ہم اس حقیقت سے بخوبی آشنا ہیں کہ فرصت کے لمحات انسان کو ذرا کم ہی میسر آتے ہیں۔ زندگی کام کی ڈور میں اس قدر الجھی ہوئی ہے کہ نجات کی کوئی صورت نظر نہیں آتی، کثرتِ کار نے ہمارے وجود پر اس طرح قبضہ جما لیا ہے کہ ہماری ساری توانائی صرف روزگار کے گرد گھومنے میں خرچ ہو جاتی ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سرمایہ دارانہ ذہنیت میں کام کا بنیادی مقصد پیداوار میں اضافہ اور منافع کی زیادہ سے زیادہ شرح ہے۔
اس زاویے سے دیکھا جائے تو مزدور یا ملازم ایک زندہ انسان نہیں بلکہ “پروڈکشن یونٹ” ہیں۔ اور پروڈکشن یونٹ ہونے کی وجہ سے بحیثیت انسان، انسان کی کوئی اہمیت نہیں، بلکہ اہم صرف اس کی کارکردگی ہے۔
اس پر ہر وقت یہ دباؤ رہتا ہے کہ وہ مسلسل پروڈکشن یونٹ بنا رہے، خواہ اس عمل میں اس کی صحت جواب دے جائے یا اس کی خانگی زندگی مسائل کا شکار ہو جائے۔ کارکردگی کی اس مسلسل دوڑ میں ایک مخصوص کیفیت پیدا ہوتی ہے جسے نفسیات کی زبان میں “احتراقِ نفسی” یا بلفظ دیگر “برن آؤٹ” (Burnout) کہتے ہیں۔ یہ ایک ایسی کیفیت ہوتی ہے جس میں انسان باہر سے کامیاب تو ضرور نظر آتا ہے مگر اندر سے اس کا وجود مسلسل آتش فشانی مظاہروں میں مبتلا نظر آتا ہے۔
آج کی تیز رفتار دنیا میں خود کو منوانے کی تگ و دو، قابلیت ثابت کرنے کی بے قراری، اور کمر توڑ مہنگائی کے اس دور میں زیادہ سے زیادہ کمانے کی مجبوری، یہ سارے عوامل مل کر انسان کو طویل اوقاتِ کار کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔ بے روزگاری کے عالمی انڈیکس کو دیکھا جائے تو کروڑوں افراد بے روزگار نظر آتے ہیں۔ کوئی فری لانسر ہو یا کارپوریٹ دنیا کا ملازم، ہر ایک کو اپنے روزگار اور ملازمت کے چھن جانے کا خوف رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ دوہری ملازمت اختیار کرتے ہیں یا ملازمت کے اوقات کے بعد کسی دوسرے ذریعۂ معاش کو بھی بدرجۂ مجبوری اختیار کرتے ہیں تاکہ اپنے خاندان کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کر سکیں، ای ایم آئی کے جال سے نکل سکیں، یا کم از کم ایک باعزت زندگی گزار سکیں۔
دنیا اب ڈیجیٹل ہو چکی ہے اور “ورک فرام ہوم” نے تو کام اور زندگی کے درمیان کھینچی ہوئی لکیر ہی مٹا دی ہے۔ اب دفتر کی دیواریں گھروں کے اندر اٹھ چکی ہیں، وہ گھر جو کبھی سکون اور اطمینان کا مرکز ہوا کرتا تھا، اب اسکرینوں، ای میلز اور آن لائن میٹنگز کا سیمینار ہال بن چکا ہے۔ انسان جہاں بھی ہو، کام اس کے تعاقب میں رہتا ہے، اور شاید یہی وجہ ہے کہ کام سے متعلق ذہنی بیماریاں اور دباؤ کی کیفیتیں پہلے سے کہیں زیادہ عام ہو چکی ہیں۔ آج ہر آدمی سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہر وقت متحرک اور دستیاب رہے، یعنی سچ پوچھیے تو آج لوگ ایک دوسرے کے غلام ہیں، بغیر زنجیر کے غلام۔
جدید فلسفے نے ایک خطرناک تصور کی بنیاد رکھی ہے، اس کے مطابق “وقت ہی دولت ہے”۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وقت دولت ہے لیکن اس کارپوریٹ دور میں اس جملے نے وقت کی معنوی وسعت کو سمیٹ کر اسے صرف مالی و معاشی قدر تک محدود کر دیا ہے، یعنی جدیدیت کے مطابق ہر وہ لمحہ جو دولت میں تبدیل نہ ہو سکے، وہ ضائع شدہ لمحہ ہے۔ اس طرزِ فکر نے انسانی قدروں کو بھی کاروباری منطق میں ڈھال دیا ہے۔ صلہ رحمی، بھائی چارہ، آپسی میل محبت، ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شرکت، یا کسی دوست کے ساتھ بیٹھ کر وقت گزارنا، یہ ساری چیزیں کارپوریٹ فکر کو غیر نفع بخش سرگرمیاں محسوس ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج آپسی تعلقات منافع بخش معاہدے کے اسیر اور خلوص، مادی افادیت کا غلام نظر آتا ہے۔
ایک زمانہ تھا جب بڑے لوگ کم کام کر کے یا بالکل ہی کام نہ کر کے اپنی وجاہت کا اظہار کیا کرتے تھے مگر آج معاملہ برعکس ہے، آج تو مصروف رہنے میں ہی وقار سمجھا جاتا ہے۔ لوگ اپنی مصروفیت کو کامیابی کی علامت کے طور پر فخریہ انداز میں پیش کرتے ہیں۔ آج خود داری کا معیار یہ نہیں رہا کہ وقت کو کس شعور سے استعمال کیا گیا، بلکہ یہ ہے کہ آدمی کتنا زیادہ مصروف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ زیادہ کامیابی، اونچی سماجی حیثیت، یا بہتر معیارِ زندگی کے لیے زیادہ سے زیادہ کام کرتے ہیں۔ مگر اس تیز رفتار دوڑ کے نتائج بھی کچھ کم برے نہیں نکلتے۔ جسمانی تھکن، ذہنی بے چینی، تخلیقی صلاحیتوں کا زوال، وغیرہ وغیرہ، یہ ساری چیزیں کسی خون آشام چڑیل کی طرح انسان کے وجودی لہو کو قطرہ قطرہ کر کے پی جاتی ہیں۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ “جب ہر فیصلہ فوری نتیجے کے دباؤ میں کیا جائے تو تجربہ اور سیکھنے کی گنجائش کم ہو جاتی ہے۔ ناکامی کا خوف علم کی جستجو پر غالب آ جاتا ہے اور جب کام خود مقصد بن جائے تو زندگی کے بڑے معانی پس پشت چلے جاتے ہیں۔ سفر تو جاری رہتا ہے مگر منزل کا احساس کھو جاتا ہے۔”
ان حالات میں کامیابی کی تعریف و توضیح کو از سرِ نو مرتب کرنے کی ضرورت ہے، ایسی تعریف پیش کرنے کی ضرورت ہے جس میں مالی استحکام کے ساتھ ذہنی سکون، رشتوں کی گرمی اور زندگی کا معنی بھی شامل ہو۔ اور یہ تبھی ممکن ہے جب انسان فرصت کے لمحات کو شعوری طور پر سنبھالے۔ کیوں کہ اصل میں فرصت ہی وہ آئینہ ہے جس میں آدمی خود کو بغیر کسی بناؤ سنگار کے حقیقی روپ میں دیکھ سکتا ہے۔ فرصت کا وقت ہی یہ تعین کرتا ہے کہ ہم صرف کام کرنے والی مشینیں نہیں ہیں بلکہ اپنے اندر ایک حساس دل اور اخلاص مند روح رکھنے والے انسان بھی ہیں۔
