| عنوان: | خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی مومنانہ بصیرت اور اخلاق کریمانہ |
|---|---|
| تحریر: | حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی |
| پیش کش: | زیبا رضویہ |
خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی مومنانہ بصیرت اور اخلاقِ کریمانہ
عطائے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، سلطان الہند “غریب نواز” حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری سنجری رحمۃ اللہ علیہ ماہ ذی الحجہ ۵۳۷ھ / ۱۱۴۸ء مکہ مکرمہ کی حاضری کے بعد مدینہ طیبہ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچے ہیں، وہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اپنے دیدار سے مشرف فرمایا اور ایک نظر میں مشرق سے لے کر مغرب تک سارے عالم کو دکھایا اور ہندوستان میں دین اسلام کی تبلیغ کا حکم فرمایا۔
خواجہ “غریب نواز” نے حکم کی تعمیل فرمائی اور اپنے ساتھ چالیس اولیائے کرام کو لے کر بغداد ہوتے ہوئے لاہور سے ہو کر دہلی تشریف لائے۔ لمبے سفر سے آپ کے پیروں میں سوجن اور چھالے پڑ گئے تھے، اس وقت آپ کی عمر تقریباً چالیس سال تھی۔
آپ نے دہلی میں راجہ کھانڈے راؤ کے محل کے سامنے ایک مندر کے پاس قیام فرمایا، اپنی مومنانہ بصیرت و اعلیٰ اخلاقِ کریمانہ سے لوگوں کو سادہ اور سیدھی نصیحتیں دینے لگے۔ کھانڈے راؤ کے کاری گروں اور بہت سے راجپوتوں نے آپ کے حسنِ اخلاق سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ پھر آپ نے یہ ذمہ داری اپنے خلیفہ حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کے سپرد کر کے آپ ۱۱۹۲ء کو اجمیر تشریف لے آئے۔
دین اسلام کے پھیلانے میں آپ کی جدوجہد کی بہت بڑی داستان ہے جس پر ضخیم کتابیں موجود ہیں، اور آپ کی بے شمار کرامتیں ہیں جن پر کتابیں موجود ہیں، میرا مقصد آپ کی مومنانہ بصیرت اور اخلاقِ کریمانہ پر مختصر روشنی ڈالنا ہے، جو آج کی اہم ضرورت ہے۔ آج جو ان کے نام کی روٹیاں کھا رہے ہیں وہ بھی مومنانہ بصیرت سے دور و اخلاق سے خالی ہیں، بزرگوں کی سیرت ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے اس پر عمل کر کے ہی ہم سچے مسلمان بن سکتے ہیں۔
بصیرت اور مومن لازم و ملزوم
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَتَّقُوا اللّٰهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۗ وَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ [سورۃ الانفال: 29]
ترجمہ: اے ایمان والو! اگر تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو گے (تو) وہ تمہارے لیے حق و باطل میں فرق کرنے والی قوت (وبصیرت) مقرر فرما دے گا اور تمہارے (دامن) سے تمہارے گناہوں کو مٹا دے گا، اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔
تقویٰ (اللہ سے ڈر) کی خاصیت ہے کہ وہ انسان کو ایسی سمجھ عطا کر دیتا ہے جو حق اور ناحق میں تمیز کرنے کی اہلیت رکھتی ہے اور گناہ کی ایک خاصیت یہ ہے کہ وہ انسان کی عقل خراب کر دیتا ہے جس سے وہ اچھے کو برا اور برے کو اچھا سمجھنے لگتا ہے۔ جو اللہ سے ڈرے اور اس کے حکم پر چلے تو اللہ تعالیٰ اسے تین خصوصی انعام عطا فرمائے گا۔ پہلا اسے فرقان (حق و باطل میں فرق کرنے والا علم عطا فرمائے گا، یعنی فراست ایمانی، دل کو ایمانی نور عطا فرمائے گا)۔ مومن کی فراست ایمانی کے بارے میں حدیث کا مطالعہ فرمائیں۔
