| عنوان: | آج کے مسلمانوں کے حالات |
|---|---|
| تحریر: | محمد سلمان العطاری |
| منجانب: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
دنیا میں مسلمان ایک عظیم امت ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے بہترین امت قرار دیا۔ مسلمانوں کو علم، عمل، اخوت، عدل اور انسانیت کی بھلائی کے لیے پیدا کیا گیا تھا۔ ایک زمانہ تھا کہ مسلمان علم و حکمت، اخلاق و کردار اور عدل و انصاف میں پوری دنیا کے رہنما تھے۔ مسلمانوں کی حکومتیں دنیا کے بڑے حصے پر قائم تھیں اور لوگ اسلام کے حسنِ کردار سے متاثر ہو کر دائرۂ اسلام میں داخل ہوتے تھے۔
مگر آج اگر ہم مسلمانوں کے مجموعی حالات پر نظر ڈالیں تو دل غم سے بھر جاتا ہے۔ امتِ مسلمہ مختلف آزمائشوں، کمزوریوں اور زوال کا شکار نظر آتی ہے۔ جن میں سے بعض درج ذیل ہیں۔
دینی کمزوری
آج مسلمانوں کی سب سے بڑی پریشانی دین سے دوری ہے۔ قرآنِ کریم کی تلاوت تو کی جاتی ہے مگر اس کے احکام پر عمل کم دکھائی دیتا ہے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دیگر عبادات میں غفلت عام ہوتی جا رہی ہے۔ نوجوان نسل دنیاوی مشاغل میں اتنی مصروف ہو گئی ہے کہ دین سیکھنے اور عمل کرنے کا وقت نہیں نکالتی۔ بہت سے مسلمان اسلامی تعلیمات سے ناواقف ہیں اور مغربی تہذیب کی اندھی تقلید میں لگے ہوئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا [سورۃ آل عمران: 103]
ترجمہ کنزالایمان: اور اللہ کی رسی مضبوط تھام لو سب مل کر اور آپس میں پھٹ نہ جانا (فرقوں میں نہ بٹ جانا)۔
اس آیت میں ان افعال و حرکات کی ممانعت کی گئی ہے جو مسلمانوں کے درمیان تفریق کا سبب ہوں، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ “تم سب مل کر اللہ عزوجل کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں فرقوں میں تقسیم نہ ہو جاؤ جیسے یہود و نصاریٰ نے فرقے بنا لیے”۔
مگر افسوس کہ آج مسلمان فرقہ بندی، تعصب اور نفرت میں مبتلا ہیں۔
آپسی اختلافات
مسلمانوں کی کمزوری کی ایک بڑی وجہ آپس کا انتشار اور اختلاف ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑے، حسد، بغض اور نفرت نے امت کی طاقت کو کمزور کر دیا ہے۔ دشمنانِ اسلام مسلمانوں کی اسی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر مسلمان متحد ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں شکست نہیں دے سکتی۔
اتحادِ امت میں ہی بقا کا راز ہے
ورنہ ہر سمت مسلمانوں پہ نازک ساز ہے
تعلیمی پسماندگی
اگرچہ اسلام نے سب سے پہلے علم حاصل کرنے کا حکم دیا، مگر آج بہت سے مسلمان تعلیمی میدان میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق اور جدید علوم میں مسلمان قومیں کمزور نظر آتی ہیں۔ اس کی ایک وجہ دینی اور دنیاوی تعلیم کے درمیان توازن کا نہ ہونا بھی ہے۔
ایک زمانہ تھا کہ مسلمان سائنسدانوں، طبیبوں اور مفکرین نے دنیا کو نئی نئی ایجادات دیں، مگر آج مسلمان دوسروں کے محتاج بن چکے ہیں۔
اخلاقی زوال
آج معاشرے میں جھوٹ، دھوکہ، سود، بے حیائی اور بدعنوانی بڑھتی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا کے غلط استعمال نے نوجوان نسل کے اخلاق کو متاثر کیا ہے۔ اسلامی معاشرہ جو حیا، سادگی اور پاکیزگی کا نمونہ ہونا چاہیے تھا، وہ آہستہ آہستہ مغربی تہذیب کی طرف مائل ہو رہا ہے۔
چھوڑ کر سنتِ محبوبِ خدا بیٹھ گئے
اپنی پہچان بھی دنیا میں گنوا بیٹھ گئے
معاشی مشکلات
بہت سے اسلامی ممالک غربت، بے روزگاری اور معاشی بحران کا شکار ہیں۔ سودی نظام نے مسلمانوں کی معیشت کو کمزور کر دیا ہے۔ غریب مزید غریب اور امیر مزید امیر ہوتا جا رہا ہے۔ زکوٰۃ اور صدقات کا صحیح نظام قائم نہ ہونے کی وجہ سے معاشرتی توازن خراب ہو رہا ہے۔
مسلمانوں پر ظلم و ستم
دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمان ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ کہیں ان کے حقوق سلب کیے جاتے ہیں، کہیں ان کی جان و مال محفوظ نہیں، اور کہیں اسلام دشمن قوتیں مسلمانوں کے عقائد اور تہذیب پر حملے کر رہی ہیں۔ فلسطین، کشمیر اور دیگر علاقوں کے مسلمانوں کی مشکلات پوری امت کے لیے باعثِ درد ہیں۔
مگر افسوس کہ امت مسلمہ مجموعی طور پر کمزور اور منتشر نظر آتی ہے۔
نوجوان نسل کی ذمہ داری
آج کے نوجوان اگر چاہیں تو امت کے حالات بدل سکتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ:
-
دین کا علم حاصل کریں
-
نماز کی پابندی کریں
-
قرآن و حدیث کو سمجھیں
-
اچھے اخلاق اپنائیں
-
سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کریں
-
اتحاد و محبت کو فروغ دیں
-
تعلیم اور تحقیق میں آگے بڑھیں
اصلاح کا راستہ
مسلمانوں کی کامیابی صرف اور صرف اسلام پر عمل میں ہے۔ جب مسلمان سچے دل سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کریں گے تو عزت دوبارہ حاصل ہوگی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ [سورۃ الرعد: 11]
ترجمہ کنزالایمان: بیشک اللہ کسی قوم سے اپنی نعمت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدل دیں۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی اصلاح کریں، دین کو مضبوطی سے تھامیں، سنتوں پر عمل کریں اور امت کی بھلائی کے لیے کوشش کریں۔
پھر سے اگر قرآن کو سینے سے لگا لو گے
دنیا کی بلندی پہ دوبارہ نظر آؤ گے
لبِ لباب
آج مسلمانوں کے حالات اگرچہ پریشان کن ہیں، مگر مایوسی کی کوئی گنجائش نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان جب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں عزت و سربلندی عطا فرماتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی اصلاح کریں، دین پر مضبوطی سے قائم رہیں اور امت کے اتحاد کے لیے کوشش کریں۔ یہی دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔
خداوند متعال ہمیں دین سیکھ کر اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔
