| عنوان: | لقائے حبیب اور وصالِ محبوب (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا محمد علی رضوی |
| پیش کش: | محمد احسان مصطفیٰ |
| منجانب: | جامعۃ المدینہ فیضانِ عطار ناگپور |
مگر محبت کی راہیں بڑی دشوار اور پیچیدہ ہوا کرتی ہیں۔ محبت کے مراحل بڑے پر آشوب اور پر خطر ہوتے ہیں۔ محبت کی راہیں بڑی شدید اور کٹھن ہوا کرتی ہیں، محبت کی راہوں میں بڑے پیچ و خم ہوا کرتے ہیں، محبت کی رٹ لگانا اور اس کے خطبے پڑھنا بہت ہی سہل اور آسان ہے، مگر ایک محب کا محبت کی پیچیدہ اور پر خطر وادیوں کو اپنے نازنین قدموں سے روندتے ہوئے، پامال کرتے ہوئے اپنے محبوب تک پہنچنا یہ ایک بڑا ہی کٹھن اور نازک مسئلہ ہے۔ محبت کے درد میں پہلو تہی کرنا اور کروٹیں بدلنا، محبت کے سوز و گداز میں پگھلنا اور اس کے درد میں بے چینی اور بے قراری سے تڑپنا تو آسان ہے مگر محبت کی دشوار راہوں میں حائل ہونے والی بے شمار رکاوٹوں اور موانع سے مقابلہ کرتے ہوئے اس کے تمام مصائب و شدائد جھیلتے اور برداشت کرتے ہوئے اپنے محبوب و معشوق کی دہلیز اور چوکھٹ پر پہنچ کر اپنی جبینِ عقیدت اور سرِ نیاز کو جھکا دینا یہی ایک اہم ترین کام اور سخت ترین منزل ہے۔ بالفاظِ دیگر یوں کہیے کہ عام شاہراہوں پر اور محبوب کی گلیوں میں انا الحق انا الحق کی صدائیں بلند کرنا اور انی انا اللہ کے زبانی نعرے لگانا تو بہت آسان ہے مگر اپنے معبودِ برحق اور خالق و مالک تک پہنچنا یہ بہت دشوار ہے۔ یا رسول اللہ اور مصطفیٰ جانِ رحمت کی صدائیں بلند کرنا تو سہل ہے مگر رسولِ اعظم کی لقا اور آقائے کائنات تک رسائی یہ ہر ایک کو میسر اور حاصل نہیں ہوتی۔ بغداد پہنچ کر غوث کی گلیوں میں، اجمیر جا کر خواجہ کے کوچوں میں یا غوث، یا خواجہ کے نعرے بلند کرنا، لہرانا تو بہت آسان ہے، مگر وصالِ غوث اور لقائے خواجہ یہ ہر ایک کا نصیب اور مقدر کہاں؟ شہر شہر، گلی گلی، کوچہ کوچہ، ڈگر ڈگر، نگر نگر یا حسین یا حسین کے نعرے بلند کرنا اور سینہ کوبی کی بھیانک صداؤں سے آسمانی فضاؤں میں شور و غل برپا کرنا تو آسان ہے مگر حسین کی سیرت اور ان کے کردار و عمل کو اپنانا، پھر ان سے واصل اور ملاقی ہو جانا بہت دشوار ہے۔
اِینْ قُوَّتْ بِزُورِ بَازُو نِيسْتْ
تَا نَہ بَخْشَدْ خُدَائےِ بَخْشَنْدَہ
وصالِ یار جیسی دولتِ بے بہا اور لقائے حبیب جیسی نعمتِ عظمیٰ کے حصول کے لیے پہلے اپنے آپ کو مٹا دینا، اس کے تصورات و خیالات اور اس کی ذات و صفات میں گم اور فنا کر دینا لازم ہے، تب کہیں وصالِ محبوب کے جلوے نظر آتے ہیں، لقائے حبیب کی لذتیں محسوس ہوتی ہیں، تجلیاتِ یار کی کرنیں اور شعاعیں پھوٹ پڑتی ہیں، شادمانیاں ہوتی ہیں، دریا بہنے لگتے ہیں اور لطافتوں کے سمندر موجزن ہو جاتے ہیں۔ غرض کہ ایک طالبِ صادق اور عاشقِ کامل کو اپنے مطلوب و معشوق کے عشق و محبت میں فنا ہو جانے کے بعد ہی بقا نصیب ہوتی ہے۔ ایک محبِ حقیقی کو اپنے محبوبِ حقیقی کی الفت و محبت میں سرشار ہو کر اور تڑپ تڑپ کر مر جانے کے بعد ہی اس کی حیات کے ایک رنگین اور نئے دور کا آغاز ہوا کرتا ہے۔
دورِ حیات آئے گا قاتل قضا کے بعد
ہے ابتدا ہماری تری انتہا کے بعد
اس منزل پر پہنچ جانے کے بعد محب کی زندگی میں چار چاند لگ کر رہ جاتے ہیں، اس کی حیات میں ایک انقلابِ عظیم پیدا ہو جاتا ہے اور اب اس کی زندگی اس درجہ اور اس حد تک روشن و منور اور درخشندہ و تابندہ ہو جاتی ہے، زیورِ ثبات و استقلال سے اس طرح مزین و آراستہ و پیراستہ ہو جاتی ہے کہ شمس و قمر کی روشنیاں اس کے مقابلے میں مدھم ہو کر رہ جاتی ہیں، انجم و کہکشاں شرم و حیا سے سر جھکا دیتے ہیں اور وہ بقائے دائمی اور حیاتِ جاودانی سے اس طرح نواز دیا جاتا ہے کہ ساری دنیا اس کے در سے حیات و بقا کی بھیک مانگتی ہوئی نظر آتی ہے۔ بڑے بڑے شاہانِ زماں اور سلاطینِ وقت کی گردنیں اس کی چوکھٹ پر خم ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں، بڑے بڑے رستمِ زماں اور مغرور و متکبرین اس کے در و بام کے قرب و جوار اور ارد گرد رقص کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، دنیا کی تمام تر طاغوتی طاقتیں اس کے روبرو جھکتی ہیں، مگر اب وہ کسی طاقت کے سامنے جھکتا ہوا نظر نہیں آتا بلکہ وہ دار و رسن پر چڑھ جانے کے بعد بھی اپنی حیات و بقا اور اپنے محبوب کی الفت و محبت کے نعرے ہی لگاتا ہوا نظر آتا ہے اور دنیا والوں کو یہی سبق اور درس دیتا ہوا دارِ فانی سے کوچ کرتا ہے کہ:
زندہ باد اے جذبۂ حبِّ رسالت زندہ باد
دار پر چڑھ کر بھی یہ نعرہ لگا سکتے ہیں ہم
غرض کہ اک عاشق کو معشوق کے قدموں میں پہنچنے کے بعد ہی سکون نصیب ہوتا ہے، محب کو اپنے محبوب کے در پر سر جھکانے کے بعد ہی راحت ملتی ہے، طالب کو مطلوب کے دربار میں پہنچنے کے بعد ہی قرار آتا ہے۔ بالفاظِ دیگر یوں کہیے کہ اک سچے عاشقِ رسول کو سکون و چین تب ہی ملتا ہے جب کہ وہ سرزمینِ بطحا پر پہنچ کر مدینۃ الرسول میں حاضر ہو کر گنبدِ خضرا کی سنہری جالیوں اور اس کے حسین و جمیل، معطر اور پرکیف اور پرکشش بہاروں کا نظارہ کر لے۔ اک غوث و خواجہ کے دیوانے کے دل کی دھڑکن اور اس کے دل کا درد اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کو غوث و خواجہ کے دربار میں سر جھکانے کا موقع نہ مل جائے، اس کے سوا اس کا کوئی علاج ہی نہیں ہے۔
درد و الم کے مبتلا جس کی نہ ہو کہیں دوا
دیکھے وہ شانِ مصطفیٰ آپ کے در پہ آئے تو
میرے دردِ دل کی دوا غوثِ اعظم! اور بعض نے کہا ہے کہ نہ محبت جنون اور پاگل پن کا نام ہے اور نہ محبت دردِ دل کا نام ہے بلکہ محبت نام ہے دردِ دل کی دوا کا۔ جو چیز دل میں پیدا ہونے والے درد کو ختم کر دے، جس سے دل کی بے چینیاں جاتی رہیں، جس سے دل کی بے کلی اور اس کا کرب و اضطراب زائل ہو جاتا ہے، دل کی ایسی کیفیت کا نام محبت ہے اور بعض نے کہا کہ محبت نہ جنون و پاگل پن کا نام ہے، نہ دردِ دل اور اس کی دوا کا نام محبت ہے بلکہ محبت ایک شعلہ ہے، محبت اک آگ ہے، محبت اک ایسی چنگاری ہے جو خود بخود پیدا ہوتی ہے، پیدا کرتے نہیں یہ وہ قدرتی عطیہ ہے اور ربانی فیض ہے جو یک بیک ملتا ہے۔ محبت سے نہیں، یہ وہ روشن آگ ہے، درخشاں شعلہ ہے کہ جو کسی شخصِ آخر کے جلانے سے نہیں جلتا، کسی کے روشن کرنے سے روشن نہیں ہوتا۔ محبت ہو ہی جاتی ہے، محبت کی نہیں جاتی، یہ شعلہ خود بھڑکتا ہے، بھڑکایا نہیں جاتا۔ [مقالاتِ نعیمی، ص: 155]

