| عنوان: | الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور میں مجلس برکات کا قیام |
|---|---|
| تحریر: | محمد احمد مصباحی |
| پیش کش: | محمد سلمان العطاری |
| منجانب: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
بہت زمانے سے یہ شکوہ عام تھا کہ درسی کتابوں کی اشاعت اکثر وبیشتر دوسروں کے یہاں سے ہوتی ہے ہمارے یہاں اس طرف توجہ نہیں۔ یہ شکوہ زیادہ شدومد کے ساتھ ایسے لوگ کرتے ہیں جو اپنے سر کوئی ذمہ داری نہیں لیتے، نہ اپنے کو کسی جماعتی کاوش کا ذمہ دار شمار کرتے، نہ ہی کام اور اس کی مشکلات سے آگاہی رکھتے، نہ ہی کام ہو جانے کے بعد اس کی قدر دانی اور ہمت افزائی کا حوصلہ رکھتے ہیں، نہ شکوہ وشکایت کی طرح کام کی مدح وستائش سے دل چسپی رکھتے ہیں گویا وہ اسی لیے پیدا ہوئے ہیں کہ ہر کام کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرائیں اور خود ہر طرح بری الذمہ رہیں۔ مزید برآں جب کام ہو جائے تو اس طرح چپ سادھ لیں کہ گویا کچھ ہوا ہی نہیں۔ اور کچھ لوگوں کو تو عیب چینی سے اس قدر والہانہ شغف ہے کہ خامی نہ ملے تو فرضی خامی گڑھ کر بیان کرتے ہیں مثلاً یہ کہ سنیوں کی کتابیں گراں ہوتی ہیں۔ یہ لوگ اگر کسی سے آنکھیں قرض لے کر بھی دیکھیں تو نظر آئے کہ گھٹیا کاغذ، رف کتابت وطباعت اور زیادہ سے زیادہ قیمت دیوبند کی کتابوں کا طرۂ امتیاز بن چکا ہے۔ میں تو ایسے افراد کے ذکر سے بھی قلم کو آلودہ نہ کرتا مگر مقصد یہ ہے کہ انصاف پسند اور جماعت کے دردمند حضرات ایسے لوگوں کی گوشمالی کے لیے تیار رہیں اور نیک دل اور سادہ لوح طلبہ اور عوام ان کے فریب سے بچیں۔ اچھے کاموں کی تدابیر سوچیں، ان سے جو کچھ ہو سکے تعاون کرتے رہیں، یہ بھی نہ ہو سکے تو کم از کم ذکر خیر سے گریز نہ کریں۔
مجلس برکات کے قیام کے پیچھے کچھ اسی طرح کے حالات ومحرکات کار فرما ہیں۔ جو اپنے الفاظ میں بیان کرنے کے بجائے بہتر سمجھتا ہوں کہ سرپرستِ مجلس (امین ملت سید محمد امین برکاتی، مارہرہ شریف) کے ایک مضمون سے نقل کر دوں جو انہوں نے ۲۸/محرم ۱۴۲۲ھ مطابق ۲۳/اپریل ۲۰۰۱ء کو ممبئی میں رقم فرمایا اور بہت سی کتابوں کے ساتھ ایک بار ماہ نامہ اشرفیہ کی بھی زینت بنا۔ وہ فرماتے ہیں:
"اہل سنت کے دینی مدارس میں رائج کتب پر حواشی بالعموم اہل سنت ہی کے تھے جن کی طباعت واشاعت کا اہتمام بھی اہل سنت ہی کرتے۔ انیسویں صدی کے اخیر میں بعض غیر مسلموں نے بھی یہ کام شروع کیا جس میں منشی نول کشور کا نام سرِ فہرست ہے۔ ظاہر ہے کہ ان کا مقصد تجارتی نفع تھا نہ کہ دینی خدمت۔ پھر جب کچھ نئے فرقے اور مدرسے وجود میں آئے تو انہوں نے بھی یہ کام شروع کیا۔ بعد میں انہوں نے یہ ستم ڈھایا کہ بہت سی کتابوں سے کئی مصنفین و محشین کے نام اڑا کر چھاپنا شروع کر دیا تاکہ لوگوں کو یہ گمان ہو کہ مصنفین و محشین بھی ناشر ہی کی جماعت کے ہوں گے، کچھ نئے حواشی بھی لکھے گئے جن میں اہل سنت کے سابقہ حواشی و شروح کی عبارتیں بعینہ نقل کی گئیں مگر ان کا حوالہ بھی نہ دیا گیا۔ یہ سارا کام تجارتی منفعت اور دنیوی نام آوری کی غرض سے کیا گیا۔ لیکن بعد میں بدمذہب ناشرین نے اس تجارتی نفع اندوزی اور سرقہ و نام آوری کے عمل کو اپنے طبقہ کی ایک علمی و دینی خدمت کے روپ میں شہرت دینا اور یہ پروپیگنڈا کرنا شروع کیا کہ درسیات کی تحریر و اشاعت کا سہرا صرف ہمارے سر ہے، اہل سنت کا اس میدان میں کوئی حصہ نہیں۔"
اس مسلسل پروپیگنڈے کے باعث نئے سنی طلبہ اور عام قارئین غلط فہمی کا شکار ہونے لگے۔ اب ضرورت تھی کہ ان ناشرین کے چہروں سے تلبیس کی چادر ہٹا دی جائے اور یہ عیاں کر دیا جائے کہ انہوں نے کس چابک دستی سے اہل سنت کی خدمات کو اپنے خانے میں ڈال لیا۔ اسی احساس کے تحت خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ اور اس کے متوسلین نے اہل سنت و جماعت کے ممتاز ترین مرکزی ادارے الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور کو اس طرف متوجہ کیا، مقامِ مسرت ہے کہ اس تحریک کے جواب میں اشرفیہ کی طرف سے لبیک کی آواز بلند ہوئی، اشرفیہ کے اکابر علماے کرام نے "مجلس برکات" کی بنیاد ڈالی اور طے ہوا کہ:
۱۔ جن کتب و حواشی سے اہل سنت کا نام اڑا کر شائع کیا جا رہا ہے انھیں اصلی شکل میں لایا جائے۔
۲۔ اہل سنت کے جن حواشی کی اشاعت موقوف ہے انھیں پھر شائع کیا جائے۔
۳۔ جن کتابوں پر حواشی کی ضرورت ہے ان پر نئے حواشی لکھے جائیں۔
الحمد للہ مذکورہ تجاویز کی روشنی میں کام شروع ہو گیا۔ پہلی تجویز کے نمونے کے طور پر تین کتابوں کے نام خاص طور سے قابلِ ذکر ہیں:
(۱) هداية النحو: جس پر مولانا الٰہی بخش فیض آبادی علیہ الرحمہ نے فارسی میں بہت عمدہ حاشیہ لکھا اور ان کی حیات میں بارہا شائع ہوا۔ ۱۲۷۶ھ اور ۱۲۸۷ھ کے نسخے میری نظر سے بھی گزرے۔ مگر بعد میں حضرت محشی کا نام غائب کر کے مسلسل اس کی اشاعت ہو رہی ہے۔ مقابلہ کرنے پر معلوم ہوا کہ حاشیہ تو حاشیہ بین السطور کی تحریریں بھی ان ہی کی ہیں اور نام اس طرح غائب کر دیا گیا ہے کہ کہیں سے سراغ بھی نہ لگے۔
(۲) کافیه: یہ کتاب ایک بہت وقیع عربی حاشیہ کے ساتھ کم وبیش سو سال سے شائع ہو رہی ہے مگر محشی کا نام غائب ہے۔ خانقاہِ رشیدیہ جون پور میں مولانا عبد العلیم سرکار آسی غازی پوری کے مرشد مولانا غلام معین الدین رشیدی کا پڑھا ہوا ایک نسخہ دستیاب ہوا جس کے خاتمۃ الطبع میں ان کے استاذِ گرامی مولانا معشوق علی جون پوری متوفی ۱۲۶۸ھ کا نام بطورِ محشی مذکور ہے اور خاتمۃ الطبع خود انہوں نے ۱۲۶۷ھ میں لکھا ہے۔ اس نسخے کا جب موجودہ نسخوں سے مقابلہ کیا گیا تو معلوم ہوا بعینہ وہی حاشیہ مع بین السطور حضرت محشی علیہ الرحمہ کا نام غائب کر کے مسلسل شائع ہو رہا ہے۔ ڈیڑھ سو سال پہلے کا نسخہ کون پائے گا اور کس کا ذہن اس طرف جائے گا کہ نئے نسخوں سے مقابلہ کرے اور حقیقت کا سراغ لگائے؟
(۳) شرح جامی: درسِ نظامی کی معروف کتاب ہے اس پر مولانا الٰہی بخش فیض آبادی متوفی ۱۳۰۳ھ کے شاگرد مولانا عبد العلیم آسی مدراسی (وفات ۱۳۲۷ھ) کا بھی بڑا وقیع حاشیہ ہے۔ مولانا آسی کے روابط اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ سے بھی تھے جیسا کہ فتاویٰ رضویہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایک دوسرا حاشیہ مولانا برکت اللہ فرنگی محلی نے لکھا جو پہلی بار مطبع قیومی کان پور سے ترتیبِ قیومی کے نام سے پھر مطبع مجیدی کان پور سے ترتیبِ مجیدی کے نام سے شائع ہوا مگر دونوں میں محشی کے کا نام واضح طور پر ٹائیٹل پیج کے علاوہ خاتمہ میں بھی موجود ہے۔ ترتیبِ مجیدی کی کتابت، طباعت بہت عمدہ تھی اس لیے ہندوستان کے نامور پیشہ وروں نے اس کا ایسا سرقہ کیا کہ ہر صفحہ سے ترتیبِ مجیدی بھی محو کر دیا اور ابتدا و انتہا سے محشی کا نام بھی اڑا دیا، باقی کتابت و طباعت بعینہ وہی رکھی۔
یہ تینوں کتابیں مجلسِ برکات سے شائع ہو چکی ہیں مگر حضراتِ محشی کے اسما مع حالات درج کر دیے گئے ہیں۔
دوسری تجویز کے تحت اصول الشاشی مع احسن الحواشی، دروس البلاغہ مع شرح شموس البراعہ، قدوری مع الحل الضروری، التعليق المجلى لما في منية المصلي کی اشاعت عمل میں آچکی ہے۔ الحل الضروری از مولانا عبد الحمید فرنگی محلی ۱۳۱۴ھ میں منظرِ عام پر آیا اس کے بعد اس سے تھوڑی کمی کر کے دوسرا حاشیہ بنام التنقیح الضروری تیار کر لیا گیا۔ اب وہی شائع ہو رہا ہے۔ اسی طرح احسن الحواشی میں ذرا ذرا سی تخفیف کر کے ایک دوسرا حاشیہ عمدۃ الحواشی بنا لیا گیا اب وہی شائع ہو رہا ہے۔ مولانا رونق علی ردولوی کا مبسوط حاشیہ میر قطبی بھی اسی طرح کے ستم کا شکار تھا اسے بھی اصلی شکل میں مجلسِ برکات سے شائع کر دیا گیا ہے۔ اور التعليق المجلی تو حاشیہ نہیں بہت عظیم شرح ہے جو حضرت صدر الشریعہ اعظمی و محدثِ اعظم کچھوچھوی علیہما الرحمہ کے استاذ، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ کے مخلص دوست علامہ وصی احمد محدثِ سورتی قدس سرہ کی محدثانہ و فقیہانہ عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ منیة المصلی تو ایک ابتدائی کتاب ہے مگر یہ شرح منتہیٰ کتبِ فقہ و حدیث کے مطالعہ کے لیے کار آمد ہے۔ ہدایہ، شرح وقایہ، موطا، مشکاۃ، ترمذی، بخاری اور مسلم کے اسباق پڑھنے والے اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
تیسری تجویز کی روشنی میں شرح عقائد کا عربی حاشیہ "جمع الفوائد بانارة شرح العقائد" (۱۴۲۲ھ) مولانا صدر الوریٰ مصباحی استاذ جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے قلم سے تیار ہو کر منظرِ عام پر آچکا ہے۔ اور علم میراث کی مشہور کتاب سراجی کا عربی حاشیہ "بركات السراج لحل اصول السراجية" (۱۴۲۳ھ) مولانا نصر اللہ رضوی مصباحی استاذ فیض العلوم محمد آباد گوہنہ کی قلمی و علمی کاوشوں سے ایک اردو عام فہم رسالہ قواعدِ میراث (يارسم الفرائض ۱۴۲۲ھ) کے ساتھ عنقریب منظرِ عام پر آنے والا ہے۔ دیوانِ متنبی، سبعہ معلقہ، مقاماتِ حریری، شرح ہدایۃ الحکمۃ، موطا امام محمد پر حواشی تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں ان کا کچھ تعارف بعد میں پیش کیا جائے گا۔
اب یہ اہل سنت کے مدارس، طلبہ اور علما کی ذمہ داری ہے کہ ان کتابوں کی خریداری اور زیادہ سے زیادہ اشاعت میں حصہ لیں۔ شکوہ وشکایت کا بازار بند کریں۔ قدر دانی و حوصلہ افزائی کی دنیا میں قدم رکھیں۔ واللہ الموفق لکل خیر۔
(۱۳/رجب ۱۴۲۳ھ / ۲۱/ستمبر ۲۰۰۲ء)

