Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حیاتِ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ (قسط: دوم)

حیاتِ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ (قسط: دوم)
عنوان: حیاتِ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ (قسط: دوم)
تحریر: مفتی عبد المنان علیہ الرحمہ
پیش کش: محشر فاطمہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

صدر الشریعہ پر آپ کا خاص کرم

مگر آپ پر حضرت استاذ الاساتذہ کا یہ خاص کرم تھا کہ ابتدائی تعلیم بھی اپنے ذمہ رکھی یعنی شرح تہذیب سے ہی خود پڑھانا شروع کیا اور معقولات کی آخری کتابوں تک تعلیم دی۔ حضرت استاذ کی اس توجہ کے نتیجہ میں ظاہر ہے کہ مجھے مدرسہ حنفیہ کے جملہ طلبا میں ایک خصوصی امتیاز حاصل تھا۔

ذہنِ ثاقب اور قوتِ حافظہ:

حافظہ کی قوت اور ذہن کی سلامت روی اور شوق و محنت کی وجہ سے جملہ طلبہ اپنے سے بہتر سمجھتے تھے، اس زمانہ میں حافظہ اتنا قوی تھا کہ ایک مرتبہ کتاب میں مضمون دیکھنے یا استاد سے تقریر سننے کے بعد برسوں تک ایسا محفوظ رہتا تھا جیسے ابھی دیکھا یا سنا ہے۔ تین مرتبہ کسی عبارت کو پڑھ لیتے تو وہ یاد ہو جاتی۔

تمام کافیہ ایک دن میں حفظ:

چنانچہ ایک مرتبہ یہ خیال ہوا کہ کافیہ کی عبارت زبانی یاد کر لی جائے تو فائدہ مند ہوگا ایک ہی دن میں پوری کتاب یاد کر ڈالی۔ سبق میں اساتذہ کتاب سے زائد چیزیں از قبیلِ اعتراض و جواب یا تحقیقِ مضمون کتاب بیان کیا کرتے تھے وہ ایسا ذہن میں محفوظ رہتا کہ اگر چاہتے تو کتاب کی ایک بہترین شرح لکھ سکتے تھے۔

محدث سورتی کے حضور:

علومِ نقلیہ و عقلیہ سے فارغ ہونے کے بعد حسب الارشاد حضرت مولانا ہدایت اللہ خان صاحب علیہ الرحمہ پیلی بھیت حضرت مولانا وصی احمد صاحب محدث سورتی علیہ الرحمہ کی خدمت میں علمِ حدیث کو حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوا۔ حضرت مولانا نے محدث سورتی کی خدمت میں روانگی کے وقت یہ لکھ کر بھیجا تھا کہ میں اپنا ایک مخصوص و عزیز طالب علم آپ کے پاس بھیج رہا ہوں، اس کی تعلیم وغیرہ میں آپ پوری توجہ فرمائیں۔ جب پیلی بھیت پہنچا اور اسباق میں شریک ہوئے تو محدث سورتی میرے ذوق و شوق کو دیکھتے ہوئے زیادہ توجہ فرمائی۔

دو یا تین بجے یعنی وقتِ نماز ظہر پھر پریس کا کام انجام دیتا، ظہر کے بعد مدرسہ جاتا اور دو گھنٹے مکمل یعنی وقتِ عصر تک تعلیم دیتا۔ بعد نمازِ عصر اعلیٰ حضرت کی خدمت میں مغرب تک بیٹھتا۔ بعد مغرب عشا تک اور عشا کے بعد بارہ ایک بجے شب تک اعلیٰ حضرت کی خدمت میں فتویٰ وغیرہ جو کوئی کام ہوتا انجام دیتا۔ اس کے بعد مکان واپس آتا کھانا کھانے کے بعد کچھ ضروری کام تحریر کا کرنے کے بعد تقریباً دو بجے شب میں سوتا، اعلیٰ حضرت کے اخیر زمانہِ حیات تک تقریباً یہی روزمرہ کا معمول رہا۔

والد کا سانحہِ ارتحال:

