| عنوان: | حج کا ثواب دلانے والے اعمال |
|---|---|
| تحریر: | محمد ناظم عطاری |
| پیش کش: | مرکزی جامعۃ المدینہ نیپال گنج |
الحمدللہ! حج کا مبارک مہینہ اپنی برکتیں لٹا رہا ہے، اور کثیر تعداد میں عاشقانِ رسول حج کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ میں اپنے دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ کس موضوع پر مقالہ لکھوں جو قارئین کے لیے مشعل راہ بنے، اب جب میں نے معاشرے کا بغور جائزہ لیا اور تخمینہ کیا تو پتہ چلا کہ کثیر عشاقِ حج، زیارت کعبہ سے مشرف ہونے کا ذوق رکھتے تو ہیں مگر مالی کمی کی وجہ سے وہ حج کے لیے روانہ نہیں ہو پاتے، اور ایسے بیچارے حج کے لیے قافلے جاتے دیکھ کر افسردہ ہو جاتے ہیں، اب جب میں نے کتابوں کا مطالعہ کیا تو پتہ چلا کہ الحمدللہ ہمارے پیارے دین اسلام نے ایسے افراد کو بھی حج کا ثواب حاصل کرنے کا مژدۂ جاں سنایا ہے جو بظاہر حج نہیں کر سکتے، کیا واقعی اس طرح کے افعالِ حسنہ اور اعمالِ صالحہ ہیں جنہیں اپنا کر حج کا ثواب حاصل کیا جا سکتا ہے؟ جی ہاں! واقعی احادیث مبارکہ میں ایسے بہت سے افعال مذکور ہیں جنہیں اپنا کر حج کا ثواب حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اور ہو بھی کیوں نہ کہ ہمارے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم غمزدوں کے لیے غمگسار ہیں۔ یاسوں کے لیے آس ہیں۔ اب ہم ثوابِ حج کے چند اعمالِ صالحہ کو ضبطِ تحریر لاتے ہیں۔
مایوس نہ ہو! حج کا ثواب پاؤگے
حدیث پاک میں ہے، صحابی رسول حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! “ذَهَبَ الْأَغْنِيَاءُ بِالْأَجْرِ” یعنی اے اللہ پاک کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اہلِ ثروت (جنہیں مال و دولت کی کثرت عطا ہوئی ہے) وہ ثواب کمانے میں ہم سے آگے گزر گئے۔ (وہ اس طرح کہ) “يَحُجُّونَ وَلَا نَحُجُّ” وہ حج کرتے ہیں، ہم حج نہیں کر پاتے، وہ فلاں فلاں مالی عبادات کرتے ہیں، ہم (چونکہ مال نہیں رکھتے، لہذا) ہم وہ والی مالی عبادات نہیں کر پاتے۔
پیارے قارئین! اب یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا خوبصورت شوق و ذوق دیکھیے! کہ حاجی حج کے لیے جا رہے ہیں، اور یہ حضرات مال کی استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے نہیں جا پا رہے ہیں تو کس قدر تڑپتے ہوئے بارگاہِ رسالت میں فریاد کر رہے ہیں کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! وہ حج کے لیے چلے گئے، اور ہم رہ گئے...! تو پھر مدینے والے آقا بے سہاروں کا سہارا، تاجدارِ مدینہ رسولِ ذیشان، مکی مدنی سلطان صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ اگر تم اس پر عمل پیرا ہو جاؤ تو جو فضیلتیں اُن کو ملتی ہیں، اس سے بھی زیادہ فضیلت تمہیں حاصل ہو جائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے ثواب دلانے والے نیک اعمال بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا: ہر نماز کے بعد 33 بار “سُبْحَانَ اللّٰهِ”، 33 بار “الْحَمْدُ لِلّٰهِ” اور 34 بار “اَللّٰهُ أَكْبَرُ” پڑھ لیا کرو...! [السنن الكبرى للنسائي، رقم الحديث: 9902، ج: 9، ص: 65]
