| عنوان: | امام اہلِ سنت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی اسد الرحمن چشتی |
| پیش کش: | عالیہ فاطمہ انیسی |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
آپ کا علمی و فقہی مقام
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ نے فتاوی رضویہ کی کتاب الطہارۃ کے باب التیمم میں ایک نادر فتویٰ تحریر فرمایا، جس میں آپ نے ایک سو اکیاسی (181) ایسی چیزوں کے نام گنوائے ہیں، جن سے تیمم کیا جا سکتا ہے۔ اس میں چوہتر (74) منصوصات (یعنی وہ مسائل و احکام جنہیں فقہاء متقدمین نے بیان فرما دیا) اور ایک سو سات (107) مزیدات (یعنی وہ مسائل و احکام جنہیں آپ نے اپنے اجتہاد و استنباط سے بیان فرمایا) ہیں۔ اور ایک سو تیس (130) ایسی اشیاء کے نام تحریر کیے ہیں، جن سے تیمم کرنا جائز نہیں ہے، ان میں اٹھاون (58) منصوصات اور بہتر (72) زیادات ہیں۔
امام اہلِ سنت امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ العزیز نے ایک سوال کہ ”باپ پر بیٹے کا کس قدر حق ہے؟“ کے تحت احادیث مرفوعہ کی روشنی میں تفصیلی جواب دیتے ہوئے اولاد کے ساٹھ (60) حقوق بیان فرمائے اور فرمایا کہ یہ حقوق پسر اور دختر (بیٹا اور بیٹی) دونوں کے لیے مشترک ہیں اور پھر بیٹے کے خاص پانچ حقوق لکھے، اور دختر کے لیے خاص پندرہ حقوق لکھے۔ اس طرح آپ نے اولاد کے کل اسی (80) حقوق تحریر فرمائے ہیں۔
خداداد حافظہ
حضرت ابو حامد سید محمد محدث کچھوچھوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تکمیلِ جواب کے لیے جزئیاتِ فقہ کی تلاش میں جو لوگ تھک جاتے وہ اعلیٰ حضرت کی خدمت میں عرض کرتے اور حوالہ جات طلب کرتے تو اُسی وقت آپ فرما دیتے کہ رد المحتار کی فلاں جلد کے فلاں صفحہ پر ان الفاظ کے ساتھ جزئیہ موجود ہے۔ در مختار کے فلاں صفحے پر عبارت یہ ہے۔ عالمگیری میں فلاں جلد و صفحہ پر یہ الفاظ موجود ہیں۔ اور جب کتابوں میں دیکھا جاتا تو وہی صفحہ و عبارت پاتے جو زبانِ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہوتا تھا۔
علم ریاضی میں مہارت
علم ریاضی میں آپ یگانۂ روزگار تھے۔ چنانچہ علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ضیاء الدین جو کہ ریاضی میں غیر ملکی ڈگریاں اور تمغہ جات حاصل کیے ہوئے تھے، آپ کی خدمت میں ریاضی کا ایک مسئلہ پوچھنے آئے۔ ارشاد ہوا، فرمائیے! اُنہوں نے کہا، وہ ایسا مسئلہ نہیں جسے اتنی آسانی سے عرض کروں۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے فرمایا، کچھ تو فرمائیے۔ وائس چانسلر صاحب نے سوال پیش کیا تو اعلیٰ حضرت نے اُسی وقت اس کا تشفی بخش جواب دے دیا۔ اُنہوں نے انتہائی حیرت سے کہا کہ میں اس مسئلہ کے لیے جرمن جانا چاہتا تھا۔ اتفاقاً ہمارے دینیات کے پروفیسر مولانا سید سلیمان اشرف صاحب نے میری راہنمائی فرمائی اور میں یہاں حاضر ہو گیا۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ آپ اسی مسئلہ کو کتاب میں دیکھ رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب بصد فرحت و مسرت واپس تشریف لے گئے اور آپ علیہ الرحمہ کی شخصیت سے اس قدر متاثر ہوئے کہ داڑھی رکھ لی اور صوم و صلوٰۃ کے پابند ہو گئے۔
قرآن پاک حفظ کر لیا
آپ علیہ الرحمہ نے صرف ایک ماہ میں قرآن پاک حفظ کیا۔ چنانچہ حضرت جناب سید ایوب علی صاحب کا بیان ہے کہ ایک روز اعلیٰ حضرت نے ارشاد فرمایا کہ بعض ناواقف حضرات میرے نام کے آگے حافظ لکھ دیا کرتے ہیں، حالانکہ میں اس لقب کا اہل نہیں ہوں۔ سید ایوب علی صاحب فرماتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت نے اسی روز سے دور شروع کر دیا جس کا وقت غالباً عشاء کا وضو فرمانے کے بعد سے جماعت قائم ہونے تک مخصوص تھا۔ روزانہ ایک پارہ یاد فرما لیا کرتے تھے، یہاں تک کہ تیسویں روز تیسواں پارہ یاد فرما لیا۔
جلیل القدر مجدد
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ اس امت کے لیے ہر سو سال کے سرے پر ایک آدمی بھیجے گا جو اس کے لیے اس کے دین کی تجدید کرے گا۔“ (سنن ابو داؤد، مشکوۃ المصابیح)
مجدد کی سب سے بڑی علامت و نشانی یہ بیان کی گئی ہے کہ گزشتہ صدی کے آخر میں اس کی پیدائش اور شہرت ہو چکی ہو اور موجودہ صدی میں بھی وہ مرکزِ علوم و فنون سمجھا جاتا ہو۔ یعنی علماء کرام کے نزدیک اس کے احیائے سنت و ازالۂ بدعت اور دیگر خدماتِ دینیہ کا خوب چرچا اور شہرت ہو۔
علماء کرام کی بیان کردہ علامات کے سو فیصد مصداق اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی ہیں۔ جن کو حدیثِ نبوی کے مطابق عرب و عجم کے ممتاز علماء کرام اور مشائخ عظام نے چودہویں صدی کے مجدد کے عظیم لقب سے پکارا ہے۔
اس لیے کہ آپ کی ولادتِ با سعادت 10 شوال المکرم 1272ھ میں ہوئی اور آپ کا وصال 25 صفر المظفر 1340ھ میں ہوا۔ یوں آپ نے تیرہویں صدی میں ستائیس سال، دو مہینے اور بیس دن پائے۔ جس میں آپ کے علوم و فنون، درس و تدریس، تالیف و تصنیف، افتاء اور وعظ و تقریر کا شہرہ ہندوستان سے عرب و عجم تک پہنچا اور چودہویں صدی میں چالیس سال، ایک مہینہ اور پچیس دن پائے۔ جس میں حمایتِ دین، نکایتِ مفسدین، احقاقِ حق و ازہاقِ باطل، اعانتِ سنت اور امانتِ بدعت کے فرائضِ منصبی کو کچھ ایسی خوبی اور کمال کے ساتھ آپ نے سر انجام دیا جو آپ کے جلیل القدر مجدد ہونے پر شاہد ہیں۔ اعلیٰ حضرت چودہویں صدی کے مجدد اور ہمارے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہیں۔
زیارت حرمین شریفین
1878ء میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں اپنے والدِ گرامی کے ہمراہ پہلی بار حجِ بیت اللہ کے لیے حاضر ہوئے۔ مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران مشہور شافعی عالم دین حضرت شیخ حسین بن صالح آپ سے بے حد متاثر ہوئے اور آپ کی بڑی تحسین و تکریم فرمائی، انہوں نے آپ کا یہ حیرت انگیز کارنامہ دیکھا کہ آپ نے صرف ایک دن میں ان کی کتاب الْجَوْهَرَةِ الْمُضِيَّةِ کی شرح نہایت فصیح و بلیغ عربی میں النَّيِّرَةِ الْوَضِيَّةِ فِي شَرْحِ الْجَوْهَرَةِ الْمُضِيَّةِ کے نام سے تصنیف فرمائی۔ اس کے بعد آپ نے اس کتاب میں کچھ تعلیقات اور حواشی کا اضافہ فرمایا اور اس کتاب کا تاریخی نام الطُّرَّةِ الرَّضِيَّةِ فِي النَّيِّرَةِ الْوَضِيَّةِ تجویز فرمایا۔
