Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے (قسط: سوم)

قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے (قسط: سوم)
عنوان: قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے (قسط: سوم)
تحریر: طارق انور مصباحی
پیش کش: قافیہ نوری بنت محمد ظہیر رضوی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

تعلق معنوی کی قسم اول کی شرط

جمع ہمت اور حضورِ قلب کا عظیم اثر ہے، اور لازم ہے کہ جب تم حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکرِ مبارک کرو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجو تو تم کسی اور مشغلہ میں نہ رہو۔ بے توجہی کے ساتھ درود و سلام پڑھنا جسمِ بے روح کی طرح ہے۔

ہر وہ عمل جس کو بندہ انجام دیتا ہے، اس کا دار و مدار حضورِ قلب کے ساتھ ہے۔ توجہِ کامل کے ساتھ انجام پانے والا عمل ایک زندہ عمل ہے۔ غفلت اور دیگر امور میں مشغولیت کے ساتھ انجام پانے والا عمل ”بے روح جسم“ کی طرح ہے۔ حضور اکرم نورِ مجسم سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : إنما الأعمال بالنيات [البخاري: 1]

ترجمہ: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔

یعنی تمام اعمالِ صالحہ کا اجر و ثواب نیتوں اور قلبی ارادوں پر موقوف ہے۔ اگر کوئی نیک عمل رضائے الہی کی بجائے دیگر مقاصد کی خاطر انجام دیئے جائیں تو اجر و ثواب نہیں ۔

تعلق معنوی کی قسم دوم: کمالِ استحضار

تعلق معنوی کی دوسری قسم ایک مشکل مرحلہ ہے۔ ہر کوئی اس پر قادر نہیں ہوسکتا۔ ہاں، شروع کے بعض مراحل کے بعد اس منزل تک رسائی آسان ہوسکتی ہے۔ جو نفوسِ عالیہ ”عشاقِ رسول“ ہیں، وہ ان چار منزلوں میں سے کسی منزل میں ضرور ہوتے ہیں، جب کہ بقدرِ فرض ہر مومن خدا اور رسول سے محبت کرتا ہے۔

عشاقِ مصطفیٰ کی یہ محبت درجہ فرض کے علاوہ استحبابی درجہ میں ہے۔ حدیثِ قدسی میں رب تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ بندہ نوافل کے ذریعے میرے قریب ہوجاتا ہے [البخاري] اسی طرح بندہ مومن محبتِ استحبابی کے ذریعے حضور اقدس تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تر ہوجاتا ہے۔

تعلق معنوی کی دوسری قسم یہ ہے کہ حضور اقدس حبیبِ کبریا صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس کا ان اوصافِ کمالیہ کے ساتھ تصور و استحضار کیا جائے، جن صفاتِ عظمیٰ سے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سرفراز فرمایا ہے۔ عوام المسلمین اس منزل کی تفصیل کے ادراک پر قادر نہیں، اربابِ شوق اس منزل کی تفصیلات و شرائط کے لیے مدارج النبوت (جلد دوم: تکملہ) کی جانب رجوع فرمائیں ۔

ماوشما اپنے آپ کو ماقبل میں بیان کردہ تین صورتوں میں سے جس صورت کے اہل پائیں اسے ضرور اختیار کر لیں۔ دربارِ اعظم سے دینی، دنیوی، ظاهری و باطنی ہر قسم کے حسنات و برکات سے سرفرازی حاصل ہوگی۔ وہ ایسا عظیم دربار ہے کہ جانے والا کبھی واپس نہیں آتا۔

مباحث سابقہ کے مقاصد و نتائج

شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ العزیز نے بحث کے اخیر میں رقم فرمایا: ”وصیت می کنم ترا اے برادر! بدوام ملاحظہ صورت و معنیٰ او، و اگرچہ باشی تو متکلف و مستحضر، پس نزدیک است کہ الفت گیرد روح تو بوے، پس حاضر آید ترا وے صلی اللہ علیہ وسلم عیاناً و یابی او را و حدیث کنی باوے و جواب دہد ترا اوے و حدیث گوئید باو و خطاب کند ترا۔“ [مدارج النبوت، ج: 2، ص: 789]

