرت: توضیح و تشریح (قسط: دوم و آخری) |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | محمد سجاد علی قادری ادریسی |
محبتِ نبوی و عشقِ مصطفوی مذہبِ اہلِ سنت و جماعت کے خمیر میں شامل ہے۔ حضرات صحابہ کرام حضور اقدس شفیعِ محشر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے والہانہ عشق و محبت رکھتے تھے۔ تعظیم و ادب ایسا کرتے کہ ہر دیکھنے والا تعجب میں ڈوب جاتا، اور ہم تو اہلِ سنت و جماعت ہیں۔ اہلِ سنت و جماعت سے مراد یہی ہے کہ جو حضور اقدس رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے طریقہ پر ہو، پس ہماری کیفیت بھی وہی ہونی چاہیے، جو حضرات صحابہ کرام کی تھی۔ گرچہ مقدارِ عشق میں ہم صحابہ کے مساوی نہیں ہو سکتے لیکن بہرحال اہلِ سنت و جماعت ان نفوسِ قدسیہ کے نقشِ قدم پر گامزن ہے۔ صحابہ کرام کے عشق و محبت اور تعظیم و ادب کا اقرار مخالفین بھی کرتے تھے۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو رب تعالیٰ نے نایاب قبولیت عطا فرمائی ہے۔ ان کے عشاق و منتسبین چودہ سو سال بعد بھی ان کی حد درجہ تعظیم و تکریم اور ادب و توقیر کرتے ہیں، حالانکہ ان لوگوں نے انہیں دیکھا بھی نہیں۔ نہ جانوں کی قربانی میں دریغ، نہ مال و دولت لٹانے میں تامل۔ دراصل اہلِ سنت و جماعت کی ماہیت میں توحیدِ الٰہی مانند جنس ہے، اور عشقِ مصطفوی فصل کے مماثل۔
یہ ہرگز نہیں کہا جا سکتا کہ امام احمد رضا قادری نے امتِ مسلمہ کو عشقِ نبوی کی اولین تعلیم دی ہے، یا یہ امر امام احمد رضا کی ایجاد و اختراع ہے، کیونکہ حبِ نبوی کی تعلیم قرآنِ مجید اور احادیثِ طیبہ میں موجود ہے۔ اسلافِ کرام کے اقوال و تصانیف میں اس کی تشریحات مرقوم ہیں اور ہر سنی عاشقِ رسول ہوتا ہے۔ ہاں، یہ بات سچ ہے کہ حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں امام احمد رضا قادری نے اپنی تحریر و تقریر، تصانیف و تالیفات اور تحقیقات و فتاویٰ میں وہ رنگ اختیار فرمایا کہ قومِ مسلم عشقِ مصطفوی و محبتِ نبوی سے برگشتہ نہ ہو سکے، اور بے ادبی کی راہ پر نہ چلی جائے۔ بے ادبوں کے جبہ و دستار کو دیکھ کر قوم میں فکری انتشار پیدا ہو جانا ایک فطری امر تھا۔
مجددِ موصوف نے قومِ مسلم کو دربارِ اعظم کے آداب و حقوق، تعظیم و توقیر اور محبتِ رسول کا وہی سبق پڑھایا، جو قرآنِ مجید، احادیثِ مقدسہ اور اسلافِ کرام کی تحریروں میں درج تھا۔ مجددِ گرامی اس امر میں افراط و تفریط کے شکار بھی نہ ہوئے، کیونکہ افراط و تفریط میں سے ہر ایک عند الشرع درست نہیں۔ اسلام کی تاریخِ ماضی میں کبھی اس امر سے برگشتگی کے اسباب اہلِ سنت و جماعت میں پیدا ہی نہ ہوئے تھے، اس لیے خاص کر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے آداب و تعظیم کی تعلیم و تلقین کے لیے منظم کوششوں کی ضرورت درپیش نہ آئی۔
نجدی کے ظہور کے بعد دعویدارانِ سنیت نے ان امور کو اپنایا، جو اہلِ سنت و جماعت کی فطرتِ اصلیہ و خصلتِ طبعیہ کے برخلاف تھے۔ بعض دعویدارانِ سنیت ضلالت و گمراہی تک گرے، اور بعض ایسے بدنصیب بھی ہوئے جو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں زبان درازی کے سبب کفر و ارتداد میں مبتلا ہوئے۔ ایسے بدکرداروں کے دعویِ سنیت سے یقیناً اس بات کا خطرہ تھا کہ عوامِ مسلمین بھی ان عاداتِ قبیحہ سے متأثر ہو جائیں، اس لیے اب ضرورت تھی کہ قومِ مسلم کو حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے آداب و حقوق کی تعلیم دی جائے۔ عشقِ مصطفوی و محبتِ نبوی کا انہیں سبق پڑھایا جائے۔ اب اس وصف میں امام احمد رضا قادری منفرد و متفرد ہوئے، اور عوام و خواص کی زبان پر ”امامِ عشق و محبت“ کے خطاب سے سرفراز ہوئے۔ وہ خود بھی عشقِ مجسم اور پیکرِ محبت تھے، اور عشقِ نبوی کے برکات و حسنات جو دربارِ اعظم سے عطا ہوتے ہیں، مجددِ موصوف نے بھی ان سے وافر حصہ پایا۔ اشاراتِ ذیلیہ پر غور کیا جائے۔
- امامِ اہلِ سنت نے رقم فرمایا: مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے کرم سے میری مدد فرماتے اور مجھ پر علمِ حق کا افاضہ فرماتے ہیں۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 12، ص: 131، رضا اکیڈمی ممبئی]
- علامہ عبد الحکیم خاں اختر شاہ جہاں پوری نے لکھا: ”حقیقت یہ ہے کہ امام احمد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ کو اتنے علوم و فنون میں جو کمال حاصل ہوا، اس کا بہت کم حصہ کسبی اور اکثر و بیشتر وہبی ہے۔“ [سیرتِ امام احمد رضا، ص: 15، رضوی کتاب گھر دہلی]
توضیح: مجددِ گرامی کا ظاہری و باطنی علوم و معارف اور علومِ نقلیہ و عقلیہ میں ملکہِ راسخہ کے فلک الافلاک تک عروج، بلکہ اکثر علومِ عقلیہ میں درجہِ اجتہاد تک پرواز حضور اقدس سید الانبیاء و المرسلین صلوات اللہ تعالیٰ و سلامہ علیہ وعلیہم اجمعین سے بے انتہا عشق، دربارِ عالی میں حد درجہ مؤدب اور فنا فی الرسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی برکات سے ہیں۔ ان برکات کے انوار و تجلیات سے سارا عالمِ اسلام چمک اٹھا، باطل کی ظلمت غائب ہوئی حق کا اجالا پھیلا، اہلِ حق کی شان دوبالا اور حقانیت کا جھنڈا بلند و بالا ہوا: فَالْحَمْدُ للهِ عَلٰى ذٰلِكَ حَمْدًا دَائِمًا.
اسلام کی آمد کے بعد سے ابن عبد الوہاب نجدی (1115ھ - 1206ھ) تک ایسا کوئی زمانہ نہیں آیا کہ کلمہِ اسلام پڑھنے والی کوئی جماعت حضور اقدس سرورِ دو جہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عیب جوئی کرتی ہو، یا کسی قسم کی صریح بے ادبی کرتی ہو۔ عہدِ ماضی میں صرف ابن تیمیہ حرانی (661ھ - 728ھ) کا نام اس فہرست میں آتا ہے۔ اس عہد کے علمائے کرام نے ابن تیمیہ کا رد و ابطال فرمایا اور قومِ مسلم ابن تیمیہ کے اثراتِ بد سے محفوظ رہی۔ ابن تیمیہ کے محض چند تلامذہ ہی اس بلا میں مبتلا ہوئے۔ ایک طویل مدت بعد ابن عبد الوہاب نجدی نے ابن تیمیہ کے افکار و نظریات کو دوبارہ زندہ کر دیا۔ نجدی کو ملکِ عرب میں قوت حاصل ہوئی۔ وہابیہ نے بے شمار علمائے اہلِ سنت اور سنی مسلمانوں کا قتلِ عام کیا۔ رفتہ رفتہ ہندوستان بھی نجدی فتنہ سے متاثر ہو گیا۔ اسلامی تاریخ میں وہابیت سے بدترین کوئی مذہبی فتنہ پیدا نہیں ہوا۔
اسماعیل دہلوی (1193ھ - 1246ھ / 1779ء - 1831ء) نے 15 محرم الحرام 1240ھ مطابق 1824ء کو ”تقویۃ الایمان“ لکھ کر مسلمانانِ ہند کو کرب و اضطراب میں مبتلا کر دیا۔ امامِ اہلِ سنت حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی (1212ھ – 1278ھ / 1797ء - 1861ء) اور ان کے معاصر علمائے اہلِ سنت و جماعت نے اس طوفانی بلا یعنی وہابیت کا انتہائی جانفشانی کے ساتھ دفاع کیا، اسی سال 19 ربیع الثانی 1240ھ کو جامع مسجد دہلی میں علمائے اہلِ سنت و جماعت کا اسماعیل دہلوی اور عبد الحی بڈھانوی (م 1243ھ / 1828ء) سے مناظرہ ہوا۔ دہلوی شروع سے خاموش رہا، پھر موقع دیکھ کر جامع مسجد سے بھاگ نکلا۔ بڈھانوی شکست کھا کر احکامِ اسلامی کو بظاہر تسلیم کر لیا، پھر اسی ڈگر پر آ گیا، جہاں وہ تھا۔ علامہ فضل حق خیر آبادی نے ”تحقیق الفتویٰ فی ابطال الطغویٰ“ تحریر فرمائی اور دہلوی پر کفرِ فقہی کا حکم جاری فرمایا۔
وہابیت تقریباً دم توڑ چکی تھی، لیکن پھر 43 سال بعد 15 محرم 1283ھ مطابق 30 مئی 1866ء کو ہندوستان کے وہابیوں نے قصبہ دیوبند میں دار العلوم قائم کیا۔ سنی گھرانے کے بچوں کو تعلیم کے نام پر وہاں لے جاتے۔ ان کے تمام اخراجات بھی دار العلوم سے پورے کیے جاتے، بلکہ غریب ماں باپ کی کفالت بھی دار العلوم سے کی جاتی۔ بچہ جب فارغ التحصیل ہو کر آتا تو چند سالوں میں گاؤں و علاقہ میں وہابیت و دیوبندیت کی تبلیغ کرتا۔ رفتہ رفتہ لوگ وہابیت کی جانب مائل ہو جاتے۔ جس وقت دیوبند کا مدرسہ قائم ہو رہا تھا، اس وقت قافلہ سالارِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، امام احمد رضا خاں قادری قدس سرہ العزیز (1272ھ – 1340ھ / 1856ء - 1921ء) کی عمر صرف دس سال، تین ماہ اور پانچ دن تھی۔
مدرسہ دیوبند کے قیام سے تحریکِ وہابیت کو مزید قوت فراہم ہوئی اور وہابیت کا فروغ ہونے لگا۔ شانِ الٰہی اور عظمتِ مصطفوی پر ناروا حملوں میں شدت آ گئی۔ تنقیص و بے ادبی کی گرم بازاری ہوئی۔ ایسے پرخطر موقع پر اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز نے حرمتِ الٰہی کی پاسبانی اور ناموسِ رسالت کے تحفظ میں سر دھڑ کی بازی لگا دی۔ اس عہد میں امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت اور ان کے معاصر علمائے اہلِ سنت نے ہمارے اور ہمارے خدا کے حبیب حضور اقدس تاجدارِ کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے فضائل و مناقب، محامد و محاسن اور اوصاف و کمالات پر اتنے مجموعات رقم فرمائے کہ تاریخِ ماضی میں اس کی مثال نہیں پائی جاتی۔
حقیقت یہ ہے کہ اہلِ اسلام پر ایسا بدترین دور کبھی گزرا ہی نہیں تھا کہ جو قوم اپنے پیغمبر کے نام پر اپنی جانوں کو قربان کر دیتی ہو، اپنے اموال و اولاد کو آں پیغمبرِ اعظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر نچھاور کر دیتی ہو، بھلا وہ قوم اپنے پیارے رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بے ادبی کیسے کر سکتی ہے۔ ہاں، بدنصیبوں نے یہ کارِ بد بھی کر دکھلایا۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی جانب سے دفاع کرتے ہوئے امام احمد رضا نے ایسے دل نشیں و مدلل انداز میں حقائق نویسی کی، اور اس کثرت و تواتر کے ساتھ خامہ فرسائی کی کہ ان کی تحریروں نے فضائے عالم میں عشقِ مصطفوی و محبتِ نبوی کی ایسی بہار آفریں خوشبو پھیلائی کہ سارا جہاں عشقِ مصطفوی سے گلزار و مشک بار ہو گیا۔
چونکہ اہلِ اسلام میں ایسا پرفتن دور کبھی آیا ہی نہ تھا کہ یکے بعد دیگرے جبہ و دستار میں ملبوس، خود کو خادمِ اسلام بتانے والوں نے سلسلہ وار عظمتِ الٰہی و حرمتِ نبوی پر رکیک حملے کیے ہوں، بے ادبی و بے توقیری کا صریح ارتکاب کیا ہو۔ دراصل ابن تیمیہ بھی اس منزل تک نہیں پہنچا تھا۔ ہندوستان کے وہابیہ اپنے جدِ اعلیٰ سے بھی کوسوں دور آگے نکل گئے۔ تب ضرورت پیش آئی کہ ایسے ابلیس صفت خرقہ پوشوں کی ہفوات گوئی کے رد و ابطال کے ساتھ مسلمانانِ عالم کو حضور اقدس شفیعِ محشر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے عشق و محبت اور ادب و تعظیم کا درس دیا جائے۔ اس طرح اس شعبہِ تعلیم و تفہیم میں امام احمد رضا قادری انفرادی منصب پر جلوہ گر ہوئے۔
ہمارے قائد و رہنما عاشقِ مصطفیٰ امام احمد رضا قادری زندگی بھر امتِ مسلمہ کو عشقِ مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء کا درس دیتے رہے۔ وہ خود بھی عشقِ نبوی کی تصویرِ کامل تھے۔ وہ ہر لمحہ تصوراتِ مصطفوی میں مستغرق رہتے۔ وہ بریلی میں رہ کر بھی خود کو دربارِ نبوی میں حاضر سمجھتے۔ ان کا جسم کہیں بھی ہوتا لیکن روح و قلب، عقل و خرد، تصورات و تفکرات کے ساتھ آپ مدینہ طیبہ میں ہوتے۔
جان و دل ہوش و خرد سب تو مدینے پہنچے
کیوں نہیں چلتے رضا سارا تو سامان گیا
وہابیہ کے یہاں بھی عشقِ رسول کا چرچا ہوتا ہے لیکن وہ زبانی جمع خرچ تک محدود ہے، اور حقیقت اس کے برعکس ہے۔ درحقیقت عشقِ مصطفوی اور حبِ نبوی ہی دنیا و آخرت کی تمام کامرانیوں کا واحد اور مجرب سرچشمہ ہے۔ امام احمد رضا قادری حد درجہ ہوشمند تھے کہ خود کو دربارِ رسالت سے منسلک کر لیے۔ آنجناب کا مادی پیکر تو ہند میں رہا کرتا لیکن ان کی روح ہمہ دم دربارِ مصطفوی کی جاروب کشی میں مشغول رہتی۔ ان کا قلب تصورِ نبوی میں مستغرق رہتا۔ آپ تعظیمِ مصطفوی و عشقِ محمدی کے پیکرِ مجسم تھے۔ وہ بے نظیر فقیہ اور علم و فضل کے بحرِ ناپیدا کنار تھے لیکن ان کا عشقِ رسول ان کے علم و فضل پر غالب تھا۔ اپنی باطنی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے خود ہی فرمایا:
ارے اے خدا کے بندو کوئی میرے دل کو ڈھونڈو
میرے پاس تھا ابھی تو ابھی کیا ہوا خدایا
نہ کوئی گیا نہ آیا ہمیں اے رضا تیرے دل کا پتہ چلا بمشکل
درِ روضہ کے مقابل وہ ہمیں نظر تو آیا یہ نہ پوچھ کیسا پایا
امام احمد رضا نے ہمیں یہ سبق دیا کہ کلمہ خوانوں سے ہمارا تعلق بالواسطہ ہے، اور ہمارا حقیقی تعلق آں پیغمبرِ اعظم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ہے، جن کا ہم سب کلمہ پڑھتے ہیں۔ آں پیغمبرِ اعظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو سب پر ترجیح و فوقیت دی جائے گی لیکن حضور اقدس حبیبِ کبریا علیہ الصلوٰۃ والسلام پر کسی کو ترجیح نہیں دی جا سکتی۔ خدا و رسول (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) ہی ہمارے مقصودِ اصلی ہیں۔
