Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

حج و زیارت، پاسپورٹ، ویزہ، لائسنس وغیرہ کے لئے فوٹو کھنچوانا جائز ہے کہ نہیں؟ ایک فتویٰ کا تعاقب! (قسط اول)

حج و زیارت، پاسپورٹ، ویزہ، لائسنس وغیرہ کے لئے فوٹو کھنچوانا جائز ہے کہ نہیں؟ ایک فتویٰ کا تعاقب! (قسط: اول)
عنوان: حج و زیارت، پاسپورٹ، ویزہ، لائسنس وغیرہ کے لئے فوٹو کھنچوانا جائز ہے کہ نہیں؟ ایک فتویٰ کا تعاقب! (قسط: اول)
تحریر: محمد اصحاب نبی بخش اشرفی
پیش کش: شاہین صبا نوری بنت محمد ظہیر رضوی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین مسئلہ مندرجہ ذیل میں کہ دینی یا دنیاوی ضرورت کے لئے تصویریں کھنچوانا، حج و زیارت کے لئے یا تبلیغی غیر ملکی سفر کے لئے یا پاسپورٹ میں، ویزے کے لئے، کسی کاروبار کی پرمٹ کے لئے، کسی لائسنس وغیرہ کے لئے فوٹو کی ضرورت پڑتی ہے۔ ایسے موقعوں میں تصویر نکلوانا صحیح ہے کہ نہیں؟ جبکہ اس کے بغیر کچھ کام نہیں ہوسکتا۔ یہ سب صورتیں الضرورات تبيح المحظورات میں داخل ہیں کہ نہیں؟ بینوا توجروا۔ والسلام

المستفتی: محمد اصحاب نبی بخش اشرفی
نائب صدر جمعیۃ فیض الاسلام، ڈین مارگ (ہالینڈ)

