| عنوان: | مفتی احمد یار خاں نعیمی (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | محمد توفیق احسن برکاتی مصباحی |
| پیش کش: | نوری کرن |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
مفتی احمد یار خاں نعیمی (قسط: دوم)
دورِ تدریس
-
دستارِ فضیلت باندھنے کے بعد ہی حضرت صدر الافاضل نے جامعہ نعیمیہ میں مفتی صاحب کو تدریسی خدمات سپرد کر دیں۔ تھوڑے ہی عرصے میں مفتی صاحب کی تدریسی قابلیت لوگوں کے سامنے نمایاں ہو گئی اور افتا کی خدمت بھی انھیں کے سپرد کر دی گئی۔
-
قریباً ایک سال بعد دارالعلوم مسکینیہ دھوراجی (گجرات) سے صدر الافاضل کے پاس ایک ایسے عالمِ دین کے لیے درخواست آئی جو تدریس، فتویٰ اور خطابت وغیرہ کی خدمات عمدہ طریقے سے انجام دے سکیں، حضرت صدر الافاضل نے مفتی صاحب کو وہاں بھیج دیا۔ اس دارالعلوم میں مفتی صاحب نے نو سال تک دینی خدمات انجام دیں، متعدد بار دورۂ حدیث کرایا، اور بیسوں طلبہ ان کی درس گاہِ فیض سے فارغ التحصیل ہوئے۔
ایک مرتبہ مدرسہ مسکینیہ مالی مشکلات کا شکار ہوا اور مفتی صاحب کو کچھ دوسری پریشانیاں بھی لاحق ہوئیں، جن کے باعث مدرسہ چھوڑ کر اپنے وطن اوجھانی چلے گئے اور صدر الافاضل کو خط لکھ دیا۔
-
صدر الافاضل نے دوبارہ انھیں جامعہ نعیمیہ میں بلا کر تدریسی خدمات سپرد کر دیں۔
-
قریباً ایک سال پھر وہاں مدرس رہے ہوں گے کہ شیخ المشائخ حضرت شاہ سید علی حسین صاحب اشرفی میاں علیہ الرحمہ نے مدرسہ اشرفیہ کچھوچھہ شریف کے لیے صدر الافاضل سے ایک قابل مدرس طلب کیا، صدر الافاضل نے وہاں مفتی صاحب کو بھیج دیا۔ انھوں نے یہاں ربیع الاول 1355ھ / 1935ء سے جمادی الآخرہ 1358ھ / 1938ء تک علمی و دینی خدمات انجام دیں، پھر بعض وجوہ کی بنا پر مدرسہ چھوڑ کر اپنے وطن اوجھانی چلے گئے اور صدر الافاضل کی خدمت میں اطلاع بھیج دی۔
-
اس کے بعد صدر الافاضل نے علامہ سید ابوالبرکات علیہ الرحمہ (م 1398ھ / 1978ء) کی وساطت سے مفتی صاحب کو بھکھی ضلع گجرات (پاکستان) میں مولانا سید جلال الدین شاہ کے دارالعلوم میں روانہ کیا، مگر مفتی صاحب کو وہاں کوئی دلچسپی نہ پیدا ہو سکی، اس لیے وہ لاہور پہنچ کر وطن جانے کے لیے آمادہ ہو گئے۔
-
مگر سید محمود شاہ رحمۃ اللہ علیہ، سید ابوالبرکات صاحب قبلہ کی وساطت سے مفتی صاحب کو انجمن خدام الصوفیہ (گجرات پاکستان) کے دارالعلوم کے لیے آمادہ کر کے گجرات لے گئے۔ پھر وہ گجرات کے اور گجرات ان کا ہو گیا۔ علم المیراث کے علاوہ مفتی صاحب کی تمام تصنیفات اسی دارالعلوم میں تصنیف ہوئیں اس لیے یہ دور اہم خصوصیت کا حامل ہے۔
شعر و سخن
شعر و سخن سے مفتی صاحب کو تعلق تھا، سالک تخلص فرماتے تھے۔ ان کا مجموعہ کلام “دیوانِ سالک” کی شکل میں پاکستان سے شائع ہو چکا ہے۔ فنِ شعر سے ان کی وابستگی کا واقعہ بھی خاصا دل چسپ ہے۔ 1355ھ / 1935ء میں جب وہ کچھوچھہ شریف شیخ الحدیث کی حیثیت سے پہنچے تو حکیم سید نذر اشرف صاحب فاضل سے ملاقات کے لیے گئے۔ حکیم صاحب نے ابتدائی ذکر و تعارف کے بعد برملا سوال کیا “آپ کو شعر و سخن سے بھی لگاؤ ہے؟” مفتی صاحب نے نفی میں جواب دیا تو بولے “آپ نصف عالم معلوم ہوتے ہیں”۔ حکیم صاحب کی یہ بات اس انداز سے مفتی صاحب کے دماغ پر چھا گئی کہ انھوں نے باقاعدہ فنِ شعر گوئی کی تحصیل کی اور حکیم صاحب سے برابر اصلاح لیا کرتے، اس طرح جلد ہی ایک باکمال شاعر بھی ہو گئے۔
بیعت و ارادت
مفتی صاحب نے حضرت صدر الافاضل سے بیعت و ارادت کا شرف حاصل کیا اور خلافت حضرت مولانا الحاج سید شاہ محی الدین اشرف عرف اچھے میاں علیہ الرحمہ سے پائی۔ شیخ المشائخ حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ سے بھی براہِ راست اکتسابِ فیض کیا تھا۔ اگرچہ اس کی مدت پانچ ماہ سے زیادہ نہ رہی (کیوں کہ ربیع الاول 1355ھ میں مفتی صاحب کچھوچھہ تشریف لائے اور 11 رجب 1355ھ کو اشرفی میاں علیہ الرحمہ کا وصال ہو گیا) لیکن اس کے باوجود حضرت کی نگاہ میں مفتی صاحب کا ذوقِ عرفان ایسا راسخ ہو چکا تھا کہ آخری غسل اور تجہیز و تکفین کے لیے حضرت مفتی صاحب ہی کو سربراہ بنانے کی وصیت فرمائی، یہ ایک ایسا اعزاز تھا جس پر اکابر علما و مشائخ دم بخود تھے۔
خانگی زندگی
مفتی صاحب کی شادی ان کے دھوراجی کے زمانۂ قیام میں شیخوپور ضلع بدایوں کے ایک معزز افغان خاندان میں عبداللطیف خاں کی صاحب زادی سے ہوئی۔ خطبۂ نکاح حضرت صدر الافاضل نے پڑھا۔ مفتی صاحب کی تمام اولاد ان ہی معزز خاتون کے بطن سے ہے۔ یہ نہایت دین دار، نیک دل اور پارسا خاتون تھیں۔ خانگی مصروفیات اور نماز و عبادت کے ساتھ محلے کے بچے بچیوں کی ابتدائی تعلیم کا کام بھی کرتیں۔ مفتی صاحب کے فرائضِ منصبی کا انھیں اچھی طرح احساس تھا اس لیے تمام تر گھریلو ذمہ داریاں خود سنبھالتیں اس لیے مفتی صاحب کے لیے گھر کا کوئی مسئلہ ہی نہ تھا۔ یہ اپنے آبائی وطن سے ہزاروں میل دور مفتی صاحب کے ساتھ گجرات میں بھی رہیں اور وہیں 23 مئی 1949ء کو اس دارِ فانی سے رحلت کی۔ ان کی جدائی کا مفتی صاحب کو بے حد قلق رہا۔
ایک عرصے کے بعد احباب کے مشورے اور اصرار پر حضرت مفتی صاحب نے گجرات ہی میں دوسرا نکاح کیا۔ یہ خاتون بھی نیک نفس اور دین دار تھیں، ان کے بطن سے مفتی صاحب کی کوئی اولاد نہ ہوئی مگر پہلی اہلیہ کی اولاد ہی کو انھوں نے اپنے پیٹ کی اولاد مانا۔
مفتی صاحب کے دو صاحب زادے ہیں مولانا مفتی مختار احمد خاں اور مفتی اقتدار احمد خاں، ہر دو حضرات دینی خدمات میں مصروف اور اپنے والدِ گرامی کے لائق جانشین ہیں۔ چار صاحب زادیاں ہوئیں، جن میں دو منجھلی صاحب زادیاں فوت ہو گئی تھیں۔
مفتی صاحب نے اپنے لڑکے لڑکیوں کو بھی علم و فن سے آراستہ کیا اور ان کی مذہبی تربیت کی طرف بھی پوری توجہ صرف کی۔ زندگی کے آخری سالوں میں انھیں یہ احساس زیادہ ستانے لگا تھا کہ خواتین میں علمِ دین کا فقدان ہوتا جا رہا ہے، اس لیے انھوں نے خواتین کو دینی تعلیم دینے والی ایک ٹیم خود اپنے گھر میں پیدا کر دی۔ اپنی بڑی بہو اور چھوٹی صاحب زادی کو مشکوٰۃ و بخاری کا ترجمہ چار سال میں پڑھایا، صرف و نحو کے ضروری قواعد اور عربی بول چال کی کچھ مشق بھی کراتے رہے، انھیں وعظ کہنے کا بھی طریقہ سکھایا، آگے چل کر ان بیٹیوں نے دیگر خواتین اور طالبات کی کلاسیں لگا کر انھیں پڑھانا شروع کیا۔ یہ طریقہ اس قدر فیض رساں ثابت ہوا کہ مفتی صاحب کی وفات تک چار سو بچیاں اور خواتین ان کے گھر سے اس “مدرسہ دینیات” میں پڑھ کر فارغ ہو چکی تھیں۔
ان احوال کے پیشِ نظر کہا جا سکتا ہے کہ مفتی صاحب کا گھر اس قرآنی دعا کا ثمرہ یا نمونہ ہے:
رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا
اے ہمارے رب! ہمارے لیے ہماری بیویوں اور ہماری اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیز گاروں کا پیشوا بنا۔
معمولات زندگی
مفتی صاحب کے اعمال و اشغال، تدریس، تصنیف، مطالعہ، درسِ قرآن، عبادات، تلاوت، اخبار بینی، تفریح، ملاقات وغیرہ تھے۔ ان تمام کاموں کے لیے انھوں نے اپنے اوقات کو بڑے سلیقے سے تقسیم کر رکھا تھا اور ہر کام کو اس کے مقررہ وقت پر ہی انجام دیتے۔ نماز و جماعت کے بڑی سختی سے پابند تھے۔ تکبیرِ اولیٰ فوت نہ ہونے دیتے۔ سفر و حضر ہر حالت میں تہجد بھی پڑھا کرتے۔ اکثر و بیشتر درود شریف کا ورد کیا کرتے۔ یہ ان کے لیے روحانی غذا کی حیثیت رکھتا تھا، جہاں ذرا موقع پاتے درود کا ورد جاری کر دیتے، یہاں تک کہ گفتگو کے دوران جب ان کا مخاطب بات کرتا تو اس وقفے میں وہ درود پڑھ لیا کرتے۔
زیارتِ روضۂ اقدس سے بھی اُن کو خاص شغف تھا۔ زندگی میں پانچ بار حج و زیارت سے شرف یاب ہوئے۔ ایک بار دھوراجی کے زمانۂ قیام میں اور چار بار گجرات کے دور میں۔ عوامی زندگی سے بھی اُن کو خاص دلچسپی تھی۔ چھوٹوں کے ساتھ شفقت و حکمت کے ملے جلے انداز میں کلام کرتے۔ لوگوں کے ماحول پر نظر رکھتے اور ان کی اصلاح و ہدایت کی طرف توجہ مبذول فرماتے۔ عوامی تقریبات کی شرکت میں بھی پیش قدمی کرتے اور مسرفانہ و غیر شرعی رسوم سے لوگوں کو روکتے۔ مفتی صاحب کی بے نظیر کتاب “اسلامی زندگی” اُن کے اسی ذہن و فکر کی آئینہ دار ہے۔ لوگوں کے آپسی تنازعات کا تصفیہ کرنے میں بھی ان کو خدا داد ملکہ حاصل تھا، لوگ آپس میں لڑ کر کٹنے مرنے کے لیے آمادگی کی حالت میں ہوتے، لیکن جب معاملہ مفتی صاحب کی “عدالت” میں پہنچتا تو ایسا شاندار فیصلہ فرماتے کہ فریقین خوش ہو کر آپس میں مل جل کر زندگی گزارنے کا حوصلہ لے کر اٹھتے۔ [مقالات مصباحی، ص: 354]
