قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے (قسط: دوم)

قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے (قسط: دوم)
عنوان: قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے (قسط: دوم)
تحریر: طارق انور مصباحی
پیش کش: قافیہ نوری بنت محمد ظہیر رضوی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

قسم اول: تعلق صوری

شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی نے تعلق صوری کی دو قسمیں بیان فرمائی ہیں، اور دونوں قسموں کو بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ نوع اول میں جو کچھ بیان ہوا، یہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعلق صوری ہے۔ تعلق صوری شریعت پر عمل کرنے اور طریقت میں عزیمت پر عمل کرنے اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں مکمل طور پر مٹنے اور ظاہری و باطنی طور پر حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعظیم شان کے بغیر حاصل نہیں ہوتی، پس اے محبتِ نبوی اور عشق مصطفوی کے طلبگار! تم پر لازم ہے کہ شریعت کی پابندی کرو، رخصت کی تلاش کے بجائے عزیمت پر عمل کرو، محبتِ نبوی ہی اصل مقصود ہے، پس ان تمام امور کو اختیار کرو، جن سے تمہاری مقصد برآری ہو، یعنی دربارِ اعظم میں ہمہ دم حاضری ہو۔

اسی قسم اول کی بحث کو مکمل کرتے ہوئے شیخ محقق دہلوی نے فرمایا کہ حضور اقدس سرورِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کے زمرہ میں اصحابِ کرام کی تعظیم و توقیر، اہل بیتِ عظام کا ادب و احترام اور ان تمام سے محبت بھی شامل ہے، اور حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و تعظیم میں رب تعالیٰ کی تعظیم و محبت ہے۔ یہ بات بھی مبنی بر حقیقت ہے کہ جب رب تعالیٰ نے ان نفوسِ قدسیہ سے محبت و تعظیم کا حکم فرمایا ہے تو ان کی تعظیم و تکریم دراصل حکمِ الٰہی کی تعظیم و تکریم ہے اور حکمِ الٰہی کی تعظیم و تکریم خود رب تعالیٰ کی تعظیم و تکریم ہے۔

قرآنِ مجید میں صریح لفظوں میں حکمِ الٰہی وارد ہوا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طاعت دراصل رب تعالیٰ کی طاعت ہے، کیوں کہ رب تعالیٰ نے ہی حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی طاعت کا حکم فرمایا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ [النساء: 80] اللہ تعالیٰ ہم تمام کو توفیقِ صالح عطا فرمائے۔ آمین

تعلقِ صوری کی قسمِ اول: اتباعِ شریعت و عمل بر عزیمت

تعلقِ صوری کی پہلی قسم یہ ہے کہ بندۂ مومن حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل اتباع پر استقامت و مداومت اختیار کرے۔ قول و فعل میں کتاب و سنت کے امر و نہی پر مواظبت و پابندی اور ائمہ اربعہ یعنی امامِ اعظم ابو حنیفہ، امام مالک, امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے معتقدات کا اعتقاد رکھے، کیوں کہ علمائے محققین کا اجماع ہو چکا ہے کہ یہ چاروں ائمہ اہلِ حق ہیں اور ان شاء اللہ تعالیٰ قیامت کے دن یہی فرقہ ناجیہ ہے۔ اس قسم کے اتباعِ صوری کا کامل درجہ یہ ہے کہ بندہ عزیمت پر عمل کرے، اور رخصت کی تلاش نہ کرے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو عزیمت پر عمل کا حکم دیتے ہوئے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا: فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ [الأحقاف: 35] یعنی جس طرح اولوالعزم مرسلین صلوات اللہ تعالیٰ وسلامہ علیہم اجمعین نے صبر فرمایا، اسی طرح حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم صبر فرمائیں۔ الحاصل کامل اتباع کرنے والے کو چاہئے کہ عزیمت کو اختیار کرے اور سہولت و رخصت کی جانب مائل نہ ہو۔