الجواب:
جاندار کی تصویر کشی کے تعلق سے مندرجہ ذیل اقوال سامنے آچکے ہیں۔

  1. جاندار کے چہرے والی تصویر چھوٹی ہو یا بڑی، عکسی ہو یا قلمی، آدھی ہو یا پوری، مجسمہ ہو یا غیر مجسمہ، قابلِ عبادت ہو (یعنی اس کو پوجا جانے کا امکان ہو) یا نا قابلِ عبادت، اس کو پوجا گیا ہو یا نہ پوجا گیا ہو، ہر حال میں اس کو بنانا یا بنوانا حرام و ناجائز ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کو امام احمد رضا علیہ الرحمۃ والرضوان نے اس باب میں اپنی بے نظیر تصنیف ”العطایا القدیر فی حکم التصاویر“ میں مبرہن و مدلل فرما دیا ہے۔ ایسا کہ کسی شک و ریب کی گنجائش نہیں رہ گئی ہے۔
  2. اگر کسی جاندار کی تصویر کے کسی ایسے عضو کو کاٹ دیا جائے یا مٹا دیا جائے جس عضو کے بغیر زندگی نا ممکن ہو تو باقی حصہ غیر جاندار اور جمادِ محض کے حکم میں ہے۔ اس کا بنانا اور رکھنا سب کچھ جائز ہے۔ یہ قول صاحبِ درمختار کا ہے، اس قول کی بنیاد پر جاندار کی اوپر والے آدھے دھڑ کی تصویر بھی جائز قرار پاتی ہے۔ امام احمد رضا علیہ الرحمۃ والرضوان نے درمختار کی اس تعمیم کو روایتہً اور درایتہً ہر طرح غیر صحیح ثابت فرما دیا ہے۔ آپ کے ارشاد کا خلاصہ یہ ہے کہ تصویر سے مقصود شناخت و معرفت ہے اور شناخت و معرفت کے لئے چہرے کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ چہرہ ہی زندگی کا احساس پیدا کرتا ہے۔ لہٰذا اگر دھڑ کے ساتھ چہرہ لگا ہوا ہے تو وہ جاندار ہی کے حکم میں ہے۔ لہٰذا اس کا بھی بنانا ناجائز و حرام ہی ہوگا۔ امام احمد رضا نے اپنے اس دعوٰی پر ایسے دلائل مہیا فرما دیے ہیں کہ ان میں گنجائشِ کلام نہیں اور ان کو دیکھنے والا ان کے حق و صحیح ہونے میں شک نہیں کر سکتا۔ جو تفصیل چاہتا ہو وہ امام موصوف علیہ الرحمۃ والرضوان کی تصنیف ”العطایا القدیر فی حکم التصاویر“ ملاحظہ کرے۔ چونکہ صاحبِ درمختار کا اپنے قول سے رجوع ثابت نہیں اس لئے میرے نزدیک بزرگوں کی بارگاہ میں سعادت مندی کا تقاضا یہ ہے کہ اس قول کو درست نہ سمجھنے اور اس پر عمل نہ کرنے کے باوجود اس پر طعن و تشنیع نہ کی جائے اور اس کے قائل کی تجہیل و تحمیق یا تفسیق و تضلیل نہ کی جائے۔
  3. پہلی صورت میں جس طرح کی تصویروں کی حرمت ظاہر کی گئی ہے، اگرچہ فرض ادا کرنے کے لئے پاسپورٹ وغیرہ میں لگائی جائیں جب بھی حرام ہیں۔ لہٰذا اگر پاسپورٹ پر تصویر لگائے بغیر فریضہٴ حج نہ ادا کیا جا سکے تو حج تو ترک کر دیا جائے گا مگر تصویر نہیں کھنچائی جائے گی۔ حج اگرچہ فرض ہے مگر ادائیگی کی راہ میں تصویر کشی خود ایک مانعِ شرعی ہے۔ جہاں تک مجھے علم ہے، شاہزادہٴ امام احمد رضا حضور مفتیِ اعظم ہند، حافظِ ملت حضرت مولانا عبد العزیز صاحب محدث مبارکپوری اور رئیس الاتقیاء حضرت مولانا افضل الدین حیدر صاحب (علیہم الرحمۃ والرضوان) اسی خیال پر تھے۔
  4. ویسے تو تصویر کشی کی حرمت کا وہی حال ہے جو پہلی صورت سے ظاہر ہے مگر فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے اگر تصویر کھینچانی ناگزیر ہو تو پھر وہ جائز ہے اور الضرورات تبيح المحظورات میں داخل ہے۔ اس لئے کہ حج کی فرضیت قطعی ہے اور تصویر کشی کی حرمت ظنی ہے۔ اور جب کبھی فرض قطعی کے مقابلے میں حرمت ظنی آئے تو فرض کو ترجیح دی جائے گی۔ اس خیال والے علماء کی قیادت افضل المحققین رئیس الفقہاء، حضرت مولانا شاہ محمد اجمل صاحب سنبھلی علیہ الرحمة والرضوان نے فرمائی اور حج فرض کی ادائیگی کی غرض سے عازمین حجاز کے لئے فوٹو کا جواز مبرہن و مدلل کر کے کتاب کی صورت میں پیش فرما دیا۔ اس وقت میرے علم میں ہند و پاک بلکہ عرب و عجم میں علماء کی اکثریت اس خیال کی تائید و توثیق کر رہی ہے۔
  5. شریعت کے حدود میں رہ کر معاشی و اقتصادی خوشگواری اور علمی و فنی برتری کے حصول کے لئے پرمٹ و لائسنس پر نیز حج و زیارت کے لئے خواہ حج نفلی ہی کیوں نہ ہو اور تبلیغی غیر ملکی سفر کے لئے پاسپورٹ اور ویزے کے لئے اگر تصویر نکالنا ناگزیر ہوں تو یہ بھی ”الضرورات تبيح المحظورات“ میں داخل ہیں بشرطیکہ فوٹو کھنچانے والا برضا و رغبت یہ کام نہ کرے بلکہ دل کی ناخوشگواری کے ساتھ مجبوری کے حالات کی بنا پر ایسا کرے اور وہ بھی اس حد تک نکلوائے جس حد تک ضرورت پوری ہو جاتی ہو۔ اس خیال کو صاف صریح لفظوں میں اپنی کتاب ”نوادر الحدیث“ میں پیش کرنے والے ہیں: حضرت استاذ العلماء، شیخ الحدیث علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی مدظلہ العالی اور اس عہد کے ہند و پاک بلکہ عرب و عجم کے وہ سارے مقتدر علمائے کرام و مشائخ عظام اس خیال کی عملاً تائید و توثیق فرماتے ہیں جو حج و زیارت اور مقامات مقدسہ کی حاضری بار بار کر رہے ہیں اور جو غیر ملک میں جا کر علم وفن کی ممتاز ڈگریاں لے کر واپس آئے ہیں نیز جو رشد و ہدایت اور تبلیغ وارشاد کے لئے غیر ملکی دورہ کرتے رہتے ہیں اور ظاہر ہے کہ بغیر پاسپورٹ اور پاسپورٹ پر بغیر تصویر کے اس زمانہ میں ملک کے باہر ہونا ناممکن ہے تو اگر ان کاموں کے لئے تصویر کھینچانا ان حضرات کے نزدیک ”الضرورات تبيح المحظورات“ میں داخل نہ ہوتا تو یہ لوگ ہرگز یہ انداز اختیار نہ فرماتے۔ ان علماء و مشائخ میں ایسی مقتدر ہستیاں بھی ہیں جنہیں بقیة السلف اور حجة الخلف کہنا بھی نامناسب نہیں۔ ایسوں کو بیک جنبشِ قلم فاسق و فاجر حرام کار و زبوں کردار قرار دینے کے لئے ہوش وحواس کی سلامتی کے ساتھ دل و دماغ کیسے راضی ہو سکتے ہیں؟ اس مقام پر یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ہر دور میں دوسری قوموں پر کسی قوم کی برتری اور اس کے عروج وارتقاء کے اسباب الگ الگ رہے ہیں۔ اس سائنٹفک دور اور ٹیکنیکل عہد میں اگر قوم مسلم دوسری قوموں پر غالب و سر بلند ہونا چاہتی ہے تو اسے معاشی و اقتصادی حالات کی خوشگواری اور ہر میدان میں علمی وفنی برتری حاصل کرنی ہوگی ورنہ وہ دنیا کی مغضوب و مقہور اور بیکس ومجبور قوم کی حیثیت سے جانی پہچانی جائے گی اور ان حالات میں اس کے کندھے اعلاء کلمۃ الحق کے بوجھ اٹھانے کے قابل نہ رہیں گے۔ اب اگر اعلاء کلمۃ الحق دین اسلام کے اہم ترین مقاصد سے ہے تو پھر اس کے لئے جس علمی و فنی، معاشی واقتصادی اور سیاسی و تہذیبی برتری کی ضرورت ہے، ان سب کو ضرورتِ شرعیہ کے دائرے سے نکال دینا یقیناً غیر معقول اور حالاتِ زمانہ سے بے جا چشم پوشی ہے۔ کسی زمانہ میں معاشی ضرورت قوتِ لایموت سے پوری سمجھ لی جاتی تھی مگر اس دور کے لئے اسے نسخۂ کیمیا نہیں قرار دیا جا سکتا۔ آج اگر ساری قومِ مسلم قوتِ لایموت پر قانع ہو کر رہ جائے اور آگے کے لئے جدوجہد نہ کرے تو زندہ رہتے ہوئے بھی مردہ نظر آئے جہاں تک سانس لینے کا تعلق ہے، قوتِ لایموت سے کام چل سکتا ہے مگر ایک قوم کی پُر وقار و باعزت زندگی کے لئے یہ کافی نہیں، وہ زندگی کس کام کی جو دوسری قوموں سے اپنی برتری نہ منوا سکے اور اپنے بازوؤں میں اعلیٰ پیمانے پر اعلاء کلمۃ الحق کا دم خم نہ رکھے۔ ویسے بھی قوتِ لایموت کا تعلق صرف معاشی ضرورت سے ہے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہر مکلف کے لئے بقائے زندگی کے لئے قوتِ لا یموت حاصل کرنے کی جدوجہد فرض ہے اور قوتِ لایموت کی موجودگی کی صورت میں اسے مضطر بن کے خانہ میں نہیں رکھا جا سکتا اور حالتِ اضطرار والوں کے لئے جو ایک شرعی رخصت ہے، اس سے وہ فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ لہٰذا قوتِ لایموت کی قید ان تمام ضروریات سے متعلق نہیں کی جا سکتی جن کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔ اس مقام پر قرونِ ثلاثہ کے فقر و فاقہ والے اربابِ عزیمت کی (جنہوں نے قیصر و کسریٰ جیسی جابر و قاہر حکومتوں کی شوکت و سطوت کو پامال کر کے اللہ کے کلمے کو بلند و بالا کر دیا) مثال نہیں دی جا سکتی اس لئے کہ عہدِ رسالت میں یا اس عہد کے قریب تر ہونے کے سبب رسالت کے انوار و برکات اور نبوت کے فیضان و عرفان سے انہیں جو حصہ ملا تھا اس نے ان کی روحانیت کو وہ مقام عطا فرما دیا تھا جس نے انہیں مادی بے سروسامانی کے باوجود عظمت و جلال کا کوہِ گراں بنا دیا تھا، اس لئے اس دور کے لوگوں پر آج کے دور کے لوگوں کو قیاس کرنا کسی حال میں درست نہیں۔

اس پانچویں قول کے مؤیدین کے نزدیک تصویر کشی گو حرام ہے مگر اس کی حرمت میں ایسی شدت و قوت نہیں ہے جو حرمتِ قطعی میں ہوتی ہے۔ لہٰذا سوال میں ذکر کردہ ضروریات کے لئے اس ممنوع و محظور کی اباحت میں کوئی شک نہیں۔ امام احمد رضا کے عہد میں چونکہ سوال میں ذکر کردہ امور کے لئے تصویر کشی لازم نہیں تھی اس لئے اس سلسلے میں آپ کا کوئی واضح ارشاد جو خاص کر کے اسی سے متعلق ہو، نہیں ملتا۔

هذا ما عندي والله تعالى أعلم وعلمه جل مجده أتم وأحكم فقط أنا الفقير إلى حضرت الرب الغني.

السید محمد مدنی الاشرفی الجیلانی
(خلف و جانشین مخدوم الملت حضور محدثِ اعظم ہند علیہ الرحمۃ والرضوان)

جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ [حوالہ:- فتاویٰ تاج الشریعہ، ج: 10، ص: 42 تا 46]

نوٹ : حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کا جواب الجواب قسط دوم میں آرہا ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!