| عنوان: | خلق (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | صدر الافاضل مفتی محمد نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ |
| پیش کش: | سائرہ الطاف کشمیر |
خدا وند عالم نے انسان کو پیدا کر کے خلعت اشرف المخلوقات عطا فرمایا اور اس کو دو حیاتین عطا فرمائیں ایک جسدی دوسری ابدی ، حیات جسدی کے بقا اور قیام اور انتظام درست رکھنے کے لئے اس کی مناسب حال ضرور تیں پیدا فرمائیں اور ان کو مناسب طور پر استعمال کرنے کا طریقہ الہام فرمایا ۔ کچھ لوگ انہیں میں سے ایسے پیدا کر دیے اور ان کو ایسی بصیرت عطا فرمائی جین سے وہ ہر چیز کا استعمال بطریق احسن معلوم کریں اور دوسروں کو بتلادیں ۔ اس طرح پر حیات جسدی کے ایک وقت تک بقا و قیام کا بندو بست کر دیا۔ اب اگر وہ تمام ایشیار جن کی اس حیات میں ضرورت ہوتی ہے۔ انسان شمار کرنا چا ہے تو محال ہے سیکڑوں ہزاروں قسم کی غذائیں لاکھوں قسم کے حیوانیات ، کروڑوں قسم کے نباتات جن میں کسی ایک جنس کا شمار آج تک نہیں ہو سکا۔ اسی حیات جدی کی ضروریات میں سے ہیں ۔
اس تقریر سے یہ نتیجہ نکلا کہ جب حیات جدی کے لئے جو صرف ایک خاص وقت تک کے لئے ہے ۔ اس رحمت والے نے اس قدر شامان مرحمت فرمایا ہے تو حیات ابدی جو حقیقت میں مقصود بالذات ہے کس قدر سامان عطا فرمایا ہوگا ۔ چنانچہ لاکھوں پیغمبروں کا مبعوث فرمانا۔ ہزاروں مصحف آسمانی کا نازل کرنا اسی حیات ابدی کے قیام و بقا کے لئے ہے۔ لیکن افسوس ہماری غفلت و نادانی پر کہ تمام عمری حیات جسدی کے انتظام میں مصر کر دی اور بھی ایک دن بھی حیات ابدی و سعادت سرمدی کا خیال نہ کیا اور اس عمر عزیز کے تمام ساعات میں کا حقیقت میں ایک ایک لمحہ سعادت بدی کا بڑا سرمایہ جمع کر سکتا تھا ضا ئع کر دیا۔ ان امراض کے علاج میں جین کا اثر صرف حیات خالی تک ہے ، ہم نے کوئی دقیقہ فروگنڈا نہیں کیا ۔ اطباء کی خوشامدیں کیں ، ڈاکٹروں کی فیسیں دیں ۔ دوا کی تلخی برداشت کی ہمہینوں اپنی فقداؤں سے پر مہینہ بھی کیا فرض کہ کوئی ممکن بات ہم نے چھوڑی نہیں لیکن ان امراض کی مطلق منکر نہیں کی جن سے حیات ابدی کا رشتہ ہمارے ہاتھ سے جاتا ہے اگر کبھی معمول سے کم بھوک معلوم ہوئی یا غذا کم کھائی گئ فورا حکیموں کے پاس دوڑے۔ بمقابلہ اس کے که امراض قلوب کی دوا کی طرف کبھی دھیان ہی نہیں کیا ۔
اب یہ بات کہ یہ کیسے معلوم ہو کہ تمہارا قلب بیمار ہے اور میتک ہماری نہ معلوم ہو سکے علاج نہیں کیا جاسکتا ہے جانا چاہے کہ ہمیشہ ہماری ملانا سے معلوم ہوا کرتی ہے جب بھوک کا نہ معلوم ہونا ملامت بیاری سمجھا جاتا ہے آپ سب ہماری کو سمجھ کر یہ کہ کی خدمت میں چورن کے نسخہ کے لئے جاتے ہیں تو کیا قلب کو بالکل بھوک نہ معلوم ہونا غذا سے بالکل نفرت ہونا سبب بیماری قلبت کا نہیں ہو سکتا اور یہ تو ظاہر ہے کہ متبنی اشیار خداوند عالم نے پیدا کی ہیں ان کی کوئی نہ کوئی خاص غذا بھی پیدا کی ہے۔ پھر آپ قلب کو کونسی غذا دیتے ہیں اور اس کے مشہتی نہ ہونے کا کیا علاج کرتے ہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ تر غذا نہ ملنے سے قلب کا معدہ نہایت ضعیف اور مضمحل ہو گیا ہے آپی سے اچھی غذا کی طرف بھی خواہشیں نہیں رہی۔ اگر کبھی اتفاق سے بل بھی گئی تو اچھی نہیں معلوم ہوتی لہذا نہایت ضروری ہے کہ اس کے علاج کی طرف توجہ کی جائے اور جس طرح اطبا ظاہری جسم کے علاج میں رہے پہلے معدہ کی اصلاح ضروری سمجھتے ہیں تاکہ اخلاط فاسدہ سے صاف ہو کر اچھی غذا کی طرف رغبت کرے اسی اصول سے بیماری قلب کا بھی علاج کرنا چاہئے یعنی عمدہ غذا یا دوا سے پہلے اس کو اخلاق رذیکہ سے پاک کرنا چاہیئے۔ جب یہ پاک ہو جائے گا خواہ مخواہ عمدہ غذا کی طرف رغبت پیدا ہوگی اور یہی ذریعہ حیات ابدی و سعادت سردی کے حاصل کرنے کا ہوگا ۔ چنانچہ ہم انشاء اللہ تعالی قلب کی بیماریاں مع علاج کے بیان کریں گے ۔ خدا مجھے کو اور سب مسلمانوں کو توفیق عطا فرمائے کہ حیات ابدی حاصل کرنے کی طرف متوجہ ہوں ۔
شریعت اسلامیہ کی حفاظت مسلمانوں کیلے سب سے اہم اور ضروری فرض ہے جس کے لئے وہ اپنی جان و مال اور ہر نعمت و دولت کو بیدریغ صرف کرتے رہے ہیں اور دم آخر تک صرف کرتے رہیں گے اور کبھی ملت طاہرہ میں تغیر آنے پر رانی نہ ہوں گے۔ کبھی طرح کسی کال میں گوارہ نہ کریں گے کہ دین اسلام میں کسی طرح کا فرق آئے یا اس کے من وجبال وخد و خال بلکہ کسی ادا میں نہیں کوئی تبدلی ہو۔ نہ مانہ موجودہ میں بلاد مشیر قیس پر یورپ کی تہذیب معاشرت حکمرانی کر رہی ہے اور سرعت و تیزی کے ساتھ یورپی خصائل وعادات ہمارے ہم دنوں کے دل و دماغ و اعضاء و جوارح پر اپنا قبضہ و تسلط کرتے چلے جاتے ہیں اور ہمارے ملک کے قدیم رسم در آج اور پرانا طریق زندگی نا مرغوب و غیر مانوس ہو رہا ہے اور وہ وقت قریب نظر آرہا ہے کہ ہندوستان کی نئی نسل بالکل یورپ شکل و صورت میں نظر آئیں اور یہاں کے باشندے کسی جبر سے بھی اپنے باپ دادا کے طریق زندگی اور وضع و انداز کو تھوڑی دیر کے لئے بھی گوارہ نہ کرسکیں۔ اسی کے ساتھ یورپ کی لامہ ہی بھی مشرق پر اپنا سکہ جہانے میں پوری طاقت صرف کر رہی ہے۔ اور یورپی طریق زندگی کے شیدائی مذہب کو ایک ناقابل برداشت بار کی طرح ناگوار سمجھتے رہے ہیں اور بارہا جنون اور دیوانگی کے توہین آمیز کلمات سے اس کی تو این تنقیص کرتے ہیں اور مذہبی قیود اور دین پابندیوں کو توڑ ڈالنے کے لئے نہایت بیقرار ہیں۔
