| عنوان: | قاضی القضاۃ کا انتخاب لائق صد افتخار عمل (قسط ۱) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا ابو یوسف قادری امجدی جامعہ امجدیہ گھوسی |
| پیش کش: | ثمن فردوس امجدی |
شرعی کونسل آف انڈیا بریلی شریف کا سولہواں فقہی سیمینار منعقدہ 29، 30، 31 مارچ 2019ء بروز جمعہ، ہفتہ، اتوار کئی اعتبار سے لائق تحسین اور قابل مبارک باد رہا۔ متعینہ عنوانات کے تحت جرح و تعدیل اور تنقیحِ مسائل کے بعد اتفاقِ رائے سے حتمی و آخری فیصلہ سپردِ قرطاس ہوا۔
مباحثہ کا نظارہ دلکش و دلپذیر تھا، بڑے ہی خوش کن فرحت آمیز، نشاط آفریں، پُر لطف اور نور بخش لمحات تھے جب علمی باریکیاں، فکری بالیدگیاں، فنی گہرائیاں، صوتی و لسانی رنگینیاں، استدلالی شوخیاں، جزئیاتی رعنائیاں ذہنی و عقلی زمین کو سرسبز و شادابیاں عطا کر رہی تھیں۔
آج سیمینار کا آخری سیشن تھا، رات کے دس بج رہے تھے، فقہائے کرام کی فقاہت کی نورانیت سے دلکش و خوبصورت ہال بقعۂ نور بنا ہوا تھا، کلامِ بلاغت کی نکہت سے مشامِ جاں معطر معطر ہو رہا تھا، دستور کے مطابق فقہی سیمینار سے متعلق منفرد تاثرات و خیالات کے ماہ و نجوم آسمانِ قرطاس پر تبسم ریز تھے، آج کے عنوان ”حالاتِ حاضرہ کے سلگتے چند مسائل اور لائحۂ عمل“ کے تحت کلام کی ملاحت نے ماحول کو عروسِ بہار بنا رکھا تھا، اسی درمیان قاضی القضاۃ کے تعین و انتخاب کی کلیاں چٹکنے لگیں۔
صدرِ باوقار والدِ بزرگوار ممتاز الفقہاء محدثِ کبیر حضرت علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری رضوی امجدی دام ظلہ النورانی نے بزبانِ فیض ترجمان بڑے تفکر و تدبر ریزی کے بعد اپنی احسن واجمل آفاقی رائے کو فقیہانِ عالی وقار کے پیشِ نظر یہ کہتے ہوئے رکھا کہ بڑے غور و فکر اور مکاشفہ و مراقبہ اور استخارہ کے بعد میرے قلب پر من جانب اللہ القا ہوا، بے شمار اعتبارات سے اس منصب کے لائق و فائق نبیرۂ مخدومنا المکرم جانشینِ حضور تاج الشریعہ گرامی وقار حضرت علامہ مولینا مفتی الشاہ محمد عسجد رضا خان قادری دام ظلہ النورانی ہیں۔ اب آپ حضرات اس سے متعلق اپنے اپنے زریں خیالات سے بہرہ مند فرمائیں تاکہ اس اہم منصب کا جو خلا وقوع پذیر ہے پر ہو جائے۔
فقیہانِ زمن میں سے کچھ کے خیالات یہ تھے کہ قاضی القضاۃ کا عہدہ حضرتِ والا قبول فرما لیں اور جانشینِ حضور تاج الشریعہ کو نیابت کی ذمہ داری عطا فرما دیں، یہی مناسب و بہتر ہو گا۔ شہزادۂ مخدومنا المکرم وشیخنا المعظم گرامی وقار نے بھی اس رائے کی تصدیق و تائید کی اور عہدۂ قاضی القضاۃ کی قبولیت سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ بندہ اس کے لائق نہیں، حضورِ والا ہی کماحقہ اس عہدۂ عظیمہ و رفیعہ کے مستحق ہیں، اس لیے آپ ہی اس رحبۂ علیا پر فائز المرام ہیں، چوں کہ والدنا المکرم قاضی القضاۃ فی الہند حضور تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں آپ نائب تھے، اصول کے مطابق اب آپ ہی اصل ہیں۔