تعلق صوری کی قسم اول کی شرط

شیخ عبدالحق محدث دہلوی (958ھ-1052ھ) نے رقم فرمایا کہ ہم تمہارے لیے وہ چیز پسند کرتے ہیں، جو ہم اپنے لیے پسند کرتے ہیں، اور یہ قربت و صدیقیت کے مقامات ہیں اور اس کی شرط عزیمت کے امور میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کرنا اور عزیمت پر عمل کرنا ہے، اور عزیمت کے امور پر عمل کرنے پر تم کماحقہ اسی وقت قادر ہو سکتے ہو، جب تمہیں نفس کی شناسائی اور اس کے اسباب و علل کی معرفت حاصل ہو جائے۔

یہ بات اہل اللہ میں سے کسی شیخ کامل ہی کے واسطہ سے حاصل ہو سکتی ہے۔ وہی اس بارے میں تمہاری رہنمائی کر سکتا ہے، اور ہر وقت تمہارے اعمال و احوال کے مطابق تمہاری حالت کی معرفت کرا سکتا ہے۔ بلاشبہ کوئی طالب کسی شیخ و مرشد کے واسطہ کے بغیر اپنے موجودہ حال کے موافق نہ کسی چیز کو جان سکتا ہے، نہ پہچان سکتا ہے۔ شیخ کامل ہی اس باب میں اس کی رہنمائی کر سکتا ہے۔

اے عاقل! حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع و پیروی کے طلبگار کے لیے ہمارا کلام روشن اور واضح ہے، لہٰذا تمہیں چاہئے کہ کسی ایسے شیخ کی جستجو میں کوشش کرو، جو تمہیں معرفت الہی اور تمہاری اپنی حالت کی معرفت کرانے میں تمہاری رہنمائی کرے، اور جب تم کو ایسا شیخ مل جائے تو اس کے حکم کی مخالفت نہ کرنا، اور اس سے جدا مت ہونا، اگرچہ بلائیں اور مصیبتیں تم کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں۔ اس کی نافرمانی سے پرہیز کرو، اور اس سے اپنا کوئی حال نہ چھپاؤ۔

اگر بدقسمتی سے تم سے کوئی گناہ ہو جائے تو اپنے شیخ سے بیان کر دو، تاکہ وہ اس کو دفع کرنے کی کوشش کرے، اور تمہاری حالت کے مطابق اس کا علاج کرے، یا بارگاہ الٰہی میں دعا کر کے سفارش کرے، تاکہ وہ تمہیں اس ذلت کے کام سے چھٹکارا دلا سکے۔

اور اگر ایسے شیخ سے ملنے کا اتفاق نہ ہوا، اور کوئی اہل اللہ میں سے تمہیں نہ ملے تو اہل اللہ کے طریقہ کو اختیار کرو۔ اہل اللہ کے چار طریقے ہیں:

  1. فراغ قلب
  2. اقبال علی اللہ
  3. مخالفت نفس
  4. دائمی ذکر۔

1۔ فراغ قلب:

یہ دنیا اور آخرت میں اپنے دل کو ماسوی اللہ کی طرف مائل ہونے سے خالی کرنا ہے۔

2۔ اقبال علی اللہ:

یہ مکمل طور پر اللہ تعالیٰ سے محبت کرنا ہے۔ ایسی محبت جو اغراض و خطرات، عدم التفات اور طلب اجر سے پاک ہو۔

3۔ مخالفت نفس:

یہ نفس کی ہر ایسی خواہش کی مخالفت کرنی ہے، جو وہ اپنی پرورش کے لیے طلب کرے، اور نفس کی سب سے بڑی مخالفت ماسوی اللہ کو ترک کرنا ہے۔

4۔ دائمی ذکر:

یہ رب تعالیٰ کے جمال و جلال پر نظر رکھتے ہوئے ہمیشہ اور ہر حالت میں ذکر الٰہی کرنا ہے۔ خواہ ذکر لسانی ہو، یا ذکر قلبی، خواہ ذکر روحی ہو، یا ذکر سری، یا ان سب طریقوں سے ہو۔

تعلق صوری کی قسم دوم: متابعت نبوی و محبت نبوی

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق صوری کی دوسری قسم یہ ہے کہ بندہ مومن حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی و متابعت اور قوی محبت کرے، تاکہ وہ محبتِ مصطفوی کا ذوق اپنے وجود میں محسوس کرے۔ بعض اہل محبت نے فرمایا کہ خدا کی قسم! میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اپنے دل، اپنی روح، اپنے جسم، اپنی جان، اپنے سر اور اپنے ہر بال میں اس طرح پاتا ہوں کہ جس طرح ٹھنڈے پانی کی سیرابی و ٹھنڈک پاتا ہوں، جب میں سخت پیاس اور شدید گرمی میں آبِ سرد پیتا ہوں۔

تعلقِ صوری کی قسم دوم کی شرط

اے بندۂ مومن: حضورِ اقدس شفیعِ محشر صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہر شخص پر فرضِ عین ہے، اور توقع سے زیادہ فائدہ بخش ہے۔ وہ تمہاری جانوں کے مالک ہیں۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ [الأحزاب: 6]

ترجمہ: یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے۔ (کنز الایمان)

اے بندۂ مومن! تمہارے رسول و شفیع صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من والده وولده والناس أجمعين [البخاري، ومسلم، والنسائي، وابن ماجه، وابن حبان، وأحمد، وعبد الرزاق]

ترجمہ: تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا، جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ، اس کے بیٹے اور سارے لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔

اے بندۂ خدا! اگر تم اپنے باطن میں حضورِ اقدس حبیبِ کبریا صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی محبت نہیں پاتے، جیسی محبت کا ذکر حدیثِ پاک میں آیا ہے تو سمجھ لو کہ تمہارا ایمان ناقص ہے۔ اے بندۂ غافل! اپنے رب سے مغفرت طلب کر، توبہ کر اور بخشش کی دعا کر۔

حضورِ اقدس سرورِ انبیا صلی اللہ علیہ وسلم کا خوب کثرت کے ساتھ ذکر کر، حبیبِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا خوب ادب کر۔ آپ نے جن چیزوں سے منع فرمایا ہے، اس کے قریب بھی نہ جا، اور دل میں یہ امید پیدا کر کہ اگر میں ایسا ہو گیا تو کل قیامت کے دن حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اٹھایا جاؤں گا، کیوں کہ اس رحیم و کریم آقا اور رحمتِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: المرء مع من أحب [البخاري، ومسلم، والترمذي، وأبو داود، وابن ماجه، والنسائي في الكبرى] ترجمہ: آدمی (حشر کے دن) اسی کے ساتھ ہو گا، جس سے محبت کرتا ہے۔

قسم دوم: تعلقِ معنوی

حضورِ اقدس تاجدارِ انبیاء و مرسلین صلوات اللہ تعالیٰ وسلامہ علیہ وعلیہم اجمعین سے تعلق کی دوسری قسم تعلقِ معنوی ہے۔ اس کا مفهموم یہ ہے کہ بندۂ مومن ہر وقت حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی صورتِ مقدسہ کو حاضر رکھے۔ تعلقِ معنوی کی بھی دو قسمیں ہیں۔

تعلقِ معنوی کی قسم اول: تصورِ نبوی میں مشغولیت و استغراق

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ العزیز نے تعلقِ معنوی کی قسمِ اول کی ترتیب وار متعدد صورتیں تحریر فرمائی ہیں۔ محبتِ نبوی کا طلب گار جس صورت کا اہل ہو، اسی کو اختیار کرے، تاکہ اپنے مقصود و مطلوب کو پا لے۔

اے بندۂ مومن! اگر تم نے کسی زمانہ میں حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارتِ مبارک خواب میں کی ہو، اور حضورِ اقدس حبیبِ کبریا صلی اللہ علیہ وسلم کے جمالِ باکمال کے دیدار سے مشرف ہوئے ہو، تو اسی صورتِ مقدسہ کو ان صفاتِ قدسیہ کے ساتھ بعینہٖ اپنے قلب میں حاضر کرو۔

