| عنوان: | تقسیمِ وراثت کی اہمیت (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | ڈاکٹر مفتی محمد اسلم رضا میمن تحسینی |
| پیش کش: | نازیہ احمدی ضیائی |
بلاوجہ شرعی وراثت سے محروم کرنے کی بعض صورتیں
عزیزانِ من! بعض لوگ اپنی شخصی ناراضگی یا کسی دنیاوی مفاد کے پیشِ نظر، بلاوجہ شرعی اپنے کسی وارث کو جائیداد یا وراثت سے محروم کرنے کے لیے، اخبارات وغیرہ میں اشتہار شائع کر کے عاق کرتے ہیں، اور اس سے قطع تعلق کر لیتے ہیں، ایسا کرنا حرام ہے، حدیثِ پاک میں حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
مَنْ فَرَّ مِنْ مِّيْرَاثِ وَارِثِهٖ قَطَعَ اللهُ مِيْرَاثَهٗ مِنَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
"جو اپنے کسی وارث کو اس کی میراث سے محروم کرے گا، اللہ عزوجل اسے قیامت کے دن جنت کی میراث سے محروم کر دے گا۔" [سنن ابن ماجہ]
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رضی اللہ عنہ اس حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں کہ "اپنے وارث کو میراث سے محروم کرنے کی بہت صورتیں ہیں، مثلاً:
- کسی کو (اس نیت سے ہبہ) وصیت کرنا، تاکہ ورثہ کا حصہ کم ہو جائے،
- کسی کے لیے قرض کا جھوٹا اقرار کر لینا؛ تاکہ وارث کے حصے کم ہوں،
- (اپنی موت کے آثار دیکھ کر) بیوی کو طلاق دے دینا؛ تاکہ وہ وارث نہ بن سکے،
- اپنا کل مال کسی کو دے جانا؛ تاکہ وارثوں کو کچھ نہ ملے،
- کسی وارث کو قتل کرا دینا؛ تاکہ میراث نہ پا سکے، یا
- اپنے بچے کا انکار کر دینا کہ یہ بچہ میرا ہے ہی نہیں؛ تاکہ میراث نہ پا سکے،
- اپنی زندگی میں سارا مال برباد کر دینا؛ تاکہ وارثوں کے لیے کچھ نہ بچے وغیرہ۔
- بعض لوگ اپنے کسی بیٹے کو عاق کر دیتے ہیں، یا یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہماری میراث سے اسے کچھ نہ دیا جائے، ایسا کہنا محض بے کار بات ہے، اس سے وہ وارث محروم نہیں ہو گا۔
میراث سے محروم کرنے والی چیز مسلمان کے لیے صرف 3 ہیں:
- غلام ہونا (غلام کسی کا وارث بننے کا اہل نہیں)،
- قتل (یعنی اگر کوئی اپنے مورث مثلاً اپنے والد، والدہ یا شوہر وغیرہ کو قتل کر دے، تو قاتل کو اس کی وراثت میں سے حصہ نہیں دیا جائے گا)،
- اختلافِ دین (یعنی اگر مورث اور وارث دونوں الگ الگ دین پر ہوں، ان میں سے ایک مسلمان ہو، اور دوسرا کافر، تو مسلمان کافر کا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں بنتا)، ان کے سوا کسی اور وجہ سے (حقِ وراثت سے) محرومی نہیں ہو سکتی۔"
مالِ وراثت کی تقسیم میں پائی جانے والی چند کوتاہیاں
حضراتِ ذی وقار! وراثت کی تقسیم کے حوالے سے ہمارے معاشرے میں متعدد کوتاہیاں پائی جاتی ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
- ہمارے یہاں مالِ وراثت حکمِ شریعت کے مطابق تقسیم نہیں کیا جاتا، اسلامی تعلیمات کے مطابق حکم یہ ہے، کہ مالِ وراثت کو تقسیم کرنے سے قبل میت کے مال سے اس کے کفن دفن، مالی واجبات مثلاً قرض، تہائی مال تک وصیت یا مہر کی رقم وغیرہ ادا کی جائے، اور اس کے بعد مالِ وراثت تقسیم کیا جائے۔