انسان کی وجودی شناخت اور اس کا خلا:
آج کی دنیا رفتار، دباؤ اور مسلسل شور سے بھری ہوئی ہے۔ خبروں کی یلغار ہے اور ہر خبر کے ساتھ درجنوں اشتہار بھی زبردستی انسان کے دماغ میں ٹھونسے جا رہے ہیں، اسکرینوں کی چمک دمک میں تصویروں پر تو نگاہیں جمی ہوئی ہیں لیکن انسان اور انسانیت، دونوں آنکھوں سے اوجھل ہو چکے ہیں۔ ہر چہار جانب مقابلے کی دوڑ ہے، چھوٹے بڑے مرد و خواتین سب بھاگ رہے ہیں۔ مگر ان سب کے درمیان انسان خود ایک گہرے سوال سے دوچار نظر آتا ہے، “میں کون ہوں؟ کس لیے ہوں؟” اس قسم کے سوالات اکثر کچھ ذہنوں کو ستاتے ہیں۔
میں کہوں گا کہ اس آپا دھاپی کے ماحول میں “فرصت” صرف خالی وقت نہیں بلکہ اپنے آپ سے ملاقات کا موقع ہے، مقصد کی تجدید کا موقع ہے، راستے کی درستی کا موقع ہے۔ اگر فرصت کو شعوری طور پر برتا جائے تو یہی لمحات انسان کو اندرونی توازن، فکری وضاحت اور روحانی سکون عطا کر سکتے ہیں۔ لیکن یہاں ایک اور قسم کا خلا بھی ہے جو گھڑی کے اوقات سے وابستہ نہیں، وہ ہے “وجودی خلا”۔ وہ ایسا خلا ہے کہ جس میں انسان دن بھر مصروف رہنے کے باوجود اندر سے خود کو خالی محسوس کرتا ہے۔ اس کی زندگی میں سرگرمیاں تو بہت ہوتی ہیں، مگر معنی کم ہوتے جاتے ہیں۔ یہ کیفیت محض وقت کو بھر دینے سے ختم نہیں ہوتی، کیوں کہ اس کی جڑیں گہری ہیں۔
جدید انسان اکثر اپنی اس اندرونی کمی کو سطحی مصروفیات سے ڈھانپنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسکرینوں، تفریحات اور مسلسل مصروفیت کے ذریعے وہ خود سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ تنہائی سے گھبراتا ہے، کیوں کہ تنہائی آئینہ بن جاتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ زندگی حقیقت کی بجائے نمائشی تصویروں میں بدل جاتی ہے۔ تعلقات، اشیا اور تجربات، سب وقتی، تیز رفتار اور سطحی ہو جاتے ہیں۔ یہ سب وقتی تسکین تو دیتے ہیں مگر مضبوط شناخت اور دیرپا سکون فراہم نہیں کرتے۔ یہ مصروفیت دراصل تکمیلیت کا وہم ہے، جو انسان کو اس کے اصل خلا سے غافل رکھتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان روزمرہ کی دوڑ سے ہٹ کر کچھ لمحے اپنے لیے مخصوص کرے، خود سے گفتگو کرتے ہوئے غور و فکر کے ساتھ اپنے باطن کو سنوارے۔ جب انسان شعوری طور پر اپنی ذات کی تعمیر کرتا ہے تو وقت کی تنظیم محض عملی مہارت نہیں رہتی بلکہ ایک اخلاقی اور روحانی عمل بن جاتی ہے۔ وہ اپنی کمزوریوں سے مصالحت کرنا سیکھتا ہے، زندگی کے نشیب و فراز میں لچک پیدا کرتا ہے، اور آہستہ آہستہ باطنی سکون پاتا ہے۔ فرصت کے لمحات کا درست استعمال اصل میں اس بات کا اعلان ہے کہ انسان صرف ٹیکنالوجی کا اسیر نہیں، بلکہ ایک باشعور وجود ہے جو اپنے وقت کو معنی عطا کر سکتا ہے۔