Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

انسانی فطرت اور گوشت خوری

انسانی فطرت اور گوشت خوری (قسط: اول)
عنوان: انسانی فطرت اور گوشت خوری (قسط: اول)
تحریر: ابو المعانی حضرت علامہ ابرار حسن صدیقی تاہری علیہ الرحمہ
پیش کش: آفرین
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

جہاں اسلام اور اہلِ اسلام پر ہنود اور خصوصاً آریہ اپنی ناعاقبت اندیشی سے طرح طرح کے محض باطل اور جاہلانہ اعتراض کرتے ہیں، وہاں وہ اپنی کوتاہ بینی سے مسلمانوں پر بہیمیت و بربریت کا بھی الزام لگاتے ہیں کہ مسلمان اپنی خواہشات و لذاتِ نفسانی کی خاطر خدائے برتر کی ہزاروں ذی روح مخلوق کی جانیں تلف کر کے ان کا گوشت کھاتے اور اپنے نفس کو موٹا بناتے ہیں جو انتہائی بے رحمی اور سفاکی ہے، حالانکہ یہ بات آفتابِ نصف النہار کی مثل آشکار و ہویدا ہے کہ مسلمان مردار اور ان جانوروں کا گوشت کھانے سے سخت اجتناب کرتے ہیں، جن میں مسائل ذمیمہ شرعاً و عقلاً و عرفاً ثابت کی گئی ہیں، ان کے مذہبِ مہذب کی صحیح سچی تعلیمات ان کو متنبہ کرتی ہیں اور وہ اس پر عمل پیرا ہیں کہ جو جانور خدا کے نام پر ذبح نہیں کیا گیا ہو، جس جانور کی قربانی خدا کے لیے نہ ہوئی ہو وہ مردار ہے اور اس کا کھانا حرام، اسی طرح وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ جس جانور میں کسی ناپاکی یا کسی خوبی بد کا شائبہ بھی ہے تو وہ نہ تو نذرِ خداوندی ہی کے قابل ہے اور نہ ہی اس کا کھانا جائز ہے۔

اس سے صاف ظاہر ہے کہ معترضین کے خیالِ خام کے موافق اگر مسلمان اس ایذا رسانی کو اپنی خواہشاتِ نفسانی کو پورا کرنے ہی کی غرض سے روا رکھتے تو وہ کون سی طاقت تھی جو مسلمانوں کو سور، گدھے، الو اور کتے وغیرہ کے کھانے سے باز رکھتی ہے ان کو صرف اس خیال نے باز رکھا کہ یہ اپنی نجاست اور عاداتِ قبیحہ کی وجہ سے نہ تو اس قابل ہیں کہ ان کو اس پاک معبود کی راہ میں قربان کیا جائے اور نہ اپنی خباثت کی بنا پر اس لائق ہیں کہ ان کو کھایا جائے، وہ ادنیٰ تامل میں عقلِ سلیم کی رہبری سے اس صحیح نتیجہ پر پہنچ گئے اور ان کے اس مشاہدہ اور ذاتی تجربہ نے جو کہ حدِ تواتر کو پہنچ چکا ہے، اس امر پر حکمِ جازم لگا دیا کہ اگر وہ بھی سور یا ان جانوروں کا گوشت کھانے کے عادی ہو جائیں جن کے اندر عاداتِ خبیثہ اور بے غیرتی و بے حیائی کا عنصر موجود ہے تو ان کے اندر بھی لازماً انہیں جیسی بے غیرتی و بے حیائی پیدا ہو جائے گی۔