- اسی طرح شرعی اعتبار سے میت کا چھوڑا ہوا تمام مال، مالِ وراثت ہے، چاہے وہ نقدی، سونا، چاندی، زمین و جائیداد اور مکان و دکان وغیرہ کسی بھی شکل میں ہو، لیکن عموماً یہ دیکھا گیا ہے کہ لوگ اس سلسلے میں بھی بہت کوتاہی اور لاپرواہی سے کام لیتے ہیں، اور چھوٹی موٹی چیزیں مثلاً سونے یا چاندی کی کوئی انگوٹھی، یا بوقتِ غسل میت کی جیب سے نکلنے والی تھوڑی بہت نقدی کو، مالِ وراثت میں شامل نہیں کرتے، اور جس کے ہاتھ لگتی ہے وہی اس کو استعمال کر لیتا ہے، شرعاً ایسا کرنا حرام ہے: کیونکہ وہ بھی مالِ وراثت ہے، اور اس میں بھی تمام ورثاء کا حق ہے۔
- بعض لوگ میت کے ذمے واجب الاداء قرض کی ادائیگی سے انکار کر دیتے ہیں، اور میت کا چھوڑا ہوا تمام مالِ وراثت باہم تقسیم کر لیتے ہیں، ایسا کرنا حرام ہے۔ اللہ رب العالمین نے وراثت کی تقسیم کا مرحلہ قرض کی ادائیگی اور وصیت کی تکمیل کے بعد رکھا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: مِنْۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُّوْصِيْ بِهَا أَوْ دَيْنٍ. [سورۃ النساء، آیت: 11] (حصوں کی تقسیم) میت کی وصیت اور دین (قرض) نکالنے کے بعد ہے۔
اسی طرح حضرت سیدنا حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ حضرت سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: وَإِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضٰى بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ. [سنن الترمذی] مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے (حصوں کی تقسیم اور) وصیت سے قبل قرض ادا کرنے کا حکم فرمایا۔ - کچھ لوگ جہیز کی شکل میں دی جانے والی اشیاء کو وراثت کا بدل سمجھ کر، اپنی بیٹیوں یا بہنوں کو وراثت سے اس کا حصہ نہیں دیتے، یہ خیال سراسر باطل ہے، لہٰذا اپنی بہن یا بیٹی کی شادی کے انتظامات میں جو اخراجات صرف کیے جائیں، یا اسے تحفے تحائف دیے جائیں، انہیں وراثت کا بدل ہرگز تصور نہ کیا جائے!
- یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے، کہ بعض خاندانوں میں عورت کو مختلف حیلے بہانوں سے، اس بات پر مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کے حق میں، اپنے حقِ وراثت سے دستبردار ہو جائے، اور انہیں اس کام کے لیے اتنا مجبور کر دیا جاتا ہے، کہ وہ چار و ناچار اپنا حق معاف کرنے ہی میں اپنی عافیت سمجھتی ہیں، ایسا کرنا بھی شرعاً گناہ اور بہنوں بیٹیوں کی شدید حق تلفی ہے۔
- بعض لوگ اس خیال سے مالِ وراثت تقسیم کرنے میں رکاوٹ بنتے ہیں، کہ موروثی جائیداد کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے، اور بیٹیوں کو دی جانے والی جائیداد یا مالِ وراثت کے، پرائے لوگ (یعنی شوہر اور اس کی اولاد) وارث بن جائیں گے۔ ایسا کرنا بھی قانونِ خداوندی سے بغاوت ہے، اپنے قلوب و اذہان کو وسیع کیجیے، اور یہ سوچیے کہ جو عورتیں ہمارے گھر کی بہو بیٹیاں بن کر آئی ہیں یا آئیں گی، وہ بھی تو اپنا حصہ لائیں گی، اس وقت ہمارا طرزِ عمل کیا ہوگا؟ کیا ہم اس مال کو واپس لوٹائیں گے؟ یا پھر خود اپنے استعمال میں لانے کو ترجیح دیں گے؟ ذرا نہیں پورا سوچیے! اور اللہ رب العالمین کے قانونِ وراثت اور اس میں پوشیدہ حکمتوں کو سمجھنے کی کوشش کریں!
دعا
اے اللہ! ہمیں دنیا و آخرت میں کامیابی و کامرانی سے ہمکنار فرما، ہمیں دوسروں کی حق تلفی سے بچا، مالِ وراثت کو حکمِ شریعت کے مطابق تقسیم کی توفیق عطا فرما، اپنے گھر کی خواتین کو ان کا شرعی حق ادا کرنے کی سعادت سے ہمکنار فرما، غریبوں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنے اور ان کی مدد کرنے کا جذبہ عطا فرما!
اے اللہ! ہمارے ظاہر و باطن کو تمام گندگیوں سے پاک و صاف فرما، اپنے حبیبِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات پر عمل کرتے ہوئے قرآن و سنت کے مطابق اپنی زندگی سنوارنے، سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سچی محبت اور اخلاص سے بھرپور اطاعت کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! ہمیں دینِ اسلام کا وفادار بنائے رکھ، ہمیں سچا پکا باعمل عاشقِ رسول بنا۔ ہماری صفوں میں اتحاد کی فضا پیدا فرما، ہمیں پنج وقتہ باجماعت نمازوں کا پابند بنا، اس میں سستی و کاہلی سے بچا، ہر نیک کام میں اخلاص کی دولت عطا فرما، تمام فرائض و واجبات کی ادائیگی بحسن و خوبی انجام دینے کی بھی توفیق عطا فرما، بخل و کنجوسی سے محفوظ فرما، خوش دلی سے غریبوں محتاجوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما۔
ہمیں ملک و قوم کی خدمت اور اس کی حفاظت کی سعادت نصیب فرما، باہمی اتحاد و اتفاق اور محبت و الفت کو مزید مضبوط فرما، ہمیں احکامِ شریعت پر صحیح طور پر عمل کی توفیق عطا فرما۔ ہماری دعائیں اپنی بارگاہِ بے کس پناہ میں قبول فرما، ہم تجھ سے تیری رحمتوں کا سوال کرتے ہیں، تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی و چھٹکارا چاہتے ہیں، ہم تجھ سے تمام بھلائیوں کے طلبگار ہیں، ہمارے غموں کو دور فرما، ہمارے قرضے اتار دے، ہمارے بیماروں کو شفایاب کر دے، ہماری حاجتیں پوری فرما!
اے رب! ہمارے رزقِ حلال میں برکت عطا فرما، ہمیشہ مخلوق کی محتاجی سے محفوظ فرما، اپنی محبت و اطاعت کے ساتھ سچی بندگی کی توفیق عطا فرما، خلقِ خدا کے لیے ہمارا سینہ کشادہ اور دل نرم فرما، الٰہی! ہمارے اخلاق اچھے اور ہمارے کام عمدہ کر دے، ہمارے اعمالِ حسنہ قبول فرما، ہمیں تمام گناہوں سے بچا، ہمارے فلسطینی و کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو آزادی عطا فرما، ہندوستان کے مسلمانوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت فرما، ان کے مسائل کو ان کے حق میں خیر و برکت کے ساتھ حل فرما۔
وَصَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلٰى خَيْرِ خَلْقِهٖ وَنُوْرِ عَرْشِهٖ، سَيِّدِنَا وَنَبِيِّنَا وَحَبِيْبِنَا وَقُرَّةِ أَعْيُنِنَا مُحَمَّدٍ، وَعَلٰى آلِهٖ وَصَحْبِهٖ أَجْمَعِيْنَ وَبَارَك وَسَلَّمَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ!