انہیں جانا انہیں مانا نہ رکھا غیر سے کام
لِلّٰهِ الْحَمْدُ میں دنیا سے مسلمان گیا
اس شعر کا ہرگز یہ مفہوم نہیں کہ حضور اقدس تاجدارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے علاوہ مخلوقات میں کسی فرد سے اعلیٰ حضرت کا کچھ تعلق ہی نہیں تھا۔ ان کی تصانیف و تالیفات میں حضرات خلفائے راشدین، امہات المومنین، صحابہ و تابعین، ائمہِ مجتہدین، اولیاء و صالحین، علمائے کرام و اہلِ اسلام کے آداب و توقیر اور ان تمام سے حسنِ سلوک کی ہدایات و توضیحات جابجا موجود ہیں۔ احبابِ الٰہی اور معظمینِ اسلام سے محبت و تعظیم کی تعلیمات سے ان کی تحریریں بھری پڑی ہیں۔ اس شعر کا مفہوم یہ ہے کہ ان تمام میں کوئی مقصودِ اصلی نہیں، بلکہ مقصودِ اصلی حضور اقدس سرورِ کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی ہے، اور جو یہاں رسائی پا لیا، وہ دربارِ الٰہی میں بھی قبولیت پا لیا، جیسا کہ فرمایا:
بخدا خدا کا یہی ہے در نہیں اور کوئی مفر مقر
جو وہاں سے ہو یہیں آ کے ہو جو یہاں نہیں وہ وہاں نہیں
قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ.
ترجمہ: (اے محبوب) تم فرما دو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرماں بردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔ (کنز الایمان) [سورۃ آل عمران، آیت: 31]
مصرع دوم ”لِلّٰهِ الْحَمْدُ میں دنیا سے مسلمان گیا“ کا مفہوم یہ ہے کہ حضور اقدس حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ارشادِ مبارک:
لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتّٰى أَكُوْنَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَّالِدِهٖ وَوَلَدِهٖ وَالنَّاسِ أَجْمَعِيْنَ.
[صحیح بخاری جلد اول، صحیح مسلم جلد اول] کے مطابق قائل نے سب سے زیادہ محبت آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے رکھی، اب بفرمانِ نبوی وہ ”کامل الایمان“ ہوئے، اور یہ کیفیت چند مہینوں یا چند سالوں تک محدود نہ رہی، بلکہ عالمِ آخرت کا سفر اختیار فرمانے تک بھی یہی کیفیت قائم رہی۔ اب وہ بحکمِ حدیثِ مصطفوی کامل الایمان ہو کر دنیا سے رخصت ہوئے۔
مذکورہ بالا اہم خدمات کی وجہ سے مذہبِ اہلِ سنت و جماعت کو امامِ موصوف کی جانب منسوب کرتے ہوئے ”مسلکِ اعلیٰ حضرت“ کا لقب دیا جاتا ہے۔ یہ دراصل مذہبِ اہلِ سنت و جماعت ہے۔ اس تشریح کے اعتبار سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہر سنی، رضوی ہے، اور ہر رضوی سنی ہے۔ انہی اسباب کی بنیاد پر ایک سنی صحیح العقیدہ مدنی کو بریلوی کہہ دیا گیا، جیسا کہ علامہ خوشتر قادری کے استاذ حضور محدثِ اعظم پاکستان قدس سرہ العزیز نے اس حقیقت کو آج سے پچاسوں سال قبل بیان فرما دیا تھا۔
ڈال دی قلب میں عظمتِ مصطفیٰ
سیدی اعلیٰ حضرت پہ لاکھوں سلام
مذاہب و مسالک کا تعارف کبھی ان کے رہنماؤں کے ذریعہ ہوتا ہے، مثلاً حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی امت کو عیسائی کہا جاتا ہے۔ اسی طرح حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی، قادری، چشتی، سہروردی، نقشبندی، وہابی، مودودی وغیرہ جماعتیں اپنے قائدین کی جانب منسوب ہیں۔ کبھی مذاہب و مسالک کا تعارف کسی خاص وصف کے ذریعہ ہوتا ہے، جیسے حضرت خاتم النبیین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے متبع کو ”مسلم“ کہا جاتا ہے۔ رب تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِيْنَ مِنْ قَبْلُ وَفِيْ هٰذَا.
[سورۃ الحج، آیت: 78] اہلِ سنت و جماعت، معتزلہ، شیعہ، اہلِ قرآن، اہلِ حدیث، نیچری وغیرہ مذاہب کے نام بھی ان کے خاص اوصاف کے سبب ہیں۔
قَالَ الْمَازِرِيُّ: وَلَمْ يَكُنْ أَبُو الْحَسَنِ أَوَّلَ مُتَكَلِّمٍ بِلِسَانِ أَهْلِ السُّنَّةِ إِنَّمَا جَرٰى عَلٰى سُنَنِ غَيْرِهٖ وَعَلٰى نُصْرَةِ مَذْهَبٍ مَّعْرُوْفٍ فَزَادَ الْمَذْهَبَ حُجَّةً وَّبَيَانًا وَّلَمْ يَبْتَدِعْ مَقَالَةً اِخْتَرَعَهَا وَلَا مَذْهَبًا إِنْفَرَدَ بِهٖ - أَلَا تَرٰى أَنَّ مَذْهَبَ أَهْلِ الْمَدِيْنَةِ نُسِبَ إِلٰى مَالِكٍ وَمَنْ كَانَ عَلٰى مَذْهَبِ أَهْلِ الْمَدِيْنَةِ يُقَالُ لَهٗ مَالِكِيٌّ - وَمَالِكٌ إِنَّمَا جَرٰى عَلٰى سُنَنِ مَنْ كَانَ قَبْلَهٗ، وَكَانَ كَثِيْرَ الْإِتْبَاعِ لَهُمْ إِلَّا أَنَّهٗ لَمَّا زَادَ الْمَذْهَبَ بَيَانًا وَّبَسْطًا، عُزِيَ إِلَيْهِ - كَذٰلِكَ أَبُو الْحَسَنِ الْأَشْعَرِيُّ لَا فَرْقَ لَيْسَ لَهٗ فِيْ مَذْهَبِ السَّلَفِ أَكْثَرُ مِنْ بَسْطِهٖ وَشَرْحِهٖ وَتَوَالِيْفِهٖ فِيْ نُصْرَتِهٖ.
[طبقات الشافعیۃ الکبریٰ، ج: 3، ص: 367، دار احیاء الکتب العربیۃ بیروت]
(ترجمہ) امام ابوالحسن اشعری (260ھ - 324ھ) مذہبِ اہلِ سنت کی تشریح کرنے والے پہلے متکلم نہ تھے، بلکہ وہ اپنے اسلاف کے طریقہ پر چلے اور مذہبِ مشہور کی مدد پر رہے، پس انہوں نے مذہب میں حجت اور توضیح کا اضافہ کیا، اور اپنی جانب سے کوئی اختراعی بات نہ لائے، اور نہ کوئی جداگانہ مذہب۔ کیا تجھے معلوم نہیں ہے کہ اہلِ مدینہ کا مذہب امام مالک کی طرف منسوب ہوا، اور جو اہلِ مدینہ کے مذہب پر ہو، اسے مالکی کہا جاتا ہے، اور امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے اسلاف کے طریقے پر چلے، اور وہ اسلافِ کرام کی خوب پیروی کرنے والے تھے، لیکن جب انہوں نے مذہب میں توضیح و تشریح کا اضافہ کیا تو مذہب ان کی طرف منسوب ہو گیا۔ ایسے ہی امام ابوالحسن اشعری علیہ الرحمۃ والرضوان۔ (دونوں ائمہ کے مابین) کچھ فرق نہیں۔ مذہبِ اسلاف کے بارے میں امام مالک (93ھ - 179ھ) کی تشریح و توضیح اور مذہب کی نصرت میں تالیفات، امام اشعری سے زیادہ نہیں۔
توضیح: حضرت امام مالک کی طرح امام ابوالحسن اشعری نے بھی مذہبِ اہلِ سنت کی عظیم خدمات سر انجام دیں، جس کے سبب مذہبِ اہلِ سنت کو مذہبِ اشعری اور اہلِ سنت و جماعت کو اشاعرہ کہا جانے لگا، اور امام ابوالحسن اشعری (260ھ - 324ھ) و امام ابو منصور ماتریدی (م 333ھ) کی طرح امام احمد رضا قادری (1272ھ - 1340ھ) بھی زندگی بھر مذہبِ اہلِ سنت کی خدمت سر انجام دیتے رہے، پس برصغیر میں دانستہ یا نادانستہ طور پر مسلکِ اہلِ سنت ان کی طرف منسوب ہو گیا: ذٰلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاءُ.
”مسلکِ اعلیٰ حضرت“ مسلکِ اہلِ سنت کا ایک شناختی نام ہے، کیونکہ عہدِ حاضر میں بد مذہب فرقے بھی خود کو اہلِ سنت کہتے ہیں۔ اگر مسجد یا مدرسہ کی جائیداد، یا کسی قسم کی جائیداد اہلِ سنت و جماعت کی جانب سے خریدی گئی، اگر رجسٹریشن میں محض ”اہلِ سنت و جماعت“ لکھا ہوا ہے، تب آج یا کل بد مذہب جماعتیں اس پر دھاوا بول کر قابض ہو جائیں گی۔ ملکِ ہند میں اس قسم کے بے شمار واقعات پیش آ چکے ہیں۔ اب چونکہ اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز مذہبِ اہلِ سنت و جماعت کے قائد و رہنما کی حیثیت سے متعارف ہو چکے ہیں تو برصغیر میں ”مسلکِ اعلیٰ حضرت“ ایک تعارفی لقب کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ ”مسلکِ اعلیٰ حضرت“ کا لفظ وہیں استعمال ہوگا، جہاں کی یہ اصطلاح ہے، اور جہاں لوگ سمجھتے ہوں۔ جہاں لوگ نہ سمجھ پائیں تو اہلِ سنت و جماعت ہی کہا جائے گا۔ اسی طرح جہاں مخالفین اس لفظ سے غلط فہمی پیدا کرتے ہوں، اور سنی مسلمانوں کو ایک جدید فرقہ کی شکل میں پیش کرتے ہوں، وہاں بھی احتیاط کی جائے۔
مذکورہ بالا تشریحات سے امامِ اہلِ سنت کے افکار و نظریات واضح ہو گئے۔ اب یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ جب علمائے ہند و پاک ”رضویات“ کا لفظ بولتے ہیں تو اس سے امام احمد رضا قادری کی حیات و خدمات کے ساتھ ان کے مذہبی افکار و نظریات بھی مراد لیتے ہیں۔ یہ لفظ ایک اصطلاح کی شکل میں متعارف ہوتا جا رہا ہے۔ امام احمد رضا کے افکار و نظریات دراصل اہلِ سنت و جماعت کے افکار و نظریات ہیں۔ اس طرح فروغِ رضویات کے مفہوم میں مذہبِ اہلِ سنت و جماعت کی ترویج و اشاعت کا مفہوم بھی شامل ہے۔
وَمَا تَوْفِيْقِيْ إِلَّا بِاللهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ، وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى حَبِيْبِهِ الْكَرِيْمِ، وَآلِهِ الْعَظِيْمِ.
[رضویات اور مسلکِ اعلیٰ حضرت: توضیح و تشریح، ص: 8 تا 13]