اس حقیقت سے کون خبر دار نہیں کہ اگر سور کسی کو اپنی مادہ کے ساتھ جفتی کھاتے دیکھتا ہے تو اس کو اس کی اصلاً پرواہ نہیں ہوتی، حیا کا فقدان اس کو ہرگز جذبہِ انتقام پر آمادہ نہیں ہونے دیتا، اسی طرح اگر انسان بھی سور خوری شروع کر دے تو کیا اس کے اندر سے حیائے انسانی کا خاتمہ نہ ہو جائے گا؟ اور کیا اس کو اپنی بہو بیٹی کی غیرت باقی رہ جائے گی؟ ہم نے یہ جو کچھ بھی لکھا ہماری جولانیِ طبع اور جدتِ تخیل کا نتیجہ نہیں بلکہ اس امر پر ہمارا ذاتی تجربہ شاہد ہے اور ہم کو اغذیہ و ادویہ کا استعمال اور ان کی نفوسِ انسانی میں تاثیرات بتاتی ہیں کہ ایک انسان اغذیہ و ادویہ کے استعمال سے انہیں اثرات کا حامل ہو جاتا ہے جن اثرات کو قدرت نے ان اغذیہ و ادویہ مستعملہ کے اندر ودیعت فرما دیا ہے تو پھر سور کھا کر سور جیسے خصائلِ قبیحہ کا پیدا ہو جانا اس تجربہ کی بنا پر بعید از امکان نہیں۔

اسی خیال سے مسلمانوں نے نہ صرف سور بلکہ اس جانور کا بھی گوشت کھانے سے اجتنابِ کلی رکھا جس پر ان کی شریعتِ قادسیہ نے حرمت اور نجاست کا مہر لگا دیا ہے اگرچہ ان میں سے بعض افراد سور وغیرہ کو ایک نعمتِ غیر مترقبہ سمجھ کر بہت کھاتے ہیں مگر دوسری قوموں کی طرح مسلمان مطلق العنان ہو کر اپنی شریعتِ حقہ کے حکم کے خلاف ہرگز حرام خوری پر آمادہ نہ ہوئے، اگر مسلمان نفس پروری کرتے اور مبتلائے خواہشاتِ نفسانی ہوتے تو سور، کتے، بندر ان مفت کے جانوروں کو صاف کرتے؟

ہمارے اس بیان سے مسلمانوں کے دامن پر گوشت خوری کی آڑ میں بہیمیت و بربریت کا دھبہ لگانا اور اپنی لذات و خواہشاتِ نفسانی کے لیے بے زباں جانوروں کو ایذا رسانی سے تعبیر کرنا عقل و خرد سے محرومی اور بغض و عناد کی آگ میں جلنے کے مترادف نہیں تو اور کیا ہے۔ آگے چل کر اس امر کو ناقابلِ انکار دلائل و براہین سے ثابت کریں گے کہ گوشت خوری انسانی فطرت میں داخل ہے۔ یہ گوشت جو خدائے برتر کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اس کو نعمت سمجھ کر نہ صرف کھانا ہی اچھا ہے بلکہ اس امر پر انسان کی وضعِ خلقی شاہد ہے کہ گوشت خوری معترضین کے پاس لے دے کر صرف یہی ایک دلیل ہے کہ بظاہر جانوروں کا ذبح کرنا ظلم ہے اور ظلم کسی مذہب میں جائز نہیں، کھانے والے صرف اپنا دل خوش کرنے کی خاطر ایک جاندار مخلوق پر اس قدر ظلم و ستم روا رکھتے ہیں اور خدا سے نہیں ڈرتے۔ البتہ یہ ایک ایسا مغالطہ ہے جو تھوڑی دیر کے لیے کسی بھی عقل مند آدمی کو جادہِ عقل سے پرے کر دینے کے لیے کافی ہے مگر ادنیٰ سی غور و فکر کے بعد اس مغالطہ کا ازالہ کیا جا سکتا ہے کہ آج دنیا میں کوئی بھی ایسا مذہب نہیں جس میں بکثرت گوشت کھانے والے موجود نہ ہوں اور یہ قاعدہِ کلیہ ہے کہ جس بات کو عقلائے زمانہ جمہوریت و اکثریت کے لحاظ سے اختیار کرتے ہیں وہی بات حق ہوتی ہے۔

