| عنوان: | ممدوحِ عرب و عجم، مجمع علیہ کتابِ مستطاب "حسام الحرمین الشریفین" پر علما و فقہا اور مشائخ و مفتیانِ کرامِ برصغیر کی تائیدات و تصدیقات |
|---|---|
| تحریر: | ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی |
| پیش کش: | عائشہ رضا عطاریہ |
(دین بیزاری، مسلک آزاری اور فکری آوارگی کے اس مسموم ماحول کے پس منظر میں ایک چشم کشا تحریر)
تاریخ گواہ ہے کہ دنیا عذاب میں مبتلا تھی۔ آخری نبی اور رسول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نبوت کے اظہار و اعلان کے ساتھ ہی دعوتِ اسلام دینی شروع کر دی۔ قدرتی اور فطری طور پر اسلام اتنی تیزی کے ساتھ عروج پر آیا کہ دشمنانِ اسلام کے اوسان خطا ہو گئے۔ ازلی بدبخت اور سازشی ذہن رکھنے والے کفار و مشرکین اور یہود و نصاریٰ مل کر بھی اسلام کی ترقی اور سیلابی و طوفانی رفتار پر بند باندھنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ نتیجے میں انہوں نے مکر و فریب اور سازش و جعل سازی کا راستہ اپنایا؛ چنانچہ خوارج، معتزلہ، روافض اور ان کی جملہ شاخیں اسی سازش، فریب کاری اور دیسہ کاری کے اگائے ہوئے پودے ہیں۔ قرآن و تفاسیر، احادیث و سیر اور تاریخِ اسلام کے صفحات ان کے بیانات و شواہد سے بھرے ہوئے ہیں۔
محمد بن عبدالوہاب بارہویں صدی ہجری کے ربیع الاول میں پیدا ہوا اور تیرہویں صدی ہجری کی پہلی دہائی میں مر گیا۔ یہ زمانہ 1703ء تا 1792ء کا ہے۔ اس شخص نے ان قدیم منافقین — یعنی خوارج، روافض، اہل تشیع اور اعتزال — کی فضلہ خواری کی، یعنی ان کے چبائے ہوئے باسی لقموں کو اگلنا شروع کیا۔ گیارہ سو سال کے اسلامی عقائد و نظریات اور مسلمات و معمولات کے خلاف شترِ بے مہار اور فیلِ بد مست کی طرح جنگ کا بگل بجا دیا۔ اس کا رسالہ "رد الاشراک" جب مکہ مکرمہ پہنچا تو مدیرِ مکہ (گورنر مکہ) کے حکم سے شیخ احمد بن یونس باعلوی، شیخ عمر عبدالرسول، شیخ عقیل بن یحییٰ علوی، شیخ عبدالملک اور حسین مغربی وغیرہ علمائے و مفتیانِ کرامِ مکہ مکرمہ نے اس کے پرخچے اڑا دیے۔ پھر جن علما و مشائخِ حجاز و بلادِ عرب نے نجدی کا رد و تعاقب کیا، ان کی پچاسوں کتابیں اس کے رد میں لکھی گئیں۔
اسی معتوب و مخذول مصنف اور مردود و نامسعود کتاب "رد الاشراک" کی فوٹو کاپی ہندوستان میں اسماعیل دہلوی نے تیار کی۔ یہ شخص 1193ھ میں پیدا ہوا اور 1246ھ میں قتل ہو کر مرا۔ اس نے "تقویۃ الایمان" نامی کتاب لکھ کر ہندوستان کی خاموش فضا میں تہلکہ ڈال دیا۔ جامع مسجد دہلی میں مناظرہ ہوا اور اس کی زبان لل کر رکھ دی گئی، مگر برطانوی حکومت کی پشت پناہی نے اسے اور اس کی مردود و نامسعود کتاب کو چھاپ کر عام کیا، اور یہ کتاب مسلمانانِ ہند میں تفرقہ بازی کی بنیاد مضبوط کر گئی۔ اس رسوائے زمانہ تصنیف و مصنف کی تردید میں صدہا علمائے برصغیر و مشائخِ کبیر نے صدہا کتب اور رسالے قلم بند کیے۔ بخوفِ طوالت ہم اس کی فہرست درج کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ کتابیں اور رسالے اردو کے علاوہ عربی، فارسی, ہندی، انگریزی اور دیگر زبانوں میں بھی ہیں۔
