قاضی القضاہ کا انتخاب لائق صدر افتخار عمل(قسط: دوم)

قاضی القضاۃ کا انتخاب لائق صد افتخار عمل (قسط: دوم)
عنوان: قاضی القضاۃ کا انتخاب لائق صد افتخار عمل (قسط: دوم)
تحریر: مولانا ابو یوسف قادری امجدی جامعہ امجدیہ گھوسی
پیش کش: ثمن فردوس امجدی

کسی تامل اور پس و پیش کیے بغیر کہوں گا کہ ہر سنی کے دھڑکتے دل کی یہ آواز ہے کہ اے بریلی! یقیناً تو ہی میرا بابِ جنت تھا، ہے اور رہے گا، ربِ قدیر ہمارے اس مرکزِ تحفظِ عشق و ایمان اور عقیدہ و عقیدت کے فلک نما مضبوط و مستحکم شیش محل کو صبحِ قیامت تک سلامت رکھے اور چشمِ بد سے حفاظت فرمائے۔ آمین۔

قاضی القضاۃ کے انتخاب و تاج پوشی کے بعد تہنیت و مبارک بادیوں کے سوغات نچھاور کرنے کا دور شروع ہو گیا، فقہی سیمینار کے شرکاء میں سے ہر ایک فرد بڑی وارفتگی و والہانہ انداز میں اپنے قاضی القضاۃ کو مبارکبادیاں پیش کرنے لگا اور مصافحہ و معانقہ کی برکات کا حصول ہونے لگا، تقریباً ہندوستان کے ہر گوشے سے تشریف لائے ہوئے مفتیانِ کرام اور علمائے عظام اور مندوبین و دانشوران نے اپنی اپنی ریاست کی ترجمانی کرتے ہوئے قاضی القضاۃ کو ارمغانِ خلوص پیش کیا۔ جن میں سے چند کے اسمائے گرامی مندرجہ ذیل ہیں:

حضور محدثِ کبیر مدظلہ العالی، مفتی بہاء المصطفیٰ قادری جامعۃ الرضا، مفتی صالح صاحب قبلہ جامعۃ الرضا، مفتی ولی محمد صاحب قبلہ باسنی ناگور، مفتی شفیق احمد شریفی صاحب قبلہ غریب نواز آباد، مفتی محمد اختر صاحب قبلہ ممبئی، مفتی اختر حسین قادری علیمیہ حمد شاہی، مفتی شمشاد احمد امجدیہ گھوسی، مفتی ابوالحسن امجدیہ گھوسی، مفتی خورشید عالم امجدیہ گھوسی، مفتی حبیب اللہ فضل رحمانیہ چھپڑوا، مفتی شمشاد حسین بدایونی، مفتی عزیر عالم بسڈیلہ، مفتی رفیق عالم بریلی شریف، قاضی شہید عالم بریلی شریف، قاضی فضل احمد بنارس، مفتی عالمگیر اسحاقیہ جودھپور، مفتی یونس رضا اویسی کانپور، مفتی مقصود عالم فرحت ضیائی ہاسپیٹ کرناٹک، مفتی شہاب الدین فیض الرسول براؤں شریف، مفتی عبد الرحمن بہرائچ شریف، مفتی عابد حسین جمشید پور، مفتی انوار احمد امجدی اوجھا گنج، مفتی ابوطالب سلطانپور، مفتی انیس عالم سیوانی لکھنؤ، مفتی مطیع الرحمن بنارس، مفتی عاشق حسین کشمیری، مفتی محمد شکیل احمد جامعۃ الرضا، مفتی شہزاد، مفتی گلزار جامعۃ الرضا، مفتی بلال انور جامعۃ الرضا، مفتی شیر محمد وارثیہ لکھنؤ، مفتی کوثر مرکزی دار الافتاء بریلی شریف، مفتی محمد ارشاد ساحل سہسرامی ممبئی، مفتی قمر عالم فیض آباد، مفتی نعیم الدین خلیل آباد، سید ہاشمی صاحب ممبئی، مفتی عبد القادر باسنی، مولانا محمد حنیف باسنی، راقم الحروف ابو یوسف محمد قادری، ان کے علاوہ کثیر تعداد میں مقامی و بیرونی مفتیانِ کرام و علمائے عظام شریکِ سیمینار تھے اور اس وقت وہاں موجود تھے، جملہ حضرات کی متفقہ رائے سے مخدومنا المکرم عالی مرتبت گرامی وقار قائدِ ملت حضرت علامہ مولانا مفتی الشاہ محمد عسجد رضا خان قادری مدظلہ العالی جانشینِ حضور تاج الشریعہ اہلِ سنت و جماعت کے قاضی القضاۃ منتخب ہوئے، آج سے ان کا فیصلہ ہمارے لیے حرفِ آخر کی حیثیت رکھے گا اور ان کی اطاعت ہم پر لازم و واجب ہو گی۔

ان تمام کارروائیوں کے وقت راقم الحروف حاضر رہا اور بارانِ رحمت کے رم جھم فواروں سے خوب خوب سیرابی حاصل کی، ان امور کی انجام دہی کے وقت کشف الغمہ سراج الامہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی یاد تازہ ہو گئی، امامِ اعظم کو جب سلطانِ وقت نے عہدۂ قضا کی پیش کش کی تو آپ نے قبول کرنے سے انکار کر دیا جس کی پاداش میں قید و بند کی صعوبتوں سے دوچار ہونا پڑا، لیکن اپنے شاگردِ رشید امام ابو یوسف کو منصبِ قضا قبول کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ محقق علی الاطلاق امامِ اہلِ سنت مجددِ دین و ملت امام احمد رضا فاضلِ بریلوی رضی اللہ عنہ نے اس ادائے دلنواز کو اپنے زمانہ میں اپنایا اور اپنے خلیفۂ اجل سرکار صدر الشریعہ مفتی امجد علی مصنفِ بہارِ شریعت رضی اللہ عنہ اور اپنے لختِ جگر شہزادۂ اصغر مفتیِ اعظمِ عالم محمد مصطفیٰ رضا رضی اللہ عنہ کو قاضیِ اسلام مقرر فرمایا، وہی جلوہ یہاں نظر آیا کہ والدِ بزرگوار محدثِ کبیر مدظلہ النورانی نے منصبِ قاضی القضاۃ کو ہزارہا حکمتوں کے پیشِ نظر قبول نہ فرما کر امامِ اعظم و امامِ اہلِ سنت کی سنت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے قاضی القضاۃ کا عہدہ قائدِ ملت جانشینِ سرکار تاج الشریعہ مدظلہ العالی کو قبول کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی اور اپنی مدبرانہ و عارفانہ بصیرت کو بروئے کار لاتے ہوئے دنیائے اہلِ سنت و جماعت کو ایک عظیم پیغام دیا کہ موجودہ و منتخب شدہ قاضی القضاۃ ہر اعتبار سے اس منصبِ عظمیٰ کے لائق ہیں، ان کا دامن تھامے رہنا، میرے بعد بھی یہی تمہیں صراطِ مستقیم مسلکِ اعلیٰ حضرت پر قائم رکھیں گے اور تمہارے ایمان و عقائد کو تحفظ بخشیں گے۔

یقیناً حضور محدثِ کبیر مدظلہ العالی کا بصیرت افروز جملہ ہمارے لیے سندی حیثیت رکھتا ہے۔

محدثِ کبیر اطال اللہ عمرہ کی مؤثر و پرمغز دعاؤں اور قاضی القضاۃ کے تشکراتی کلماتِ بلیغ پر یہ متبرک و تاریخ ساز شرعی کونسل آف انڈیا بریلی شریف کا سولہواں فقہی سیمینار اختتام پذیر ہوا۔ فقہی سیمینار میں شریک تمام مندوبینِ کرام نے انتظامی امور کی دل کھول کر خوب خوب مدح سرائی کی اور اپنے اپنے مستقر کی جانب لوٹنے کے لیے ہمہ تن مصروف ہو گئے، قاضی القضاۃ مدظلہ العالی نے ہر ایک کو بڑی تعظیم و تکریم اور عزت افزائی کے ساتھ رخصت فرمایا。

جوں ہی قاضی القضاۃ کے منتخب ہو جانے کی خبر عالمِ اسلام میں پھیلی، ہند و بیرونِ ہند کے ہر چہار جانب سے تأییدی و تصدیقی اور مبارکبادیوں کے خطوط کی آمد شروع ہو گئی، اب تک کثیر تعداد میں خطوط موصول ہو چکے ہیں اور خطوط کی آمد کا سلسلہ تاہنوز جاری ہے، اس کے ساتھ فون، آڈیو کلپ، واٹس ایپ، ٹیلی گرام، فیس بک اور ٹوئٹر کے ذریعے بھی تأییدات و تصدیقات اور مبارک بادیوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔

خاندانِ صدر الشریعہ ہمیشہ سے ہی بریلی شریف کا اسیر رہا ہے اور آج بھی ہے اور ہمیشہ رہے گا، جب یہ اطلاع خاندانِ صدر الشریعہ کی سماعت سے ٹکرائی تو مسرت و شادمانی کی لہر دوڑ گئی اور ہر فرد نے بیک زبان ہو کر مبارکبادیاں دیں اور شہزادۂ مرشدِ گرامی وقار کی مرتبتِ علیا میں سرفرازی اور سلامتی کی دعائیں کیں۔ ربِ قدیر طفیلِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روز افزوں ترقیِ درجات سے ہمکنار فرمائے۔ آمین بجاہِ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!