ایک ایسا مسلمہ کلیہ اور ایسی ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ اس سے روگردانی نہ کرے گا مگر معاند، ہم اس کلیہ کو مد نظر رکھتے ہوئے جب اس مسئلہ پر نظرِ غائر ڈالتے ہیں تو یہ حقیقت بے نقاب ہو کر ہمارے سامنے آ جاتی ہے کہ جب دنیا کی ساری اقوام بلکہ ہندؤوں میں سے بھی اکثر و بیشتر قومیں گوشت کھانے کی نہ صرف عادی بلکہ دلدادہ ہیں تو پھر اہلِ ہنود کا گوشت کھانے کو ظلم اور کھانے والوں کو ظالم سمجھنا حقیقت سے چشم پوشی اور کھلا عناد نہیں تو اور کیا ہے؟ معترضین کا یہ قول کہ جانوروں کو ذبح کرنا بظاہر ظلم معلوم ہوتا ہے۔ ایذا رسانی میں نہیں اس کا جو سانپ بچھو وغیرہ موذی جانوروں کا قتل کرنا ہر مذہب بلکہ ہر کس و ناکس کے نزدیک جائز ہے اس کو کوئی بھی کم عقل ناجائز و حرام یا ظلم سے تعبیر نہیں کرتا بلکہ ظلم کے معنی یہ بھی ہیں کہ کسی دوسرے کی چیز کو اس کی بلا اجازت اپنے تصرف میں لایا جائے، اگرچہ وہ کتنی ہی معمولی شے ہو اور ہر طرح کے بلکہ محض ناکارہ ہی کیوں نہ ہو تصرف کا اختیار ہے اور بدیہی بات ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی ضرورت کے وقت اپنی گراں بہا اور زریں پوشاک کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے جلا کر اس سے کھانا پکا لے یا بلا ضرورت بھی تلف کر دے تو اسے کوئی بھی کم عقل ظلم سے تعبیر نہیں کرے گا لیکن اگر کوئی شخص کسی دوسرے کا ایک معمولی کپڑا بھی لے کر چولہے کی نذر کر دے تو ہر کس و ناکس کے نزدیک ظالم ٹھہرے گا۔

الغرض ہر وہ شے جو بیع و شرا یا دیگر جائز طور پر ہماری ملکیت میں آئے تو ہم کو مالک ہونے کی حیثیت سے اس میں ہر طرح اور ہر قسم کے تصرف کا اختیار ہے اور اس میں سرِ مو ظلم کا شائبہ تک نہیں تو وہ خدائے برتر و بالا جو زمین و آسمان اور سارے جہان کا خالق و مالکِ حقیقی ہے اگر انسان اشرف المخلوقات کو اپنی مخلوق و مملوک گائے بکری وغیرہ کے کھانے کا حکم دے تو یہ بہر حال اس کا عدل و انصاف ہے اور اگر انسان بھی نظریہ تعمیلِ حکمِ خداوندی ان کا گوشت کھائے اور مزے اڑائے تو اس پر بھی کچھ الزام نہیں۔