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اتَّقُوا فِرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ فَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُورِ اللّٰهِ. [جامع الترمذي، رقم الحديث: 3254]
ترجمہ: مومن کی فراست ایمانی سے ڈرو، وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔
خواجہ غریب نواز کی دینی بصیرت اور انا ساگر
اللہ تعالیٰ نے خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کو بصیرت کی دولت سے مالا مال فرمایا تھا۔ انا ساگر، وہی انا ساگر جو سلطان الہند خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے کوزے میں سما گیا، یہ بہت مشہور واقعہ ہے۔ اجمیر میں واقع ایک مصنوعی جھیل ہے جسے پرتھوی راج چوہان کے دادا اناجی چوہان نے ۱۱۳۵ء سے ۱۱۵۰ء کے دوران بنوایا تھا، ساگر ہندی میں سمندر کو کہتے ہیں اسے اناجی چوہان نے بنوایا تھا اسی لیے اس کا نام ”انا ساگر“ ہوا، ہندوستان کی چند خوبصورت جھیلوں میں سے ایک ہے۔
ایک بار آپ نے اپنے خادم کو پانی لانے کو کہا، جب خادم انا ساگر پہنچا تو دیکھا کہ وہاں راجپوت سپاہیوں کا پہرہ ہے۔ جب خادم نے پانی لینا چاہا تو سپاہیوں نے کہا: تم یہاں سے پانی نہیں لے سکتے۔ خادم نے واپس آکر ساری صورت حال خواجہ غریب نواز کی بارگاہ میں گوش گزار کی۔ اس پر آپ نے فرمایا، یہ کورا کوزہ لے جاؤ اور ان سے کہو ہم زیادہ پانی نہیں لیتے صرف یہ کوزہ بھرنے کی اجازت دے دو۔
خادم کوزہ لے کر وہاں پہنچا اور اجازت طلب کی۔ سپاہیوں نے سوچا ایک کوزہ ہی تو ہے، لے جانے دو۔ انھوں نے اجازت دے دی اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ بس یہی کوزہ، اس کے بعد پانی لینے نہ آنا۔ جب خادم نے کوزہ پانی میں ڈالا تو اگلا قدم سیٹھریا انا ساگر کوزہ میں سما چکا تھا۔ خواجہ غریب نواز نے اپنے کوزے میں انا ساگر کے سارے پانی کو سمیٹ کر اپنی کرامت کا سکہ دلوں بٹھا دیا، چاروں طرف ہاہا کار مچ گیا لوگ اور جانور پیاس سے پریشان ہونے لگے۔ آپ نے پھر وہی پانی اللہ کی مخلوق کی ضرورتوں، پیاس بجھانے کے لیے انا ساگر میں واپس کر دیا۔ آپ کے اس عمل سے وہاں کے لوگوں میں آپ کی رحم دلی کا سکہ بیٹھ گیا (دشمنوں کو پیار سے رام کرنا اللہ والوں کا وطیرہ رہا ہے)۔ اس واقعہ کے بعد لوگ جوق در جوق اسلام قبول کرنے لگے۔ آپ کی رحم دلی نے لوگوں کے دلوں کو اپنی طرف اور اسلام کی طرف متوجہ کیا، یہ ہے مومن کی بصیرت۔ بہت سے واقعات ہیں جن سے ہمیں سبق لینا چاہیے۔
خواجہ غریب نواز کی غریب نوازی سے میں بھی مالا مال ہو جاؤں آپ کی بارگاہ میں استغاثہ پیش ہے۔
میرا بگڑا وقت سنوار دے
میرے خواجہ مجھ کو نواز دے
تری اک نگاہ کی بات ہے
میری زندگی کا سوال ہے
بڑے بڑے سلطانِ زمانہ آپ کی بارگاہ میں حاضری دے کر اپنے لیے خزانے سمیٹتے ہیں، آپ اپنے، بیگانوں سب کو دینی و دنیاوی دو خزانوں سے مالا مال فرماتے ہیں۔ پرتھوی راج نے آپ پر بے شمار مظالم کے پہاڑ توڑے لیکن قربان جائیے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر کہ ہندوستان جا کر اسلام پھیلاؤ، اس حکم پر آپ نے کتنے صبر و استقلال سے عمل کیا۔
