| عنوان: | مجمع البحرین حضرت مفتی عبید الرحمن رشیدی مصباحی: چند یادیں اور باتیں (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | مبارک حسین مصباحی |
| پیش کش: | سائرہ الطاف کشمیر |
رمضان المبارک کا موسم بہاراں تھا، جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں تعطیل کلاں ہو چکی تھی، ہم اپنے وطن قصبہ شاہ آباد ضلع رام پور میں تھے، تراویح کے بعد اتفاقیہ ہم نے اپنا موبائل آن کیا تو فیس بک پر مجمع البحرین حضرت مفتی عبید الرحمن رشیدی کے وصال کی اندوہناک خبر سامنے آئی، اس حادثہ جاں گاہ کی خبر سے دل و دماغ کی حالت غیر ہونے لگی، کلمات استرجاع پڑھ کر کچھ تلاوت کی اور ان کی روح پر فتوح کو ایصال ثواب کیا۔ آپ کا وصال 11 رمضان المبارک 1445ھ / 22 مارچ 2024ء میں ہوا۔ سچائی یہ ہے کہ خادم مبارک حسین مصباحی عہد حاضر کی جن شخصیات سے متاثر ہے ان میں ایک اہم علمی اور روحانی شخصیت مجمع البحرین شیخ طریقت حضرت علامہ مفتی عبید الرحمن رشیدی مصباحی علیہ الرحمۃ والرضوان کی تھی، آپ کا خطاب ”مجمع البحرین“ تھا، یعنی آپ کی پروقار شخصیت شریعت و طریقت کا حقیقی سنگم تھی۔ آپ خاک ہند کی شہرہ آفاق اور بافیض درس گاہ جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے ذی استعداد فاضل جلیل تھے، تصوف و روحانیت کے پیکر، حدیث و تفسیر کے ماہر، فقہی بصیرتوں کے حامل اور حالاتِ زمانہ پر عقابی نگاہ رکھنے والے دانش ور تھے، کردار و اخلاق ابتدا ہی سے ہر دل عزیز بنائے ہوئے تھے، اساتذہ آپ کی علمی صلاحیتوں کا اعتراف فرماتے تھے، اس لیے طالب علمی کے دور میں آپ کو معین المدرسین کا منصب عطا کیا گیا۔ آپ نے فراغت کے برس 1967ء میں فتاوی رضویہ جلد چہارم کی اولین اشاعت میں تصحیح میں معاونت فرمائی۔ آپ خود ارشاد فرماتے ہیں:
”جامعہ اشرفیہ میں زمانہ طالب علمی کے اخیر سال 1967ء میں استاذ گرامی حضرت علامہ حافظ عبد الرؤف بلیاوی علیہ الرحمہ نے مجھ سے کہا: فتاوی رضویہ کی چوتھی جلد کی کتابت ہو کر آئی ہے، اس کو اصل سے ملانا ہے، میں اکیلے یہ کام نہیں کر سکتا، اگر تم کو موقع ہو تو اس کام میں میری مدد کرو، تم پڑھنا اور میں دیکھتا رہوں گا، اگر کہیں کچھ فرق ہوا تو میں اس کی تصحیح کر دوں گا۔ تو میں نے اپنی سعادت سمجھتے ہوئے حضرت کے اس فرمان کو قبول کیا اور کئی مہینوں تک حضرت کے ساتھ میں نے یہ کام کیا۔“
1964ء میں آپ جامعہ اشرفیہ مبارکپور میں داخل ہوئے، اس وقت جامعہ میں ایک سے ایک یکتائے روزگار شخصیات تھیں، خود حضور حافظ ملت مٹی کو سونا بنانے کا فن جانتے تھے۔ مخلص اساتذہ کی پر سوز تعلیم و تربیت نے آپ کو ہر دل عزیز ہیرا بنا دیا۔ 1967ء میں آپ نے فضیلت کی تکمیل فرمائی اور سند و دستار سے سرفراز کیے گئے۔
اب ہم ذیل میں اساتذہ کے اسمائے گرامی مدارس کی وضاحت کے ساتھ پیش کرتے ہیں:
- موضع بینی باڑی ضلع کٹیہار میں اپنے والد بزرگوار حضرت مولانا حکیم لطیف الرحمان رشیدی علیہ الرحمہ سے میزان و منشعب وغیرہ کتابیں پڑھیں۔