اگر یہاں پر کوئی یہ اعتراض کرے کہ خدا کے یہاں سے ایسا نازیبا حکم جو سراسر وحشت و بربریت پر مبنی ہو، ہرگز نہیں آ سکتا، جس طرح کہ انسان خدائے عادل کی مخلوق ہے اس طرح گائے اور بکری وغیرہ بھی اس کی مخلوق ہیں، عقلِ سلیم اور طبعِ مستقیم اس امر کی نافی ہے کہ تمام مخلوق کا مالک و خالق جو ماں باپ سے زیادہ اپنی ساری مخلوق پر مہربان ہے، اپنی مخلوق میں سے ایک مخلوق کی خوشدلی اور اتمامِ لذاتِ نفسانی کی خاطر اس کو دوسری جاندار مخلوق کے ذبح کرنے اور کھانے کا حکم دے جو اس کے عدل و انصاف کے منافی اور ظلم و ستم کے مترادف ہے۔ تو اس اعتراض کا جواب ہمارے بیانِ سابق ہی سے مل سکتا ہے لیکن ہم اس پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ ہم اس سطحی اعتراض کا قلع قمع کرنے کی غرض سے ایک دوسرا مدلل جواب حوالہ قلم کرتے ہیں۔ اگر مسلمان آدم خوری کو جائز و حلال بتاتے اور خود بھی مردم خوری کرتے ہیں اور دوسروں سے بھی اس امر کے متمنی ہوتے ہیں جس طرح کہ وہ گائے اور بکری کو حلال جان کر خود بھی کھاتے اور دوسروں سے بھی اس بات کے متمنی رہتے ہیں کہ وہ بھی ہمارے ہم مشرب و ہم پیالہ ہو کر اس خداداد نعمت سے لذت اندوز ہوں اور پھر ہندو کسی امر سے خائف ہو کر ایسا کہتے تو ہمیں اس کے تسلیم کر لینے میں اصلاً کوئی تکلف نہ ہوتا اور ہم بلا خوف لومۃ لائم بانگِ دہل یہ کہنے کے لیے تیار ہو جاتے کہ بے شک ہندو بیچارے حق بجانب ہیں ہرگز خدائے کریم اپنے بندوں کو ایسا نازیبا حکم نہیں دیتا۔

لیکن جب یہ امر مسلم ہو چکا کہ انسان نہ صرف بہائم بلکہ خدائے برتر کی تمامی مخلوق سے اشرف و اعلیٰ ہے گائے اور بکری وغیرہ شرافت اور بزرگی میں انسان کے ہم سنگ یا پاسنگ بھی نہیں تو اس صورت میں اگر خدائے حکیم نے اشرف و اعلیٰ کو ادنیٰ اور کمتر کے استعمال میں لانے اور نہ صرف بلاوجہ بلکہ ان کا گوشت کھا کر فائدہ اٹھانے اور اس عطائے نعمت پر توفیقِ شکر عطا فرمانے کی جہت سے ذبح کرنے کا حکم دیا تو کیا ستم کیا؟

کیا معترضین کو اس بداہت سے بھی انکار ہو گا کہ دنیا میں اعلیٰ کے لیے ادنیٰ کا استعمال میں لانا دستورِ عام ہے اگر معترضین کائناتِ عالم پر متجسسانہ نظر ڈالیں تو ان کو اس قسم کی صدہا جیتی جاگتی مثالیں نظر آئیں گی، اس سے کون واقف نہیں کہ ایک انسان کی پوشش کی غرض سے نہایت ہی بیش بہا کپڑے کے ٹکڑے پارچے کر کے پوشاک تیار کی جاتی ہے، بقائے نفسِ انسانی کی خاطر ہزاروں من گیہوں پیس کر سرمہ سا کر دیے جاتے ہیں تاکہ ہم ان سے حلوے اور روٹیاں بنائیں، کھائیں اور لطف سے زندگی بسر کریں، ایک بلند و بالا مکان اور ایک عشرت کدہ کی تعمیر کی خاطر گراں بہا اور بیش قیمت پتھر، سنگِ موسیٰ، سنگِ مرمر کو توڑ پھوڑ، گڑھ کر لگاتے ہیں صدہا بے زبان درختوں کو جڑ سے کاٹ کر چیرتے، ان سے کڑیاں اور تختے نکالتے اور مکان میں ڈالتے ہیں۔

جب انسان کو اشرف و اعلیٰ سمجھا جب ہی تو گیہوں و کپڑے پر، بیش قیمت اور بے زبان شجر و حجر پر اس کے استعمال میں لانے کی خاطر ظلم و ستم روا رکھا بلکہ اس صورت میں جبکہ انسان کا اشرف المخلوقات ہونا مسلم اور اطبائے عالم کا اس پر اتفاق کہ گوشت انسان کے لیے بغایت درجہ سودمند ہے اور پھر بھی حکیمِ مطلق انسان کو گوشت کھانے سے منع کرے اور حکم نہ دے تو یہ اس کی حکمت کے منافی ہے۔

حکمت و شفقتِ رافتِ خداوندی کا تقاضا ہے کہ ہر وہ شے کہ جس میں خیرِ کثیر ہو جس کے استعمال میں بلاشبہ بندوں کا مفاد ہو، اس سے اپنے بندوں کو بہرہ اندوزی کا موقع دے اور بندوں کی بھی یہ شان ہونا چاہیے کہ جب وہ اس کے رشتہ عبودیت میں منسلک ہیں جب انہوں نے اپنی حیاتِ مستعار کے عزیز ترین لمحات کو، اپنے ہر حرکت و سکون کو وقفِ رضائے ربِ کریم بنا رکھا ہے اور جب وہ اس کے اوامر و نواہی پر عمل پیرا ہونے کو اپنا فرضِ اولین سمجھتے ہیں تو اس عطائے نعمت پر، اس رافت و شفقت پر اس خالقِ ارض و سما کی بارگاہِ بے نیاز میں اپنی نیاز آگیں جبینِ عبدیت جھکا کر ہدایائے تشکر و امتنان پیش کرتے ہوئے اس کو قبول کریں کہ اس کا قبول نہ کرنا شیوہ عبدیت کے خلاف اور ان جذباتِ عشق و محبت کے منافی بلکہ سرکشی اور بغاوت کے مترادف ہے جن کو انہوں نے اپنے شرر فشاں سینوں میں زینتِ کاشانہِ دلی بنانے کی خاطر، گوشہِ دل میں اس واحد و یکتا معبود و مسجود کی روح پرور یاد قائم و برقرار رکھنے کی خاطر دبا دبا کر رکھا ہے۔ وہ لامتناہی جذباتِ عبودیت جن کا قلوب کی تنگ فضا میں کیف آگیں تلاطم و ارتعاش چپکے چپکے سبق آموزِ اعترافِ ربوبیت ہو کر غفلت شعار انسان کو ہر لمحہ و ہر آن اس واحد قدوس کی جناب میں نہ صرف سر نیاز خم کرنے پر مجبور کرتا ہے بلکہ وہ ملکِ دل جو رہنے کی دعوت دیتا ہے۔ اس کے خلائے موہوم میں صہبائے عبدیت سے معمور ہو کر ان کا مستانہ تحرک و اضطراب اس کو ارتعاشِ استمراری اور ہمیشہ سر بسجود وہ گوشت جیسی مفید ترین نعمتِ عظمیٰ کو اپنے اضعف بندوں پر اپنی رافت و شفقت سے حلال و جائز فرما کر اس کے کھانے اور اس سے فائدہ اٹھانے کا حکم اسے ظلم و ستم داشت و کرتے ہوئے اس حکیمِ مطلق کے اس حکمت بھرے فرمان کی مخالفت کرے تو کیا یہ امر موردِ قہرِ خداوندی ہونے کا موجب نہیں؟ اور کیا یہ امر اس خدائے ذوالجلال کی رضا اور خوشنودی کا باعث ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں، اگر ظلم ہے تو دوسری قومیں بھی اس ظلم کی مرتکب ہیں۔ سطور بالا سے یہ حقیقت مہرِ نیم روز کی مثل منکشف ہو گئی کہ گوشت بلاشبہ حلال ہے اور اس کا ترک کر دینا نہ صرف خدائے برتر کی ایک نعمت سے محروم ہونا ہے بلکہ از خود موردِ عتابِ الٰہی بننا ہے۔ یہی سبب ہے کہ دنیا میں جس قدر ادیان و مذاہب ہیں ان میں کوئی بھی مذہب ایسا نہیں ملے گا جس میں کثرت سے گوشت خوری کا رواج نہ ہو، اور ہنود میں تو اکثر و بیشتر ایسی قومیں ہیں جو نہ صرف خود ہی گوشت خوری کی عادی ہیں بلکہ ان کے نزدیک تو یہ فعل اس درجہ جائز و مستحسن ہے کہ وہ اپنے معبودوں، دیویوں اور دیوتاؤں پر بھی بکروں کی بھینٹ چڑھاتے ہیں ظاہر ہے کہ اگر اس کو اچھا نہ سمجھتے تو اپنے معبودوں کے لیے ایسا ہرگز نہ کرتے اور اگر اس میں ظلم و ستم کا شائبہ بھی ہوتا تو اس ناجائز و حرام فعل کو اپنے معبودوں کی خوشنودی کا آلہ کار کیوں بناتے؟