اسی طرح 1322ھ بمطابق 1905ء میں دوبارہ زیارتِ حرمین شریفین کے لیے گئے تو وہاں کے علمائے کبار کے لیے نوٹ (کرنسی) کے ایک مسئلے کا حل كِفْلِ الْفَقِيْهِ الْفَاهِمِ فِي أَحْكَامِ قِرْطَاسِ الدَّرَاهِمِ کے نام سے تحریر فرمایا۔ اس کے علاوہ ایک کتاب الدَّوْلَةِ الْمَكِّيَّةِ بھی تحریر فرمائی، جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علمِ غیب کے اثبات پر عالمانہ اور محققانہ بحث فرمائی اور قرآن و احادیث کی روشنی میں ثابت فرمایا۔
عالم بیداری میں زیارت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم
جب آپ دوسری بار حج کے لیے تشریف لے گئے تو زیارتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آرزو لیے روضۂ اطہر کے سامنے دیر تک صلوٰۃ و سلام پڑھتے رہے، مگر پہلی رات قسمت میں یہ سعادت نہ تھی۔ اس موقع پر وہ معروف نعت لکھی جس کے مطلع میں دامنِ رحمت سے وابستگی کی امید دکھائی ہے:
وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
تیرے دن اے بہار پھرتے ہیں
لیکن مقطع میں مذکورہ واقعہ کی کیفیت کے پیش نظر اپنی بے مائیگی کا نقشہ یوں کھینچا ہے:
کوئی کیوں پوچھے تیری بات رضا
تجھ سے شیدا ہزار پھرتے ہیں
اعلیٰ حضرت کے القاب
بعض دانشور اور اہل علم حکومت کی خوشنودی حاصل کر کے لقب و خطاب حاصل کرتے ہیں اور بعض حکومتی علمی، ادبی، اور سماجی ادارے ان کے کارناموں کی وجہ سے لقب و خطاب عطا کرتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کسی بھی طرح لقب و خطاب یا نام و نمود کی پرواہ نہیں کرتے، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو بے نام و نشان سمجھتے ہیں۔ انہیں مٹانے والے خود مٹ جاتے ہیں اور جن کے عشق میں یہ بے نام و نشان لوگ مٹ جاتے ہیں وہ انہیں ایسا چمکاتے ہیں اور ایسا نام و نشان عطا کرتے ہیں کہ ان کی چمک اور ان سے ضیاء حاصل کرنے والے ذرے بھی آفتاب و ماہتاب بن جاتے ہیں اور ان کے نام لیوا شہرت و ناموری کے بامِ رفعت پر کمندیں ڈالتے ہیں اور آسمانِ شہرت پر اپنی عظمت کا پھریرا لہراتے ہیں۔
ایسی ہی شخصیات میں ایک شخصیت اسلامی چودہویں صدی کے عظیم مجدد، بریلی کے فاضل امام احمد رضا نور اللہ مرقدہ کی بھی ہے۔ ان کی حیاتِ ظاہری میں عجم ہی نہیں بلکہ عرب کے مشاہیر نے ایک سے بڑھ کر ایک باوقار، پاکیزہ اور حسن القاب و آداب سے یاد کیا اور آج بھی نامرانِ زمانہ انہیں گراں قدر مطہر اور منور القاب سے یاد کرتے چلے جا رہے ہیں، حالانکہ انہوں نے خود کو سدا بے نام و نشان ہی سمجھا۔ لیکن یہ بھی یقین تھا کہ:
بے نشانوں کا نشان بنتا نہیں
مٹتے مٹتے نام ہو ہی جائے گا
یہ تو امام احمد رضا کا انکسار تھا ورنہ امام کا نام تو حق و باطل کے درمیان امتیاز پیدا کرنے والی کسوٹی ہے، اگر امام احمد رضا کا نام سن کر چہرے پر خوشی طاری ہو جائے تو سمجھ لیجیے غلامِ مصطفیٰ ہے اور اگر پیشانی پر کوئی شکن آ جائے تو جان جائیے کہ بد مذہب اور گستاخِ رسول ہے۔
جاری۔۔۔
