| عنوان: | اعلیٰ حضرت: کرامات و حالات (قسط: پنجم) |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | محمد توصیف رضا عطاری |
بیت المقدس کے ایک صالح کا خواب
جس دن امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کا وصال ہوا، اسی دن بیت المقدس (ملکِ شام: قدیم) کے ایک صالح نے خواب میں دیکھا کہ حضور اقدس تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی معیت میں جلوہ افروز کسی کی آمد کا انتظار فرما رہے ہیں۔ یہ صالح حضور اقدس شفیعِ محشر صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض گزار ہوئے:
فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، مَاذَا تَنْتَظِرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟
میرے ماں باپ آپ پر قربان! آقا کس کا انتظار فرما رہے ہیں؟
حضور اقدس سرورِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
أَنْتَظِرُ قُدُومَ الشَّيْخِ أَحْمَدَ رِضَا.
میں شیخ احمد رضا کی آمد کا انتظار کر رہا ہوں۔
شامی بزرگ نے عرض کیا:
مَنْ هُوَ الشَّيْخُ أَحْمَدُ رِضَا؟
شیخ احمد رضا کون ہیں؟
حضور اقدس نورِ مجسم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
هُوَ مِنْ أَهْلِ بَرِيلِي بِالْهِنْدِ.
وہ بریلی ملکِ ہند کے ہیں۔
یہ شامی بزرگ امامِ اہلِ سنت قدس سرہ العزیز سے ملاقات کے لیے عازمِ ہند ہوئے، بریلی آئے اور امام احمد رضا قادری سے ملاقات کا شوق ظاہر فرمایا۔ انہیں بتایا گیا کہ 25 صفر المظفر کو وہ واصل الی اللہ ہو گئے۔ یہ وہی دن تھا جس دن وہ شامی بزرگ حضور اقدس شہنشاہِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارتِ مبارکہ سے خواب میں سرفراز ہوئے تھے۔ [سوانح اعلیٰ حضرت: از مفتی بدر الدین رضوی، ص: 384، رضا اکیڈمی ممبئی]
یہ انتظار ویسا ہی تھا جیسے کوئی آقا اپنے وفادار غلام کا انتظار کرے، ورنہ حضور اقدس نورِ مجسم تاجدارِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے قدمِ مبارک کے نیچے کی خاک بھی امام احمد رضا سے لاکھوں درجہ فزوں تر اور بالاتر ہے۔ موصوف کا نظریہ بھی ایسا ہی تھا۔ انہوں نے دربارِ نبوی میں پیش کردہ اپنی نظم “وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں” میں خود کو سگِ دربارِ مصطفوی قرار دیا ہے۔ یہ مقدس خواب حدیثِ نبوی:
الْمَوْتُ جِسْرٌ يُوصِلُ الْحَبِيبَ إِلَى الْحَبِيبِ. [لباب الحدیث للسیوطی: ج: 1، ص: 33]
کی تمثالی تشریح ہے۔
صحیح العقیدہ ہونے کی دلیل
انسان کا بارگاہِ نبوی میں مقبول ہونا اس کے صحیح العقیدہ ہونے کی واضح دلیل ہے، کیوں کہ بد عقیدہ منافقین کو حضور اقدس رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجدِ نبوی سے نکال باہر کیا تھا، پھر کوئی بد دین قلبِ نبوی میں کیسے جگہ پا سکتا ہے۔ جب امام احمد رضا مقبول بارگاہ ہیں تو ضرور ان کے اعتقادات قرآن و حدیث کے مطابق اور بارگاہِ مصطفوی میں مقبول ہیں۔ اس طرح یہ حقیقت شمسِ منیر کے مثل روشن ہوگئی کہ ہم اہلِ سنت کے عقائد مقبولِ بارگاہِ مصطفوی ہیں اور اہلِ سنت و جماعت نے بارگاہِ نبوی میں قبولیت کو دلیلِ حقانیت بنایا ہے۔ اب جو درِ بارِ رسالت سے برگشتہ ہو، وہ کچھ بھی ہو، اہلِ سنت سے منقطع ہے۔ و وہابیہ اعتقادی دارند کہ علم و فضل و تقویٰ ظاہری دلیل حقانیت است و اعمالِ ظاہر را بنائے صحتِ اعتقاد پندارند و رب تعالیٰ فرمود:
عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ تَصْلَى نَارًا حَامِيَةً [سورۃ الغاشیة: 3-4]
پس وہابیہ از راہِ حق بعید تر اند و در فطرتِ شدتِ قبیح دارند حتیٰ کہ ایذاء و تحقیر حبیبِ خدا و توہینِ مقبولانِ بارگاہِ یزداں می کنند و ہم شر الخلق والخلیقۃ اند و ہم چنیں در حدیث آمدہ است۔
بعد وصال در بارِ اقدس میں حاضری
امام اہلِ سنت قدس سرہ العزیز کے خلیفہ قطبِ مدینہ حضرت مولانا ضیاء الدین مدنی رحمۃ اللہ علیہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک بار میں دن کو دس بجے سو رہا تھا کہ خواب میں دیکھتا ہوں کہ امام اہلِ سنت حضور اقدس سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارک کے مواجہہ اقدس میں کھڑے صلوٰۃ و سلام عرض کر رہے ہیں۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔
اب بار بار یہ خیال کر رہا ہوں کہ یہ ایک خواب تھا، مگر دل کی یہ حالت کہ متواتر حرم شریف چلنے پر آمادہ کر رہا ہے۔ بالآخر بستر سے اٹھا، وضو کیا اور “باب السلام” سے حرمِ مقدس میں داخل ہوا۔ ابھی کچھ حصہ مسجدِ نبوی کا طے کیا تھا کہ اپنی آنکھوں سے میں نے دیکھا کہ واقعی امام اہلِ سنت اسی سفید لباس میں ملبوس روضہ مبارک پر حاضر ہیں اور جیسا کہ خواب میں دیکھا تھا کہ صلوٰۃ و سلام پڑھ رہے ہیں، میں نے دیکھا کہ لبہائے امام جنبش میں تھے۔ آواز سننے میں نہ آتی تھی۔ غرض میں یہ دیکھ کر آگے بڑھا کہ نظروں سے غائب ہو گئے۔
اس کے بعد میں نے حاضری دی اور بارگاہِ عالی میں صلوٰۃ و سلام عرض کر کے واپس ہوا۔ جب اس جگہ آیا جہاں سے امام اہلِ سنت کو دیکھا تھا تو پھر امام کو مواجہہ اقدس میں موجود پایا۔ میں ملاقات کی غرض سے آگے بڑھا تو آپ غائب ہو گئے۔ اسی طرح تین بار ہوا، پھر آپ نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ [حیاتِ اعلیٰ حضرت: ج: 3، ص: 242]
وصالِ پُرملا ل اور علمی وراثت
بروز جمعہ دو بج کر اڑتالیس منٹ پر 25 صفر المظفر 1340ھ مطابق 1921ء کو امامِ اہل سنت قدس سرہ العزیز وصال الیٰ اللہ ہوئے اور علوم وفنون کا بیش بہا تحفہ اپنے وارثین و متبعین کے لیے چھوڑ گئے: جزاہ اللہ عن المسلمین خیر الجزاء (آمین)۔
اللہ تعالیٰ جسے چاہے، اسے اپنے دینِ متین کی خدمت کے واسطے منتخب فرما لے اور جس کا انتخاب ہو گیا، وہ قسمت والا ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ اس کی عزت و تکریم کرے۔
امامِ اہل سنت قدس سرہ العزیز نے کروڑوں مسلمانوں کے دین و ایمان کی حفاظت فرمائی۔ ہم لوگ اگر اپنے ایمان و عقیدہ کی حفاظت کر لیں تو یہ بھی بہت بڑی بات ہے۔
عہدِ حاضر کی سب سے بڑی بلا شخصیت پرستی ہے۔ یہ مرضِ مہلک اہل سنت و جماعت میں نہیں تھا، لیکن غیر محسوس طور پر یہ مرض متعدی لوگوں کے دل و دماغ کو مضمحل کرتا جا رہا ہے۔
شخصیاتِ عظیمہ کو دیکھ کر لوگ “آمنا و صدقنا” کہتے ہیں اور عہدِ حاضر کے اصحابِ جبہ و دستار کی کیفیت یہ ہے کہ اگر ان سے کوئی لغزش صادر ہو جائے تو وہ تاویلِ باطل میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ توبہ و رجوع کو اسی طرح خلافِ شان سمجھتے ہیں جیسے وہابیہ اور دیابنہ سمجھتے تھے۔
ارشادِ الٰہی ہے:
إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ [سورۃ البقرة: 222]
ترجمہ: بے شک اللہ پسند رکھتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو۔ [کنز الایمان]
بندگانِ الٰہی کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے پسندیدہ بندے بنیں۔
وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ وَآلِهِ الْعَظِيمِ.