مسئلہ گوشت خوری کی آڑ میں مسلمانوں کے سر ایذائے ذی روح کا ناپاک الزام رکھنے والے ہنود اور ان پھبتی آریوں سے میرا یہ سوال ہے کہ اگر گوشت کھانا ایذائے ذی روح کے خیال سے ظلم و ستم اور وحشت و بربریت کے مترادف ہے تو بے زبان جانوروں پر بوجھ سوار ہونے، ان کو یکہ گاڑی فٹن میں چلانے، ان پر بوجھ لادنے، ان کی اس فطری آزادی کو جو قدرت نے ان کو دے رکھی ہے ان سے سلب کر کے ان کو مقید و محبوس کرنے میں کیا ایذائے ذی روح متصور نہیں؟ بدیہی بات ہے کہ اگر قتلِ نفس گناہِ کبیرہ ہے تو زدوکوب کرنا اور بے جا مقید و محبوس رکھنا بھی ہرگز مورثِ ثواب نہیں ہو سکتا تو اس معنی کر جب وہ خود ان امورِ سیئہ کے ہر لمحہ و ہر آن مرتکب ہوتے ہیں اس موقع پر معترضین سے یہ استفسار کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اگر ایک بادشاہِ مجازی جس کے قبضہِ اقتدار میں نہ صرف عنانِ مملکت و حکومت ہی ہو بلکہ اس کو ایک طبیبِ ماہر و حاذق ہونے کا فخر بھی حاصل ہو وہ اپنے ایک ادنیٰ محکوم کو جس کی گردن میں اس کی محکومیت اور غلامی کا قلادہ آویزاں ہو، وہ بادشاہ اس کی کیفیاتِ مزاجی سے مطلع ہو کر اس کی مضرت و مفاد کا احساس کرتے ہوئے اپنے مراحمِ خسروانہ اور نوازشہائے شاہانہ کی بنا پر ایک خوش رنگ اور خوش مزہ سیب عنایت فرما کر اس کے کھانے کا حکم دے اور وہ حماقت مآب اور سفاہت کیش محض اس خیال سے کہ یہ عطیہِ شاہانہ ہے اگر میں اس کو کھاؤں گا تو اس کی ہیئتِ اصلی فنا ہو جائے گی یہ خوش رنگ اور حسین سیب چاقو یا چھری کی قطع و برید سے پارہ پارہ ہو جائے گا، حلق سے اتر کر معدے میں پہنچے گا، کیموس و کیلوس سے طبعِ اول و ثانی کے بعد فضلہِ ردیہ بن کر ہر طرح قابلِ اخراج ہوگا، انکار کر دے اور نہ کھائے بلکہ اپنی حماقت کا مزید ثبوت یہ دے کہ اس کو الٹا واپس کر دے تو کیا وہ موردِ عتابِ شاہی ٹھہرے گا؟ اور کیا وہ عدمِ تعمیلِ فرمانِ شاہی کے الزام میں قابلِ صد تنبیہ نہ ہو گا؟

ہاں ہوگا اور ضرور ہو گا اس لیے اس نے کفرانِ نعمتِ الٰہی کا ارتکاب کیا اس کا تو فرض تھا کہ وہ اس عطیہ شاہی کا نہایت احترام کے ساتھ خیر مقدم کرتا اس کو بوسہِ نیاز دے کر آنکھوں سے لگاتا، سر پر رکھتا تعمیلِ فرمانِ شاہی اور اپنا فریضہِ محکومیت ادا کرنے کی خاطر بصد احترام کھاتا اور شکرِ نعمت بجا لاتا کہ اس میں اس کی سعادت بھی تھی اور یہی امر بادشاہ کی خوشنودیِ مزاج کا باعث بھی۔ تو وہ بادشاہِ حقیقی اور وہ خدائے قادر و قہار جس کی پر ہیبت و پر جلال اور غیر فانی حکومت نہ صرف انسان بلکہ جملہ کائناتِ عالم کو مستولی اور محیط ہے، پر ایذائے ذی روح کا الزام درست، بندوں پر ظلم و ستم اور وحشت و بربریت کا اعتراض صحیح، یہ اجمال ہر عاقل و انصاف پسند انسان کی تسلیِ خاطر اور تسکینِ قلب کے لیے کافی ہے لیکن ایک وہ شخص جو پکا ملحد ہو اور کسی دین کا پابند نہ ہو اگر وہ اس مسئلہ پر دندانِ اعتراض تیز کرے تو تاوقتیکہ اس کو دلیلِ عقلی سے مسکت اور دندان شکن جواب نہ دیا جائے وہ صرف اس پر قناعت نہیں کر سکتا لہٰذا میں اس مضمون کو ایک دلیلِ عقلی پر ختم کرتا ہوں تاکہ اعتراض کا راستہ ہی مسدود ہو جائے اور کسی کو مجالِ دم زدن باقی نہ رہے۔

دنیا میں ذی روح اور جاندار کی جس قدر اقسام ہیں وضعِ خلقی کے لحاظ سے ہر قسم میں ایک ایسی نمایاں اور مابہ الامتیاز خصوصیت پائی جاتی ہے جو دوسری قسم میں مطلقاً مفقود ہوتی ہے اور جس کے سبب سے اقسامِ ذی روح میں ایک دوسری سے امتیازِ کلی ہو جاتا ہے۔ ہم اس کلیہ کو مد نظر رکھتے ہوئے جب ہر جاندار، چرند و پرند کی خوراک پر نظر کرتے ہیں تو ہمیں اس میں بھی وضعِ جبلی کے اعتبار سے اختلاف نظر آتا ہے، مثلاً وہ پرند جن کی نوک ترچھی ہے ان کی خورش گوشت ہے اور جن کی سیدھی ہے وہ گوشت کی بو سے بھی گریز کرتے ہیں، اس قاعدہ سے اگر ایک آدھ پرند مستثنیٰ ہو تو اس سے ہمارے اثباتِ مدعیٰ پر کچھ اثر نہیں پڑتا، چوپایوں میں جن کی خوراک گوشت ہے ان کی وضعِ خلقی یہ ہے کہ ان کے دو کیلے اور داڑھیں کچھ گول ہوتی ہیں اور جن کی خوراک گھاس وغیرہ ہے ان کی داڑھیں چپٹی ہوتی ہیں۔ یہ ایک ایسی پہچان ہے کہ اگر چوپایہ سامنے بھی ہو جب بھی صرف اس کی داڑھوں ہی کو دیکھ کر ہر شخص پہچان سکتا ہے کہ جس کی یہ داڑھیں ہیں اس کی خوراک گوشت ہے یا گھاس؟ چونکہ انسان بھی ایک غیر پرند جاندار ہے لہٰذا دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی داڑھیں انہیں جانوروں کی مثل ہیں جن کی خوراک گوشت ہے گھاس کھانے والے جانوروں کی مثل نہیں۔

اس سے اس حقیقت کا انکشافِ تام ہو گیا کہ انسان کی وضعِ خلقی گوشت خوری کی مقتضی ہے یہی سبب ہے کہ ہر ملک اور ہر طبقے، ہر ملت اور ہر مشرب کے لوگ بکثرت گوشت خوری کے عادی ہیں۔

جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[ماہنامہ سنی دنیا ستمبر 2017ء، ص: 15]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!