| عنوان: | قرائے سبعہ کے حالات |
|---|---|
| تحریر: | محمد رضا توصیفی |
یہ نافع بن عبدالرحمن بن ابی نعیم ہیں، جو جعونہ بن شعوب لیثی کے آزاد کردہ غلام تھے، اور حمزہ بن عبدالمطلب کے حلیف (معاہد و ساتھی) تھے۔ [التیسیر فی قراءات السبع، ص: 98]
ان کا اصل وطن اصفہان تھا۔ ان کی کنیت ابو رویم تھی۔ بعض نے ابو الحسن اور بعض نے ابو عبدالرحمن بھی بیان کی ہے۔ آپ کا انتقال مدینہ منورہ میں 169 ہجری میں ہوا۔ [معرفۃ القراء، ج: 1، ص: 241]
آپ کے بہت سے رواۃ ہیں مگر مشہور و معروف دو ہیں: 1: قالون۔ 2: ورش۔
قالون
یہ عیسیٰ بن مینا مدنی زرقی تھے، جو زہری خاندان کے آزاد کردہ غلام تھے اور عربی زبان کے معلم تھے۔ ان کی کنیت ابو موسیٰ تھی۔
“قالون” ان کا لقب تھا۔ روایت ہے کہ امام نافع نے ان کی قراءت کے حسن اور عمدگی کی وجہ سے یہ لقب دیا تھا، کیونکہ رومی زبان میں “قالون” کا معنی “اچھا” یا “عمدہ” ہے۔ ان کا انتقال مدینہ منورہ میں تقریباً 220 ہجری میں ہوا۔ [غایۃ النہایۃ، ج: 1، ص: 615]
ورش
یہ عثمان بن سعید مصری تھے اور ان کی کنیت ابو سعید تھی۔
“ورش” ایک لقب تھا جو، جیسا کہ کہا جاتا ہے، ان کے بہت زیادہ سفید رنگ کی وجہ سے انہیں دیا گیا تھا۔ ان کا انتقال مصر میں 197 ہجری میں ہوا۔ [معرفۃ القراء، ج: 1، ص: 323]
2: امام ابنِ کثیر مکی
یہ عبداللہ بن کثیر داری ہیں، جو عمرو بن علقمہ کنانی کے آزاد کردہ غلام تھے۔ “داری” عطار (خوشبو فروش) کو کہا جاتا ہے۔ ان کی کنیت ابو معبد تھی۔
آپ تابعین میں سے تھے اور مکہ میں 120 ہجری میں وفات پائی۔ [احاسن الاخبار، ص: 185]
آپ کے راوی بھی بہت ہیں لیکن مشہور و معروف دو ہیں: 1: قنبل۔ 2: بزی۔
قنبل
یہ محمد بن عبدالرحمن بن محمد بن خالد بن سعید بن جرجہ مکی مخزومی ہیں۔ ان کی کنیت ابو عمر تھی اور ان کا لقب “قنبل” تھا۔
کہا جاتا ہے کہ مکہ میں ان کے خاندان کے لوگ “قنابلہ” کے نام سے مشہور تھے۔ آپ کا انتقال مکہ میں 280 ہجری کے بعد ہوا۔ [التیسیر فی قراءات السبع، ص: 99]
بزی
یہ احمد بن محمد بن عبداللہ بن قاسم بن نافع بن ابی بزہ مؤذن مکی تھے۔ بنو مخزوم کے آزاد کردہ غلام تھے اور ان کی کنیت ابو الحسن تھی۔
آپ “بزی” کے نام سے معروف تھے۔ آپ کا انتقال مکہ میں 240 ہجری کے بعد ہوا۔
قنبل اور بزی دونوں نے سند کے ساتھ امام ابنِ کثیر سے قراءت روایت کی ہے۔ [التیسیر فی قراءات السبع، ص: 99]
3: ابو عمرو بصری
یہ ابو عمرو بن علاء بن عمار بن عبداللہ بن حصین بن حارث بن جلہم بن خزاعی بن مازن بن مالک بن عمرو بن تمیم ہیں۔
ان کے نام کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ بعض کے نزدیک ان کا نام “زبان” تھا، بعض نے “عریان” کہا ہے، بعض نے “یحییٰ” بیان کیا ہے، اور بعض کا کہنا ہے کہ ان کا اصل نام ہی ان کی کنیت (ابو عمرو) تھا۔ اس کے علاوہ بھی دیگر اقوال منقول ہیں۔
آپ کا انتقال کوفہ میں 154 ہجری میں ہوا۔ [التیسیر فی قراءات السبع، ص: 99]
آپ کے رواۃ بھی کثیر ہیں لیکن مشہور و معروف دو ہیں: 1: ابو عمر دوری۔ 2: ابو شعیب صالح بن زیاد سوسی۔
ابو عمرو الدوری
یہ حفص بن عمر بن عبدالعزیز بن صہبان ازدی ہیں، جو نحو (عربی گرامر) کے عالم تھے اور “الدوری” کے لقب سے مشہور تھے۔
“دور” بغداد کے قریب ایک مقام کا نام ہے، اسی نسبت سے انہیں “الدوری” کہا جاتا ہے۔
آپ کا انتقال مکہ مکرمہ میں تقریباً 250 ہجری کے آس پاس ہوا۔ [معرفۃ القراء، ج: 1، ص: 286]
ابو شعیب السوسی
یہ صالح بن زیاد بن عبداللہ بن اسماعیل رستبی السوسی ہیں۔
“السوسی” کی نسبت “سوس” نامی مقام کی طرف ہے۔ [غایۃ النہایۃ، ج: 1، ص: 333]
ابو عمرو الدوری اور ابو شعیب السوسی، دونوں نے قراءت یحییٰ بن مبارک الیزیدی سے روایت کی۔
انہیں “الیزیدی” اس لیے کہا جاتا تھا کہ وہ یزید بن منصور (جو خلیفہ المہدی کے ماموں تھے) کے مصاحب اور ساتھی تھے۔
یحییٰ الیزیدی کا انتقال خراسان میں 202 ہجری میں ہوا۔ [التیسیر فی قراءات السبع، ص: 100]
4: امام ابنِ عامر شامی
یہ عبداللہ بن عامر یحصبی ہیں۔ “یحصبی” کی نسبت “یحصب” کی طرف ہے، جو یمن کا ایک مشہور قبیلہ تھا۔
آپ دمشق کے قاضی تھے، اور یہ منصب آپ کو ولید بن عبدالملک کے دورِ خلافت میں حاصل تھا۔ آپ کی کنیت ابو عمران تھی۔
آپ تابعین میں سے تھے۔ قرائے سبعہ میں صرف دو حضرات خالص عرب تھے: ابنِ عامر اور ابو عمرو بصری، جبکہ باقی قراء موالی (آزاد کردہ غلاموں کی نسل یا غیر عرب النسل) میں سے تھے۔
آپ کا انتقال دمشق میں 118 ہجری میں ہوا۔ [التیسیر فی قراءات السبع، ص: 101]
آپ کے راویوں میں سے دو راوی مشہور و معروف ہیں: 1: ابن ذکوان۔ 2: ہشام۔
ابنِ ذکوان
یہ عبداللہ بن احمد بن بشیر بن ذکوان قرشی دمشقی تھے۔ ان کی کنیت ابو عمرو تھی۔
آپ کا انتقال دمشق میں 242 ہجری میں ہوا۔
ہشام
یہ ہشام بن عمار بن نصیر بن ابان بن میسرہ سلمی دمشقی تھے۔
آپ دمشق کے قاضی تھے اور ان کی کنیت ابو الولید تھی۔
آپ کا انتقال دمشق میں 245 ہجری میں ہوا۔
ابنِ ذکوان اور ہشام، دونوں نے سند کے ساتھ امام ابنِ عامر سے قراءت روایت کی ہے۔
5: امام عاصم کوفی
یہ عاصم بن ابی النجود ہیں۔ انہیں “ابنِ بہدلہ” بھی کہا جاتا ہے۔
بعض علماء کے مطابق ان کے والد کا نام “عبد” تھا، جبکہ “بہدلہ” ان کی والدہ کا نام تھا۔
آپ نصر بن قعین اسدی کے آزاد کردہ غلام (مولیٰ) تھے۔ [توضیح المشتبہ، ج: 1، ص: 547]
آپ تابعین میں سے تھے اور حارث بن حسان کو پایا تھا، جو بنو بکر کے وفد میں شامل صحابی تھے۔
آپ کا انتقال کوفہ میں 128 ہجری میں ہوا۔ بعض کے نزدیک 127 ہجری میں وفات ہوئی۔ [طبقات القراء السبعہ، ص: 48]
آپ کے راویوں میں زیادہ دو مشہور و معروف ہیں: 1: ابو بکر بن عیاش۔ 2: حفص۔
ابو بکر بن عیاش
یہ شعبہ بن عیاش بن سالم کوفی اسدی تھے اور بنو اسد کے آزاد کردہ غلام تھے۔
ان کے نام کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ بعض نے ان کا نام “سالم” بتایا ہے، بعض کے نزدیک ان کی کنیت ہی ان کا نام تھی، اور بعض نے دیگر اقوال نقل کیے ہیں۔
آپ کا انتقال کوفہ میں 194 ہجری میں ہوا۔ [التیسیر فی قراءات السبع، ص: 102]
حفص
یہ حفص بن سلیمان بن مغیرہ اسدی بزاز کوفی تھے۔
ان کی کنیت ابو عمر تھی اور وہ حفیص کے لقب سے بھی معروف تھے۔
وکیع بن الجراح نے فرمایا: “حفص ثقہ (قابلِ اعتماد) تھے۔”
اور یحییٰ بن معین نے فرمایا: “حفص ابو بکر سے زیادہ ماہرِ قراءت تھے۔”
آپ کا انتقال تقریباً 190 ہجری میں ہوا۔ [ایضاً]
6: امام حمزہ کوفی
یہ حمزہ بن حبیب بن عمارہ بن اسماعیل زیات فرضی تیمی ہیں۔
یہ بنو تیم کے آزاد کردہ غلام تھے، اور ان کی کنیت ابو عمارہ تھی۔
آپ کا انتقال حلوان میں ابو جعفر منصور کی خلافت کے زمانے میں 156 ہجری میں ہوا۔ [ایضاً]
آپ کے بہت مشہور و معروف راوی دو ہیں: 1: حضرت خلف۔ 2: حضرت خلاد۔
خلف
یہ خلف بن ہشام بزار ہیں۔ ان کی کنیت ابو محمد تھی۔
آپ فم الصلح کے رہنے والوں میں سے تھے۔
آپ کا انتقال بغداد میں 229 ہجری میں ہوا۔ اس وقت آپ جہمیہ کے دورِ فتنہ میں پوشیدہ (مخفی) زندگی گزار رہے تھے۔ [معرفۃ القراء، ج: 1، ص: 419]
خلاد
یہ خلاد بن خالد ہیں۔ بعض نے انہیں خلاد بن خلید اور بعض نے خلاد بن عیسیٰ صیرفی کوفی بھی کہا ہے۔
ان کی کنیت ابو عیسیٰ تھی۔
آپ کا انتقال کوفہ میں 220 ہجری میں ہوا۔
روایتِ قراءت
خلف اور خلاد، دونوں نے قراءت ابو عیسیٰ سلیم بن عیسیٰ حنفی کوفی سے روایت کی، اور سلیم نے یہ قراءت امام حمزہ سے حاصل کی تھی۔
سلیم بن عیسیٰ کا انتقال کوفہ میں 188 ہجری میں ہوا۔ بعض کے نزدیک ان کی وفات 189 ہجری میں ہوئی۔ [معرفۃ القراء، ج: 1، ص: 305]
7: امام کسائی کوفی
یہ علی بن حمزہ نحوی ہیں، جو بنو اسد کے آزاد کردہ غلام تھے۔ ان کی کنیت ابو الحسن تھی۔
انہیں کسائی اس لیے کہا جاتا تھا کہ انہوں نے ایک مرتبہ کساء (چادر) اوڑھ کر احرام باندھا تھا، اسی مناسبت سے یہ لقب مشہور ہوگیا۔
آپ کا انتقال رنبویہ نامی گاؤں میں ہوا، جو ری کے نواحی علاقوں میں واقع تھا۔ یہ وفات اس وقت ہوئی جب آپ ہارون الرشید کے ساتھ خراسان کی طرف سفر کر رہے تھے۔ آپ کی وفات 189 ہجری میں ہوئی۔ [التیسیر فی قراءات السبع، ص: 104]
آپ کے روات میں سے بھی دو مشہور و معروف ہیں: 1: حضرت ابو عمر حفص۔ 2: حضرت ابو الحارث۔
ابو عمر حفص
یہ حفص بن عمر الدوری ہیں، جو نحو کے عالم، نابینا تھے اور یحییٰ بن مبارک الیزیدی کے شاگرد تھے۔
ابو الحارث
یہ لیث بن خالد بغدادی ہیں۔
پھر مصنف ابو عمرو الدانی فرماتے ہیں:
“یہ قرائے سبعہ اور ان سے قراءت نقل کرنے والے راویوں کے نام ہیں، جنہیں مختلف شہروں کے اعتبار سے اختصار کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، اور توفیق صرف اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔” [ایضاً]
حاصل کلام
یہ ساتوں حضرات “قرائے سبعہ” کے نام سے مشہور ہیں۔ ان ائمہ قراءت نے قرآنِ کریم کی قراءت کو اپنے اساتذہ سے سند کے ساتھ حاصل کیا اور آگے امت تک پہنچایا۔ ان کے مذکورہ چودہ راویوں نے ان کی قراءات کو نقل کیا، جن کے ذریعے یہ قراءات محفوظ ہو کر بعد کی نسلوں تک پہنچیں۔ علمِ قراءات میں انہی سات ائمہ اور ان کے چودہ راویوں کو بنیادی اور نمایاں مقام حاصل ہے۔
