Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

سفر نامہ کیرالا (قسط اول) | مولانا ابوتراب سرفراز احمد عطاری مصباحی

سفر نامہ کیرالا (قسط اول)
عنوان: سفر نامہ کیرالا (قسط اول)
تحریر: ابو تراب سرفراز احمد عطاری مصباحی

تاریخ: ۱۹ فروری ۲۰۲۱ء مطابق ۶ رجب المرجب ۱۴۴۲ھ

بنسبت ۶ رجبِ ذی ظفر ہم رکاب سفر:

  1. مفتی وسیم اکرم رضوی مصباحی (شیخ الحدیث جامعۃ المدینہ موڈاسا)
  2. مفتی شفیق الرحمٰن مصباحی (نگران مجلس تعلیمی امور ہند)
  3. مولانا شارق مدنی (رکن ہند مشاورت، دعوت اسلامی)
  4. مولانا عطاء المصطفیٰ مصباحی (شیخ الحدیث جامعۃ المدینہ شاہ جہان پور و رکن مجلس جامعۃ المدینہ ہند)
  5. مولانا سید عثمان مدنی (رکن مجلس جامعۃ المدینہ ہند)
  6. راقم الحروف سگِ عطار ابو تراب سرفراز احمد مصباحی

حیدرآباد سے کیرلا کا سفر:

خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی چھٹی کا پر بہار موقع اور مبارک شبِ جمعہ تھی، اہلِ عقیدت ایصالِ ثواب کی محافل منعقد کر رہے تھے۔ اسی دوران ایک دل خراش خبر ملی کہ مولانا عمران مدنی کی آنکھیں نہیں کھل رہی ہیں، جس نے خبر سنی، غم کا شکار اور افسوس کی وادی میں گم ہو گیا۔ سب نے خواجہ غریب نواز کے وسیلے سے دعا کا اہتمام کیا اور شفا یابی کا عریضہ بارگاہِ رب العزت میں پیش کیا۔

ماہِ رجب کی برکتوں کو لوٹتے ہوئے مفتی وسیم اکرم صاحب اور مفتی شفیق الرحمن و رکن ہند مشاورت مولانا شارق مدنی صاحب نے روزے کی نیت کر رکھی تھی۔ قبلِ فجر ہی کیرلا کا سفر شروع ہونا تھا۔ فیضان مدینہ حیدرآباد کے امام صاحب سید آلِ رسول صاحب نے سحری کا انتظام کر رکھا تھا، سحری کرنے والوں نے سحری کی اور بقیہ احباب نے ناشتہ کیا پھر حافظ عبد الرحمٰن صاحب ہم لوگوں کو چھوڑنے اسٹیشن کی طرف لے چلے۔ کاچی گوڑا حیدرآباد کا سب سے پرانا اسٹیشن ہے۔ وہاں سے کاسر گوڈ کیرلا کی طرف ٹرین کا سفر تھا۔

خواجہ غریب نواز کی چھٹی کی محفل ٹرین میں:

چونکہ خواجہ کی چھٹی کے بابرکت لمحات ہمارے درمیان سے گزر رہے تھے، نگرانِ مجلس نے توجہ دلائی کہ کیوں نہ فاتحہ کر لی جائے۔ سب نے زبانِ حال و مقال سے لبیک کہا، مولانا عطاء المصطفیٰ مصباحی نے تلاوت کی، پھر سگِ عطار ابو تراب نے کلامِ استاذِ زمن سے برکات حاصل کیں، اس کے بعد مفتی وسیم اکرم مصباحی صاحب نے منقبتِ خواجہ غریب نواز پیش کی، اور بارگاہِ غریب نواز میں استغاثہ پیش کیا۔ فاتحہ خوانی کی گئی اور ایصالِ ثواب کیا گیا۔

کاسر گوڈ ہی وہ علاقہ ہے جہاں حضرت مالک دینار رضی اللہ عنہ کا مزارِ مبارک ہے۔ اس بارے میں اختلاف ہے کہ وہ صحابی ہیں یا تابعی۔ وہاں کے رہائشی حضرات کا کہنا ہے کہ صحابی ہیں جبکہ آزاد دائرۃ المعارف ویکیپیڈیا پر بطور تابعی تذکرہ ملتا ہے۔ وَالْعِلْمُ عِنْدَ اللَّهِ۔ بہر حال وہاں کے لوگوں کے مطابق ایک پتھر پر بیٹھ کر مدینہ شریف سے ہجرت کر کے یہاں تشریف لائے اور خدمتِ دین کی۔ صحابہ و تابعین کی تو بات ہی نرالی ہے۔ جہاں جاتے ہیں وہ اسلام کا پرچم بلند کرتے ہیں آج بھی کاسر گوڈ میں ۷۰ فیصد مسلمان آباد ہیں۔

مختلف اچھی نیتوں کے ساتھ اسٹیشن پر فجر کی باجماعت نماز ادا کرنے کے بعد ہمارا قافلہ روانہ ہو گیا۔ یہ سفر تقریباً ۲۵ گھنٹے کا تھا۔ الحمد للہ سفر میں بھی نمازوں کا سلسلہ رہا۔

اگلے دن فجر کی نماز کے بعد ایک خوشخبری بھی سنی جس کی پہلے ہی خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی غریب نوازی سے امید تھی۔ اور وہ خبر یہ تھی کہ مولانا عمران مدنی کی آنکھ سے کچھ کچھ دکھائی دینا شروع ہو گیا ہے۔ احباب نے خوشی کا اظہار کیا اور اللہ کا شکر ادا کر کے مزید مکمل شفایابی کی دعا کی۔ منزل قریب آنے والی تھی۔ آج پہلی بار آنکھوں نے ایسا منظر دیکھا جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا، اور ایسا منظر جو عاشقانِ مدینہ کے دلوں کو راحت و سکون بخشتا ہے، وہ منظر تھا ساحلِ سمندر کا۔ آپ کو بھی تعجب ہوگا کہ اس میں ایسی کون سی بات ہے۔ قارئین! بات ہے، اور بہت اہم بات ہے اس میں۔ کیونکہ یہ معمولی سمندر کا ساحل نہیں تھا، یہ وہ سمندر تھا جس کے دوسرے کنارے کا مرکزِ عشاق المعروف المدینۃ المنورہ کے بوسے لینا جس کا ہمیشہ کا معمول تھا۔

ٹرین کاسر گوڈ پہنچی تو محبینِ دعوتِ اسلامی ایک گاڑی لے کر ہمیں ریسیو (receive) کرنے کے لیے موجود تھے۔ جس میں جامعۃ المدینہ فیضانِ عطار ناگپور کے درجۂ سادسہ کے ایک ہونہار طالبِ علم ثوبان عطاری اور ان کے کچھ متعلقین شامل تھے۔ اسی دوران ممبئی جامعات المدینہ ریجن ذمہ دار مولانا سید عثمان مدنی بھی ہمارے ساتھ ہو گئے، کیونکہ آگے کا سفر سید صاحب کی قیادت میں ہی ہونا تھا۔ کچھ دیر میں حضرت مالک دینار رضی اللہ عنہ کے مزار کے نزدیک ہی ایک مکان میں ناشتہ وغیرہ کا اہتمام تھا، میرے لیے پہلی بار کا اتفاق تھا کہ ناریل کے تیل میں بنے سالن اور کچھ جنوبی ہند کے مخصوص انداز والی ڈشوں کا ناشتہ کرنا تھا، مجھے سب کے نام بھی نہیں معلوم۔ بہر حال بہت زبردست ناشتہ تھا، اور چائے تو بس پورا گلاس بھر کے ملی تھی، نگرانِ مجلس کہنے لگے کہ یہ کافی زیادہ ہے کچھ کم کر دیں، میزبان اسلامی بھائی نے مسکراتے ہوئے بڑا ہی پیارا جواب دیا، اور وہ جملہ مجھے یاد رہ گیا کہ پیتے رہیے اور کم کرتے رہیے۔ ہمارے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ پھیل گئی کہ کم کرنے کا یہ بھی ایک انداز ہے۔

اللہ میزبان اسلامی بھائی کو جزائے خیر اور دین و دنیا کی بھلائی سے نوازے۔ (جاری)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!