| عنوان: | حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شخصیت اور افکار کا مختصر تحقیقی مطالعہ (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی محمد احکام چشتی مصباحی |
| پیش کش: | اختری |
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شخصیت اور افکار کا مختصر تحقیقی مطالعہ (قسط اول)
صحابہ کرام کی جماعت میں حضرت معاویہ ابن ابی سفیان کی ذات ستودہ صفات بہت ہی مشہور و متعارف اور بڑی فضیلت کی حامل ہے۔ تمام ظاہری و باطنی خوبیوں سے آراستہ، قد آور، معزز، اور جلیل القدر صحابی رسول تھے۔ آپ بعثت نبوی سے پانچ برس پیشتر پیدا ہوئے، اور صلح حدیبیہ کے دن ٧ھ میں مشرف بہ اسلام ہوئے، تاہم اپنے والد اور دیگر کفار مکہ کے خوف سے اپنا اسلام ظاہر نہ کیا یہاں تک کہ فتح مکہ کے روز باقاعدہ اپنے ایمان و اسلام کا اعلان فرمایا، اس پر آقائے کائنات ﷺ کافی خوش ہوئے۔
امام ذہبی ابن سعد کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ اپنے قبولِ اسلام کے بارے میں فرماتے تھے: “حدیبیہ والے سال جب کافروں نے سرکار کو عمرہ کرنے سے روک دیا اور دونوں فریق کے در میان ایک معاہدہ لکھا گیا اسی وقت اسلام میرے دل میں بس گیا تھا میں نے اپنی والدہ سے اس کا ذکر کیا، تو والدہ نے کہا باپ کی مخالفت کرنے سے بچو، پھر میں نے اسلام چھپا لیا۔ تو خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس وقت رسول اللہ ﷺ حدیبیہ سے واپس آئے اس وقت میں آپ کی تصدیق کرنے والا تھا۔ اور جب آپ عمرہ قضا کے لیے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اس وقت بھی مسلمان تھا، یہاں تک کہ میں نے اپنا اسلام فتح مکہ کے روز ظاہر کیا تو نبی کریم ﷺ خوش ہوئے اور میرے لیے مرحبا فرمایا۔” [سیر اعلام النبلاء، ترجمہ معاویہ ابن ابی سفیان]
آپ کا نسب باپ کی طرف سے اس طرح ہے: معاویہ بن ابی سفیان صخر بن حرب بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف القرشی الاموی۔ [الاصابہ، ج: ۲، ص: ۱۲۰] اور آپ کا نسب ماں کی طرف سے اس طرح ہے: معاویہ بن ہند بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس بن عبد مناف۔
اس طرح پانچویں پشت میں آپ کا نسب نبی کریم ﷺ کے نسب سے مل جاتا ہے۔ اس لحاظ سے آپ حضور ﷺ کے خاندانی اور قریبی رشتہ دار ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کے سالے بھی تھے، نہایت وجیہ، خوبصورت، گورے، دراز قامت، خوش اخلاق، مدبر اور دین کے ہم درد تھے۔ تواضع، خاکساری، سخاوت و فیاضی، برد باری، وقار اور متانت آپ کے فطری اوصاف تھے۔ امام ابن کثیر نے فرمایا:
كَانَ حَلِيماً وَقُورًا رَئِيسًا سَيِّدًا فِي النَّاسِ كَرِيمًا عَادِلًا شَحْمًا. [البداية والنهاية، ج: 3، ص: 336]
ترجمہ: حضرت معاویہ نہایت برد بار، پروقار، رئیس، سردارِ قوم، کریم، عادل، اور فربہ تھے۔
آپ کے دین، تقوی، صلاح اور امانت داری پر نبی کریم ﷺ کو زبردست اعتماد تھا یہی وجہ ہے کہ دین کی امانت وحی لکھنے کا کام جن خوش نصیبوں کے سپرد فرمایا تھا ان میں آپ کا نام نامی بھی سرفہرست ہے۔ کاتب وحی ہونے کا شرف اپنے آپ میں ایک بہت بڑا اعزاز تھا، اس پر مستزاد یہ کہ مختلف احادیث میں سرکار ﷺ نے آپ کے گوناگوں فضائل و مناقب بہت ہی واضح انداز میں بیان فرمائے ہیں، ان روایات سے آپ کی پاک طینت اور بے شمار اوصاف و کمالات سے آراستہ چمکتی دمکتی شخصیت نکھر کر سامنے آجاتی ہے، جس کی نوری شعائیں قلب و ذہن کے بیماروں کا مداوا بن سکتی ہیں۔ آپ کی تابناک شخصیت کے خدوخال آشکارا کرنے والی چند روایات پیش خدمت ہیں:
-
حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک روز جبرئیل علیہ السلام حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا:
يَا مُحَمَّدُ ﷺ أَقْرِئْ مُعَاوِيَةَ السَّلَامَ وَاسْتَوْصِ بِهِ خَيْرًا، فَإِنَّهُ أَمِينُ اللّٰهِ عَلَىٰ كِتَابِهِ وَوَحْيِهِ وَنِعْمَ الْأَمِينُ. [البداية والنهاية، ج: 3، ص: 337]
ترجمہ: ایک روز حضرت جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ معاویہ سے سلام کہیے اور آپ ان کو بھلائی کی تاکید کیجیے کیوں کہ وہ اللہ کی کتاب اور وحی پر اس کے امین ہیں۔ اور کیا ہی بہتر امین ہیں۔
-
حضرت عرباض بن ساریہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اللّٰهُمَّ عَلِّمْ مُعَاوِيَةَ الْكِتَابَ وَالْحِسَابَ وَقِهِ الْعَذَابَ. [مسند أحمد]
ترجمہ: اے پروردگار! تو معاویہ کو حساب و کتاب کا علم عطا فرما اور عذاب سے محفوظ فرما۔
-
حضرت عبد الرحمن بن عمیر سے مروی ہے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے حضرت معاویہ کا ذکر کیا تو فرمایا:
اللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا وَمَهْدِيًّا وَاهْدِ بِهِ. [جامع الترمذي، كِتَابُ الْمَنَاقِبِ، بَابُ ذِكْرِ مُعَاوِيَةَ]
ترجمہ: یا اللہ تو معاویہ کو رہبر و راہ یاب اور بندوں کے لیے ذریعہ ہدایت بنادے۔
-
حضرت عبداللہ بن بسر سے روایت ہے کہ کسی معاملے میں سرکار ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے کسی معاملے میں مشورہ کیا فرمایا تم دونوں مجھے مشورہ دو، تو آپ سے ان دونوں حضرات نے بیک زبان فرمایا “اللّٰهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ”، تو سرکار ﷺ نے فرمایا معاویہ کو بلاؤ تو حضرت عمر و ابوبکر نے فرمایا: کیا رسول اللہ ﷺ اور قریش کے دو مردوں میں یہ قوت نہیں کہ اپنے معاملے کا مضبوط فیصلہ کر سکیں کہ سرکار قریش کے ایک بچے کو بلا رہے ہیں؟ تو پھر فرمایا ہاں معاویہ کو میرے پاس بلا لاؤ جب وہ حاضر بارگاہ ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
أَحْضِرُوهُ أَمْرَكُمْ وَأَشْهِدُوهُ أَمْرَكُمْ فَإِنَّهُ قَوِيٌّ أَمِينٌ. [تاريخ دمشق لابن عساكر، ج: 16، ص: 287]
ترجمہ: اپنا معاملہ ان کے پاس حاضر کرو اور اپنے معاملے پر ان کو گواہ بناؤ کیوں کہ یہ بہت زبردست امانت دار ہیں۔
-
حضرت ابن ملیکہ سے مروی ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے عشا کے بعد ایک رکعت وتر پڑھی ان کے پاس حضرت عبداللہ ابن عباس کے خادم موجود تھے، تو انہوں نے آکر حضرت عبداللہ ابن عباس سے عرض کیا کہ امیر معاویہ نے عشا کے بعد ایک رکعت وتر پڑھی، تو حضرت عبداللہ ابن عباس نے فرمایا:
دَعْهُ فَإِنَّهُ قَدْ صَحِبَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: أَصَابَ إِنَّهُ فَقِيهٌ. [صحيح البخاري، كِتَابُ الْمَنَاقِبِ، بَابُ ذِكْرِ الْمُعَاوِيَةَ]
ترجمہ: ان کو چھوڑ دو کیوں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں۔ اور ایک روایت کے مطابق حضرت عبداللہ نے یہ فرمایا انہوں نے درست کیا کیوں کہ وہ مجتہد ہیں۔
-
حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ میں اور دو دیگر صحابی سرکار ﷺ کے ساتھ تھے اسی اثنا میں سرکار نے فرمایا:
لَوْ كَانَ عِنْدَنَا مُعَاوِيَةُ لَشَاوَرْنَاهُ فِي بَعْضِ أَمْرِنَا، إِنَّهُ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنْ أُشَاوِرَ ابْنَ أَبِي سُفْيَانَ فِي بَعْضِ أَمْرِي. [ابن عساكر بِحَوَالَةِ حَاشِيَةِ البداية والنهاية، ص: 338]
ترجمہ: اگر معاویہ ہمارے پاس ہوتے تو ہم ان سے اپنے بعض معاملات میں مشورہ کرتے کیوں کہ مجھے وحی کی گئی ہے کہ میں ابی سفیان کے بیٹے سے اپنے بعض معاملات میں مشورہ کروں۔
ان آثارِ روایات سے پورے آب و تاب کے ساتھ یہ حقیقت آشکارا ہو جاتی ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بڑی عظیم شخصیت کے مالک تھے۔ قرآن کریم کے مفسر، فقیہ، مجتہد، حساب داں اور رسول کی مستجاب دعا کے مطابق کسی بھی لغزش پر اللہ کی گرفت اور عذاب سے محفوظ و مامون تھے۔ ذہانت، فطانت، بصیرت، فراست، حسن تدبیر، معاملہ فہمی، اور صائب رائی میں اس بلند مقام پر فائز تھے کہ پیغمبر اعظم ﷺ معاملات میں اکابر صحابہ کی موجودگی میں آپ سے مشورہ لیا کرتے تھے، اور آپ کی دانش و بینش پر کامل اعتماد فرماتے تھے۔
آپ کی شخصیت پر نہ عہد صحابہ میں کسی کو کلام تھا نہ بعد میں کسی کو رہا۔ صحابہ میں آپ کی مقبولیت اور عظیم الشان صحابہ کا آپ کی عدالت و ثقاہت پر ایسا ہی اعتماد تھا جس طرح دیگر صحابہ پر تھا یہی وجہ ہے کہ نصف درجن سے زائد صحابہ کرام نے آپ سے حدیث سماعت کی ہے جن میں حضرت عبداللہ بن عباس، جریر بجلی، معاویہ بن خدیج، سائب بن یزید، عبداللہ بن زبیر، نعمان بن بشیر و غیرہ جیسے موقر صحابہ کرام شامل ہیں، تابعین میں عبداللہ بن حارث، قیس بن ابی حازم، سعید ابن مسیب، ابو ادریس خولانی وغیرہم نے آپ سے اخذ حدیث کیا ہے۔ [الاصابہ فی تمییز الصحابہ، ج: ٦، ص: ۱۲۲]
اور پورے اعتبارِ وثوق کے ساتھ ان احادیث کو روایت بھی کیا ہے۔ اپنے اپنے وقت کے یگانہ روزگار، ائمہ شان، فن حدیث کے ماہر اور نقاد محدثین نے بھی آپ کی روایت کردہ احادیث کو اپنی صحاح میں درج فرمایا اور بہ سر و چشم قبول فرمایا ہے، جبکہ محدثین کا مزاج اخذ احادیث کے سلسلے میں کیا ہے یہ اہل علم پر پوشیدہ نہیں ہے۔ غرض کہ ان ثبوتوں کی بنیاد پر پورے وثوق کے ساتھ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ حضرت معاویہ کی شخصیت بہت ہی متنوع خوبیوں کی حامل تھی، اور اپنے اوصاف و کمالات اور احوال و کردار کے لحاظ سے بالکل بے داغ تھی۔
حضرت علی سے متعلق آپ کا نظریہ
مولاے کائنات حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شخصیت آپ کی نظر میں بڑی موقر، معزز اور مکرم تھی، ہمیشہ ان کو اپنے سے بلند مرتبہ اور عظیم الشان جانتے مانتے تھے، ان کی تعریف و توصیف میں شب و روز رطب اللسان رہتے تھے، ان کے ادب و احترام اور تعظیم و توقیر میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ فرماتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے آپ کی عقیدت و محبت کا حال یہ تھا کہ بارہا آپ کے دربار میں صرف حضرت علی کی عظمت و شان بیان کرنے کے لیے مجالس سجائی جاتی تھیں۔ شعرا حضرت علی کی شان و شوکت اور عظمت و جلالت سے لبریز اشعار سناتے، آپ ان کے اشعار سن کر مست ہو جاتے اور بسا اوقات اس قدر باغ باغ ہو جاتے کہ شاعر کو لاکھوں لاکھ انعام و اکرام سے نوازتے۔
-
ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حاضرین مجلس سے فرمایا:
مَنْ أَنْشَدَ شِعْرًا فِي مَدْحِ عَلِيٍّ كَمَا يَلِيقُ بِهِ أَعْطَيْتُهُ لِكُلِّ بَيْتٍ أَلْفَ دِينَارٍ. [النَّاهِيَةُ، ص: 29]
ترجمہ: جو شخص حضرت علی کی شان میں ان کے شایان شان اشعار کہے میں اسے ہر شعر پر ہزار دینار دوں گا۔ بر وقت موجود شعرا نے مولائے کائنات کی شان میں اشعار کہے، اور خوب خوب انعام حاصل کیے، حضرت معاویہ ہر شعر پر فرماتے تھے “عَلِيٌّ أَفْضَلُ مِنْهُ، عَلِيٌّ أَفْضَلُ مِنْهُ”، علی اس سے افضل ہیں علی اس سے افضل ہیں۔ اسی مجلس میں حضرت علی کی شان میں حضرت عمرو بن عاص کا ایک شعر اتنا زیادہ پسند آیا کہ ایک ہی شعر پر ان کو سات ہزار دینار دیے۔
-
ایک مرتبہ حضرت معاویہ کے دربار میں حضرت علی کا ذکر ہوا تو حضرت معاویہ نے فرمایا علی شیر دل تھے، چودھویں رات کے چاند تھے، رحمت الہی کی بارش تھے، حاضرین میں سے کسی نے پوچھا آپ افضل ہیں یا علی؟ تو آپ نے فرمایا کہ حضرت علی کے قدم ابو سفیان کی آل سے افضل ہیں۔ [الناہیہ، ص: ۲۸، ۲۹]
-
ایک مرتبہ ایک شخص نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے ایک مسئلہ دریافت کیا تو آپ نے فرمایا حضرت علی سے مسئلہ معلوم کر لو کیوں کہ وہ مجھ سے بڑے عالم ہیں اس نے کہا آپ مسئلہ بتا دیجیے مجھے آپ کا جواب زیادہ پسند ہے، حضرت معاویہ نے فرمایا تو نے بہت بری بات کہی کیا ان سے نفرت کرتا ہے جن کی توقیر خود نبی کریم ﷺ فرماتے تھے، ان کے کمال علم کی بنا پر اور جس کے بارے میں سرکار ﷺ نے فرمایا اے علی تم میرے لیے ایسے ہی ہو جیسے موسیٰ علیہ السلام کے لیے ہارون علیہ السلام، مگر میرے بعد نبی نہیں، اور جس علی کی عظمت کا حال یہ تھا کہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو کوئی مشکل درپیش ہوتی تو حضرت علی سے حل کراتے۔ حضرت امیر معاویہ نے اس شخص سے فرمایا میرے پاس سے اٹھ کر چلے جاؤ، اور اس کا نام وظیفہ کے دفتر سے خارج کر دیا۔ [مسند احمد، بحوالہ الناہیہ، ص: ۲۷]
-
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو جب یہ خبر پہنچی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خود شیعانِ علی میں سے ایک شخص نے شہید کر دیا، تو آپ بے اختیار زار و قطار رونے لگے آپ کی زوجہ نے حیران و پریشان ہو کر وجہ دریافت کی تو فرمایا آج دنیا کا سب سے بڑا عالم شہید ہو گیا۔ [البدایہ والنہایہ، ج: ٤، ص:۵٢٦]
-
جنگِ صفین کے دوران قیصر روم نے حضرت علی اور معاویہ کے باہمی اختلاف کا فائدہ اٹھانے کے لیے حضرت امیر معاویہ کی امداد کی پیش کش کی اور ایک خط بھیجا تو اس کے جواب میں حضرت معاویہ نے فرمایا: اے ملعون! خدا کی قسم اگر تو باز نہ آیا اور اپنے علاقے میں واپس نہ گیا تو میں علی کے ساتھ صلح کرلوں گا، اور تجھے تیرے تمام شہروں سے نکال دوں گا، اور زمین کے اس قدر وسیع ہونے کے باوجود تجھ پر تنگ کردوں گا۔ [البدایہ والنہایہ، ۵١٤/٤]
ان شواہد کی روشنی میں یہ بات کہنا بالکل بجا ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا سینہ خانوادہ نبوت اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت کا گنجینہ تھا، ان سے آپ کی الفت و وارفتگی سچی اور مخلصانہ تھی اور مولائے کائنات کے حوالے سے ایک صحابی رسول اور عاشقِ صادق کے جو پاکیزہ افکار و خیالات ہونے چاہیے وہ آپ کے اندر بدرجہ اتم و احسن موجود تھے۔
خاندان علی سے متعلق آپ کا نظریہ
حضرت امیر معاویہ جس طرح مولائے کائنات کا خیال رکھتے تھے اور ان کے تقدس کے گن گاتے تھے یوں ہی ان کی اولاد امجاد اور عزیز و اقارب سے بھی والہانہ محبت فرماتے تھے اور حد درجہ ان کا اعزاز و اکرام فرماتے تھے۔ اور ان کے فضائل و مناقب پر مشتمل احادیث و روایات بڑے جوش و خروش اور رقت آمیز لہجے میں بیان کرتے تھے، چنانچہ آپ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم ﷺ حضرت حسن کی زبان اور ہونٹوں کو چوسا کرتے تھے اور پھر فرماتے اللہ اس زبان اور ہونٹ کو ہرگز عذاب نہیں دے گا جس کو رسول اللہ نے چوسا ہو۔ اس کے علاوہ ان حضرات کی خدمت میں تحفے تحائف پیش کرنا آپ کا محبوب مشغلہ تھا۔ حضرت ملا علی قاری مرقات میں فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لائے تو انھوں نے فرمایا:
لَأُجِيزَنَّكَ بِجَائِزَةٍ لَمْ أُجِزْ بِهَا أَحَدًا قَبْلَكَ وَلَا أُجِزْ بِهَا أَحَدًا بَعْدَكَ. [النَّاهِيَةُ، ص: 27]
ترجمہ: میں آپ کی خدمت میں اتنی نذر پیش کروں گا کہ اس سے پہلے کسی کو اتنی نذر نہیں دی اور نہ آئندہ کسی کو دوں گا۔ پھر انھوں نے چار لاکھ درہم حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کیے اور آپ نے قبول فرمائے۔
امام ابواسحاق نے اپنی کتاب نور العین فی مشہد الحسین میں تحریر فرمایا کہ امیر معاویہ نے امام حسین کو حاکم مدینہ مقرر فرمایا پھر آپ کو تمام شاہی خزانہ کا مہتمم و مالک بنادیا بلکہ کچھ عرصہ بعد امیر معاویہ مدینہ منورہ تشریف لائے اور آپ کو اپنے ہمراہ مع اہل و عیال دمشق لے گئے اور وہاں آپ کو بنی سلطنت کا مختارِ عام بنایا۔ [بحوالہ امیر معاویہ پر ایک نظر، ص: ٦٨]
ابن عساکر نے روایت کیا کہ جنگ صفین کے زمانے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بھائی حضرت عقیل نے آپ سے کچھ روپیہ مانگا حضرت علی نے کسی وجہ سے منع فرمایا تو انھوں نے عرض کیا اجازت دیجیے کہ میں امیر معاویہ کے پاس چلا جاؤں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انھیں اجازت مرحمت فرمائی حضرت عقیل حضرت امیر معاویہ کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کی بڑی عزت کی اور ایک لاکھ درہم نذرانہ پیش کیا۔ [صواعق محرقہ]
یہ داد و دہش، اعزاز واکرام اور حضرت عقیل کو خاص جنگِ صفین کے زمانے میں حضرت امیر معاویہ کے پاس جانے کی اجازت دینا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ حضرت امیر معاویہ کے دل میں حضرت علی اور آپ کے خاندان سے متعلق کوئی کدورت و نفرت نہ تھی، اور جو باہمی کشیدگی معرضِ وجود میں آئی اس کی بنیاد بغض، عداوت، طمعِ دنیا، اور حکومت کا شوق بالکل نہ تھا بلکہ اس کی وجہ دینی ہمدردی، خلوص و للہیت اور احکامِ شرع کی پاس داری کا جذبہ بے کراں تھا۔
