Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

پیکر نور و حیا حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ|توحید احمد خاں رضوی

پیکر نور و حیا حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
عنوان: پیکر نور و حیا حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
تحریر: توحید احمد خاں رضوی
پیش کش: جامعہ تحسینیہ ضیاء العلوم، بریلی شریف
منجانب: تحسینی فاؤنڈیشن، بریلی شریف

پیکر نور و حیا حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

خلیفۂ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات بے شمار عظیم صفات کی حامل ہے۔ آپ جہاں شرم و حیا کے پیکر تھے وہی صبر و استقلال کے کوہ گراں بھی تھے۔ آپ کا شمار اپنی قوم کے افضل ترین لوگوں میں ہوتا تھا۔ آپ جاہ و حشمت کے مالک اور شیریں کلام والے تھے۔ مال ودولت اور ظاہری اسباب کی فراوانی تھی۔ قوم کے لوگ آپ کی عزت وتکریم کرتے۔

ولادت با سعادت اور قبول اسلام

حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ واقعہ فیل کے چھ سال بعد مکۂ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان حضرات میں سے ہیں جن کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسلام کی دعوت دی تھی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قدیم الاسلام ہیں یعنی ابتدائے اسلام ہی میں ایمان لے آئے تھے ۔ابن اسحاق رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق، حضرت علی اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہم کے بعد اسلام قبول کیا۔

ابن سعد رحمۃ اللہ علیہ محمد بن ابراہیم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب حلقہ بگوش اسلام ہوئے تو ان کا پورا خاندان بھڑک اٹھا یہاں تک کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا چچا حکم بن ابی العاص اس قدر ناراض اور برہم ہوا کہ آپ کو پکڑ کر ایک رسی سے باندھ دیا اور کہا کہ تم نے اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ کر ایک دوسرا نیا مذہب اختیار کرلیا ہے، جب تک کہ تم اس نئے مذہب کو نہیں چھوڑو گے ہم تمہیں نہیں چھوڑیں گے اسی طرح باندھ کر رکھیں گے۔ یہ سن کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:

وَاللَّهِ لَا أَدَعُهُ أَبَدًا وَلَا أُفَارِقُهُ

یعنی خدائے ذوالجلال کی قسم! مذہب اسلام کو میں کبھی نہیں چھوڑ سکتا اور نہ کبھی اس دولت سے دست بردار ہوسکتا ہوں، میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کرڈالو یہ ہوسکتا ہے مگر دل سے دین اسلام نکل جائے یہ ہرگز نہیں ہوسکتا، حکم بن ابی العاص نے جب اس طرح آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا استقلال دیکھا تو مجبور ہو کر آپ کو رہا کردیا۔ [تاریخ مدینہ و دمشق]

اسلام قبول کرنے کے بعد آپ رضی اللہ عنہ کی فروغِ اسلام کے لیے دی جانے والی قربانیاں اپنی مثال آپ ہیں۔ بئرِ رومہ خرید کر لوگوں کے لیے وقف کردینا، مسجد نبوی کی توسیع کے لیے زمین خریدنا، جملہ غزوات بالخصوص غزوہ تبوک کے موقع پر انفاق کی حد کردینا، قحط اور مالی مشکلات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر مال و دولت اور غلہ کے ڈھیر حضور کے قدموں میں نچھاور کردینا آپ کی انفرادی خصوصیات میں شامل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دنیا ہی میں جنت کی بشارت عطا فرمائی۔

نام و نسب

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام ”عثمان“ کنیت ابو عمر اور لقب ”ذوالنورین“ ہے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سلسلہ نسب اس طرح ہے، عثمان بن عفان بن ابوالعاص بن امیہ بن عبدشمس بن عبدمناف، یعنی پانچویں پشت میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سلسلۂ نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شجرۂ نسب سے مل جاتا ہے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نانی ام حکیم جو حضرت عبدالمطلب کی بیٹی تھی وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے والدِ گرامی حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک ہی پیٹ سے پیدا ہوئی تھیں، اس رشتہ سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی کی بیٹی تھیں، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیدائش عام الفیل کے چھ سال بعد ہوئی۔ [تاریخ الخلفاء، ص: 118]

حلیہ مبارکہ

حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قد درمیانہ تھا یعنی نہ آپ بہت لمبے تھے اور نہ پست قد۔ رنگ میں سفیدی کے ساتھ سرخی بھی شامل تھی۔ داڑھی بہت گھنی تھی، سر کے بال گھنگھرالو تھے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیاں نکاح میں آئیں

اللہ تعالیٰ کے نبی کا داماد ہونا ایک بہت بڑا مرتبہ ہے جو خوش نصیب انسانوں کو حاصل ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں جو خصوصیت اور انفرادیت خلیفۂ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حاصل ہے وہ دنیا کے کسی انسان کو حاصل نہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تک کسی کے نکاح میں نبی کی دو بیٹیاں نہیں آئیں ہیں لیکن حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نکاح میں صرف نبی نہیں بلکہ نبی الانبیاء اور سید الانبیاء حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیاں یکے بعد دیگرے نکاح میں آئیں ۔

یہی نہیں بلکہ خلیفۂ چہارم حضرت علی رضی اللہ عنه سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنا ہے کہ آپ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمارہے تھے کہ اگر میری چالیس لڑکیاں بھی ہوتیں تو یکے بعد دیگرے میں ان سب کا نکاح اے عثمان! تم سے کردیتا یہاں تک کہ کوئی بھی باقی نہ رہتی۔ [تاریخ الخلفاء، ص: 121]

ذو النورین لقب

حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک لقب ذو النورین (دو نور والا) ہے اس لقب کی وجہ بیان فرماتے ہوئے امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی سنن میں لکھا ہے کہ عبداللہ جعفی رحمۃ اللہ علیہ بیان فرماتے ہیں کہ مجھ سے میرے ماموں حسین جعفی رحمۃ اللہ علیہ نے دریافت کیا کہ تمہیں معلوم ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا لقب ذوالنورین کیوں ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علاوہ کسی شخص کے نکاح میں کسی نبی کی دو بیٹیاں نہیں آئیں، اسی لیے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ذوالنورین کہتے ہیں۔ [سنن الکبری للبیہقی، کتاب النکاح، رقم الحدیث: 13427]

نور کی سرکار سے پایا دو شالہ نور کا
ہو مبارک تم کو ذوالنورین جوڑا نور کا

فضائل و مناقب

احادیثِ کریمہ میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل کثرت سے بیان کیے گئے ہیں۔ ہم یہاں ان میں سے چند احادیث تحریر کر رہے ہیں۔

حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر نبی کا ایک رفیق ہوتا ہے اور جنت میں میرا رفیق عثمان رضی اللہ عنہ ہے۔ [ابن ماجہ، رقم الحدیث: 109]

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے بے شک عثمان جب جنت میں منتقل ہوگا تو پوری جنت اس کی وجہ سے چمک اٹھے گی۔ [المستدرک علی الصحیحین، رقم الحدیث: 4540]

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں سے سب سے زیادہ حیا دار عثمان بن عفان ہے۔ [حلیۃ الاولیاء]

حضرت عثمان غنی اور فکر آخرت

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ جب کسی قبر پر کھڑے ہوتے تو رونے لگتے یہاں تک کہ ان کی داڑھی تر ہو جاتی، ان سے پوچھا گیا کہ آپ جنت اور جہنم کا ذکر کرتے ہیں تو نہیں روتے اور قبر کو دیکھ کر روتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: “قبر آخرت کی پہلی منزل ہے، اگر وہ اس منزل پر نجات پا گیا تو اس کے بعد کی منزلیں آسان ہوں گی، اور اگر یہاں اس نے نجات نہ پائی تو اس کے بعد کی منزلیں اس سے سخت ہیں”، اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “میں نے کبھی قبر سے زیادہ ہولناک کوئی چیز نہیں دیکھی”۔ [سنن ابن ماجہ، کتاب الزہد، رقم الحدیث: 4267]

اللہ اکبر یہ وہ ہیں جنہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا ہی میں جنت کی بشارت دے دی تھی، ان کی آخرت کی فکر اور خوف خدا کا یہ عالم ہے کہ قبر پر کھڑے ہو کر اتنا روتے ہیں کہ داڑھی تر ہو جاتی ہے اور ایک ہم ہیں جو شب و روز گناہوں میں ملوث ہیں، پھر بھی خوف خدا میں آنسو نہیں بہاتے۔

دورِ خلافت

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یکم محرم الحرام 24 ہجری کو مسندِ خلافت پر فائز ہوئے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت میں افریقہ، ملکِ روم کا بڑا علاقہ اور کئی بڑے شہر فتح ہوئے اور اسلامی سلطنت کا حصہ بنے۔ 26 ہجری میں مسجدِ حرام کی توسیع فرمائی جبکہ 29 ہجری میں مسجدِ نبوی شریف کی توسیع کرتے ہوئے پتھر کے ستون اور ساگوان کی لکڑی کی چھت بنوائی۔

وصال مبارک

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بارہ سال مسند خلافت پر فائز رہ کر 18 ذوالحجۃ الحرام سن 35 ہجری میں بروزِ جمعہ روزے کی حالت میں تقریباً 82 سال کی طویل عمر پاکر نہایت مظلومیت کے ساتھ جامِ شہادت نوش فرمایا Extracted۔

شهادت کے بعد حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں فرماتے ہوئے سنا: بیشک! عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جنت میں عالیشان دولہا بنایا گیا ہے۔

وقت شہادت کے احوال

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارات سے آپ کو یقین تھا کہ میں جلد ہی شہادت سے سرفراز ہو جاؤں گا یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام کے بار بار اجازت طلب کرنے کے بعد بھی آپ نے باغیوں کو کچلنے کی اجازت نہیں دی۔ کم و بیش سات سو صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں آپ کی حفاظت پر مامور تھے۔

چالیس دن تک آپ کے گھر کا محاصرہ کیا گیا لیکن قربان جائیے آپ کی شان استغنائی پر کہ خندہ پیشانی سے بھوک و پیاس برداشت کرتے رہے مگر صبر و استقامت کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ آپ کے خادم حضرت مسلم فرماتے ہیں کہ آپ نے اپنے بیس غلاموں کو آزاد کر دیا، ایک پاجامہ منگوایا اور زیب تن فرما لیا۔ ایسا لباس آپ نے نہ کبھی زمانہ جاہلیت میں زیب تن فرمایا نہ کبھی دور اسلام میں۔ پھر فرمایا:

میں نے گزشتہ رات حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابو بکر و عمر بھی تھے۔ وہ سب کہنے لگے: اے عثمان صبر کرو، تم کل افطار ہمارے ساتھ کرو گے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے مصحف منگوایا اور اسے کھول کر تلاوت کرنے لگے۔ اسی درمیان آپ کو شهید کر دیا گیا۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!