شہزادۂ مخدومنا المکرم قاضیِ شہر بریلی شریف قائدِ ملت حضور مفتی عسجد رضا خان قادری دامت برکاتہم القدسیہ جانشینِ حضور تاج الشریعہ آخری مرحلہ تک ان کلماتِ ملیحہ جمیلہ کا تکرار فرماتے رہے، اس کے بعد محدثِ کبیر مدظلہ العالی نے مختصر مگر جامع ایک بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا جس سے شرکائے سیمینار عش عش کر اٹھے، وہ تاریخ ساز خطبہ یہ تھا:
”عالی مرتبت گرامی وقار حضرت علامہ مولانا مفتی عسجد رضا خان قادری دامت برکاتہم العالیہ! آپ کے اسی ادائے کسرِ نفسی پر زمانہ کی ساری رعنائیاں، حسن و جمال اور خوبی و کمال قربان ہیں کہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی فرماتے ہیں کہ میں کچھ نہیں ہوں“
”آپ اپنی نگاہوں سے نہیں ہماری نظروں اور جہاں کے چشمِ پر نور سے دیکھیں کہ آپ کیا کیا ہیں؟ کن کن محاسن و کمالات کے خوگر ہیں؟ آنے والا وقت بھی بتا دے گا کہ آپ کیا ہیں؟ حضور تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ نے اپنی حیاتِ مستعار میں آپ کو قاضی منتخب فرما کر ہماری آنکھیں کھول دی ہیں، شرعی کونسل آف انڈیا بریلی شریف کی ذمہ داریاں عطا فرما کر ہماری نگاہوں کو پُر نور بنا دیا ہے، اس لیے ضیاء المصطفیٰ یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ آپ ہی اس منصبِ جلیلہ کے لائق ہیں، یہ تاج آپ ہی کے سر سجتا ہے۔“
”ایک چیز کی جانب اشارہ کر دوں کہ قضا میں امتیازی حیثیت احکامِ شرعیہ کے نفاذ کی طاقت کا ہونا اور عدل و انصاف کو اپنی معنوی و صوری حالت پر برقرار رکھنا ہے، موجودہ دور میں یہ کمال سب سے زیادہ آپ کے اندر آفتابِ نیم روز کی طرح عیاں ہے، دنیا مستقبل میں اس بات کا ادراک کر لے گی تو انھیں بھی اس حقیقت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا کہ حق حقدار ہی کو ملا ہے، آپ اس عہدۂ حمیدہ کو بسر و چشم قبول فرمائیں، ہم سب غلامانِ رضا و مفتیِ اعظم و تاجِ الشریعہ آپ کے ساتھ ہیں۔“
اس کے بعد سارے شرکائے فقہی سیمینار نے اس رائے پر اتفاق کر لیا۔
ہر چہار جانب سے نظر ہائے وحدانیت و رسالت کی دلنواز، روح پرور، دلکش و پرکیف اور راحت رساں و مسرت بخش صدائیں بلند ہو گئیں جس سے ماحول و فضا کی نورانیت میں کہکشاں کا جمال جگمگانے لگا، قوسِ قزح کے حسن کا بانکپن مبارکبادیاں پیش کرنے کو رشکِ ارم بال میں سمٹ آئیں، فردوسِ بریں کی ملاحت و تمکینیت استقبال کو اپنی آنکھیں فرشِ راہ کر دیں، کائنات کے لبہائے مبارک پر تہنیت کے گل بوٹے کھل اٹھے، چمن زارِ محبت گل و گلزار ہو گیا جس سے مسرت و شادمانی کا بازار گرم ہو گیا، ان لمحاتِ سعید میں فرحت و انبساط کی کیفیت کیا تھی، نشاط و شادمانی کا عالم کیا تھا، اس کو لفظوں کا جامہ نہیں پہنایا جا سکتا ہے۔
اس کے بعد کوئی دقیقہ فروگزاشت کیے بغیر قاضی القضاۃ کا تاجِ شاہانہ جانشینِ حضور تاج الشریعہ اطال اللہ عمرہ کے سرِ اقدس پر والدِ بزرگوار محدثِ کبیر ممتاز الفقہاء حضرت علامہ مفتی الشاہ ضیاء المصطفیٰ قادری رضوی امجدی مدظلہ العالی نے اپنے مقدس ہاتھوں سے سجا دیا، اس ساعتِ سعید کے دلکش و جاذبِ نظر نظارے کا کیا کہنا، ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ نورانیت کی حقیقت و ماہیت کا آفتابِ عالم تاب قاضی القضاۃ کے جبینِ اقدس اور رخِ منور پر اپنی تابشِ کاملہ بکھیر رہا ہے اور اسے مکمل شمسِ عرفانی، قمرِ لاثانی، نجمِ حقانی اور کوکبِ یزدانی بنا رہا ہے، بلکہ یوں کہوں تو حق بجانب ہوں گا قائدِ ملت کی شکل میں مخدومنا المکرم سیدی وسندی و مرشدی سرکارِ تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ کا جمالِ جہاں آرا دکھائی دینے لگا ہے، دراصل صداقت کی زبان نگاہوں کی ترجمانی یہی کر رہی ہے کہ مرشدِ برحق ہی بنفسِ نفیس جلوہ فرما ہو کر اپنی علمی و عرفانی تابانیاں بانٹ رہے ہیں اور ہست و بود کی ساری دلکشیاں ان پر قربان ہیں۔
تاج پوشی کے وقت ”قاضی القضاۃ زندہ باد، قاضی القضاۃ پائندہ باد“ کے نغمات کی ضو باریاں ہو رہی تھیں، بارانِ رحمتِ پروردگار خوب مچل مچل کر برس رہا تھا، ماہ و نجوم کی جاں نثاریوں کی کلیاں تبسم ریز تھیں، سیارگانِ فلک کی گل افشانیوں کا ظہور تھا، حورانِ بہشتی بلائیں لے رہی تھیں، تقدس کا بانکپن جاگ اٹھا تھا، جامعہ الرضا پر تجلیاتِ باری کی طلعت باریاں تھیں، مدینہ کے انوار اپنے فیوض و برکات کے درِ بے بہا بہا رہے تھے، قادریت و چشتین کا فیضان خوب خوب جاری تھا، امامِ اعظم کی چشمِ عنایت کرم نوازیوں پر مائل تھیں، یوسفی قضاوت کی نگہِ رفعت کا کمال اپنا فیض بانٹ رہا تھا، اولیائے کرام کی نظرِ ولایت کی عطا ہو رہی تھی، یقیناً سیدی اعلیٰ حضرت کی روح مسکرا اٹھی ہو گی جب اپنی عطا کو لباسِ قیادت و سیادت میں ملبوس دیکھا ہو گا، سیدی حجت الاسلام کی آنکھیں ٹھنڈی ہوئی ہوں گی جب اپنے مظہرِ اتم کو شہ نشینی پر جلوہ بار مشاہدہ کیا ہو گا، سیدی مفتیِ اعظم کے قلب و جگر کو سکون ملا ہو گا جب انہوں نے اپنی دعا کے شجر کو ثمر آور پایا ہو گا، سیدی مفسرِ اعظم کی روحانیت جھوم اٹھی ہو گی جب اپنے امانتِ علمی نسبی کے سرتاج قاضی القضاۃ کی ضیا باریوں کا دیدار کیا ہو گا، سیدی مرشدی آقائی و مولائی حضور تاج الشریعہ کا برزخی وجودِ مسعود کا گلستان لہلہا اٹھا ہو گا جب اپنے لختِ جگر، نورِ نظر اور جانشین کو قاضی القضاۃ کی مسند پر تشریف فرما پایا ہو گا۔