پرتھوی راج نے حکم دیا کہ اجمیر سے نکل جاؤ، ۱۸ ہزار عالمین کا مشاہدہ فرمانے والے خواجہ غریب نواز نے اپنی مومنانہ بصیرت سے مومنانہ جلال میں آکر پرتھوی راج کے بارے میں فرمایا: ”میں نے پرتھوی راج کو زندہ سلامت لشکرِ اسلام کے سپرد کیا۔“ آپ کا فرمان سو فیصد صحیح ثابت ہوا، تیسرے ہی روز فاتح ہندوستان شہاب الدین غوری کے لشکر نے ہندوستان پر لشکر کشی اور پرتھوی راج کے لشکر سے زبردست جنگ کی اور فتح حاصل کر کے پرتھوی راج کو گرفتار کر کے واصل جہنم کیا۔ اسی لیے آپ کو ہندوستان و پاکستان کا اصل بادشاہ کہا اور مانا جاتا ہے۔
خواجہ غریب نواز کا اخلاقِ کریمانہ
جب سے دنیا قائم ہے اس وقت سے آج تک ہر دور میں کسی نہ کسی علاقے میں کوئی اللہ کا بندہ ایسا ضرور ہوتا رہا ہے جس نے انسانوں کی سیرت و کردار کی تعمیر کی اور محبت کا پیغام دیا۔ اللہ کے نیک بندوں نے انسانوں کو ہمیشہ اخلاقی تعلیم سے سرفراز کیا، ان میں حضور خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ بھی صفِ اول میں نظر آتے ہیں۔ اسلام اپنی اخلاقی تعلیمات کی وجہ سے پھیلا اور پھلتا رہے گا۔ جنگ بدر کے قیدیوں سے حسنِ سلوک ہو یا فتح مکہ کے بعد دشمنوں کو عام معافی دینا۔ صوفیائے کرام کی اخلاقی قدروں نے اسلام کو پھیلانے میں نمایاں کردار ادا کیا، بے شمار واقعات تاریخ کے صفحات میں موجود ہیں۔
خواجہ غریب نواز کے اخلاقِ کریمانہ نے اسلامی تعلیمات کا عملی نمونہ پیش کیا، ہر خاص و عام، ہر مذہب کے لوگوں پر آپ کی محبت، شفقت و اخلاقِ کریمانہ کی مسلسل بارش ہوتی رہی تبھی تو ہندوستان کے بت پرستی بھرے ماحول میں بھی لاکھوں لاکھ لوگوں کا اسلام قبول کرنا نہایت بڑی بات ہے۔ دلوں پر زبردستی نہیں محبت سے قبضہ کیا جاتا ہے، یہ کام صوفیائے کرام نے بخوبی کیا اور خواجہ غریب نواز نے بدرجہ اتم کیا، تبھی تو آپ کو غریب نواز جیسے اعلیٰ خطاب سے آج تک یاد کیا جاتا ہے۔
حدیثِ پاک میں ہے کہ سب سے افضل عمل حسنِ خلق ہے اور سب سے بڑی نحوست بد خلقی ہے۔ اچھے خلق اور سخاوت سے ایمان مضبوط ہوتا ہے اور بد خلقی و کنجوسی سے کفر ترقی کرتا ہے، انسان کا ظاہری لباس کپڑا ہے اور اندرونی لباس حسنِ اخلاق ہے۔ قیامت کے دن حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب وہ شخص ہو گا جو خوش اخلاق ہوگا۔ اخلاق کے بغیر انسان ایک حیوان ہے، زندگی کے ہر شعبے میں حسنِ اخلاق کی اہمیت ہے۔
آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے:
إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ. [مسند أحمد، رقم الحديث: 2730]
میں اخلاق کی تعلیم کو مکمل کرنے کے لیے آیا ہوں۔ نبی، رسول، پیغمبر جیسے عہدۂ جلیلہ پر فائز ہوتے ہوئے بھی نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمنوں کو معاف فرمایا بچوں، عورتوں، بوڑھوں پر شفقت فرمائی تو لوگوں نے جوق در جوق اسلام قبول کیا۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے ضعیف (بوڑھے) والد جو نابینا تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں بیعت کے لیے گود میں لے کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں آپ نے کیوں تکلیف دی؟ میں خود ان کے پاس چلا آتا۔ [حدیث]
اللہ رب العزت کی خوشنودی اور مخلوق میں ہر دل عزیز بننے کا شرف اس کو اللہ عطا فرماتا ہے جو با اخلاق ہو۔ خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ خود دور دور تک دشوار گزار راستوں پر چلتے، میلوں سفر کرتے لوگوں کو اسلام کی دعوت دیتے، لوگوں سے اخلاق سے ملتے اور امیر غریب، بوڑھوں، کمزوروں سب سے یکساں پیار بھرا سلوک کرتے۔
جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے خبر دی میری والدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں میرے پاس آئیں، وہ اسلام سے منکر تھیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کر سکتی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔ [صحيح البخاري، رقم الحديث: 5899]
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیتِ کریمہ نازل فرمائی:
لَا يَنْهَاكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ ۚ إِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ [سورۃ الممتحنہ: 8]
ترجمہ: اللہ تمہیں ان سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین میں نہ لڑے اور تمھارے گھروں سے نہ نکالا کہ ان کے ساتھ احسان کرو اور ان سے انصاف کا برتاؤ کرو، بیشک انصاف والے اللہ کو محبوب ہیں۔
یعنی جو غیر مسلم مسلمانوں سے نہ جنگ کرتے ہیں، اور نہ انہیں کوئی اور تکلیف دیتے ہیں، ان سے اچھا برتاؤ اور نیکی کا سلوک اللہ تعالیٰ کو ہرگز ناپسند نہیں ہے، بلکہ انصاف کا مطالبہ ہے کہ غیر مسلم کے ساتھ بھی واجب ہے۔ آپ کے حسنِ سلوک اور محبتِ شاقہ سے ہی ہندوستان میں اسلام پھیلا، آپ کی سیرت ہمارے لئے مشعلِ راہ ہے۔
افسوس آج ان کے نام کی حقانیت سے سجائے ہوئے موٹے موٹے گدی نشینوں میں براجمان لوگ ان کی تعلیمات پر کتنا عمل کر رہے ہیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ ڈاکٹر اقبال نے اسی مناسبت سے کہا ہے کہ:
نذرانہ نہیں سود ہے پیرانِ حرم کا
ہر خرقۂ سالوس کے اندر ہے مہاجن
میراث میں آئی ہے انہیں مسندِ ارشاد
زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن
یہ ان سے محبت نہیں یہ تو عداوت ہے، افسوس ان پر بھی ہے جو آج خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے کشف و کرامات اور دینِ اسلام کی اشاعت میں ان کی خدمات کے منکر ہیں، دونوں مجرم ہیں، اللہ کے وہاں پکڑے جائیں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ ملکی حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے برادرانِ وطن سے بھی اخلاقِ رابطہ بڑھائیں ان کو اسلامی تعلیمات سے آگاہ کریں یہ ہمارا دینی فریضہ بھی ہے اور ان کے سامنے اخلاق کا پیکر بن کر اسلامی تعلیمات ان تک پہنچائیں، خود بھی اسلام پر عمل کریں تبھی اسلام کا، مسلمانوں کا بھلا ہو گا اور امن و امان قائم ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ہم تمام مسلمانوں کو خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق دے، آمین ثم آمین۔