یہ قلمی کاوشیں محض علمائے بریلی کی ہی نہیں ہیں، بلکہ بریلوی کہے جانے والے جہاں بھر کے اہل اسلام کی ہیں؛ جن کا تعلق چاروں مذاہبِ فقہ (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) اور چاروں مشاربِ طریقت (قادری، چشتی، نقشبندی، سہروردی) سے ہے۔ ان سب نے بیک زبان ہو کر خروج و اعتزال اور رفض و شیعیت کی نئی شکل "وہابیت" اور پھر اس کے بطن سے پیدا شدہ درجنوں نئی جماعتوں اور گروہوں کی شدید مذمت اور ان کے خلاف احتجاج درج کیا ہے، اور اصولِ اسلام و آئینِ شرع کی روشنی میں ان پر احکامِ شرع جاری کیے ہیں۔ یہ کوئی ذاتی، گھریلو یا سیاسی مسئلہ نہیں ہے، اس کا تعلق تو دین و شریعت اور ایمان و اعتقاد سے ہے۔ اس لیے اسے ہلکے میں نہیں لیا جانا چاہیے، نہ ہی اسے چند علما کی ذاتی رنجش اور اختلاف کا نتیجہ سمجھا جائے، بلکہ ٹھنڈے دل و دماغ سے غور و فکر کر کے اپنے دین، ایمان اور آخرت کا سامان کرنا چاہیے۔
خوب یاد رکھیے کہ “تقویت الایمان” کے روپ میں جب اسماعیل دہلوی کا فتنہ اٹھا تھا، تو اس وقت امام احمد رضا پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ 1272ھ میں وہ پیدا ہوئے اور 1286ھ سے انہوں نے علمی و قلمی زندگی کا آغاز کیا۔ کتاب “تقویت الایمان” ربیع الثانی 1240ھ میں لکھی گئی اور مشہور تاریخی شاہی جامع مسجد دہلی میں مناظرہ ہوا۔ تب سے 1286ھ تک درجنوں مناظرے و مباحثے ہوئے اور ان کی رودادیں لکھی اور چھاپی گئیں۔ درجنوں کتابیں، رسالے اور اشتہارات رد میں شائع ہو کر پورے برصغیر میں عام ہوئے اور اس پیکار، آزار و آویزش میں برصغیر کے تمام علما، مفتیانِ کرام اور مشائخِ عظام نے یک جٹ اور یک زبان ہو کر نمایاں کردار ادا کیا اور مسلمانانِ برصغیر کے ایمان و اعتقاد کی حفاظت و صیانت فرمائی۔
یہ بھی خوب یاد رکھنے کی بات ہے کہ تقویتِ الایمانی فتنے کو ہوا دینے میں علمائے دیوبند نے بڑی مخلصانہ سرگرمی دکھائی۔ دہلی اور دیوبند ہی اس قضیے کے خاص پڑاؤ تھے۔ پھر پنجاب میں بٹالہ، راجستھان میں ٹونک اور بہار میں صادق پور کے چند علماء نما افراد خم ٹھونک کر اس میدان میں آ گئے، اور اکا دکا افراد یہاں وہاں سے بھی علمائے حق کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ بحث کے اس مرحلے میں یہ بات بھی بہت ہی اچھی طرح سے ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ “حسام الحرمین الشریفین علی منحر الکفر والمین” کی تالیف و طباعت سے بہت پہلے ہندوستان کی اس اعتقادی جنگ کی گونج ہند سے اٹھ کر حجازِ مقدس تک پہنچ چکی تھی۔
برصغیر کے خدا ترس علمائے دین — مثلاً حجة العصر حضرت شاہ وصی احمد محدث سورتی ثم پیلی بھیتی کی ’جامع الشواہد‘، مناظرِ اسلام حضرت علامہ نذیر احمد رام پوری ثم احمد آبادی کی تصنیف ’صیانت الناس‘، ’سرشکن وہابیہ‘، تیغِ کن دیانہ شیرِ پنجاب حضرت علامہ غلام محمد دستگیر ہاشمی قصوری کی ’تقدیس الوکیل عن توہین الرشید والخلیل‘ اور بزرگِ عالمِ ربانی حضرت شاہ محمد سلامت اللہ نقشبندی اعظمی ثم رام پوری کی کتاب ’اعلام الاذکیا‘ — علما و مشائخِ مکہ و مدینہ کی نظروں سے گزر چکی تھیں۔ ان تصانیف و مصنفین کے ذریعے علمائے وہابیہ و دیوبندیہ کے اقوال و عبارات سے علما، فقہا، قضاۃ اور مشائخِ حرمین شریفین خوب اچھی طرح واقف و آگاہ ہو کر حکمِ شرع سنا چکے تھے۔
جب قولِ فیصل کی صورت میں “حسام الحرمین الشریفین” سامنے آئی، تو کسی ایک صوبے یا ایک ملک کے اہل علم نے نہیں، بلکہ تمام عالمِ اسلام کے جید و جلیل الشان اربابِ علم و فن اور صاحبانِ افتا و قضا نے حق و باطل اور ایمان و کفر کا مسئلہ سمجھ کر اسے ہاتھوں ہاتھ لیا اور کفر و کافری کی غارت گری سے اہلِ اسلام کو بچانے کے لیے صف آرا ہو گئے۔ حجازِ مقدس میں حرمینِ محترمین (مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ) اور پھر تمام ممالکِ اسلامیہ و بلادِ عربیہ کے ذمہ دار، دیندار علما، مشائخ، مفتیانِ کرام اور قاضیانِ اسلام — جن کی تقاریظ و تصادیق کی روشن تحریروں سے اس کتابِ مستطاب کا دامن مملو و مشحون اور اوراق و صفحات معمور و بھرپور ہیں — ان کا تعلق علم و فضل کے تمام شعبوں اور جہانِ اسلام کے نامور علمی شہروں سے ہے۔ ان میں نمایاں نام مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، یمن، احسا، رأس الخیمہ، شام، دمشق، حلب، مصر، بغداد، عراق، فلسطین، لبنان، بیروت، تیونس، مراکش، فاس، مغرب، الجزائر، موریتانیہ اور انڈونیشیا وغیرہ ہیں؛ اور ہند و پاک تو خیر ہاتھ کے نیچے ہی ہیں۔
علمائے حجاز اور ممالکِ عرب کے جن علما و مشائخ نے “حسام الحرمین الشریفین” کے اجماع و اتفاق پر دستخط و مہر کیے ہیں، ان کی تعداد 81 سے زائد ہے؛ اور وہ اسلامی علوم و فنون، قضا و افتا اور خصوصاً علمِ اصول و کلام کے ماہرین تھے اور دینی شعور و دیانت کے اہم عہدوں اور مناصبِ جلیلہ پر فائز تھے۔ مثلاً: صدرِ مملکت، وزیر اعظم، وزیر تعلیم، وزرائے مذہبی امور، مفتی، مفتی اعظم، قاضی، قاضی القضاۃ، مفتیِ حنفیہ، مفتیِ شافعیہ، مفتیِ مالکیہ، مفتیِ حنابلہ، شیخ العلماء، شیخ الخطباء، شیخ الائمہ، شیخ الدلائل، شیخ السادہ، مرشدِ طریقت، مرشد السالکین اور اسلامی مجلسِ شوریٰ کے اراکین۔ نیز وہ متبحر علما و مفتیانِ کرام، مفسرین و محدثین، فقہا و اصولیین اور اسلامی دنیا کی اہم ترین مساجد و مراکزِ اسلامیہ کے خطبا، ائمہ اور عہدیداران تھے۔
ہندو پاک کے وہابیہ و دیابنہ کے سر پر جب "حسام الحرمین الشریفین" سیفِ برّاں اور برقِ خاطف بن کر چمکی، تو انہوں نے بہروپیوں کی طرح بھیس بدل کر عوامِ مسلمین کو یہ کہہ کر دھوکہ دینا شروع کیا کہ: "علمائے دہلی و دیوبند کی کتابیں تو اردو میں ہیں اور علمائے حجاز اردو سے ناواقف ہیں؛ چنانچہ یہ فتویٰ مروڑ توڑ کر حاصل کیا گیا ہے۔" اس دھوکہ و فریب کی بخیہ دری کے لیے شیرِ بیشہ اہلِ سنت حضرت مولانا شاہ محمد حشمت علی خان پیلی بھیتی نے 1345ھ میں ایک استفتا مرتب کر کے علمائے برصغیر (ہندو پاک) کے روبرو پیش کیا، جس کا جواب علمائے ہند و سندھ نے انشراح کے ساتھ لکھا اور باغیانِ اسلام اور دشمنانِ خدا و رسول کے چہروں سے اس نقاب کو اکھاڑ دیا جو ان کی کلمہ گوئی کے چہروں پر پڑا ہوا تھا۔ اسی استفتا اور اس کے جوابات، تائیدات و تصادیق کے مجموعے کا نام "الصوارم الہندیہ علیٰ مکائد الیمانیہ" ہے۔ یہ کتاب ہندو پاک سے متعدد بار شائع ہو چکی ہے؛ تصدیقات کی تفصیل کے لیے اس کی جانب رجوع کریں۔ [ماہنامہ پیغامِ شریعت دہلی، ص: 5، 6، 7، اپریل 2017ء]