پیارے اسلامی بھائیو! ذرا غور کیجیے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کس قدر اعلیٰ سوچ ہے، کہ مالدار کھانا اچھا کھاتے ہیں، اس پر انہیں رشک نہیں، لباس اچھا پہنتے ہیں، ان کے گھر بہترین ہوتے ہیں، اس پر بھی انہیں رشک نہیں ہے، رشک ہے بھی تو اس بات پر کہ وہ حج، زکوٰۃ، صدقہ و خیرات وغیرہ مالی عبادت کر لیتے ہیں، مگر وہ کسرِ مال کی وجہ سے یہ ساری عبادات نہیں کر پاتے ہیں۔ اگر نگاہِ عدل سے دیکھا جائے تو اصل مقامِ رشک یہی ہے، لیکن افسوس! ہماری حالت یہ ہے کہ امیروں کو دیکھ کر ہمارا دل للچاتا بھی ہے تو اس بات پر کہ مالداروں کے پاس بنگلہ اچھا ہے، ان کے پاس گاڑیاں بہترین ہیں، لیکن قربان جائیے ہمارے پیارے جان نثار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر کہ وہ رشک کرتے بھی ہیں تو کثرتِ اعمال پر۔ کاش! ہمیں بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جیسی پیاری پیاری اعلیٰ سوچ نصیب ہو جائے۔
پیارے قارئین! اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ جو بندہ ہر نماز کے بعد تسبیح فاطمہ پڑھے، تو وہ مالداروں کی مالی عبادات (جیسے حج، زکوۃ وغیرہ) والا ثواب حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔
100 حج کا ثواب
اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جس نے صبح و شام 100، 100 مرتبہ “سُبْحَانَ اللّٰهِ” پڑھا تو وہ 100 حج کرنے والے کی طرح ہے۔ [جامع الترمذي، أبواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب في ثواب التسبيح والتحميد والتهليل والتكبير، رقم الحديث: 3471]
اب ذرا ہم غور کریں، کہ حاجی حج کو جا رہے ہیں اور ہم کسی عذر کی وجہ سے نہیں جا پا رہے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے کس قدر آسان اعمال بتا دیے ہیں کہ جس کو اپنا کر ہم حج کا ثواب حاصل کر سکتے ہیں، اور حج کا ثواب حاصل کرنے کے لیے ایک عمل اتنا پیارا ہے کہ سن کر آپ کا دل جھوم جائے گا، اور یہ عمل ایسا ہے کہ ہم گھر میں بیٹھے بیٹھے آسانی کے ساتھ کر سکتے ہیں، اور وہ عمل یہ ہے۔
حج مبرور کا ثواب
اللہ پاک کے آخری نبی رسولِ ہاشمی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اولاد اپنے ماں باپ کی طرف رحمت کی نظر کرے تو اللہ پاک اس کے لیے ہر نظر کے بدلے حج مبرور (یعنی حج مقبول) کا ثواب لکھتا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اگرچہ دن میں 100 مرتبہ نظر کرے؟ فرمایا: “نَعَمْ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ وَأَطْيَبُ” یعنی ہاں! اللہ پاک سب سے بڑا اور سب سے زیادہ پاک ہے۔ [شعب الإيمان، باب في بر الوالدين، رقم الحديث: 7856، ج: 6، ص: 175]
سبحان اللہ! معزز قارئین! ذرا غور کیجیے کہ کتنا آسان عمل ہے، اس فضیلت پر ہم سب کو عمل کرنا ہی چاہیے، اور ویسے بھی والدین ہماری جنت ہیں، ایک جنت کا دروازہ ہے تو ایک کے قدموں ہی کے نیچے جنت ہے، ہمیں تو یہ چاہیے کہ صبح و شام، دن رات، جب دل کرے، والدین کی زیارت کریں، اللہ نے چاہا تو ضرور حج مقبول کا ثواب نصیب ہوگا۔
والدین کی قبر کی زیارت بھی حج کا ثواب....
لیکن ماقبل حدیث پاک کو پڑھ کر آپ کے دل میں یہ سوال گونج رہا ہوگا کہ جن کے والدین اس دنیا میں ہیں ہی نہیں تو وہ والدین کی کیسے زیارت کریں گے؟ اور کیسے حج کا ثواب حاصل کریں گے؟ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ گھبرائیں نہیں، الحمدللہ! ہمارے پیارے آقا مکی مدنی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم “رَحْمَةً لِّلْعَالَمِيْنَ” ہيں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو بھی محروم نہیں چھوڑا ہے، حدیث پاک سنیے! اور خوب جھومیے، پیارے نبی رسولِ ہاشمی، مکی مدنی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ زَارَ قَبْرَ أَبَوَيْهِ أَوْ أَحَدِهِمَا احْتِسَابًا كَانَ كَعَدْلِ حَجَّةٍ مَبْرُورَةٍ
ترجمہ: جو اپنے والدین، دونوں یا ایک (جو بھی وفات پا گئے ہوں، ان) کی قبر پر ثواب کی نیت سے جائے، اس کا یہ عمل مقبول حج کے برابر ہے۔ [نوادر الأصول، الأصل الخامس عشر، ج: 1، ص: 150]
سبحان اللہ! معلوم ہوا کہ جس کے والدین اس دنیا سے کوچ کر چکے ہیں، وہ گھبرائیں نہیں اب بھی اس کے پاس یہ قیمتی موقع موجود ہے، وہ اپنے والدین کی قبر کی زیارت کر کے حج مقبول کا ثواب حاصل کر سکتے ہیں، اور یہ آسان سا کام ہے اگر اللہ پاک توفیق دے تو دن میں 100 مرتبہ زیارت کیجیے ان شاء اللہ ہر بار حج کا ثواب پائیں گے۔
نماز باجماعت کی فضیلت
اسی طرح اور بھی بہت سے اعمال ہیں، جن کا ثواب حج کے برابر ہے، جیسے: جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا، حدیث پاک میں ہے، حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو گھر سے پاک ہو کر جماعت سے فرض نماز پڑھنے جاتا ہے، اس کا ثواب احرام باندھے ہوئے حاجی کی طرح ہے اور جو چاشت کی نماز پڑھنے کے لیے مسجد کی طرف جائے اس کا ثواب عمرہ کرنے والے جتنا ہے۔ [سنن أبي داود، كتاب الصلاة، باب ما جاء في فضل المشي إلى الصلاة، رقم الحديث: 558]
یہ ایسا عمل ہے کہ اس کو ہم سب کرتے ہیں، بس تھوڑی سی توجہ کی حاجت ہے اگر ہم جماعت سے پانچ منٹ پہلے مسجد میں آنے کا معمول بنا لیں تو ان شاء اللہ ضرور ہم اس فضیلت کے مستحق ہو جائیں گے۔
نمازِ اشراق
اور حج کا ثواب دلانے والے اعمال میں سے ایک عمل نماز اشراق بھی ہے، جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ پیارے آقا مکی مدنی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو فجر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرے پھر مسجد میں ہی بیٹھا اللہ کا ذکر کرتا رہے، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے، پھر 2 رکعت نماز پڑھے، اس کے لیے ایک حج و عمرے کا ثواب ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے 3 مرتبہ فرمایا: “تَامَّةٍ، تَامَّةٍ، تَامَّةٍ” (یعنی اس عمل سے مکمل حج و عمرے کا ثواب ملے گا)۔ [جامع الترمذي، أبواب السفر، باب ذكر ما يستحب من الجلوس في المسجد بعد صلاة الصبح حتى تطلع الشمس، رقم الحديث: 586]
محترم قارئین! اس نیک عمل کو بھی ضرور اپنے معمول میں شامل کر لیجیے! نماز اشراق پڑھیں! بلکہ ساتھ 2 رکعت چاشت کی بھی ملا لیجیے! ان شاء اللہ الکریم! ایک حج اور ایک عمرے کا ثواب نصیب ہو گا۔
پیارے اسلامی بھائیو! کتنی آسان آسان اور پیاری پیاری فضیلتیں ہیں، ہم اگرچہ کسی عذر کے سبب حج کے لیے نہیں جا پائے، لیکن ہم یہ سارے اعمال تو کر ہی سکتے ہیں، اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہم سب کو خوب خوب عمل کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