بریلی کے ابتدائی قیام میں والد صاحب قبلہ کا سایہ سر پر تھا، ان کے وجود کی برکت سے آپ کو بہت کچھ اطمینان تھا۔ بریلی کے قیام کو ایک سال سے کچھ ہی زیادہ گزرا تھا یعنی صفر 1330ھ میں مکان سے تار آیا کہ والدِ ماجد کو طاعون ہو گیا ہے، حالت بہت نازک ہے فوراً آؤ۔ والدہ ماجدہ کا سایہ سر سے ابتدائے تعلیم ہی میں اٹھ چکا تھا۔ والد صاحب کے اس مہلک مرض میں گرفتار ہونے کے باعث بہت زیادہ اضطراب ہوا۔ پہلی ٹرین سے مکان پہنچا۔

یہ مرض والدِ ماجد کو اعظم گڑھ میں ہوا، وہاں سے پانی پر سوار ہو کر مکان تشریف لائے۔ جب میں گھر پہنچا تو والد کو نہایت شدید بخار، جیسا کہ طاعون میں عموماً ہوتا ہے اور ران میں بہت بڑی گلٹی موجود تھی۔ انہوں نے اپنا علاج خود ہی تجویز فرمایا کہ گلٹی چیری جاوے چوں کہ وہ بالکل خام تھی اور پکی گلٹی کا چیرنا دشوار کام تھا۔

والد کی قوتِ برداشت:

انہوں نے ایک جراح کو بلا کر اس کام پر آمادہ کیا اور کچھ قوی لوگوں کو منتخب کیا کہ آپریشن کے وقت اگر میرے ہاتھ پاؤں میں جنبش ہو تو وہ پکڑ لیں تا کہ آپریشن صحیح طور پر کیا جا سکے اور کچھ ایسی دوائیں بھی تیار رکھی تھیں کہ آپریشن سے اگر مجھے غشی طاری ہو جائے تو یہ دوائیں مجھے استعمال کرائی جائیں۔ آپریشن ہوا اور ان کی ہمت و جرات کا کیا کہنا کہ جراح کے سامنے انہوں نے اپنا پاؤں

تنخواہ بھی پریس پر صرف کر دی:

بہت زمانہ سے مطبع کی آمدنی بہت قلیل تھی اور اخراجات آمدنی کے لحاظ سے بہت زائد، چوں کہ میں اس کام کو اپنے ذمہ لے چکا تھا کہ جس طرح سے ہو سکے گا کام جاری رکھوں گا۔ لہٰذا اپنی تنخواہ کا ایک جز اس پریس کو ہمیشہ ہی نذر کرنا پڑا۔ ہوتے ہوتے پریس کی حالت بہت سنبھل گئی اور اس کے پاس کتابوں کا بہت کافی ذخیرہ فراہم ہو گیا۔ فروختِ کتب ہر ماہ میں اتنی ہو جاتی تھی کہ پریس کے جملہ مصارف میں کچھ ہی کمی پڑتی اور کتابوں کا سرمایہ اتنا کافی ہو چکا تھا کہ اجمیر شریف جاتے وقت دس ہزار سے کم تعداد نہ تھی۔ مگر اجمیر جانے کے بعد رفتہ رفتہ یہ سارا ذخیرہ اور سامان بھی برباد ہو گیا اور کچھ لوگوں نے خرد برد کر ڈالا۔ جس کوشش و جانفشانی اور اپنی گاڑھی کمائی کا پیسہ لگا کر یہ دینی کام اس انداز پر میں نے پہنچایا تھا کہ تھوڑی کوشش کے بعد اس سے بہت کچھ دینی خدمات انجام دی جا سکتی تھیں، اس کا برباد ہونا جتنا میرے لیے باعثِ قلق ہوا، دوسروں کے لیے کاش اس کا بیسواں حصہ بھی ہوتا تو اس کی نوبت نہ آتی۔

قیامِ بریلی کی ذمہ داریاں:

پریس کا انتظام اور مدرسہ کی تعلیم، بریلی میں یہ دو مستقل کام مجھ سے متعلق تھے مدرسہ کی تعلیم یہ خود ایک پورا کام ہے۔ پریس کی جملہ کاپیوں اور پروفوں کی تصحیح، کتابوں کی روانگی، خطوط کے جواب، آمد و خرچ کا حساب یہ سارے کام تنہا انجام دیا کرتا۔ ان کاموں کے علاوہ کبھی کبھی شہر و بیرونِ شہر میں تقریریں کرنا بھی پڑتا تھا۔ اعلیٰ حضرت قبلہ کے بعض مسودات کا مبیضہ کرنا، ہفتوں کو نقل کرنا، ان کی خدمت میں فتووں کا لکھنا یہ کام مستقل طور پر انجام دیتا۔

تقسیمِ کار یا کام کی مشین:

کاموں کی تقسیم اوقات پر تھی۔ بعد نمازِ فجر ضروری وظائف و تلاوتِ قرآنِ پاک کے بعد گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ یا کچھ کم و بیش پریس کا کام انجام دیتا، پھر فوراً مدرسہ جا کر اخیر وقتِ مدرسہ تک تعلیم دیتا، وہاں سے واپس ہو کر کھانا کھاتا۔

[یہاں اصل عبارت میں ایک طویل پیراگراف (جس کا آغاز ”کھانے کے بعد مستقلادویا تین بجے یعنی وقت نماز ظہر...“ سے ہوتا ہے) غلطی سے دو بار ریپیٹ ہوا تھا، تدوین کے دوران اسے درست کر کے ایک ہی بار اوپر مناسب جگہ پر رکھ دیا گیا ہے تا کہ تسلسل برقرار رہے۔]

سے سلسلہ عالیہ قادریہ میں ان کے حلقہ بگوشوں میں داخل ہوا:

پٹنہ سے علیحدگی:

قاضی صاحب مرحوم کے انتقال کے بعد مدرسہ ایسے ہاتھوں میں پہنچا جن کو علم اور اہلِ علم سے بالکل تعلق نہ تھا اور قرینہ سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ مدرسہ اب چل نہ سکے گا بمشکل تمام تعطیل کلاں تک کا وقت گزارا۔ اس کے بعد مکان پر واپس آ کر استعفا بھیج دیا۔

والد کا ارشاد:

سوچنے اور غور کرنے کے بعد دل میں خیال پیدا ہوا کہ نوکری بڑے احتیاج کی چیز ہے، اگر چھوٹ گئی تو کس سے کہتے پھریں گے؟ کوئی ایسی چیز حاصل کر لینی چاہیے کہ دوسروں کی احتیاج باقی نہ رہے۔ یہ خیال کر کے والد صاحب کی نصیحت یاد آئی اور طب پڑھنے کی طرف طبیعت کا میلان دیکھا۔

پیشہ آبائی:

رمضان کے بعد لکھنؤ پہنچے وہاں دو برس سے زیادہ تک طب پڑھنے اور مطب کرنے میں مشغول رہے۔ اس سے فراغت کرنے کے بعد مکان واپس آئے اور مستقل طور پر مطب کرنا شروع کیا، چوں کہ معالجہ خاندانی پیشہ تھا، مریض بکثرت آنے لگے اور اللہ کے فضل و کرم سے شفا پانے لگے۔ پانچ چھ مہینہ مطب کرنے کے بعد کافی شہرت ہو گئی مگر بچپن سے شہروں میں رہنے کی عادت، اہلِ علم اور اچھے لوگوں کی صحبت رہی تھی مکان پر دل نہ لگا۔

منزل نے پھر آواز دی:

بغرضِ سیر و تفریح لکھنؤ گئے، وہاں سے پیلی بھیت پھر بریلی گئے، پیلی بھیت سے بریلی جاتے وقت حضرت محدث صاحب نے ایک خط اعلیٰ حضرت کی خدمت میں تحریر فرما کر دے دیا تھا۔ اس میں محدث صاحب نے کچھ ایسی باتیں لکھی تھیں جن کا مقصد یہ تھا کہ مجھے خدمتِ علمِ دین کی طرف متوجہ کیا جائے۔ جب آستانہِ اعلیٰ حضرت پر پہنچے اور اپنے آنے کی اطلاع بھیجی اعلیٰ حضرت فوراً باہر تشریف لائے، دریافت کیا کہ کہاں تعلیم حاصل کی اور کیا کیا پڑھا ہے؟ مختصر لفظوں میں آپ نے اپنا علمی معیار پیش کر دیا۔ ارشاد فرمایا کہ یہاں قیام کیجیے اور جب تک میں نہ کہوں واپس نہ جایئے۔ اور دل بستگی کے لیے کچھ معمولی سا کام ترجمے وغیرہ کا سپرد کر دیا۔ تقریباً دو ماہ قیام رہا اور اعلیٰ حضرت سے مستفیض ہوتا رہا علمی و دینی تذکرے و مذاکرے ہوتے رہے یہاں تک کہ رمضان قریب آ گیا تو اپنے وطن آنے کی اجازت مانگی، فرمایا جایئے مگر جب میں بلاؤں تو فوراً چلے آیئے گا۔ مکان آنے کے بعد پھر وہی مطب اور معالجہ کا سلسلہ جاری رہا۔ مطب میں اگرچہ مریضوں کی کثرت ہوتی اور لوگوں کو فائدہ بھی ہوتا تھا مگر اس میں جی نہ لگا۔

تبدیلِ آب و ہوا تبدیلِ مشغلہ:

پانچ چھ مہینے کے بعد پھر بغرضِ تفریح لکھنؤ گیا اور وہاں سے بریلی وغیرہ بھی خطوط بھیج دیے بریلی سے یہ خط آیا کہ فوراً یہاں آ جایئے۔ اس مرتبہ مدرسہ کا کچھ تعلیمی کام سپرد کیا گیا، گویا آپ کو وہاں رہنے کی پابندی ہو گئی۔ کچھ ایسے حالات پیدا ہوئے کہ وہاں ایک انجمن کی بنیاد ڈالی گئی جس کا نام ”انجمن اہلِ سنت“ رکھا اور اس کے جملہ امور میرے سپرد کیے گئے۔

اہتمامِ انجمن اہلِ سنت و انتظام مطبع:

پھر اسی انجمن کے ماتحت ایک پریس کا اجرا کیا گیا۔ پریس کی مشین اور ضروری سامان وہاں موجود تھا۔ ندوہ کی تحریک کے خلاف کتابیں چھاپنے کے لیے پہلے سے مطبع اہلِ سنت قائم تھا مگر وہ بند ہو چکا تھا۔ کل ضروری سامان باقی رہ گئے انہیں سے کام کرنا شروع کیا گیا۔ انجمن تو مسلمانوں کی بے توجہی سے تھوڑے دنوں کے بعد ختم ہو گئی، نہ اس میں کوئی چندہ دینے والا رہا اور نہ کام کرنے والا مگر پریس جو انجمن کی ماتحتی میں قائم کیا گیا تھا وہ قائم رہا اور اس میں طباعت کا سلسلہ جب تک بریلی میں قیام تھا جاری رہا۔ اعلیٰ حضرت کی تصانیف، وقتی اشتہارات وغیرہ اس پریس سے برابر شائع ہوتے رہے۔

[یہاں اصل عبارت میں ایک طویل پیراگراف (جس کا آغاز ”بتا سکتا ہوں۔ میں نے سمجھ لیا کہ...“ سے ہوتا ہے) غلطی سے دو بار ریپیٹ ہوا تھا، تدوین کے دوران اسے درست کر کے ایک ہی بار نیچے مناسب جگہ پر رکھ دیا گیا ہے تا کہ تسلسل برقرار رہے۔]

فرما ہوا کرتے تھے۔ اس کے قریب حسبِ دستور کرسیاں پڑی ہوئی تھیں ایک کرسی پر میں بھی بیٹھا ہوا تھا۔ اپنے پلنگ کے پاس تشریف لا کر وہ تمام کاغذات میرے حوالے کیے۔ اس وقت میری زبان سے نکلا کہ آپ کا تو انتقال ہو چکا ہے، آپ کیسے تشریف لائے؟ فرمایا ہم اس طرح آیا کریں گے۔ خواب سے بیدار ہونے کے بعد میں نے یہ تصور کیا کہ اعلیٰ حضرت قبلہ کا مقصد یہ ہے جس طرح میرے زمانہِ حیات میں تم یہ سب کام انجام دیا کرتے تھے اب بھی یہ چیزیں تمہارے سپرد کی جاتی ہیں، لوگوں کی تحریروں کا جواب دینا تمہارے ہی متعلق کیا جاتا ہے۔ چنانچہ اس کے بعد بلا تکلف اس خدمتِ افتا وغیرہ کو انجام دیتا رہا اور سمجھ لیا کہ جس طرح اعلیٰ حضرت نے اپنی حیات میں اس کام کو تفویض فرمایا تھا اب بھی اس کام کو مجھ سے لینا چاہتے ہیں اور جو کچھ دشواریاں ہوں گی اس میں وہ خود مددگار ہوں گے چنانچہ کبھی باوجود اپنی کم بضاعتی کے اس معاملہ میں دشواری پیش نہیں آئی فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ۔

وصال سے ایک روز قبل استفتا کی مثال:

اعلیٰ حضرت کے وصال سے ایک روز قبل میرے پاس ایک استفتا آیا جس میں مجھے کچھ دشواری پیش آئی اور صحیح بات کی طرف ذہن منتقل نہ ہوتا اور جو بات ذہن میں آتی مخدوش نظر آتی۔ میں حاضرِ آستانہ ہوا پردہ کرا کر حضور کی خدمت میں پہنچا۔ مزاج پرسی وغیرہ کے بعد استفتا کا مضمون عرض کیا اور یہ بھی کہ اس کا جواب کیا ہونا چاہیے؟ اس کا جواب ارشاد فرمایا پھر میں نے عرض کیا یہ حکم کسی کتاب میں اور کس مقام پر ہے؟ فرمایا بحر الرائق میں فلاں مقام پر۔ اس کے بعد فرمایا آج میری ایک لڑکی میرے سامنے آئی بہت دیر تک میں سوچتا رہا اور اس کا نام مجھ کو یاد نہیں آتا تھا۔ اب میرے دماغ کی یہ حالت ہے مگر الحمد للہ کہ دینی مسائل و عقائد اور بدمذہبوں کے جملہ مضامین میرے پیشِ نظر ہیں، ان باتوں کے لیے مجھے غور و خوض کی حاجت نہیں۔ کسی بد مذہب کو کس بارے میں عاجز کیا جا سکتا ہے؟ اس کی دکھتی رگ کون سی ہے اب بھی بلا تأمل بتا سکتا ہوں۔ میں نے سمجھ لیا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جو خدمت آپ کو سپرد فرمائی ہے وہ آپ اخیر وقت تک برابر انجام دیتے رہیں گے۔

اعلیٰ حضرت کی مسجد میں نماز کی امامت:

چنانچہ ایسا ہی ہوا اعلیٰ حضرت نے امامت کی خدمت بھی سپرد فرمائی تھی۔ فجر، ظہر، عصر تین نمازیں خود اعلیٰ حضرت پڑھایا کرتے تھے اور مغرب و عشا یہ دونوں وقت عموماً دوسرے سے پڑھواتے تھے۔ اعلیٰ حضرت کی مسجد میں ان کے حکم سے ان کی موجودگی میں صرف چار شخص نماز پڑھایا کرتے تھے۔ مولانا حامد رضا خان صاحب خلفِ اکبر، مولوی محمد رضا خان صاحب برادرِ خورد، حافظ یقین الدین صاحب یہ اعلیٰ حضرت کے خلیفہ بھی تھے اور قرآنِ پاک رمضان میں بھی سنایا کرتے تھے اور مولانا امجد علی اعظمی، نمازوں کی ادائیگی میں اتنی احتیاطیں کی جاتیں جن کو کہیں نہیں دیکھا۔

وصال کے وقت سے کئی سال پیشتر سے جمعہ کی امامت بھی اعلیٰ حضرت نے میرے ذمہ سپرد فرما دی تھی۔ خصوصاً مقدمہ بدایوں کے زمانہ میں کہ اسی دوران میں ایک سال سے زیادہ تک صرف میں ہی نماز پڑھایا کرتا تھا۔

وضو اور نماز کا امتحان:

ایک مرتبہ اعلیٰ حضرت نے منظرِ اسلام کے جملہ مدرسین و طلبا کے متعلق حکم صادر فرمایا کہ سب لوگ وضو مولانا امجد علی صاحب کے سامنے کریں اور پھر ان کی نگرانی میں دو رکعت نماز بالجہر ادا کریں اور یہ حکم دیا تھا کہ ان کے وضو اور نماز اچھی طرح دیکھی جائیں۔ ان کو موقع دیا جائے کہ کچھ دنوں مشق کرنے کے بعد پھر اپنے وضو اور نمازوں کا امتحان دیں۔ جس کے متعلق کہہ دیں کہ اس کا وضو اور نماز صحیح ہے وہی شخص شہر کی کسی مسجد کی امامت کر سکتا ہے ورنہ نہیں۔ مدرسین و طلبا نے اس حکم کی پابندی کی اور بفضلہِ تعالیٰ اپنا وضو اور نمازیں لوگوں نے درست کیں۔ ایک مدرس صاحب کو یہ چیز ناپسند آئی اور انہوں نے کسی کے سامنے وضو اور نماز کا امتحان

کم و بیش ہونے پاتا تھا۔ جو کچھ ترجمہ جس روز تحریر کیا جاتا تھا اس کی مقدار مع تاریخ نوٹ کر دی جاتی، میرے ہاتھ کا لکھا ہوا ترجمہ اب تک مولانا نعیم الدین صاحب کے پاس محفوظ ہے، کہ وہ مولانا مصطفیٰ رضا خاں صاحب سے اعلیٰ حضرت کے کتب خانہ سے نکلوا کر بغرضِ طباعت لے گئے، اگرچہ وہ کتاب میرے ہاتھ کی لکھی ہوئی تھی مگر اس کے لکھنے سے میرا مقصد یہ نہ تھا کہ اس پر مالکانہ قبضہ کروں اس لیے میں نے کبھی اس کے لیے تقاضہ نہ کیا، اس ترجمہ کے دیکھنے سے یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ ایک روز میں کتنا ترجمہ ہوا؟ اور جن الجھنوں میں لکھا گیا ہے اس کے باوجود کتابت اغلاط سے کس درجہ پاک ہے؟ اس ترجمہ کے لکھنے اور لکھوانے کی جو خدمت میں نے انجام دی ہے وہ میری نجاتِ اخروی کا بہت بڑا ذخیرہ ہے۔ جن مشکلات کا اس میں مقابلہ کیا غالباً دوسرا شخص یہ نہ کرتا اور یہ کام صرف تخیل اور وہم ہی میں رہتا خارج میں اس کا ظہور نہ ہوتا۔

ترجمہ کے بعد تفسیر:

ترجمہ کے بعد میں نے چاہا تھا کہ اعلیٰ حضرت قبلہ اس پر نظرِ ثانی فرما لیں اور جابجا فوائد تحریر کریں۔ چنانچہ بہت اصرار کے بعد یہ کام شروع کیا گیا، دو تین روز تک کچھ لکھا گیا مگر جس انداز سے لکھوانا شروع کیا اس سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ یہ قرآن پاک کی بہت بڑی تفسیر ہوگی، کم از کم دس بارہ جلدوں میں پوری ہوگی۔ اس وقت خیال پیدا ہوا کہ اتنی مبسوط تحریر کی کیا حاجت! ہر صفحہ میں کچھ تھوڑی تھوڑی باتیں ہونی چاہئیں جو حاشیہ پر درج کر دی جائیں لہٰذا یہ تحریر جو ہو رہی تھی بند کر دی گئی اور دوسری کی نوبت نہ آئی۔ کاش وہ مبسوط تحریر جو اعلیٰ حضرت لکھوا رہے تھے اگر پوری نہیں تو دو ایک پارے تک ہی ہوتی جب بھی شائقینِ علم کے لیے وہ جواہر پارے بہت مفید اور کارآمد ہوتے مگر افسوس کہ ہم خود بھی محروم رہے اور دوسرے لوگ بھی اس سے متمتع نہ ہو سکے۔
جاری۔۔۔۔۔۔۔

[ماہنامہ پیغامِ شریعت دہلی اگست 2016ء ص: 40]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!