Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

کتابیں پڑھنا کافی نہیں خود کو پڑھنا بھی ضروری ہے

کتابیں پڑھنا کافی نہیں خود کو پڑھنا بھی ضروری ہے
عنوان: کتابیں پڑھنا کافی نہیں خود کو پڑھنا بھی ضروری ہے
تحریر: ام عروج فاطمہ بنت اکرام رضوی
پیش کش: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

”علم“ انسان کی پیشانی کا نور، دل کی بیداری کا سبب، فکر کی پاکیزگی کا ذریعہ اور کردار کی تعمیر کا سب سے بڑا وسیلہ ہے۔ مگر یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ ”علم“ صرف کتابوں کے اوراق پلٹنے، عبارتیں یاد کر لینے، حوالہ جات جمع کر لینے اور گفتگو میں علمی الفاظ سجا لینے کا نام نہیں۔ علم تو وہ حقیقت ہے جو انسان کے اندر اترے، دل کو بدل دے، نگاہ کو سنوار دے، زبان کو نرم کر دے، مزاج کو متواضع بنا دے اور کردار کو شریعت و سنت کے سانچے میں ڈھال دے。

کتابیں پڑھنا ضروری ہے، مگر کتاب کے ساتھ اپنے دل کو پڑھنا بھی ضروری ہے۔ عبارت پڑھنا کافی نہیں، اپنی حالت سمجھنا کمال ہے۔ دلائل یاد کر لینا کافی نہیں، دلائل کے تقاضے پر عمل کرنا ضروری ہے۔ دوسروں کو سمجھا دینا آسان ہے، اپنے نفس کو سمجھا لینا مشکل ہے۔ اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ طالب علم کا سفر کتاب سے شروع ہوتا ہے، مگر خود شناسی تک پہنچ کر مکمل ہوتا ہے۔

قرآن کریم نے اہل علم کی اصل پہچان ”علم“ کی کثرت نہیں، بلکہ خشیت الہی قرار دی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

إِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا إِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ غَفُوْرٌ

ترجمہ کنزالایمان: اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں بے شک اللہ عزت والا بخشنے والا۔ [فاطر: 28]

یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ ”علم“ کی اصل علامت بحث کا شور نہیں، دل کا خوف ہے؛ زبان کی تیزی نہیں، باطن کی نرمی ہے؛ معلومات کی کثرت نہیں، اللہ تعالیٰ کے حضور جھک جانے کا جذبہ ہے۔ اگر علم بڑھ رہا ہے مگر خشیت نہیں بڑھ رہی، کتابیں پڑھ رہے ہیں مگر عاجزی پیدا نہیں ہو رہی، دلائل یاد ہو رہے ہیں مگر دل نرم نہیں ہو رہا، تو سمجھ لینا چاہیے کہ کتابیں تو پڑھی جا رہی ہیں، مگر خود کو نہیں پڑھا جا رہا。

قرآن کریم نے نفس کی اصلاح کو کامیابی کا معیار قرار دیتے ہوئے فرمایا:

قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكّٰهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰهَا

ترجمہ کنزالایمان: بیشک مراد کو پہنچا جس نے اُسے ستھرا کیا۔ اور نامراد ہوا جس نے اسے معصیت میں چھپایا۔ [الشمس: 9، 10]

یہاں کامیابی کا معیار صرف علم حاصل کر لینا نہیں، بلکہ نفس کو پاک کرنا ہے۔ یعنی علم کا مقصد یہ نہیں کہ انسان دوسروں کے عیب گننے لگے، بلکہ یہ ہے کہ اپنے اندر کے عیب پہچانے۔ علم کا تقاضا یہ نہیں کہ انسان اپنی معلومات پر فخر کرے، بلکہ یہ ہے کہ اپنی کمزوریوں پر نظر رکھے اور اصلاح کی فکر کرے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو علم نافع کی دعا سکھائی:

اللهم إني أسألك علما نافعا

ترجمہ: اے اللہ! میں تجھ سے نفع دینے والے علم کا سوال کرتا ہوں۔ [سنن ابن ماجہ، حدیث: 925]

غور کیجیے! دعا صرف علم کی نہیں، علم نافع کی ہے۔ اس لیے کہ ہر معلومات نفع نہیں دیتی۔ کبھی علم زبان پر رہ جاتا ہے، کبھی حافظے میں محفوظ ہو جاتا ہے، کبھی مجلس میں نمائش بن جاتا ہے، مگر دل تک نہیں پہنچتا۔ نافع علم وہ ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرے، شریعت کا پابند بنائے، سنت کا عاشق بنائے، اخلاق کو سنوارے، نیت کو پاک کرے اور عمل کو روشن کرے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طریقہ بھی یہی تھا کہ وہ علم کو عمل سے جدا نہیں سمجھتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ صحابہ کرام قرآن کی آیات سیکھتے تو اس وقت تک آگے نہ بڑھتے جب تک ان کے علم اور عمل کو حاصل نہ کر لیتے۔ یہ صرف پڑھنے والے لوگ نہ تھے، یہ پڑھ کر بدلنے والے لوگ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی مجلسیں ”علم“ کی بھی تھیں، عمل کی بھی؛ ان کے سینے قرآن کے حافظ بھی تھے، اور ان کی زندگیاں قرآن کی عملی تفسیر بھی。

تابعین کا مزاج بھی یہی تھا۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ نفس کے محاسبہ پر بہت زور دیتے تھے۔ ان کی تعلیمات کا خلاصہ یہی ہے کہ مومن اپنے نفس کو بے لگام نہیں چھوڑتا، وہ اپنے عمل کو تولتا ہے، اپنی نیت کو پرکھتا ہے، اپنے باطن کی نگرانی کرتا ہے۔ یہی خود شناسی ہے، یہی اصلاح نفس ہے، یہی ”علم“ کا باطنی اثر ہے۔

اہل سنت کے اکابر علما نے بھی ہمیشہ علم کے ساتھ ادب، تقویٰ، اخلاص اور اصلاح نفس کو لازم قرار دیا۔ امام غزالی رحمہ اللہ نے ”علم“ کو دل کی اصلاح سے جدا نہیں کیا۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمہ اللہ نے علم دین کے ساتھ تعظیم، ادب، اتباع شریعت اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو لازم سمجھایا۔ ہمارے علما نے بار بار یہ بتایا کہ علم اگر ادب سے خالی ہو جائے تو روشنی نہیں رہتا، اور اگر عمل سے جدا ہو جائے تو برکت نہیں دیتا。

آج کے دور کا سب سے بڑا فتنہ یہ ہے کہ معلومات عام ہو گئی ہیں، مگر تربیت کم ہو گئی ہے۔ کتابیں موجود ہیں، مگر کتابیت نہیں؛ لیکچرز موجود ہیں، مگر اثر نہیں؛ حوالہ جات موجود ہیں، مگر اخلاص نہیں؛ گفتگو موجود ہے، مگر کردار کمزور ہے۔ انسان زیادہ جاننے لگا ہے، مگر کم بدلنے لگا ہے۔ دوسروں پر تبصرہ کرنا آسان ہو گیا ہے، مگر اپنے نفس کا محاسبہ مشکل ہو گیا ہے۔

ایک طالب علم اگر دس کتابیں پڑھ لے مگر اس کے لہجے میں سختی، دل میں تکبر، طبیعت میں خود پسندی، عمل میں سستی اور نیت میں کمزوری باقی رہے، تو اسے اپنے علم پر نہیں، اپنی حالت پر غور کرنا چاہیے۔ اسے اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے: میں نے کیا پڑھا؟ اس سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ میں نے کیا بدلا؟ کیا میرے علم نے مجھے باادب بنایا؟ کیا میری زبان نرم ہوئی؟ کیا میری نگاہ پاک ہوئی؟ کیا میرا دل عاجز ہوا؟ کیا میرا عمل شریعت کے قریب ہوا؟ کیا میری زندگی میں سنت کی خوشبو آئی؟

یاد رکھیے! کتابیں انسان کو راستہ دکھاتی ہیں، مگر خود شناسی انسان کو اس راستے پر چلنا سکھاتی ہے۔ ”علم“ منزل کا پتہ دیتا ہے، مگر محاسبہ نفس قدموں کو درست کرتا ہے۔ کتاب عقل کو روشن کرتی ہے، مگر اصلاح نفس دل کو زندہ کرتی ہے۔ اور جب عقل کی روشنی، دل کی زندگی، عمل کی پاکیزگی اور نیت کا اخلاص جمع ہو جائیں تو وہ علم، علم نافع بن جاتا ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ کتابیں پڑھنا ”علم“ کا آغاز ہے، مگر خود کو پڑھنا ”علم“ کی تکمیل ہے۔ جو شخص کتاب پڑھ کر بھی اپنے نفس کو نہ پہچانے، اپنے عیب نہ دیکھے، اپنی اصلاح نہ کرے، اس نے علم کے الفاظ تو پا لیے مگر ”علم“ کی روح سے محروم رہا۔ اور جو شخص ”علم“ کے آئینے میں اپنے دل کو دیکھے، اپنے کردار کو سنوارے، اپنی نیت کو پاک کرے اور اپنے رب کے حضور جھک جائے، وہی ”علم“ کے نور سے حصہ پاتا ہے۔

”علم“ کا غرور انسان کو مخلوق کے سامنے اونچا دکھاتا ہے، مگر ”علم“ کا نور انسان کو خالق کے سامنے جھکا دیتا ہے۔ حقیقی ”علم“ وہ ہے جو دل میں خشیت، زبان میں نرمی، کردار میں پاکیزگی، عمل میں اخلاص، فکر میں اعتدال، قلم میں اثر اور زندگی میں مقصد پیدا کرے۔ یہی قرآن کی دعوت ہے، یہی حدیث کا پیغام ہے، یہی صحابہ و تابعین کا طریقہ ہے، یہی اہل سنت کے علما کی تعلیم ہے، اور یہی آج کے طالب علم کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں علم نافع عطا فرمائے، ہمارے دلوں کو نور معرفت سے روشن فرمائے، ہمارے نفس کی اصلاح فرمائے، ہمارے ”علم“ کو عمل، عمل کو اخلاص، اخلاص کو قبولیت، زبان کو نرمی، قلم کو اثر اور کردار کو پاکیزگی عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!