Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

موضوع۔ ہجرت|خوشبو فاطمہ قادریہ

ہجرت
عنوان: ہجرت
تحریر: خوشبو فاطمہ قادریہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی ، مرادآباد

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَت *هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ” [رقم الحديث: 1]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اعمال کا دارومدار نیت پر ہی ہے، اور آدمی کے لیے وہی اجر ہے جس کی اس نے نیت کی۔ جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف تھی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے اور جس شخص کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے تھی تو اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی تھی۔” [صحیح البخاری، ج: 1، کتاب: بدء الوحی، حدیث: 1]

اکثر بیٹھے بیٹھے سوچتے ہیں لوگ، یہ کہتے ہیں کہ معاشرہ اتنا خراب ہے، زمانہ بڑا خراب ہے، اب پہلے جیسے لوگ نہیں رہے، ویرانیت ہے، اب رشتہ داروں میں آپسی محبت کم ہوتی نظر آ رہی ہے۔

ان سب کا اصل جواب ڈھونڈتے ڈھونڈتے اس حقیقت سے آراستہ ہوتے ہیں کہ خرابی معاشرے میں نہیں ہم میں ہے۔ قطرہ قطرہ جمع ہو کر سمندر بنتا ہے، ویسے ہی ایک ایک فرد جمع ہو کر معاشرہ بنتا ہے۔

بازار میں ہم وہی چیز خریدتے ہیں جہاں سب سے زیادہ بیچی جائے، ویسے ہی معاشرے میں کچھ لوگ پرانی باتوں اور ریت رواجوں کو، جو ان کے بزرگوں نے سکھائے، اسی کو پکڑ رکھتے ہیں اور جاہل کو اپنا پیشوا بنا لیتے ہیں ان کے فائدے کے لیے، اور من گھڑت باتیں، رواج بنا کر خود کی پہچان بناتے ہیں۔

ایسے لوگ اپنے ارد گرد بھی یہی منفی نتائج دیتے ہیں کہ جو دیکھا وہی دہراتے ہیں۔ کہنے سے مراد ہے کہ جو ان کے آبا و اجداد نے کیا وہی تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں جس میں شریعت کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی bias۔

ایسے افراد کچھ گھروں میں ملیں گے جس سے ایک طبقہ بنتا ہے جو معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں، اور اسی وجہ سے آج ہمارا معاشرہ کھوکھلا بنتا جا رہا ہے دن بہ دن۔

ہم اکثر یہ کہتے ہیں کہ نہیں سدھریں گے لوگ، نہ معاشرہ سدھرے گا، پر یہ دراصل بالکل غلط جواب ہے۔

ہمارے سدھارنے سے کوئی معاشرہ سدھر جاتا تو کوئی فساد ہی نہ ہوتا۔

معاشرے میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی چیخ چیخ کر کہنے سے یا سمجھانے سے۔ ہمیں بدل اور انصاف قائم کرنا ہوگا۔ پہلے ہمیں خود کو سدھارنا ہے۔ ہمیں ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو اپنانا ہے۔ خلفائے راشدین کو اپنا رول ماڈل بنا کر ان کے عین مطابق خود کو پہلے اس سانچے میں ڈھالنا ہے۔

ایک مرد یا ایک عورت بھی دین کی طرف اپنا قدم بڑھائے تو اس سے معاشرے میں مثبت تبدیلی آ سکتی ہے؛ لیکن ہماری نیت لوگوں کی نظر میں عزیز بننا ہوئی تو وہ ہمیں ہلاکت میں ڈال کر چھوڑے گی۔ ہماری ہجرت صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہونی چاہیے۔

اخلاص سے رب کی طرف ایک قدم بڑھانا رب کی رحمتوں کے سمندر میں غوطہ لگانا ہے۔

ایک فرد اللہ کی طرف بڑھا تو اللہ کریم کا وعدہ ہے کہ لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت ڈال دیتا ہے، اور کئی معاشرتی معاملات میں آسانی پیدا ہو سکتی ہے۔

کئی غیر شرعی کاموں میں ملوث لوگوں کو راہِ راست پر لایا جا سکتا ہے، اور ایسے پاک معاشرے کی پھر سے تعمیر ہو سکتی ہے، جو خلفائے راشدین کے زمانہ میں تھی۔

کسی کو گناہوں میں ملوث ہوتا دیکھ کر پہلے خود کے گناہوں پر نظر ثانی کرنی ہے۔

بلکہ ہمیں خود اپنے گناہوں سے نیکی کی طرف ہجرت کرنی ہوگی۔

سب سے بڑی ہجرت گناہوں سے نیکی کی طرف آنا، اور استقامت سے ڈٹے رہنا ہے۔

فتنوں کا دور ہے، ہر کوئی مشقت میں پڑا ہے، ہر کسی کو اپنے اپنے معاملات درپیش آتے ہیں۔

ہمارے ارد گرد پریشان حال لوگ بھی موجود ہیں، جن کی تکلیف شاید ہم سے بھی بڑی ہے وہ ہم دیکھ سکتے ہیں؛ لیکن دنیا کا جنون ہمیں اتنا چڑھ گیا ہے آج کہ دنیاوی آرائش کو اپنا سکون مان لیا ہے، جبکہ اصل سکون رب کی عبادت میں ہے، ذکر اللہ ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ [سورۃ الرعد: 28]

ترجمہ کنز الایمان: “وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں، سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔”

اللہ تعالیٰ ہمارے معاشرے کو پاک ستھرا بنائے۔ عدل و انصاف والا بنائے۔ شریعتِ مطہرہ کا پابند معاشرہ بنائے۔

اللہ کریم ہمیں مثبت نظریہ عطا فرمائے، عقلِ سلیم عطا فرمائے کہ ہم دنیا میں آنے کے اصل مقصد کو پہچان پائیں۔ ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے میں آسانی عطا فرمائے۔ آمین صلی اللہ علیہ وسلم۔

بروز پیر شریف، 1 جون 2026ء، 14 ذوالحجہ 1447ھ

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!