- دار العلوم مصطفائیہ چمنی بازار پورنیہ، بہار میں شرح جامی تک تعلیم حاصل کی، یہاں بطور خاص شارح بخاری حضرت مفتی محمد شریف الحق امجدی اور خواجۂ علم و فن حضرت علامہ خواجہ مظفر حسین رضوی وغیرہ اساتذہ تھے۔
- دار العلوم حنفیہ رضویہ بنارس، یہاں کے مشاہیر اساتذہ ہیں حضرت مولانا سید سلیمان اشرف بھاگلپوری اور شمس العلما حضرت علامہ شمس الدین جعفری جون پوری۔
- مدرسہ مظہر اسلام بریلی شریف میں حضرت علامہ صوفی مبین الدین محدث امروہوی، حضرت علامہ تحسین رضا خان بریلوی اور حضرت مفتی بلال احمد نوری۔
- جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں جلالۃ العلم حضور حافظ ملت علامہ شاہ عبدالعزیز محدث مراد آبادی، ماہر علوم و فنون حضرت علامہ حافظ عبد الرؤف بلیاوی اور شیخ طریقت حضرت مولانا سید شاہ حامد اشرف اشرفی جیلانی کچھوچھوی وغیرہ۔
جامعہ اشرفیہ مبارکپور میں ایک ممتاز مقام حاصل تھا۔ حضور حافظ ملت اور دیگر اہم اساتذہ کی نگاہوں کے مرکز تھے۔ قائد اہل سنت حضرت علامہ ارشد القادری بھی جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے معروف فاضل جلیل ہیں۔ آپ کو اپنے ادارے مدرسہ فیض العلوم جمشید پور کے لیے ایک باصلاحیت فاضل کی ضرورت تھی، آپ نے استاذ گرامی حضور حافظ ملت کی بارگاہ میں عریضہ پیش کیا، حضور حافظ ملت کی نگاہِ انتخاب آپ پر پڑی اور آپ کو مدرسہ فیض العلوم جمشید پور کے صدر المدرسین اور شیخ الحدیث کی حیثیت سے روانہ فرما دیا، آپ نے علامہ ارشد القادری کی رہنمائی میں اپنی منصبی ذمہ داریاں بحسن و خوبی شروع فرمادیں، علامہ ارشد القادری اپنی گوناگوں خوبیوں کے ساتھ ماہر جوہر شناس بھی تھے، آپ نے حضرت مفتی صاحب کے وجود ناز میں پنہاں کارِ افتا کی صلاحیتوں کو دیکھ لیا اور پھر دار الافتا کا قلم دان بھی آپ کے حوالے کر دیا۔ آپ نے اپنی دیگر مصروفیات کے ساتھ فتوی نویسی کی ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی انجام دینا شروع کر دیا، اب آپ فتوی نویسی میں بھی اس دور کے اکابر علما کے معتمد ہو گئے۔
علامہ ارشد القادری بلاشبہ کام کی مشین تھے، ملکی اور عالمی سطح پر مختلف نوعیتوں کے ادارے اور تحریکیں قائم کرنا اور حیرت انگیز طور پر بڑی بڑی کانفرنسیں منعقد کرنا، آپ کی امتیازی خوبیوں کا ایک حصہ رہا ہے۔ 10، 11، 12 مئی 1968ء میں سیوان بہار میں سہ روزہ سنی کانفرنس منعقد کی جس میں اہل سنت کے اکابر علما اور مشائخ جلوہ گر ہوئے۔ آپ نے اپنے مشائخ کے مشورے سے ایک تجویز پاس کرائی کہ ہم اہل سنت کا بھی ایک دار القضا ہونا چاہیے، اس منصوبے کی تحریری ذمہ داریاں مشائخ اور اکابر علما نے مجمع البحرین حضرت مفتی عبید الرحمن رشیدی کو سونپیں، یہ کار خیر آپ نے بحسن و خوبی پایہ تکمیل تک پہنچایا، 12 مئی 1968ء میں ادارہ شرعیہ پٹنہ بہار کی بنیاد ڈالی گئی اور اس کی توسیع و ترقی کے لیے سنی کانفرنس پٹنہ کا انعقاد ہوا۔ اب ”شہر خموشاں کے چراغ“ کے حوالے سے اس کا پس منظر ملاحظہ فرمائیے:
ہندستان میں کئی لاکھ مسلم خواتین ہیں جن کی ازدواجی زندگی آفات کے نشانے پر ہے جن کے شوہر نہ حق زوجیت ادا کرتے ہیں نہ نان نفقہ کی کفالت کرتے ہیں اور نہ ہی انہیں طلاق دے کر آزاد کر دیتے ہیں کہ وہ اپنی آسائش و عزت نفس کا کوئی راستہ اپنے طور پر نکال سکیں۔ اپنی گلو خلاصی کے لیے وہ غیر مسلم حکام کی طرف بھی رجوع نہیں کر سکتیں کہ اسلام اپنے مذہبی امور میں کسی غیر مسلم کو مداخلت کا حق نہیں دیتا۔ ایسی عورتوں کی قرار واقعی مشکلات کے حل کے لیے چند ماہ ہوئے ادارہ شرعیہ بہار نے اہل سنت کے مشاہیر علما سے ایک استفتا کیا تھا جس کا خلاصہ یہ ہے:
- آج کے حالات میں کیا از روئے شرع مسلمانوں کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنے معاشرتی اور ازدواجی معاملات کا فیصلہ کرنے کے لیے قاضی منتخب کریں؟
- کیا مسلمانوں کے منتخب کردہ قاضی کو شرعاً یہ حق حاصل ہے کہ وہ مظلوم عورتوں کے مقدمات کی سماعت کر کے اپنی صوابدید کے مطابق فسخ نکاح کا حکم لگا سکے؟
چنانچہ ضرورت و مصلحت کے تحت فقہی عبارتوں کی روشنی میں حضرت مولانا قاضی شمس الدین صاحب جون پوری، حضرت مولانا الحاج مفتی عبد الرشید خان صاحب شیخ الجامعہ ناگپور، نائب مفتی اعظم حضرت مولانا شریف الحق صاحب امجدی، حضرت مولانا مفتی بدر الدین صاحب براؤں شریف اور حضرت مولانا عبید الرحمن صاحب استاذ جامعہ فیض العلوم جمشید پور نے نہایت مدلل طور پر یہ فتوی صادر فرمایا کہ عام مسلمین کو قطعا یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ازدواجی معاملات کا فیصلہ کرانے کے لیے کسی صحیح العقیدہ سنی عالم دین کو اپنا قاضی منتخب کر لیں۔ حسب ضرورت و مصلحت اس قاضی کو شرعاً بشرط معہودہ فسخ نکاح کا اختیار حاصل ہو گا۔
پٹنہ کے اجتماع میں ان موصول شدہ فتوؤں پر غور و خوض کرنے کے لیے سیدی حضور مفتی اعظم ہند دامت برکاتہم کی سرپرستی میں اکابر علما کی ایک مجلس شوری منعقد ہوئی۔ کافی بحث و تمحیص کے بعد حضور مفتی اعظم ہند نے موصول شدہ فتوی کی توثیق فرمادی۔ اس کے بعد حضرت سید العلما مولانا سید شاہ آل مصطفی صاحب قبلہ برکاتی، حضرت استاذ العلما حافظ عبدالعزیز صاحب شیخ الحدیث اشرفیہ مبارک پور، سلطان المتکلمین حضرت مولانا رفاقت حسین صاحب مفتی اعظم کان پور، مجاہد ملت حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب قبلہ نے فتوؤں کی تائید میں اپنے اپنے دستخط ثبت فرما دیے۔ اور ادارہ شرعیہ بہار کے مرکزی دفتر میں باضابطہ دار القضاء کا قیام عمل میں آگیا۔ [شہر خموشاں کے چراغ، ص: 265، از: مبارک حسین مصباحی، ناشر المجمع المصباحی، مبارک پور]
پٹنہ کی سرزمین پر ادارہ شرعیہ کا قیام عمل میں آیا، اس کا ایک شعبہ دار القضاء تھا۔ ابتدائی طور پر یہ دار القضاء بہار، بنگال اور اڑیسہ کا مشترکہ دار القضاء تھا، علما اور مشائخ نے تین صوبوں پر مشتمل اس دار القضاء کا مفتی اور قاضی مجمع البحرین حضرت علامہ مفتی عبید الرحمن رشیدی کو منتخب کیا، اکابر اور مشائخ کی نگاہ میں آپ ابتدا ہی سے منتخب تھے۔
اب آپ چند لمحے ٹھہر کر غور کریں کہ 1967ء میں آپ کی دار العلوم اشرفیہ مبارک پور سے فراغت ہوئی اور 1968ء میں آپ اپنے اکابر اور مشائخ کے معتمد ہو گئے اور مشائخ نے آپ کو تین صوبوں کے مشترکہ دار القضا کا مفتی اور قاضی منتخب کر دیا، ذلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ
