| عنوان: | نفاق اعتقادی و عملی کی تباہی قرآن و حدیث کی روشنی میں |
|---|---|
| تحریر: | شکیل احمد رامپوری |
اسلامی معاشرے میں نفاق کو سب سے بڑا داخلی فتنہ قرار دیا گیا ہے۔ منافقت ایک ایسا باطنی مرض ہے جو انسان کے ایمان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے اور معاشرتی امن و امان کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں نفاق کی علامات اور اس کے دنیا و آخرت میں ہونے والے بھیانک انجام کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے تاکہ مسلمان اپنے باطن کا محاسبہ کر سکیں اور اس مہلک بیماری سے دور رہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں منافقین کے ٹھکانے کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نفاق کا گناہ بعض اوقات ظاہری کفر سے بھی زیادہ سنگین ہو جاتا ہے، کیونکہ منافق آستین کا سانپ بن کر اہل ایمان کو دھوکا دیتا ہے اور دین کی بنیادوں کو نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش کرتا ہے۔
إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَن تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرًا [سورۃ النساء: 145]
احادیث کریمہ میں نفاق کی دو بنیادی اقسام بیان کی گئی ہیں: نفاقِ اعتقادی اور نفاقِ عملی۔ نفاق اعتقادی سے مراد یہ ہے کہ انسان دل میں کفر چھپائے اور زبان سے ایمان کا دعویٰ کرے، جب کہ نفاق عملی یہ ہے کہ انسان عقیدے کے اعتبار سے تو مسلمان ہو لیکن اس کی عادات و اطوار منافقین جیسی ہوں، جیسے جھوٹ بولنا، امانت میں خیانت کرنا، اور وعدہ خلافی کرنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان عادات سے سختی سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے۔
آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ [رقم الحديث: 33]
مذکورہ بالا فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے کردار کو ان برائیوں سے پاک رکھے۔ جب تک ہم اپنے معاشرے سے عملی نفاق، جھوٹ، حسد، اور دغابازی کا خاتمہ نہیں کریں گے، تب تک حقیقی اسلامی فلاحی معاشرے کا قیام ممکن نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نفاق کے جملہ اقسام سے محفوظ فرمائے اور ایمانِ کامل عطا فرمائے۔

