| عنوان: | ریاضتِ علم |
|---|---|
| تحریر: | عالمہ مدحت فاطمہ ضیائی گھوسی |
| پیش کش: | لباب اکیڈمی |
اے راہِ علم کے مسافروں! سفرِ علم محض خواہشات سے نہیں، بلکہ صبر کے زادِ راہ سے طے ہوتا ہے؛ کیونکہ علم کا سفر وہ واحد سفر ہے جس میں ہر موڑ پر نئی آزمائش جنم لیتی ہے، ہر قدم پر نئی ذمہ داری سامنے آتی ہے، اور ہر منزل ایک تازہ امتحان لے کر منتظر رہتی ہے۔ کبھی یہ سفر آسانیوں کے دروازے خود بخود وا کر دیتا ہے، گویا ہنستے کھیلتے منزل تک پہنچا دیتا ہے؛ اور کبھی یہی سفر مشقتوں کی سنگلاخ چٹانوں سے ٹکراتا ہوا انسان کو آزماتا ہے۔ دقتیں کبھی رکاوٹ بن کر سامنے کھڑی ہوتی ہیں، انسان کو گراتی بھی ہیں، مگر راہِ علم کا مسافر جب صبر کا دامن تھام لیتا ہے تو یہی دقتیں، یہی رکاوٹیں اس کے لیے دوبارہ کھڑے ہونے کا وسیلہ بن جاتی ہیں۔
علم کی راہ کبھی ہموار و آسان نہیں ہوتی! اس میں بارہا گرنا پڑتا ہے، اور ہر بار اٹھنا پڑتا ہے۔ یہاں ٹوٹنے کی تکلیف بھی ہے، اور ہر بار اٹھ کر خود کو سنبھالنے کی ہمت بھی۔ کبھی تھکن آنکھوں کو نم کر دیتی ہے، مگر انہی نم آنکھوں کے آنسو امید کے چراغ بن کر چہرے پر مسکراہٹ روشن کر دیتے ہیں۔
یہ سفر نہ صرف خواہشوں سے طے ہوتا ہے، نہ آرزوؤں کی چادر اوڑھ لینے سے منزلیں ہاتھ آتی ہیں۔ بلکہ علم کی منزلیں استقامت، صبر، پابندی اور محنت کے مضبوط قدموں سے ہی نصیب ہوتی ہیں۔ کسی نے سچ کہا:
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
وہ دیدہ ور، وہ روشن دل، وہ علم کا سچا مسافر بننے کے لیے دل میں محبت، شوق اور اخلاص کی ایسی شمع جلانی پڑتی ہے جو تھکن کے طوفانوں میں بھی بجھ نہ سکے۔ خوابوں کو حقیقت بنانے کے لیے راتوں کی نیند قربان کرنی پڑتی ہے، اور قدموں کو مسلسل آگے بڑھانا پڑتا ہے۔
یاد رکھیں!
علم والا کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹتا۔ اس کی مشقت رائیگاں نہیں جاتی، اس کی کوشش بے وقعت نہیں ہوتی۔ اس کا رب اس کے قدموں کو مضبوطی بھی دیتا ہے، راستوں میں روشنی بھی، اور دل میں یقین بھی۔
اللہ رب العزت ہمیں علم کے راستے پر ہمیشہ ثابت قدم رکھے، ہمارے دلوں میں وہ نور پیدا کر دے جو کبھی ماند نہ پڑے، ہمارے ارادوں کو پختگی عطا فرمائے، ہمارے تھکے ہوئے دلوں کو قوت، اور ہماری کمزوریوں کو ہمت عطا فرمائے۔
اے ربِ کریم! ہر علم کے مسافر کو وہ عزت، وہ وقار اور وہ مقام عطا کر؛ جو محض تیری رضا کے سائے میں ملتا ہے۔ ان کی منزلوں کو آسان فرما، ان کے راستوں سے رکاوٹیں دور کر دے، اور ان کے سینوں کو اس علم سے بھر دے جو دنیا و آخرت کی بھلائیوں کی کنجی ہو۔
آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔
