Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

شریعت اور معاشرے کی حقیقت

شریعت اور معاشرے کی حقیقت
عنوان: شریعت اور معاشرے کی حقیقت
تحریر: خوشبو فاطمہ قادریہ
پیش کش: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

اللہ ربّ العزت کا کروڑوں احسان و شکر ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔ ہمارا دین اسلام ہے، ہمارے رسول امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، ہماری کتاب قرآن مجید ہے اور ہمارا قانون شریعتِ مطہرہ ہے۔ مگر افسوس کہ ہم مسلمان تو کہلاتے ہیں لیکن وہ اسلامی عمل ہمارے اندر نظر نہیں آتا۔ اسلام نے ہمیں جو قانون عطا کیا، وہ عدل و انصاف کا بہترین نظام ہے۔ اس نے ہمیں جینے کا ڈھنگ، رشتوں کی پاسداری، والدین، بیوی، بچوں، اور بزرگوں کے حقوق و فرائض سکھائے، نیز عورت کو اپنی حدود اور حیاء کا طریقہ بتایا۔

معاشرتی انحطاط اور شریعت سے دوری

آج ہماری خواتین شریعت کی حدود توڑتی نظر آ رہی ہیں۔ پردہ، جو عورت کی حیاء اور اس کی عزت کا محافظ ہے، اسے پسماندگی سمجھا جانے لگا ہے۔ ہمارے تجارتی معاملات، شادی بیاہ اور میت کی رسومات میں شریعتِ مطہرہ کا تصور تک باقی نہیں رہا، اور پھر ہم شکوہ کرتے ہیں کہ گھروں میں لڑائی جھگڑے، کلیش اور بے برکتیاں کیوں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ شریعت سے دوری کا نتیجہ ہے۔

اصل غریبی: عمل کی کمی

ہمیں آقاِ دو جہاں ﷺ کا فرمان یاد رکھنا چاہیے کہ اصل غریب وہ ہے جو دینِ حق سے محروم رہ جائے۔ آج ہمارا معاشرہ بظاہر پڑھا لکھا تو ہے، مگر اس میں تربیتی ماحول مفقود ہے۔ مدرسے بھی ہیں، اساتذہ بھی اور طلباء بھی، لیکن عمل اور تقویٰ کی کمی ہے۔ اس کا بنیادی سبب علماء سے دوری، غیر قوموں کے طور طریقوں کو اپنانا، اور دنیاوی تعلیم کی آڑ میں غیر اسلامی معاشرت کو سینے سے لگانا ہے۔

حاصلِ کلام

اصل معاشرہ وہی ہے جو شریعتِ مطہرہ کا مکمل پابند ہو، جہاں ہر قول و فعل شریعت کے ترازو میں تولا جائے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ امتِ مسلمہ کا ٹوٹا ہوا اتحاد بحال ہو اور ہمارے گھروں سے بے برکتیاں ختم ہوں، تو ہمیں اپنے اعمال کو اسلامی سانچے میں ڈھالنا ہوگا۔ اللہ کریم ہمیں سنتوں اور شریعت سے بھرپور معاشرہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یارب العالمین!

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!