اے بھائی! میں تمہیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی صورتِ مقدسہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات کو ہمیشہ تصور میں رکھنے کی وصیت کرتا ہوں، اگرچہ تم تکلف اور استحضار کی کوشش کے ساتھ ایسا کرو، پس عنقریب تمہاری روح حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ الفت گیر ہو جائے گی، اور تمہیں ظاہری طور پر حضور اقدس سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا جمالِ باکمال نظر آئے گا، اور تم حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے شرفِ ہم کلامی کرو گے، اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جواب عنایت فرمائیں ۔ تم عرض کرو گے اور حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام تمہیں خطاب فرمائیں گے۔

محقق علی الاطلاق شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ والرضوان نے تحریر فرمایا کہ حضور اقدس سرورِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے دربارِ اقدس میں یہ حاضری اگرچہ تصور، تخیل اور تفکر کی منزل میں ہے، لیکن یہ دربارِ اعظم میں حاضر رہنے کا باعث اور دربارِ اعظم میں قرب پانے کا ذریعہ ہے، جیسا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھ پر کثرت کے ساتھ درود پڑھنے والا قیامت میں میرے بہت قریب ہو گا۔ عن أنس بن مالك خادم النبي صلى الله عليه وسلم قال قال النبي صلى الله عليه وسلم: إن أقربكم مني يوم القيامة في كل موطن أكثركم علي صلاة في الدنيا [شعب الإيمان للبيهقي، ج: 3، ص: 111]

ترجمہ: خادمِ رسول حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا: حضور اقدس حبیبِ کبریا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگوں میں قیامت کے دن ہر مقام میں مجھ سے سب سے زیادہ قریب وہ ہوگا جو تم لوگوں میں سے دنیا میں مجھ پر سب سے زیادہ درود پڑھنے والا ہے۔

اے طلبگارِ محبت! کامل توجہ کے ساتھ حضور اقدس حبیبِ کبریا شفیعِ محشر صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ مقدسہ کا قوی و مستحکم تصور دل و دماغ میں بسا کر درود شریف کی کثرت کر۔ اپنے آپ کو ادب و تعظیم کے ساتھ دربارِ اعظم میں دست بستہ بحالتِ قیام حاضر سمجھ۔ رفتہ رسو یہ تصور ثابت و مستقر ہو جائے گا، اور یہ کیفیت تیرے باطن میں قرار پکڑ لے گی تو اس کے اثرات و برکات کا ظہور بھی تیری ذات میں ہوگا، یہاں تک تو رسائی حاصل کر، پھر ان شاء اللہ تعالیٰ تیرے احساسات و تصورات خود تیری دستگیری کو حاضر ہوں گے۔

وَمَا تَوْفِیْقِیْ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ:: وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی حَبِیْبِہِ الْکَرِیْمِ:: وَاٰلِہِ الْعَظِیْمِ

مطبوعہ : ماہنامہ پیغامِ شریعت (دہلی) ، شمارہ: ماہ رجب المرجب شریف 1439ھ مطابق ماہ اپریل 2018ء

خاتمہ

باسمِہٖ تعالیٰ وبحمدِہٖ والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ الایعلٰی وآلہ واصحابہ اجمعین

حسنِ سلوک اور خوش اخلاقی کے سبب انسان دیگر انسانوں سے ربط و تعلق استوار کر لیتا ہے اور دوسروں کی قربت و نزدیکی حاصل کر لیتا ہے۔ اسی طرح فرماں برداری و وفا شعاری اور حسنِ عقیدت و سچی محبت کے ذریعہ اللہ و رسول کی قربت و نزدیکی حاصل کر لیتا ہے۔ احادیثِ مقدسہ میں بھی یہ حقیقت بیان کی گئی ہے۔

عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يقول الله عز وجل: أنا عند ظن عبدي وأنا معه حين يذكرني، فإن ذكرني في نفسه ذكرته في نفسي، وإن ذكرني في ملأ ذكرته في ملأ خير منه، وإن اقترب إلي شبرا تقربت إليه ذراعا، وإن اقترب إلي ذراعا اقتربت إليه باعا، وإن أتاني يمشي أتيته هرولة [مسلم: باب فضل الذكر والدعاء والتقرب إلى الله]

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان فرمایا: حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: میرا معاملہ میرے حق میں میرے بندے کے اعتقاد کے مطابق ہے، اور میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ میرا ذکر کرتا ہے۔

پس اگر وہ میرا ذکر اپنے دل میں کرے تو میں اس کا ذکر اپنے آپ سے کرتا ہوں، اور اگر وہ میرا ذکر کسی جماعت میں کرے تو میں اس کا ذکر اس سے بہتر جماعت میں کرتا ہوں ۔

اور اگر وہ میری جانب ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو میں اس کی جانب ایک گز قریب ہوتا ہوں، اور اگر وہ میری جانب ایک گز قریب ہوتا ہے تو میں اس کی جانب دو ہاتھ برابر قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں ۔

منقوشہ بالا حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ کے قرب سے رحمت و مغفرت کے ذریعہ قرب مراد ہے، قربِ مکانی مراد نہیں۔ اللہ تعالیٰ زمان و مکان سے پاک ہے۔ اسی طرح جسم و جسمانیات سے بھی پاک ہے، پس اللہ تعالیٰ کے لیے جسمانی صفات، چلنا دوڑنا وغیرہ محال ہے۔ محض بندوں کی تقریبِ فہم کے واسطے مجازی معنی میں مذکورہ الفاظ مستعمل ہیں ۔

مفہوم یہ ہے کہ جب بندہ رب تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت و مغفرت سے سرفراز فرماتا ہے، اور بندہ تقرب الی اللہ میں تیزی لاتا ہے تو رب تعالیٰ اس سے بھی جلد اسے اپنی نعمتوں سے شاد کام فرماتا ہے۔ امام ترمذی نے مذکورہ حدیثِ قدسی کو نقل کرنے کے بعد چند خاص الفاظ کی تشریح نقل کی ہے۔ حدیث و تشریح درجِ ذیل ہیں :

2۔ عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يقول الله عز وجل أنا عند ظن عبدي بي وأنا معه حين يذكرني، فإن ذكرني في نفسه ذكرته في نفسي، وإن ذكرني في ملأ ذكرته في ملأ خير منهم، وإن اقترب إلي شبرا اقتربت منه ذراعا، وإن اقترب مني ذراعا اقتربت إليه باعا، وإن أتاني يمشي أتيته هرولة ۔

قال أبو عيسى هذا حديث حسن صحيح ويروى عن الأعمش في تفسير هذا الحديث: من تقرب مني شبرا تقربت منه ذراعا يعني بالمغفرة والرحمة وهكذا فسر بعض أهل العلم هذا الحديث قالوا: إنما معناه يقول: إذا تقرب إلي العبد بطاعتي وما أمرت أسرع إليه بمغفرتي ورحمتي وروي عن سعيد بن جبير أنه قال في هذه الآية: اذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ [البقرة: 152] قال: اذكروني بطاعتي أذكركم بمغفرتي [ترمذی، باب في حسن الظن بالله عز وجل]

حضرت امام اعمش رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس بندہ خاص کے قریب ہونے کا معنی ہے کہ رب تعالیٰ اس بندہ کو مغفرت و رحمت عطا فرماتا ہے۔

بندہ کے رب تعالیٰ کے قریب ہونے کا معنی یہ ہے کہ بندہ جب طاعت و فرماں برداری اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحمت و مغفرت فرماتا ہے۔

الحاصل جب کوئی بندہ طاعت و عبادت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے قبولیت سے سرفراز فرماتا ہے، نیز قربِ الہی کا خاص طریقہ و ذریعہ بھی ہے جسے ”سلوک“ کہا جاتا ہے۔ واصل الی اللہ مرشد اپنے مریدین کو راہِ سلوک کی منزلیں طے کراتے ہیں۔ قربِ مصطفوی کے چار طریقے مضمون سوم میں بیان کیے گئے ہیں۔

بندوں کا اعتقاد اور عطائے خداوندی

بندگانِ الٰہی اپنے معبودِ برحق سے جیسا اعتقاد رکھتے ہیں، ویسا وہ پاتے ہیں ۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم: يقول الله تعالى: أنا عند ظن عبدي بي (الحديث) [البخاري، ومسلم، والترمذي، والنسائي في الكبرى، وابن ماجه]

ترجمہ: حضورِ اقدس نورِ مجسم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: میرا معاملہ میرے حق میں میرے بندہ کے اعتقاد کے مطابق ہے۔

بندہ رب تعالیٰ سے جیسا اعتقاد رکھتا ہے، رب تعالیٰ ویسا ہی معاملہ فرماتا ہے۔

عن واثلة: أبشر فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: قال الله عز وجل: أنا عند ظن عبدي بي، فليظن بي ما شاء [أحمد، والطبراني في الكبير، والحاكم، وابن حبان]

ترجمہ: حضور اقدس تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: میرا معاملہ میرے حق میں میرے بندہ کے ظن کے مطابق ہے، پس بندہ میرے بارے میں جیسا چاہے، اعتقاد رکھے۔

عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إن الله جل وعلا يقول: أنا عند ظن عبدي بي - إن ظن خيرا فله وإن ظن شرا فله [ابن حبان]

ترجمہ: حضور اقدس شفیع محشر صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: میرا معاملہ میرے حق میں میرے بندہ کے اعتقاد کے مطابق ہے۔ اگر خیر کا اعتقاد رکھے تو اس کے لیے خیر ہے، اور اگر شر کا اعتقاد رکھے تو اس کے لیے شر ہے۔

مشہور مقولہ ہے: من جد وجد ۔ کوشش کرنے والا اپنے مطلوب و مقصود کو پالیتا ہے۔ فارسی زبان میں کہاوت ہے: ”جوئندہ یابندہ“۔ ڈھونڈنے والا مطلوب کو پالیتا ہے۔

ارشادِ خداوندی ہے: لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ [الزمر: 53]

ترجمہ: اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ (کنز الایمان)

قبل از وقت ہمت ہار بیٹھنا عقلمندوں کا شیوہ نہیں۔ کوشش کریں اور دربارِ اعظم سے اپنے روابط و تعلقات مستحکم کر لیں۔ آناً فاناً مطلوب حاصل نہیں ہوتا ہے۔ انتظار کی مشقت برداشت کرنی ہوگی۔ ما و شما منازلِ سلوک طے کر نہیں سکتے، کیوں کہ بظاہر کوئی شیخِ سلوک یعنی شیخِ ایصال میسر نہیں اور کسی شیخِ کامل کے بغیر منازلِ سلوک طے نہیں کیے جا سکتے۔

دونوں جہاں کی نعمتیں و سعادتیں اور حسنات و برکات چاہتے ہو تو آ جاؤ دربارِ اعظم کی طرف۔ ادھر ادھر گشت لگانا اور گھوم پھر کر وقت ضائع کرنا بے کار ہے۔ درود شریف کا ورد لازم کر لو، اور ہمیشہ تصورِ مصطفوی میں مستغرق رہو۔ وہ تصورات ہی مصدرِ برکات ہیں۔

وَمَا تَوْفِیْقِیْ اِلَّا بِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ :: وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ :: وَاٰلِہِ الْعَظِیْمِ

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!