اے طالبِ عشق! اگر تم اپنے باطن میں اتنی قوت و استطاعت نہ پاؤ کہ حضورِ اقدس سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی صورتِ مبارک کو صفاتِ موصوفہ کے ساتھ بعینہٖ استحضار کر سکو تو حضورِ اقدس تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا خوب ذکر کرو، حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجو، اور ذکر کی حالت میں ایسے بن جاؤ، گویا کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں ملاحظہ فرما رہے ہیں، اور تمہارا کلام سن رہے ہیں، اور تم اس پیغمبرِ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کو جلال و عظمت اور حیا و ادب کے ساتھ دیکھ رہے ہو۔ اے بندۂ خدا! دل میں یہ اعتقاد رکھو کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں دیکھ رہے ہیں، تمہارے کلام کو سن رہے ہیں۔

اے طالب محبت! جان لو کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم صفاتِ باری تعالیٰ کے جلوۂ کامل ہیں، صفاتِ خداوندی کا عکسِ جمیل و جلیل سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم متصف ہیں اور رب تعالیٰ کی صفتِ قدسیہ ہے: أنا جليس من ذكرني [شعب الإيمان للبيهقي] یعنی جہاں میرا ذکر ہوتا ہے، میں ان کا ہم مجلس ہوتا ہوں (یعنی مجلسِ ذکر جلوۂ الٰہی کی نزول گاہ بن جاتی ہے)، اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو اس صفتِ الٰہی سے عظیم و وافر جلوہ اور عکس و پرتو عطا ہوا ہے، پس جہاں کہیں بھی تم اپنے رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ذکر کرو، تم یہ اعتقاد رکھو کہ تمہارا ذکر و فکر ان کی نظروں کے سامنے ہے۔

اے طالب صادق! ہمارے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم رب تعالیٰ کی سب سے زیادہ معرفت رکھنے والے ہیں، اور صفاتِ الٰہیہ کے سب سے عظیم مظہرِ کامل ہیں۔ صفاتِ الٰہیہ کے جلوے ذاتِ اقدس نبوی میں موجود ہیں۔

3۔ اے طالب صادق! اگر تم اپنے آپ کو مذکورہ صفت و حالت میں بھی نہ لا سکو کہ ذکرِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم مذکورہ حالت میں کرو، اور درود و سلام اس حالت میں پیش کرو کہ آں پیغمبرِ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں دیکھ رہے ہیں اور تمہاری باتوں کو سماعت فرما رہے ہیں، اور تم حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب و تعظیم اور تکریم و حیا کے ساتھ کا نظارہ کر رہے ہو تو اگر کبھی تم نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرو، اور درود و سلام پڑھو تو ایسے ہو جاؤ کہ گویا تم روضۂ مقدسہ کے سامنے تعظیم و ادب کے ساتھ کھڑے ہو، یہاں تک کہ تم ظاہر و باطن میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت کا مشاہدہ کرنے لگو۔

ایک مدت بعد یہ کیفیت پیدا ہو جاتی ہے، پھر بندہ رفتہ رفتہ اپنے نفس پر غالب آ جاتا ہے اور معاصی کو ترک کر دیتا ہے۔

4۔ اگر تم نے کبھی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا روضہ منورہ نہیں دیکھا ہے تو ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجو اور تصور کرو کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا درود و سلام سن رہے ہیں اور خوب ادب و احترام کی حالت اختیار کرو، تاکہ تمہارا درود و سلام اسی حالتِ ادب و تعظیم کے ساتھ اس بارگاہِ عالم پناہ میں پیش ہو۔

تعلقِ معنوی کی قسم اول کی تمام صورتوں کا حاصل اور خلاصہ یہ ہے کہ طالبِ صادق اپنے تصور میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی صورتِ مبارکہ کو لائے، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق رکھنے والی صورتوں کو اپنے تصور میں لائے، پھر اسی تصور پر ہمیشہ خود کو قائم رکھے، یعنی اسی تصورِ مقدس کو اپنے لیے شغلِ اکبر بنا لے، اور یہ تصور انتہائی ہیبت و جلال اور کامل ادب و تعظیم و محبت و توقیر کے ساتھ ہو۔ بندۂ طالب جب ان کیفیتوں پر مستمر و قائم ہو جاتا ہے تو سعادتِ کبریٰ اور رتبۂ عظمیٰ سے سرفراز ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ توفیقِ صادق عطا فرمائے: آمین

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!