| عنوان: | اہلِ بیت کی عظمت |
|---|---|
| تحریر: | عالمہ ام الورع ایوبی |
| پیش کش: | ندائے قلم ایوبیہ اکیڈمی للبنات |
اللہ رب العزت کا بے پناہ فضل و احسان ہے کہ اس نے ہمیں اسلام جیسی عظیم نعمت سے نوازا۔ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جو نہ صرف عبادات و معاملات میں ہماری رہنمائی کرتا ہے بلکہ انسان کو ہر میدان میں بلندی تک پہنچانے کا واحد ذریعہ بھی اسلام ہی ہے۔
اس دینِ متین کے بانی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اور اس کے حقیقی وارث اہلِ بیتِ اطہار ہیں۔
اہلِ بیت کی عظمت کا اندازہ صرف خاندانی نسبت تک محدود نہیں، بلکہ قرآن و حدیث میں بھی ان کی فضیلت و رفعت کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ کیونکہ ان نفوسِ قدسیہ نے دینِ اسلام کے لیے ایسی بے مثال قربانیاں دیں، جن کی روشنی قیامت تک اہلِ ایمان کے دلوں کو منور کرتی رہے گی۔
اللہ رب العزت قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا. [سورۃ الاحزاب: 33]
ترجمہ (کنز الایمان): “اللہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو! کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کر کے خوب ستھرا کر دے۔”
امام عبداللہ بن احمد نسفی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:
“یہاں گناہوں کو ناپاکی سے اور پرہیزگاری کو پاکی سے تشبیہ دی گئی ہے، تاکہ اہلِ بیت گناہوں سے بچیں اور تقویٰ و پرہیزگاری کی زندگی گزاریں۔ گناہوں کا مرتکب ایسے ہی آلودہ ہوتا ہے جیسے جسم نجاست سے۔ اس طرزِ کلام کا مقصد عقلمندوں کو گناہوں سے نفرت دلانا اور تقویٰ کی ترغیب دینا ہے۔” [مدارک التنزیل، الاحزاب: 33، ص: 940]
جب تمام انبیاءِ کرام نے اپنی اقوام کو اللہ کی طرف بلایا تو فرمایا کہ: “ہم تم سے اس تبلیغ کے بدلے کوئی اجرت نہیں مانگتے۔” لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتِ رسالت کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى. [سورۃ الشوریٰ: 23]
ترجمہ (کنز الایمان): تم فرماؤ میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا مگر قرابت کی محبت۔
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ محبتِ اہلِ بیت، ایمان کا بنیادی تقاضا ہے۔ اگر کوئی شخص نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور دیگر فرائض ادا کرتا ہے لیکن اس کے دل میں اہلِ بیت کی محبت نہیں، تو اس کے ایمان کی کوئی قیمت نہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي، أَحَدُهُمَا أَعْظَمُ مِنَ الْآخَرِ: كِتَابُ اللَّهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ، وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي، وَلَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ.
ترجمہ: “میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں؛ ان کو مضبوطی سے تھامے رکھو، تم کبھی گمراہ نہ ہو گے: ایک اللہ کی کتاب ہے جو آسمان سے زمین تک تنی ہوئی رسی ہے، اور دوسری میری عترت یعنی میرے اہلِ بیت ہیں۔ یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے، یہاں تک کہ حوضِ کوثر پر میرے پاس پہنچیں۔” [جامع ترمذی، رقم الحدیث: 3786]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ مَاتَ عَلَى حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ مَاتَ شَهِيدًا.
ترجمہ: “جو شخص آلِ محمد کی محبت پر مرا، وہ شہید مرا۔” [المعجم الاوسط للطبرانی، رقم الحدیث: 6787]
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اہلِ بیتِ اطہار سے سچا عشق اور پائیدار محبت عطا فرمائے، اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین، بجاہِ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔

