Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

مسئلہ تکفیر میں اشعریہ و ماتریدیہ کا اختلاف نہیں (قسط: اول)|طارق انور مصباحی

مسئلہ تکفیر میں اشعریہ و ماتریدیہ کا اختلاف نہیں (قسط: اول)
عنوان: مسئلہ تکفیر میں اشعریہ و ماتریدیہ کا اختلاف نہیں (قسط: اول)
تحریر: طارق انور مصباحی
پیش کش: بنت اسلم برکاتی

اہل بدعت سے وہ لوگ مراد ہیں جو کافر کلامی نہ ہوں، ورنہ بدعت کی بھی دو قسمیں ہیں: بدعت کفریہ اور بدعت غیر کفریہ۔ جو بدعتی کافر کلامی ہو، اس کو کافر و مرتد کہا جاتا ہے۔ اہل قبلہ سے وہ لوگ مراد ہیں جو اسلام سے بالکل خارج نہ ہوں، خواہ وہ سنی ہوں یا بدعتی۔ جو شخص اسلام سے بالکل خارج ہو، وہ اہل قبلہ نہیں، خواہ وہ کافر اصلی ہو، یا مرتد۔

فصل اول

گناہ کے سبب کسی اہل قبلہ کی تکفیر نہیں

گناہ کبیرہ یا گناہ صغیرہ کے سبب اہل قبلہ کی عدم تکفیر میں اشاعرہ و ماتریدیہ متفق ہیں۔ گناہ کے سبب اہل قبلہ کی عدم تکفیر سے متعلق حضرت امام اعظم ابو حنیفہ (80ھ تا 150ھ) و حضرت امام محمد بن ادریس شافعی (150ھ تا 204ھ) رضی اللہ عنہما کی صراحت ہے کہ ہم گناہ کے سبب کسی اہل قبلہ کی تکفیر نہیں کرتے ہیں، اگرچہ وہ گناہ کبیرہ ہو۔

امام ابو منصور ماتریدی حنفی ہیں اور انہوں نے حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے اصول کے مطابق عقائد اسلامیہ کی تشریح کی۔ امام ابوالحسن اشعری شافعی ہیں انہوں نے حضرت امام شافعی رضی اللہ عنہ کے اصول کے مطابق عقائد اسلامیہ کی تشریح کی۔ ماتریدیہ و اشعریہ گناہ کے سبب اہل قبلہ کی عدم تکفیر میں متفق ہیں، اگرچہ وہ گناہ کبیرہ ہو۔

معتزلہ کہتے ہیں کہ بندہ گناہ کے سبب نہ مومن رہتا ہے، نہ ہی وہ کافر ہوتا ہے۔ معتزلہ ایمان و کفر کے درمیان ایک منزل ثابت کرتے ہیں۔ کتب عقائد میں اس کا مفصل ذکر ہے۔

1۔ حضرت امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ نے رقم فرمایا:

وَلَا نُكَفِّرُ مُسْلِمًا بِذَنْبٍ مِنَ الذُّنُوبِ، وَإِنْ كَانَتْ كَبِيرَةً، إِذَا لَمْ يَسْتَحِلَّهَا، وَلَا نُزِيلُ عَنْهُ اسْمَ الْإِيمَانِ، وَنُسَمِّيهِ مُؤْمِنًا حَقِيقَةً، وَيَجُوزُ أَنْ يَكُونَ مُؤْمِنًا فَاسِقًا غَيْرَ كَافِرٍ. [القول الفصل شرح الفقه الأكبر، ص: 328]

از: امام محی الدین محمد بن بہاء الدین (م 956ھ)

ترجمہ: ہم کسی گناہ کے سبب کسی مسلمان کو کافر نہیں کہتے ہیں، اگرچہ وہ کبیرہ گناہ ہو، جب تک کہ وہ اس گناہ کو حلال نہ سمجھے اور ہم اس سے ایمان کا نام زائل نہیں کرتے ہیں اور اسے حقیقت میں مومن کا نام دیتے ہیں اور جائز ہے کہ مومن فاسق اور غیر کافر ہو۔

2۔ امام ابو جعفر طحاوی حنفی مصری (238ھ تا 321ھ) نے رقم فرمایا:

وَلَا نُكَفِّرُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ بِذَنْبٍ مَا لَمْ يَسْتَحِلَّهُ. [عقيدة الطحاوي، ص: 87]

ترجمہ: ہم کسی گناہ کے سبب کسی مسلمان کی تکفیر نہیں کرتے ہیں، جب تک کہ وہ اس گناہ کو حلال قرار نہ دے۔ (جس امر کا گناہ ہونا ضروریات دین سے ہو، اس کا انکار کفر ہے)۔

3۔ امام ابو جعفر طحاوی حنفی مصری (238ھ تا 321ھ) نے رقم فرمایا:

وَنُسَمِّي أَهْلَ قِبْلَتِنَا مُسْلِمِينَ مُؤْمِنِينَ مَا دَامُوا بِمَا جَاءَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَرِفِينَ، وَلَهُ بِكُلِّ مَا قَالَهُ وَأَخْبَرَ مُصَدِّقِينَ. [عقيدة الطحاوي، ص: 82]

ترجمہ: ہم اپنے اہل قبلہ کو مسلمان و مومن کا نام دیتے ہیں جب تک کہ وہ حضور اقدس حبیب کبریا علیہ التحیۃ والثنا کے لائے ہوئے امور کا اعتراف کرتے رہیں اور حضور اقدس نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اقوال و اخبار کی تصدیق کرتے رہیں۔

4۔ امام ابن حجر ہیتمی شافعی (909ھ تا 974ھ) نے امام زرکشی شافعی (745ھ تا 794ھ) سے نقل کرتے ہوئے رقم فرمایا:

فَإِنَّهُ صَحَّ عَنْهُ (الْإِمَامِ أَبِي حَنِيفَةَ) أَنَّهُ قَالَ: لَا أُكَفِّرُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ بِذَنْبٍ. [الإعلام بقواطع الإسلام، ص: 357]

ترجمہ: حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ سے صحیح روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: میں کسی گناہ کے سبب کسی اہل قبلہ کی تکفیر نہیں کرتا ہوں۔

5۔ امام عبدالوہاب شعرانی شافعی (898ھ تا 973ھ) نے رقم فرمایا:

قَالَ شَيْخُ الْإِسْلَامِ الْمَخْزُومِيُّ: قَدْ نَصَّ الْإِمَامُ الشَّافِعِيُّ عَلَى عَدَمِ تَكْفِيرِ أَهْلِ الْأَهْوَاءِ فِي رِسَالَتِهِ فَقَالَ: لَا أُكَفِّرُ أَهْلَ الْأَهْوَاءِ بِذَنْبٍ، وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ: وَلَا أُكَفِّرُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ بِذَنْبٍ، وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى عَنْهُ: وَلَا أُكَفِّرُ أَهْلَ التَّأْوِيلِ الْمُخَالِفِ لِلظَّاهِرِ بِذَنْبٍ. قَالَ الْمَخْزُومِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: أَرَادَ الْإِمَامُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ بِأَهْلِ الْأَهْوَاءِ أَصْحَابَ التَّأْوِيلِ الْمُحْتَمَلِ كَالْمُعْتَزِلَةِ وَالْمُرْجِئَةِ، وَأَرَادَ بِأَهْلِ الْقِبْلَةِ أَهْلَ التَّوْحِيدِ، انْتَهَى. [اليواقيت والجواهر، ص: 532]

ترجمہ: شیخ الاسلام سراج الدین مخزومی شامی (793ھ تا 885ھ) نے بیان کیا: حضرت امام شافعی رضی اللہ عنہ نے اپنے رسالہ میں اہل اہوا (اہل بدعت) کی عدم تکفیر کی صراحت فرمائی ہے، پس انہوں نے فرمایا: کسی گناہ کے سبب میں اہل بدعت کی تکفیر نہیں کرتا ہوں، اور حضرت امام شافعی رحمہ اللہ سے ایک روایت میں ہے: کسی گناہ کے سبب میں اہل قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہیں کرتا ہوں، اور ان سے ایک دوسری روایت میں ہے: اور میں ظاہر کے خلاف تاویل کرنے والے کی گناہ کے سبب تکفیر نہیں کرتا ہوں۔ شیخ الاسلام امام مخزومی نے فرمایا: حضرت امام شافعی رضی اللہ عنہ نے اہل اہوا سے محتمل تاویل والے جیسے معتزلہ و مرجئہ مراد لیا، اور اہل قبلہ سے اہل توحید مراد لیا۔

بدعت کے سبب اہل قبلہ کی تکفیر نہیں

حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ جس طرح عہد صحابہ کے بعد فقہ و اجتہاد کے امام ہیں، اسی طرح آپ علم عقائد و فن کلام کے بھی امام ہیں۔ مسئلہ تکفیر میں متکلمین نے حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ کے طریق کار کو اپنایا، لہٰذا وہ مذہب متکلمین کے لقب سے مشہور ہوا۔ مسئلہ تکفیر میں حضرت امام شافعی رضی اللہ عنہ بھی اسی مذہب پر تھے۔

حضرت امام اعظم ابو حنیفہ و حضرت امام شافعی رضی اللہ عنہما بدعت ضلالت کے سبب کسی اہل قبلہ کی تکفیر نہیں کرتے، اور بدعت کفریہ کلامیہ کے سبب تکفیر کرنا متفق علیہ ہے۔ درج ذیل عبارتوں میں بدعت ضلالت کے سبب اہل قبلہ کی عدم تکفیر کا ذکر ہے۔

1۔ امام ابن ہمام حنفی نے رقم فرمایا:

إِنَّ الْحُكْمَ بِكُفْرِ مَنْ ذَكَرْنَا مِنْ أَهْلِ الْأَهْوَاءِ، مَعَ مَا ثَبَتَ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ وَالشَّافِعِيِّ رَحِمَهُمُ اللَّهُ مِنْ عَدَمِ تَكْفِيرِ أَهْلِ الْقِبْلَةِ مِنَ الْمُبْتَدِعَةِ كُلِّهِمْ، مَحْمَلُهُ أَنَّ ذَلِكَ الْمُعْتَقَدَ نَفْسَهُ كُفْرٌ. فَالْقَائِلُ بِهِ قَائِلٌ بِمَا هُوَ كُفْرٌ، وَإِنْ لَمْ يُكَفَّرْ بِنَاءً عَلَى كَوْنِ قَوْلِهِ ذَلِكَ عَنِ اسْتِفْرَاغِ وُسْعِهِ مُجْتَهِدًا فِي طَلَبِ الْحَقِّ. [فتح القدير، ج: 1، ص: 304]

ترجمہ: ہمارے ذکر کردہ اہل بدعات کے کفر کا حکم (باوجودے کہ حضرت امام ابو حنیفہ اور حضرت امام شافعی رضی اللہ عنہما سے تمام اہل قبلہ مبتدعین کی عدم تکفیر ثابت ہے)۔ اس کا معنی ہے کہ یہ عقیدہ فی نفسہ کفر ہے، پس اس کا قول کرنے والا کفر کا قول کرنے والا ہے، اگرچہ اس کی تکفیر نہ کی جائے اس بنیاد پر کہ اس کا وہ قول حق کی طلب میں کوشش کرتے ہوئے اپنی وسعت و قوت کو صرف کرنے کے ساتھ ہے۔

2۔ بحر العلوم فرنگی محلی (1142ھ تا 1225ھ) نے رقم فرمایا:

وَقَدْ نَصَّ الْإِمَامُ عَلَى عَدَمِ تَكْفِيرِ أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ. [فواتح الرحموت، ج: 2، ص: 243]

ترجمہ: امام الائمہ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت (80ھ تا 150ھ) رضی اللہ عنہ نے اہل قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہ کرنے کی صراحت فرمائی ہے۔

3۔ علامہ سید شریف جرجانی (740ھ) نے رقم فرمایا:

حَكَى الْحَاكِمُ صَاحِبُ الْمُخْتَصَرِ فِي كِتَابِ الْمُنْتَقَى عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ: أَنَّهُ لَمْ يُكَفِّرْ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ، وَحَكَى أَبُو بَكْرٍ الرَّازِيُّ مِثْلَهُ عَنِ الْكَرْخِيِّ وَغَيْرِهِ. [شرح المواقف، ص: 726]

ترجمہ: حاکم شہید حنفی (م 334ھ) صاحب مختصر الکافی نے حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں حکایت کی کہ حضرت امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ نے اہل قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہیں کی اور امام ابو بکر جصاص رازی حنفی (305ھ تا 370ھ) نے اسی کی مثل امام ابوالحسن کرخی (260ھ تا 340ھ) وغیرہ کے بارے میں حکایت کی۔

حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے کسی اہل قبلہ کی تکفیر نہیں کی۔ اہل بدعت بھی اہل قبلہ ہیں، لہٰذا آپ نے کسی اہل بدعت کی بھی تکفیر نہیں کی۔ اسی مذہب کو متکلمین نے اختیار فرمایا اور اس کو مذہب متکلمین سے تعبیر کیا گیا۔ مسئلہ تکفیر میں متکلمین کے پیشوا و مقتدا حضرت امام اعظم ابو حنیفہ و امام شافعی رضی اللہ عنہما ہیں، اور فقہائے کرام کے پیشوا حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ ہیں، اور مجتہدین کرام کے مقتدا و پیشوا حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں اور یہ نفوس قدسیہ حضور اقدس حبیب کبریا علیہ التحیۃ والثنا سے دین و مذہب سیکھے اور “أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ، فَبِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ” کا رتبہ پائے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!